• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر سندھ سراپا احتجاج

گزشتہ ہفتےسندھ کابینہ ن میں صوبوں کے مابین مبینہ طور پرغیر منصفانہ پانی کی تقسیم کے خلاف بازگزشت سنائی دی صوبائی کابینہ نے جاری خریف سیزن کے دوران پانی کی قلت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ’’سندھ دشمنی‘‘ رویہ قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ 1991 کے آبی معاہدے کے مطابق صوبوں کے مابین پانی کی قلت کو تقسیم کرے۔ اراکین نے تحفظات پر نتیجہ اخذ کرتے ہوئے اجلاس میں بتایا کہ سندھ میں فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور IRSA اس معاہدے پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اراکین کابینہ کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت کے باعث سندھ کے کاشتکار کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 

اراکین کابینہ نے اعتراف کیا کہ سسٹم میں پانی کی قلت ہے لیکن معاہدے کے تحت متفقہ فارمولے کے مطابق یہ قلت صوبوں کے مابین تقسیم کی جانی چاہئے لیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے اور پنجاب پر خاص مہربانی کی جارہی ہے۔ کابینہ نے محکمہ بلدیات نے کابینہ سے استدعا کی کہ حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ، قاسم آباد ، کوٹری ، ٹنڈو الہیار کی میونسپل کمیٹیز کے ساتھ متعلقہ عملہ کے ممبران اور قابل منتقلی اثاثہ جات کو سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے سپرد کیا جائے تاکہ شہروں کی مناسب طریقے سے کابینہ نے سندھ ملازمین اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی دو سال کی مدت کیلئے تقرری کی منظوری دے دی۔ 

سندھ کابینہ کا ڈکیتوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور پولیس کو ہدایت جاری کی کہ پورے کچے کے علاقے کو ڈکیتوں سے کلئر کروائیں اور ڈکیتوں کے خلاف سخت آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سندھ حکومت نے ارسا چیئرمین کو ہٹانے کا مطالبہ کردیا.ہےوزیراطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ ننے کہا کہ پانی کا حق مانگنے پر ارسا چیئر مین نے سندھ کے ممبر پر تشدد کیا,اسےہٹایہ جائےجبکہ دیگر امور کی بھی منظوری دی گئی آنے والے دنوں میں پانی کے مسلے پر سندھ وفاق اور پنجاب میں کشیدگی بھی بڑھے گی اور سیاست بھی ہو گی اس ضمن میں ) سندھ کے صوبائی وزیر برائے آبپاشی سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ سندھ کے ساتھ مسلسل زیادتی ہو رہی ہے ہمیں کسی کے حصّے کا پانی نہیں چاہیے معاہدے کے تحت سندھ کے حصے کا پانی دیا جائے۔

یہ معاملہ سیاسی نہیں بلکل صوبائی ہے ارسا پنجاب کو سپورٹ کر رہا ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت ارسا کے ساتھ ملکر سندھ سے زیادتی کر رہی ہے جبکہ بلاول ہاؤس میڈیا سیل میں صوبائی وزیر زراعت اسماعیل راہو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گندم کے بعد سب سے زیادہ چاول کی فصل کاشت کی جاتی ہےاس سال سترہ لاکھ نوے ہزار ایکٹر پر چاول کی فصل لگے گیکئی اضلاع میں کپاس کی فصل بھی لگائی جا چکی ہےکپاس کی فصل لگانے کا سیزن اختتام کے قریب ہے پانی کم ہونے کی وجہ سے اس سال ایک لاکھ ایکٹر سے زائد کم کپاس سندھ میں لگے گی پانی کی کمی سے جو کپاس لگائی گئی ہے اسے بچانا بھی مشکل ہو رہا ہے گنے کی فصل سندھ میں تین لاکھ دس ہزار ایکٹر لگانی تھیمگر اس سال ایک لاکھ نناوے ہزار ایکٹر گنا لگاسکے ہیںسندھ میں پانی کی شدید قلت سے زراعت متاثر ہے وفاقی حکومت نےا ارسا کو یرغمال بنایا ہوا ہے ہم بلوچستان کا پانی نہیں روک رہےجب سندھ کو پانی کم ملے گا تو یہاں سے بلوچستان کو بھی پانی کم جائے گا ۔

اس حکومت کا سندھ کے ساتھ رویہ بہتر نہیں ہےہم ہر فورم پر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرینگے۔ ادھر پانی کے مسلے پر پی تی آئی ،متحدہ قومی مومنٹ ،اور پاک سر زمیں پارٹی نے سندھ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے پی ٹی آئی کے رلن سند ھ اسمبلی جمال صدیقی نے کہا ہے کہ پانی کے معاملے پر سندھ حکومت سیاست کررہی ہےسندھ حکومت متعلقہ فورمز پر جانے کی بجاء صرف سندھ کارڈ کھیل رہی ہے، سندھ حکومت اپنے حصے سمیت بلوچستان کا پانی بھی چوری کررہی ہے، ارسا کا موقف سندھ حکومت کے دعووں کو رد کرچکا ہے، سندھ حکومت کے پاس پانی محفوظ رکھنے اور ٹیل تک پہچانے کا انتظام نہیںہےسندھ میں جیالوں کی زمینیں آباد اور عام لوگوں کی بنجر بن چکی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے کہا ہے کسندھ کا پانی سیاسی شخصیات اور چہیتے وڈیروں کو دیا جارہا ہے۔

پاک سر زمیں پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کراطی میں قلت آب پر سندھ حکومت پر نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری پانی کے مسلے پر پنجاب سے ناراض ہیں میں انکو یاد دلانا چاہتا ہوں شہر کراچی میں آج بھی ٹینکرز مافیا پانی بیچ رہے ہیں کراچی کے شہری بوند بوند کو ترس رہے۔بلاول بھٹو صاحب ذرا کراچی کے پانی کے معاملے پر آنکھیں کھولیں کراچی کو سندھ کے حصے کے پانی کا صرف ڈیڑھ فیصد ملتا ہے جبکہ اسمبلی کے فلور پر پی پی پی کے رکن اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر میر نادر مگسی نے جاشتکاروں کو پانی نا ملنے کا ذمہ دار پی پی پی کی حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے دریا میں پانی ہے اصل مسلکہ پانی کی منجمنٹ کا ہے حکومت پانی کی منجمنٹ صھیع کرے پانی ہونے کے باوجود پانی نہیں مل رہا افسوص کے ہمارے حکومت ہے پارٹی کے وڈیروں نے واٹر کورس توڑے ہیں غریب کاشتکار کو پانی نہیں مل رہا وزیر اعلی سندھ اس معاملے کو درست کرے یہ پولیس سے نہیں ہو گا حکومت اس معملے پر رینجر کو تعینات کرے نادر مدسی انتہائی سنجیدہ اور سینئر سیاست دان ہے اور انہوں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ میں پانی قلت کا زمہ دار اپنی ہی حکومت کو ٹھہرایا ہے وزیر اعظم نے واٹر کورسز پر رینجرز کی تعیناتی کا عندیہ دیا ہے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ نے ارسا کی سندھ سے پانی پر زیادتی سندھ میں پانی کی شدید کمی اور بجلی گیس کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف 3جون سے 15 جون تک صوبہ بھر میں بھرپور احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید