• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حسن نثار (04جون2021) باکستان کی سیاست اور ایکشن ری پلے

جناب بالکل صحیح اور مستند بات ہے۔ ہمارے سیاستدان مفاد پرست ہیں‘ انہیں ملک و عوام کی کیا پروا، مطلب ہے تو بس اپنے عہدوں‘ اپنی سیاست سے۔ یہ لوگ نہ کبھی سدھریں ہیں اور نہ ہی کبھی سدھریں گے‘ ان سے امید لگانا ہی بیو قوفی ہے۔ (قمر احمد خان)

سلیم صافی (02جون2021) پاکستان یا شمالی کوریا؟

جناب بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح سول حکومتوں نے اس طرح کے آمرانہ رویے اختیار کیے۔ اپوزیشن میں ان کا بولنے کا سوچنے کا انداز کچھ اور ہوتا ہے لیکن حکومت میں آکر چاہے کوئی بھی سول حکومت ہو تو وہی کرتے ہیں جو ان کے حق میں بہتر ہو۔ (نوید احمد)

انصار عباسی (03جون2021) نواز، عمران، مشرف ایک پیج پر

جناب عباسی صاحب آپ نے بالکل درست لکھا ہے۔ وہ ملک جو اسلام کے نام پر بنا ہو‘ اسی اسلامی ملک میں سودی نظام کو ختم کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ سود اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ ہے اور یہ جنگ اللہ تعالی سے کوئی نہیں جیت سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔(محمد فیصل)

یاسر پیرزادہ (02 جون2021) الف اور ابلیس

یاسر صاحب کیسی کیسی مشکل گتھیاں کتنی آسانی سے سلجھا دیتے ہیں اور کیسی حکمت اور دانائی کی بات بتا دیتے ہیں۔ نظریات اور اصولوں کے تابع زندگی گزارنے والے ہمارے جیسے لوگ منافق اور طبقاتی تقسیم والے معاشرے میں ہمیشہ خسارے میں ہی رہتے ہیں۔ (خرم ذاکر)

مظہر برلاس (04جون2021) صرف دس سال

جناب آپ کے اختتامی جملہ میں جو درد اور کرب پوشیدہ ہے‘ اسے صرف حساس اور اہل درد ہی سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اب وہ بھی کم ہیں۔ ہم نے جو خواب اس قوم اور ملک کی عظمت، ترقی اور خوشحالی کے دیکھے تھے وہ پورے نہ ہوئے۔ البتہ ایک بالادست طبقہ نے وہ سب کچھ حاصل کیا کیونکہ انہیں اپنا مفاد ملک اور قوم سے زیادہ عزیز ہے۔ (طارق محمد علی، بحرین)

بلال الرشید (30مئی2021) دوسری شادی کا حق

جناب درست فرمایا، دوسری شادی کی اجازت ضرور ہے مگر لازم نہیں‘ وہ بھی اس صورت میں جب آپ انصاف کر سکیں۔ ہمارے معاشرے کاحال یہ ہے کہ پہلی بیوی کے حقوق پورے ہو نہیں پاتے اور چار چار شادیوں کے نام پر رال ٹپکتی ہے۔ اللّٰہ پاک ہم سب کو ہدایت دے۔(تانیہ شہزاد\۔ سیالکوٹ(

ڈاکٹرعطاالرحمٰن (29مئی2021) پاکستان کا مستقبل: ایک مضبوط علمی معیشت

جناب آپ کا کالم حقیقت پر مبنی ہے۔ ہمیں ایک انتہائی ہنر مند افرادی قوت تشکیل دینے اور ایسی حکمتِ عملی متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس سے اس افرادی قوت کی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لئے بروئے کار لایا جا سکے۔ (مہک نقوی، لاہور)

نفیس صدیقی (03جون 2021) کہیں دیر نہ ہوجائے

نفیس صدیقی صاحب، آپ نے اپنے کالم ’’دیر نہ ہو جائے کہیں!‘‘ میں درست نکات کی جانب اشارہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ مقتدر حلقوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ طالبان پر اعتماد کرنے کی دوبارہ غلطی نہ کی جائے جس کا خمیازہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل ترین جنگ کی صورت میں بھگتا ہے۔(حسن رضا، لاہور)

ڈاکٹر عبدالقدیر خان (31مئی2021) ’’قابلِ فکر باتیں‘‘

ڈاکٹر صاحب مئی کی آخری تاریخ میں آپ کا کالم نظر سے گزرا تو بہت دکھ ہوا کہ قوم کے محسن کے ساتھ ہم نے بحیثیت ۱قوم کیا سلوک کیا ہے کیوں کہ دو روز قبل ہی 28مئی کو یوم تکبیر پر قوم کے محسن کا ذکر تک نہ کیا گیا۔ امید ہے، آپ اب قلم سے ہماری رہنمائی کرتے رہیں گے کہ آپ اس ملک کے حقیقی محسن ہیں۔(محمد ارسلان، کراچی)