• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہراسانی و استحصال کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہوں: ہانیہ عامر کا حالیہ تنازع پر مؤقف

ہانیہ عامر— فائل فوٹو
ہانیہ عامر— فائل فوٹو

عالمی شہرت یافتہ پاکستانی معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے شوبز انڈسٹری میں جاری حالیہ تنازع پر لب کشائی کر دی۔

پاکستان کی سب سے زیادہ فالو کی جانے والی اداکارہ ہانیہ عامر اکثر اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے خبروں اور تنازعات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

حال ہی میں سابق ماڈل ماہ نور رحیم نے ہانیہ عامر کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ پروڈیوسر عمر مختار کی دوست ہیں، جن پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

متعدد ماڈلز اور اداکاراؤں نے سوشل میڈیا پر پروڈیوسر کے مبینہ ڈی ایمز کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔

ہانیہ عامر نے ان الزامات پر بذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ردِعمل دیتے ہوئے وضاحت دی کہ مجھے اس معاملے کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی میں اس میں شامل تھی۔

انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر اس حوالے سے انسٹا اسٹوری میں لکھا کہ میں ہراسانی، استحصال اور کسی بھی ایسے رویے کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھتی ہوں جو خواتین اور لڑکیوں کی حفاظت اور وقار کو متاثر کرے، یہ سنجیدہ مسائل ہیں جنہیں ہمیشہ احترام اور سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے پروڈیوسر کے خلاف آواز اُٹھانے والی خواتین کی حمایت کی اور خواتین و بچیوں کے لیے محفوظ ماحول کی اہمیت پر زور دیا۔

ہانیہ عامر نے لکھا ہے کہ ان خدشات کے پیشِ نظر میں نے متعلقہ فرد سے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بارے میں بات ہو رہی ہے، کسی بھی ظاہری وابستگی کو دوسرے شخص کے اعمال کی تائید کے طور پر نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے احتساب، باہمی احترام اور مختلف شعبہ جات اور کمیونٹیز میں محفوظ ماحول کے فروغ کے عزم کو بھی دہرایا اور کہا کہ ہم سب پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ نقصان دہ رویوں کو چیلنج کریں، جو آواز بلند کرتے ہیں ان کی حمایت کریں اور خواتین و لڑکیوں کے وقار و حفاظت کو ہر وقت برقرار رکھنے کے معیار پر عمل کریں۔

سوشل میڈیا پر ہانیہ عامر کے مداح انہیں مبینہ ہراسانی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے پر سراہ رہے ہیں، جبکہ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں متعلقہ شخص کا نام لے کر واضح مؤقف اپنانا چاہیے تھا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید