• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لہو بہہ رہا ہے، فلسطین میں

قیامت بپا ہے، فلسطین میں

یہ دہشت بھی ہے، بربریّت بھی ہے

قیامت سے پہلے، قیامت بھی ہے

ستم سے زمیں تھرتھرانے لگی

ہمیں کربلا یاد آنے لگی

لہو رنگ ہیں، خوشنما پھول بھی

ہے آغوشِ ظلمات میں زندگی

خواتین پر ظلم ڈھائے گئے

جوانوں پہ خنجر چلائے گئے

جواں لڑکیاں دوامِ وحشت میں ہیں

وہاں بچّے، بوڑھے اذیّت میں ہیں

ہر اِک سمت لاشوں کے انبار ہیں

جو زندہ بچے وہ بھی لاچار ہیں

ستم سے لرزنے لگے بام و دَر

ہوئے زخم خوردہ پرندوں کے پَر

ہر اِک سمت ہے شورِ آہ و فغاں

وہاں زندگی ہوگئی ہے گراں

کہیں بچّے ماؤں سے محروم ہیں

کہیں مائیں بچّوں سے معدوم ہیں

عداوت کی زد میں فلسطین ہے

مگر اپنی حد میں فلسطین ہے

کب ایسا کوئی انقلاب آئے گا

جب ان ظالموں پر عتاب آئے گا

یہودی کبھی تو سزا پائیں گے

خود اپنے ہی شعلوں میں جل جائیں گے

زمیں بوس ہوں، بانیانِ ستم

خدایا! فلسطینیوں پہ کرم