• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت زینب بنتِ ابی معاویہ رضی اللہ عنہا (قسط نمبر 20)

حضرت زینب بنتِ ابی معاویہؓ ایک جلیل القدر صحابیہؓ اور قرآن و فقہ کے عالم، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی اہلیہ تھیں۔وہ خود بھی تفسیر وحدیث اور فقہ وفتاویٰ میں مہارت رکھتی تھیں۔ جزائرِ عرب کے ایک سرسبز و شاداب پہاڑی علاقے، طائف کے ایک نام وَر خاندان میں جنم لینے والی اِس خوش نصیب خاتون کو اللہ تعالیٰ نے عرب کے روایتی حُسن و دِل کشی کے علاوہ نہایت اعلیٰ سیرت و کردار سے بھی نوازا تھا۔ 

بچپن ہی سے اعلیٰ کردار کی حامل اور عفّت و عصمت کی پیکر تھیں۔ سخاوت و فیّاضی اور انفاق فی سبیل اللہ میں بہت ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ وفاداری و وفا شعاری میں اپنی مثال آپ تھیں۔ اسلام کی صداقت اور حضورﷺ کی حقّانیت دِل پر منقّش تھی۔ رسول اللہﷺ اور ازواجِ مطہراتؓ کی قربت و محبّت نے سیرت و کردار میں وہ انقلاب برپا کیا کہ ظاہری خُوب صُورتی، مال و متاع، جاہ و جلال اور حسب نسب ثانوی حیثیت اختیار کر گئے۔

شوہر کا انتخاب

سنِ بلوغت کو پہنچیں، تو قبیلے اور قبیلے سے باہر بہت سے سردار، رئیس اور دولت مند نوجوان اُن سے شادی کے خواہش مند تھے، لیکن اُنہوں نے دنیاوی دولت ٹھکرا کر’’ اصحابِ صفّہ ‘‘کے ایک فقیر منش صوفی، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو اپنا ہم سفر بنایا، جن کا جسم لاغر، قد قدرے پست، رنگ گہرا گندمی اور ٹانگیں اِتنی پتلی تھیں کہ اکثر لوگوں کی تفریحِ طبع کا باعث بنتیں۔ ایک موقعے پر سفر کے دَوران مسواک توڑنے درخت پر چڑھے، تو نیچے کھڑے افراد کو اُن کی پتلی، سوکھی ٹانگیں نظر آئیں، بے اختیار ہنسنے لگے۔ حضورﷺ نے فرمایا ’’آج تم اِن کی پتلی ٹانگوں پر ہنستے ہو، کل روزِ قیامت یہ ٹانگیں میزانِ عدل میں اُحد پہاڑ سے بھی بھاری ہوں گی۔‘‘

ایک سوال

لوگوں نے حضرت زینبؓ سے سوال کیا کہ’’ آپ صاحبِ ثروت ہیں اور خُوب رو بھی۔ بے شمار دولت مند نوجوانوں کے رشتے ٹھکرا کر اصحابِ صفّہ میں سے ایک مفلس شخص کو اپنا شریکِ سفر کیوں چُنا؟‘‘ اِس پر اُنھوں نے جو جواب دیا، وہ آج کی مسلمان بچیوں کے لیے باعثِ تقلید ہے۔ فرمایا ’’ظاہری حُسن فانی ہے۔مردانہ وجاہت تو زہد و تقویٰ، صدق و صفا، توکّل علی اللہ، حسنِ اخلاق، حق گوئی و بے باکی اور شجاعت و بے خوفی کا نام ہے۔ 

اصل چیز انسان کی اندرونی خُوب صُورتی ہے اور میرے شوہر اس سے مالا مال ہیں کہ اُن کا سینہ کلامِ الٰہی سے لب ریز، دل اللہ اور اُس کے محبوبﷺ کی محبّت سے سرشار ہے۔ نبی کریمﷺ کی تربیتِ خاص نے اُنہیں کندن بنادیا ہے۔ وہ نہایت رقیق القلب، فصیح اللسان، شیریں کلام اور محبّت و شفقت کا خزینہ ہیں۔ اُن کی آنکھوں میں حیا، دِل میں سوز و گداز، ہاتھوں میں بَلا کی قوّت اور قدموں میں حیرت انگیز ثبات ہے۔ جب میدانِ جنگ میں ہوتے ہیں، تو ماہرینِ حرب و ضرب انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ 

وہ فقہ کے امام ہیں۔ اُن کی تلاوت دِلوں کو جھنجوڑ دیتی ہے۔ اُنھیں حضرت فاروقِ اعظمؓ نے علم و معرفت سے بھرا چھاگل قرار دیا اور حضرت علی المرتضیٰؓ نے قرآن و سنّت کا عالم کہا۔ وہ جب بات کرتے ہیں، تو لبوں سے پھول برستے ہیں۔ اُن کی قرأت کا سحر انگیز انداز سُننے والوں کو اپنا اسیر کر لیتا ہے۔ میرے شوہر کا فقیری میں بھی شاہانہ انداز ہے۔ اِتنی نعمتوں کے بعد مجھے اور کیا چاہیے؟‘‘

حسب نسب

آپؓ کا نام، زینب اور عرفیت رائطہ ہے۔ سلسلۂ نسب یوں ہے: حضرت زینب ؓبنتِ عبداللہ ابی معاویہ بن معاویہ بن عتاب بن اسعد بن غاضرہ بن حُطیط بن جُشم بن ثقیف ۔ بنو ثقیف سے تعلق تھا، جو عرب کے نہایت طاقت وَر اور جنگ جُو قبائل میں سے ایک ہے۔ یہ قبیلہ مکّے سے 60میل دُور، مشرق کی جانب سرسبز و شاداب علاقے، طائف میں آباد تھا۔رسول اللہﷺ ہجرتِ مدینہ سے قبل شوال 10نبوی میں جب یہاں تشریف لائے، تو قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے آپﷺ کو شدید جسمانی اور ذہنی اذیّتیں دیں، اللہ نے پہاڑ کے فرشتے کو اُن کی تباہی کے لیے بھیجا، لیکن آپﷺ نے اُن لوگوں کو معاف کرتے ہوئے اُن کے حق میں دُعا فرمائی۔ فتحِ مکّہ کے بعد 9ہجری میں قبیلہ ثقیف کے سردار، مالک بن عوف، آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے اور پھر پورا قبیلہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا۔ حجاج بن یوسف کا تعلق بھی اسی بنو ثقیف قبیلے سے تھا۔

ثوابِ عظیم سے محرومی کا غم

عرب خواتین مختلف فنون میں مہارت رکھتی تھیں۔ حضرت زینبؓ بھی گھریلو دست کاری میں خاصی ماہر تھیں۔ اُن کے ڈیزائن کردہ خواتین کے ملبوسات اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیاء بے حد پسند کی جاتیں اور طائف، مکّے کے بازاروں میں اُن کی بہت مانگ تھی۔ حضرت زینبؓ کو اس کام سے معقول آمدنی ہوجاتی تھی۔ چوں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا کوئی ذریعۂ معاش نہ تھا، لہٰذا گھر کے تمام اخراجات اُن ہی کی آمدنی سے پورے کیے جاتے۔وہ نہایت سخی اور فیّاض تھیں۔ مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کرکے خوشی محسوس کرتیں۔ 

ایک دن اپنے شوہر سے بولیں’’ مَیں جو کچھ کماتی ہوں، وہ سب آپ اور آپ کی اولاد پر خرچ ہوجاتا ہے، میرے پاس صدقہ و خیرات کے لیے کچھ بھی نہیں بچتا، جس کے سبب ضرورت مندوں کی امداد نہیں کر پاتی اور یوں ثوابِ عظیم سے محروم ہوجاتی ہوں۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے زوجۂ محترمہ کی افسردگی محسوس کرتے ہوئے فرمایا’’ جو قدم تمہارے فائدے کے لیے ہو اور جس میں تم اپنی آخرت کا بھلا محسوس کرتی ہو، وہی کرو۔ مجھے تمہارا نقصان گوارا نہیں اور جہاں تک رہی بات میری اور میری بچیوں کی، تو تم اس کی قطعی فکر نہ کرو۔‘‘ حضرت زینبؓ اِس جواب سے مطمئن نہ ہوئیں، چناں چہ اپنا سوال لے کر بارگاہِ رسالتؐ میں حاضر ہوگئیں۔

قرابت داروں کو دینے کا دُہرا ثواب

حضرت زینبؓ سے صحیح مسلم میں حدیث مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ اے عورتوں کے گروہ! صدقہ دیا کرو، اگرچہ زیور بیچ کر دینا پڑے۔‘‘ حضرت زینبؓ کہتی ہیں کہ یہ حکم سُن کر مَیں اپنے شوہر کے پاس آئی اور کہا’’ عبداللہ !تم ایک مفلس آدمی ہو، جب کہ رسول اللہﷺ کا حکم ہے کہ خواتین صدقہ دیا کریں، تو تم جاکر حضورﷺ سے یہ دریافت کرو کہ اگر مَیں تمھیں صدقہ دے دوں، تو کیا ادا ہوجائے گا اور کیا مجھے صدقے کا ثواب ملے گا۔‘‘ حضرت عبداللہ نے مجھ سے کہا’’ تم خود ہی جاکر معلوم کرلو۔‘‘ اُن کا یہ جواب سُن کر مَیں بارگاہِ نبویﷺ میں حاضر ہوئی، تو دیکھا کہ دروازے پر انصار کی ایک عورت بھی اِسی مقصد کے لیے کھڑی ہے۔ 

ہم دونوں کی اندر جانے کی ہمّت نہ ہوئی۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ حضرت بلالؓ باہر تشریف لائے۔ ہم نے اُن سے درخواست کی کہ حضورﷺ سے ہمارے سوال کا جواب معلوم کرکے بتادیں، لیکن ہمارا نام نہ بتائیں۔ حضرت بلالؓ واپس پلٹے اور حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ہمارا سوال دُہرایا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا’’ یہ کون عورتیں ہیں؟‘‘اُنھوں نے بتایا’’ ایک انصار کی عورت ہے اور دوسری حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی اہلیہ، حضرت زینبؓ ہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا’’ اُن سے کہو کہ ایسا کرنے میں اُنھیں دُہرا ثواب ملے گا۔ ایک ثواب تو قرابت داروں سے حُسنِ سلوک کا اور دوسرا صدقے کا۔‘‘ (کتاب الزکوٰۃ، حدیث2318)

مسلمان شوہر کی گھریلو مصروفیات

حضرت زینبؓ سے سوال کیا گیا کہ’’ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ گھر میں کس طرح وقت گزارتے تھے؟‘‘ اُنھوں نے جواب دیا’’ ویسے تو اُن کا زیادہ تر وقت آنحضرتﷺ کی خدمتِ اقدس یا جہاد میں گزرتا، لیکن جب گھر آتے، تو اندر آنے سے قبل دروازے پر دستک دیتے، پھر کھنکھارتے ہوئے اندر داخل ہوتے۔ سلام دُعا کے بعد ہم سب کا حال احوال دریافت کرتے۔ کوئی تازہ حدیثِ مبارکہ سُنتے، تو ہم سب کو بِٹھا کر اُس کے بارے میں بتاتے۔ گھر کے اندر قرآن و سنّت کے احکامات کی مکمل پابندی کرواتے۔ بچّوں کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجّہ دیتے۔ گھریلو کاموں میں میرا ہاتھ بٹاتے اور بازار سے سودا سلف لاتے۔‘‘

وفات

حضرت زینبؓ کی اولاد اور وفات کے بارے میں بہت کم معلومات دست یاب ہیں۔ تاریخ میں اُن کے صرف ایک صاحب زادے، حضرت ابوعبیدہؓ کا ذکر ملتا ہے، جو اپنے زمانے کے مشہور عالم اور محدث تھے۔ اُن سے کئی صحابۂ کرامؓ نے احادیث روایت کی ہیں۔ 

تاہم، اُن کا جوانی ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ حالات و واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت زینبؓ بھی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زندگی ہی میں وفات پاچُکی تھیں، جب کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے تیسرے خلیفۂ راشد، حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں 32ہجری کو 63سال کی عُمر میں وفات پائی۔

کوفہ کا درویش گورنر

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضورﷺ کی وفات کے بعد گوشہ نشین ہوگئے تھے۔ جنگِ پرموک کے موقعے پر حضرت عُمرؓ نے اُنہیں گوشۂ تنہائی سے نکال کر محاذ پر بھیجا۔ جب محاذ سے واپس آئے، تو اُنہیں کوفہ کا گورنر مقرّر کردیا۔ تب بھی اُن کی درویشی کا یہ عالم تھا کہ گورنر ہائوس میں ایک چٹائی، ایک کمبل،کپڑے کے دو عددجوڑوں، دو چادروں اور چند برتنوں کے سِوا کچھ نہ تھا۔ 10سال تک گورنر رہے اور اِس عرصے میں کوفے کو علم کی دولت سے مالا مال کردیا۔

سورۂ واقعہ کا کمال

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ مرض الموت میں مبتلا تھے۔ خلیفۂ وقت، حضرت عثمان غنیؓ عیادت کے لیے تشریف لائے، تو اُنہوں نے دَورانِ گفتگو کہا’’ اے ابنِ مسعودؓ! مَیں تمہاری بچیوں کے لیے وظیفہ جاری کردوں گا۔‘‘ (یہ اُس وظیفے کا ذکر تھا، جسے اُنھوں نے کافی عرصے سے لینا تَرک کردیا تھا)۔ اُنہوں نے جواب میں فرمایا’’ امیر المومنینؓ! آپؓ میری بچیوں کی فکر نہ کریں۔ مَیں نے اُنہیں تلقین کردی ہے کہ ہر شب سونے سے پہلے سورۂ واقعہ کی تلاوت کرلیا کریں۔ 

مَیں نے رسول اللہﷺ سے سُنا ہے کہ جو شخص ہر رات سونے سے پہلے سورۂ واقعہ پڑھے، وہ کبھی عسرت و فاقے میں مبتلا نہیں ہوگا اور نہ کبھی اُس کے رزق میں کمی آئے گی۔‘‘ اس واقعے میں کہیں بھی اہلیہ اور بیٹے کا تذکرہ نہیں، اگر وہ اُس وقت حیات ہوتے، تو بچیوں کے ساتھ اُن دونوں کا بھی ذکر ہوتا۔ اِس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ حضرت زینبؓ کا حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی وفات سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔