سکھر (بیورورپورٹ، چوہدری محمد ارشاد ) پاکستان ریلوے کی تاریخ میں اب تک متعدد بڑے حادثات رونما ہوئے ہیں، جن میں سیکڑوں افراد جان سے گئے اور محکمہ ریلوے کو بھی خطیر رقم کا نقصان ہو چکا ہے سال 2019 پاکستان ریلوے کی تاریخ کا بدترین سال ثابت ہوا، جس میں 100 سے زائد حادثات ہوئے۔ریلوے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ جون میں 20 حادثات رونما ہوئے، ان حادثات کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ ریلوے کو بھی خطیر رقم کا نقصان ہوا ہے۔۔ محکمہ ریلوے کی تاریخ کئی بڑے حادثات سے بھری پڑی ہے، اور سکھر ڈویژن ریلوے کا اہم ترین ڈویژن ہے جس کی حدود پنجاب اور بلوچستان تک ہے اس ڈویژن میں محمکہ ریلوے کی ٹرینوں کے کئی خوفناک ٹرین حادثات رونما ہوئے ہیں، اسی طرح ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد ٹرینوں کے حادثات ہوئے، سکھر ڈویژن میں ایک بڑا ٹرین حادثہ 4 جنوری 1990 کو ہوا، جب روہڑی کے قریب سانگی میں ٹرین حادثے میں 307 افراد جان سے گئے۔ 1953 جھمپیر کے قریب ٹرین حادثے میں 200 افراد جاں بحق ہوئے، اسی طرح 1954 میں جنگ شاہی کے قریب ٹرین حادثے میں 60 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ ریلوے کو کروڑوں کا نقصان ہوا۔ 22 اکتوبر 1969 کو لیاقت پور کے قریب ٹرین حادثے کا شکار ہوئی، جس میں 80 افراد جان سے گئے۔ 13 جولائی 2005 کو گھوٹکی کے قریب تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں 120 افراد جاں بحق ہوئے، جولائی 2013 میں خان پور کے قریب ٹرین رکشے سے ٹکرا گئی، اس حادثے میں 14 افراد جان سے گئے، 2 جولائی 2015 کو گوجرانوالہ میں ٹرین حادثہ پیش آیا اور 19 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ 17 نومبر 2015 بلوچستان میں ٹرین حادثے کے نتیجے میں 20 افراد لقمہ اجل بنے۔ 3نومبر 2016 کو کراچی کے علاقے لانڈھی میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکرائیں، جس کے نتیجے میں21 افراد جاں بحق ہوئے۔ 31 اکتوبر 2019 کو ضلع رحیم یار خان میں مسافر ٹرین میں آگ لگنے سے 74 افراد جان سے گئے۔11جولائی 2019 کو رحیم یار خان کے قریب اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 20 مسافر جاں بحق ہوئے۔