• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭ وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں ایک وفاقی وزیر کے ’’نجی بینک‘‘ کی خریداری کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ وفاقی وزیر کو ’’ٹیکنو کریٹ‘‘ کے طور پر وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ سابق وزیر خزانہ کو سینٹ الیکشن میں شکست کھانے کی وجہ سے فارغ کرنا پڑا تھا۔ 

وافقانِ حال کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر بننے سے قبل ان کے ’’نجی بینک‘‘ کے بارے میں بعض تحفظات کی بناء پر کوئی بھی اس کو خریدنے کے لئے تیار نہ تھا لیکن اب وزارت خزانہ کے اہم وزیر کے عہدے پر ہونے کی وجہ سے ان کو اپنے ’’نجی بینک‘‘ کو خریدنے کے سلسلہ میں کئی طرف سے ’’پیشکشیں‘‘ آگئی ہیں۔ 

وزارت خزانہ کے ایک اہم اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ سابق وزیر خزانہ بجٹ کے حوالہ سے کافی کام کر چکے تھے جس کا ’’کریڈٹ‘‘ اب موجودہ وفاقی وزیر خزانہ کو ہی حاصل ہوگا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ وفاقی وزیر سیاسی اثر و رسوخ رکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ سابق صدر زرداری کے دست راست اور حال ہی میں ’’نیب‘‘ سے رہا ہونے والے ان کے فرنٹ مین کے بھی ’’سمدھی‘‘ ہیں اور انہوں نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے بھی اپنی اہم عہدہ پر تعیناتی کروائی تھی۔

دو وزیر بھائیوں کا سیاسی مستقبل؟

٭وفاقی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں وفاقی کابینہ اور پنجاب کی صوبائی کابینہ میں شامل دو حقیقی بھائیوں کے بارے میں ’’ احتساب بیورو‘‘ میں چلنے والی انکوائریوں کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں بھائی وزارتوں میں ہونے کے باوجود اپنے ’’سیاسی مستقبل‘‘ کے بارے میں ’’تذبذب‘‘ میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں۔ 

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ شوگر مافیا کمیشن کی رپورٹ اور جہانگیر ترین مقدمات کے تناظر میں وہ خود کو بھی حکومت میں شامل ہوتے ہوئے بھی ’’غیر محفوظ‘‘ محسوس کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات اعلیٰ افسران نے بھی ان کو آنے والے دنوں کی ’’الارمنگ صورت حال‘‘ سے آگاہ کردیا ہے اور انہیں اعلیٰ عدالتوں سے ’’ ریلیف‘‘ لینے کے لئے رجوع کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بجٹ کے بعد اگر حکومتی پارٹی کے ’’باغی ارکان‘‘ کے خلاف سخت کارروائی ہوئی تو ان دونوں بھائیوں کا بھی وزارتوں سے ’’فراغت‘‘ کا واضح امکان ہے۔

3ڈپٹی کمشنروں کی کہانی؟

٭صوبائی دارالحکومت کے سیاسی اور سرکاری حلقوں میں تین اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی تعیناتیوں پر تحفظات کے حوالہ سے کئی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کے بارے میں بعض ’’خفیہ رپورٹوں‘‘ میں جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اس سلسلہ میں مذکورہ افسر نے خفیہ ادارے کے سربراہ کو ذاتی طور پر آکر اس کی وضاحت پیش کی ہے جبکہ راولپنڈی کے حال ہی میں تعینات کئے جانے والے ڈپٹی کمشنر کو بھی اس سلسلہ میں ماضی کے کچھ واقعات اور تحقیقات کے سلسلہ میں ایسے ہی ’’سوالات‘‘ کا سامنا ہے۔ 

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ایک ہفتہ قبل گوجرانوالہ ڈویژن کے ایک ضلع میں ایک سکینڈل کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کی فراغت کے بعد جس خاتون کو ڈپٹی کمشنر کے عہدہ کا اضافی چارج دیا گیا ہے اس کے بارے میں بھی خفیہ اداروں کی رپورٹوں نے جو تفصیل فراہم کی ہے اس نے صوبے کی نام نہاد ’’گڈ گورننس‘‘ کا بھرم کھول دیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے انتظامی عہدہ کے سربراہ اعلیٰ بیوروکریٹ کو بھی ان تعیناتیوں کے احکامات کی مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔ 

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید