• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کی قدر و قیمت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

ڈاکٹر آسی خرم جہا نگیری

ارشادِ ربانی ہے: کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا، وہ سوچ سکتا تھا اور (پھر) تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آچکا تھا، پس اب (عذاب کا) مزا چکھو، سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگا۔‘‘(سورۃ الفاطر)یہی وہ بنیادی فلسفہ ہے جس کے باعث اسلام میں وقت کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسے ضائع کرنے کے ہر پہلو کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میںزمانے کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا : بےشک انسان خسارے میں ہے (کہ وہ عمرِ عزیز گنوا رہا ہے)

حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’دو نعمتوں کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں : صحت اور فراغت۔‘‘(صحیح بخاری، سنن ترمذی)

اللہ تعالیٰ انسان کو جسمانی صحت اور فراغت اوقات کی نعمتوں سے نوازتا ہے تو اکثر سمجھتے ہیں کہ یہ نعمتیں ہمیشہ رہنی ہیں اور انہیں کبھی زوال نہیں آنا، حالانکہ یہ صرف شیطانی وسوسہ ہوتا ہے۔

رسول اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ’’ قیامت کے روز بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سےہٹ نہ سکیں گے، جب تک کہ اس سے ان چار باتوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے:۱… عمر کن کاموں میں گزاری؟۲… جوانی کی توانائی کن کاموں میں لگائی؟۳… مال کہاں سے کمایا اور کہاں لٹایا؟۴… علم پر کس حدتک عمل کیا؟(جامع ترمذی)

وقت اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، لہٰذا بندے پر نعمت کا شکر ادا کرنا ضروری ہے، ورنہ نعمت کو چھین لیا جاتا ہے اور وقت کی نعمت کا شکر یہ ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت و پیروی میں استعمال کیاجائے اورآگے کام آنےوالے نیک اعمال میں اسے کارآمد بنایاجائے۔اللہ کے پیارے نبیﷺ کا ارشاد ہے : ” دو عظیم نعمتیں ہیں:تاہم بہت سے لوگ ان کے بارے میں غفلت برتتے ہیں،: اوروہ صحت اور فرصت ہیں“(صحیح بخاری)

حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓفرماتے ہیں: ”مجھے کسی چیز پر اتنی ندامت اور شرمندگی نہیں ہوئی، سوائے ایک دن کے جس کاسورج غروب ہوگیا ہواور اس میں میری عمر کا وقت ختم ہوچکاہو اور میرے نیک اعمال میں کوئی اضافہ نہ ہوا ہو“۔

امام حسن بصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”اے ابن آدم ! تیری ذات خود دن اور زمانہ ہے، جب ایک دن نکل جاتا ہے تو گویا تیرے جسم کا ایک حصہ ختم ہوجاتا ہے“۔مزید فرماتے ہیں:”دنیا صرف تین دن کا نام ہے: بہرحال گزشتہ کل ،تو وہ جاچکا ،جہاں تک آئندہ کل کا تعلق ہے تو کوئی یقینی بات نہیں ہے کہ تو اسے پاسکے، رہا آج کا دن تو یہ ا بھی تیرے ہاتھ میں ہے، لہٰذا جو بھی عمل کرناہو، کرلے“

اسی طرح علامہ ابن قیم علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”وقت کا ضائع کرنا موت سے زیادہ سخت ہے، کیوںکہ وقت کا ضیاع اللہ تعالیٰ اور آخرت سے دور کردیتا ہے اور موت دنیا اور دنیاوالوں سے کاٹ کر رکھ دیتی ہے“۔بنیادی طور پر انسان کے اوقات کو ضائع کرنے والی دو چیزیں ہیں،ایک غفلت اور دوسراٹال مٹول سے کام لینا۔

حالانکہ کل تک زندہ رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے اوراگرکل کی زندگی کی ضمانت مل بھی جائے تواچانک آنے والی بیماری یا مصیبت و پریشانی سے چھٹکارا نہیں ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ انسان کل کا انتظار نہ کرے، بلکہ آج سے ہی عمل صالح کے لیے کمر کس لے، تاکہ وہ کل کی پشیمانی و ندامت سے محفوظ رہ سکے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطافرمائے۔