• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمیونیٹیز اور ہائی اسٹریٹس پرکیش ختم ہونے کے واقعات کی روک تھام کیلئے پوسٹ آفسز کی مہم

لندن (پی اے) پوسٹ آفسز نے پورے برطانیہ میں کمیونٹیز اور ہائی سٹریٹس پر کیش ختم ہونے کے واقعات کی روک تھام کیلئے ایک مہم شروع کی ہے، ہمارے کیش کو محفوظ کرو کے زیرعنوان شروع کی جانے والی مہم میں حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کیش تک رسائی کو یقینی بنانے کو قانونی حق قرار دینے کیلئے قانون سازی کی جائے اور بینکوں کو ضرورت مندوں کو کیش کی فراہمی یقینی بنانے کا پابند بنایا جائے۔ کم وبیش8 ملین افراد کا کہنا ہے کہ انھیں کئی کئی روز کیش نہیں مل پاتا۔ پوسٹ آفسز کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں کم وبیش 1.4 ملین افراد کا بینک اکائونٹ نہیں ہے اور انھیں اپنے روزمرہ اخراجات کیلئے کیش پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کیش پر سامان فروخت کرنے والے 55 فیصد سے زیادہ چھوٹے دکاندار ہفتہ میں کم از کم ایک دن کیش جمع کراتے ہیں اور انھیں اس کیلئے کوئی آسان، بااعتماد اور محفوظ جگہ کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ اپنا کیش جمع کراسکیں۔ وچ کی جانب سے پوسٹ آفسز کیلئے کی جانے والی ریسرچ کے مطابق 2015 کے اوائل سے اب تک بینکوں کی کم وبیش 4,188 برانچز بند کی جاچکی ہیں، حکومت کیش کو محفوظ بنانے کیلئے قانون سازی کرنے کا پہلے ہی وعدہ کرچکی ہے جبکہ پوسٹ آفسز کی جانب سے شروع کی جانے والی مہم میں بینکوں کو کھاتیداروں اور دکانداروں کیلئے کیش کی فراہمی جاری رکھنے کا پابند بنانے کیلئے فوری قانون سازی پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے دوران عوام سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے رکن پارلیمنٹ کو لکھیں کہ وہ حکومت کو قانون سازی پر مجبور کریں۔ پوسٹ آفسز نے برطانوی بینکوں، بلڈنگ سوسائٹیز اور کریڈٹ یونینز سے یہ معاہدہ کر رکھا ہے کہ اس کے کائونٹرز پر روزانہ بینکنگ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی لیکن پوسٹ آفسز کا کہنا ہے کہ اس میں شریک بینکوں پر انحصار کی وجہ سے یہ معاہدہ بے معنی ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بینکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھاتیداروں کی اپنے اکائونٹس تک مفت رسائی کو جاری رکھیں اور لوکل بینکوں کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ سروس پوائنٹ پر کھاتیداروں اور دکانداروں کو کیش نکالنے کی سہولت فراہم کریں۔پوسٹ آفسز نے مناسب کیش سروسز سے محروم کمیونٹیز کی مسائل کے حل کیلئے مرکز کے زیر انتظام ایک انڈسٹری فنڈ قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پوسٹ آفسز کے چیف ایگزیکٹو نک ریڈ کا کہنا ہے کہ ملک کے لاکھوں لوگوں اور دکانداروں کو کیش کی فراہمی عیاشی نہیں ہے، یہ زندگی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ ایک محفوظ اور پائیدار کیش سسٹم کو یقینی بنانے کیلئے بینکوں کے اشتراک سے کام کرنا ضروری ہے۔ یوکے فنانس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ بینکنگ اور فنانس انڈسٹری ضرورت مندوں کو کیش تک رسائی فراہم کرنے کی عزم رکھتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کیش اب بھی ادائیگی کا اہم ذریعہ ہے۔
یورپ سے سے مزید