• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک جج غلط کرتا ہے تو پوری عدلیہ کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے، جسٹس بندیال

سپریم کورٹ میں سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کیس میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ تقریر کا ہونا، اس کا متن، اس کے حقائق سب معلوم ہیں،آپ نے تقریر میں اپنا بغض نکال دیا، یہ نئی روش شروع ہوئی ہے کہ سب کچھ پبلک کر دیں، اگر ایک جج غلط کرتا ہے تو پوری عدلیہ کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ نے لوگوں کے بارے میں شکایتیں کرنے کے لیے پبلک فورم چنا، ہمیں ملک کے اداروں کا دفاع کرنا ہے،اداروں کا تحفظ ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔

جسٹس بندیال نے کہا کہ ادارے پر حملے کی صورت میں شکایت کے لیے اندرونی طریقہ کار موجود تھا، اگر مداخلت کی بات ہے تو عدلیہ کی آزادی کے کئی اور پہلو بھی ہیں، اگر ایک جج غلط کرتا ہے تو پوری عدلیہ کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ شوکت عزیز صدیقی خاموشی سے انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں سے ملتے رہے، بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ سکتے تھے تو اس معاملے پر کیوں نہ لکھا؟

وکیل حامد خان نے دلائل میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکاز جوابات کی بنیاد پر جج کو برطرف کیا، شوکت عزیزصدیقی عدلیہ کی بدنامی نہیں ، نظام کی بہتری چاہتے ہیں ، چیف جسٹس سے ملاقات کیلئے شوکت صدیقی نے4 بار اپوائنٹمنٹ لی، قبول نہ کی گئی۔

جسٹس اعجازلااحسن نے کہا کیا یہ تقریر جج کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی تھی یا نہیں،یہ بھی سمجھا دیں کونسل کو مزید انکوائری کی ضرورت تھی یا نہیں؟؟

اس موقع پر عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔


قومی خبریں سے مزید