• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زراعت کوبجٹ میں یکسر نظرانداز کیاگیا،لیاقت بلوچ

لاہور (نیوزرپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی و سابق ممبر قومی اسمبلی لیاقت بلوچ نے لاہور ، منڈی بہاؤالدین اور پھالیہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان حکومت کا چوتھا بجٹ بھی روایتی اور مکھی پر مکھی مار حکمت عملی کا شاہکار ہے ۔ بجلی ، تیل ، گیس کی قیمتیں بڑھ جائیں گی ۔ بجٹ سال بھر کا نہیں، حکومت ہر ماہ منی بجٹ عوام پر مسلط کرے گی ۔ عمران خان سرکار نے جھوٹے اعدادو شمار کے ساتھ اقتصادی نہیں ،سیاسی اور انتخابی بجٹ عوام اور معیشت پر مسلط کردیا ۔ قومی معیشت کے لیے زراعت ریڑھ کی ہڈی ہے اسے یکسر نظر انداز کردیا ہے ۔ سٹیل ، سیمنٹ ، اینٹ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے کنٹرکشن محاذ کو زمین بوس کردیاہے ۔ حکومت بجٹ کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کی دہلیز پر سجدہ ریز ہو جائے گی اور ٹیکسوں ، مہنگائی ، بے روزگاری کا طوفان آئے گا۔لیاقت بلوچ نے کسانوں ، تاجروں اور نوجوانوں کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قومی معیشت کو سود ، قرضوں اور کرپشن کی لعنت سے پاک کرنا ہوگا ۔ ملک کے 72 ویں قومی بجٹ میں بھی اقتصادی نظام کی سمت مقرر نہیں ہوسکی ۔ ر وایتی ، ناکام ، ناکارہ ،آئی ایم ایف اورورلڈ بنک کی تابعدار غلام ذہن اقتصادی ٹیم نے آزمودہ ناکام فارمولے کے ساتھ بجٹ قوم پر مسلط کردیا ہے ۔ حکومتی اتحادی جماعتیں اور ناراض عناصر عمران خان کو بلیک میل کریں گے ۔حکومت بلیک میلنگ کے سامنے سرنڈر کرے گی ، دوسرا رستہ قبل از وقت انتخابات کا ہوگا ۔ تنخواہوں ، پنشن میں مطالبات کو نظر انداز کردیاگیاہے ۔ د س فیصد اضافہ نہیں افراط زر اور مہنگائی کی شرح سے اضافہ ملازمین ، پنشنرز اور محنت کشوں کا مطالبہ ہے ۔ لیاقت بلوچ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کو اپنی بقا کے لیے مل کر چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ۔ نوجوان اور کسان مزدور اس تحریک میں جوہری کردار ادا کریں گے ۔
لاہور سے مزید