• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروبار کا آغاز اور کامیابی کیلئے پیشرفت

کوئی بھی کاروبار شروع کرنے سے پہلے آپ کو اس حوالے سے کسی ’آئیڈیا‘ پر کام کرنا پڑتا ہے۔ ایک بار جب آپ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ آپ نے کیا کاروبار کرنا ہے تو پھر اس حوالے سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس میں کئی معاملات کو دیکھنا پڑتا ہے جیسے کہ مٹیریل کہاں سے خریدا جائے گا، ترسیل کس طرح ہوگی، کتنے ملازمین کی ضرورت ہوگی، کاروبار کے لیے مناسب جگہ کیا ہوگی، قانونی تقاضے کیسے پورے ہوں گے وغیرہ۔ 

اگر انسان کی معاشی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو صدیوں سے انسان تجارت کو اہمیت دیتا آرہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کاروبار کیسے کیا جائے؟ اس ضمن میں چند ضروری امور کو دھیان میں رکھنا لازمی ہے۔

حکمت عملی مرتب کرنا

جب آپ اپنی طبیعت، دلچسپی اور میلان کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کرلیتے ہیں کہ کون سا کاروبار کرنا ہے تو پھر آپ کو اس حوالے سے اپنی صلاحیت اور قابلیت کو جانچنا ہوگا۔ اس کے بعد آپ نے یہ دیکھنا ہوگا کہ آپ کاروبار میں کتنا سرمایہ لگا سکتے ہیں۔ آئیڈیل صورتحال تو یہ ہوتی ہے کہ کوئی ایسا کاروبار کیا جائے جس میں کم سے کم سرمایہ لگانے پر زیادہ نفع حاصل ہو۔ 

کاروبار کی ایک حکمت عملی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ ادھار کے بجائے نقد پر کام کریں یا پھر ادھار کی صورت میں ایسا حساب رکھیں کہ مقررہ تاریخ پر ادائیگی ممکن ہوجائے۔ ایمانداری سے کام کرنے سے مارکیٹ میں اچھی ساکھ بن جاتی ہے۔

مالی انتظام

کوئی بھی کاروبار کرنے کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ آپ جو بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، اس سب کا حساب کتاب رکھیے۔ آپ جو بھی مصنوعات بنائیں یا فروخت کریں، اس کا مکمل حساب رکھیے کہ کس تاریخ کو کون سی چیز کس سے خریدی تھی۔ تمام خریدو فروخت کی رسیدیں لازمی اپنے پاس رکھیں۔ ہوم ڈیلیوری کی خدمات مہیا کرکے فروخت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ ہر ایک چیز کی خرید و فروخت کا روزمرہ بنیادوں پر جائزہ لیں کہ کس کی مانگ زیادہ ہے۔ 

انھیں بنانے والی کمپنیوں سے رابطہ کرکے معلوم کریں کہ وہ زائد فروخت کرنے پر آپ کو زیادہ سے زیادہ کتنا منافع دے سکتی ہیں۔ تھوک فروش مارکیٹ سے اشیا لینے کے بجائے کوشش کریں کہ چیزیں بنانے اور اُگانے والوں سے براہ راست حاصل کی جائیں، اس طرح سستے داموں چیزیں مل سکتی ہیں۔ 

اس بات کا دھیان رکھیں کہ پیسے کی لین دین اور آمدن و اخراجات سے غافل نہیں ہونا اور نہ ہی غیرمحسوس طریقے سے لگژری آئٹمز پر رقم خرچ کرکے خسارے کا سامنا کرنا ہے۔ خالص منافع جاننے کے لیے ہر چیز کا حساب کتاب رکھنا ہوگا۔ آمدنی کا ایک حصہ محفوظ کریں کیونکہ وقت اور حالات کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔

صارفین کی ضروریات اولین ترجیح

دنیا کی نامور کمپنیوں کی کامیابی کا راز صارفین کو خدمات کی بروقت فراہمی ہے۔ اپنی مسابقتی کمپنیوں پر حسد ونظر رکھنے کے بجائے والہانہ انداز میں صارفین کی ضروریات کا خیال رکھیں کیونکہ یہی کامیابی کا راز ہے۔ آپ کو سروے یا سوشل گروپس کے ذریعے یہ جاننے کی ضرورت ہوگی کہ صارفین کی ضروریات اور خواہشات کیا ہیں، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے اپنی مصنوعات اور خدمات میں تبدیلیاں لانی ہوں گی تاکہ صارف کہیں اور نہ جاسکے۔ اپنی ٹیم میں ایسے لوگوں کو شامل کریں جو اپنی ذمہ داریوں سے لطف اندوز ہوں، اس طرح وہ آپ کے صارفین کا نیک نیتی سے خیال رکھتے ہوئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

غلطی کا اعتراف واصلاح

انتہائی ذہین لوگ بھی غلطی کرتے ہیں لیکن اس کا اعتراف اور آئندہ اصلاح کرنے کا بھی کھلے دل سے اظہار کرتے ہیں۔ آپ مشاہدہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ کامیاب لوگ مستقل اپنی اصلاح کرتے، سوچ کا زاویہ بدلتے اور مسائل کو سمجھنے کے لیےنظر ثانی کرتے رہتے ہیں۔ 

باوجودیہ کہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا ہے، وہ نئی آرا، نئی معلومات، تصورات و تضادات کو قبول کرتے اور اپنی ہی سوچ کوچیلنج کرنےکے لیے اپنا ذہن کھلا رکھتے ہیں۔ اگر آپ تنقید برداشت نہیں کرسکتے تو پھر کوئی نئی دلچسپ چیز نہیں کرسکتے۔ تخلیق و اختراع کےلیے کوئی وقت بُرا نہیں ہوتا، دریافت اچانک ہوتی ہے۔ مطالعے کی عادت ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتی اور ہمیشہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

کام میں لچک اور نرمی

ذہین لوگ ہر وقت نئے خیالات کے بارے میں سوچتے اور انھیں بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لچک اور نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کام کو بوجھ نہ سمجھا جائے اور اپنے مزاج کے مطابق کریں۔ کاروبار میں ہر روز نیا خیال جنم لیتا ہے اورہر روز نئی حکمت عملی مرتب کی جاتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر نظر رکھیں، جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہر نیا قدم چھوٹے قدم سے شروع ہوکر ایک بڑا قدم بنتا ہے۔ غیر اہم سمجھی جانے والی چیزیں کسی بڑے خسارے کا موجب بنتی ہیں،اس لیے کاروبار میں تنظیم اور ترتیب لازمی ہے۔

نامور کمپنیوں کی کامیابی کا یہی راز ہے۔ ساتھ ہی اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو رکھیں، جو ایسی مہارتیں رکھتے ہوں، جن میں آپ کمزور ہیں۔ اس طرح آپ اپنا وقت بچاکر کاروبار کے دیگر امور پر توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔ چیزوں کو آسان رکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کریں۔ اسٹیو جابز کی ایپل اور پکسار میں کامیابی کا راز یہی تھا کہ انھوں نے وہاں اوپن ورک کلچر کو پروان چڑھایا تھا، جہاں لوگ ایک دوسرے میں گھُل مل جاتے اور مقاصد شیئر کرسکتے تھے۔

خوابوں کا پیچھا کرنا

اپنے خوابوں کا پیچھا کریں اور وہی کریں جس سے آپ کو تسکین اور خوشی ملتی ہے۔ اگر آپ دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی زندگی سے اس لیے لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہی کرتے ہیں، جس کا انھیں شوق ہوتا ہے اور وہ اپنے خوابوں کا پیچھا کررہے ہوتے ہیں۔ 

اپنے کام سے لطف اندوز ہوں کیونکہ یہ کسی بھی کامیاب کاروبار کا سب سے زیادہ اہم جزو ہے۔ اس کے علاوہ اپنے اور دوسروں سے حاصل ہونے والے برجستہ آئیڈیاز کو تحریری شکل میں لائیں کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو وہ پَلک جھپکتے ہی غائب ہوجائیں گے۔ اس لیے یہ بات یقینی بنائیں کہ آپ نے اپنے اہداف پر نظر رکھی ہوئی ہے۔

ہمت نہ مانیں

سب سے اہم بات یہ کہ زندگی میں کئی بار مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں سب سے آسان فیصلہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس کام کو چھوڑ کر ایک طرف ہوجائیں۔ تاہم، اگر آپ اپنے اہداف کے ساتھ مضبوطی سے جُڑے رہیں توبہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ کسی بھی ناکامی کی صور میں ہمت نہ ہاریں اور نئے سرے سے کوشش کریں۔

سماجی ذمہ داری

ہر انسان پر سماجی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کام کرے۔ کاروبار کرنے کے دوران اگر آپ کے وسائل اجازت دیں تو آمدنی کا کچھ حصہ کمیونٹی کی بہتری اور فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔ دوسروں کے لیے اچھا کرنا، آپ کے کاروبار کے لیے بھی اچھا ہوتا ہے۔ 

کمپنیوں پر ایک یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کام کے ذریعے دنیا میں تبدیلی لائیں۔ یہ ان کی کمیونٹی، ساتھ کام کرنے والے لوگوں، صارفین اور ہر ایک کی طرف سے ان پر ایک واجب الادا قرض ہے، جسے ان کو چکانا چاہیے۔

کامرس سے مزید