آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
چونکہ سرکاری اشتہارات کے ثمرات براہِ راست یا بالواسطہ عوام ہی سمیٹتے ہیں ، لہذا یہ انہی کے خرچے پر شائع کرائے جاتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں عوام کے ٹیکسوں سے مفاد عامہ کے لئے شائع ہونے والے اشتہارات کو سرکاری اشتہارات کہا جاتا ہے ۔نمونے کے چند سرکاری اشتہارات ملاحظہ فرمایئے ۔
جھوٹ بے نقاب ہو گیا
عوام الناس کو درجہ بہ درجہ مبارک ہو کہ آئی سی آئی جے نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم کا نام پاناما پیپرز میں آف شور کمپنیوں کے کنٹرولر کے طور پر حذف کردیا ہے ۔ اس نازیبا حرکت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ایڈیٹنگ کی غلطی سے خبر میں ایک جملہ غلط چلا گیا یایہ مقبول ترین وزیراعظم اور مستحکم مملکت خداداد کو غیر مقبول اور غیر مستحکم کرنے کی کوئی گھنائونی سازش تھی؟بہرحال ،اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شکوک و شبہات کے بادل چھٹ گئے ، جھوٹ بے نقاب ہو گیا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے والے بغلیں جھانک رہے ہیں ۔ عوام الناس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مزید ٹوہ لگانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ٹوہ لگانے جیسی غیر اخلاقی حرکت سے منع کیا گیا ہے ۔ نیز آئی سی آئی جے کی بد نام زمانہ ویب سائٹ کے گلی کوچوں میں گھوم پھر کر اپنا قیمتی وقت برباد مت کریں ۔ ویسے بھی عوامی حکومت نے اخلاق سوز ویب سائٹس پر پابندی لگا رکھی ہے

۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزارت قانون مل کر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں کہ اس قماش کی ویب سائٹس کو فحش ویب سائٹس میں شمار کر کے انہیں مستقل بلاک کردیا جائے اور انہیں سرچ کرنے والوں کے خلاف سائبر کرائمز کے تحت مقدمات درج کئے جائیں تاکہ نوجوانوں کو اخلاقی دیوالیہ پن سے بچایا جا سکے (المشتہر: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ، حکومت پاکستان)
انتباہ
جیسا کہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ جناب وزیراعظم پاناما لیکس کی آڑ میں ملکی ترقی کا راستہ روکنے اور انتشار پھیلانے کی تمام درخواستیں سختی سے مسترد کر کے اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کےلئے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ چکے ہیں جس میں انہوں نے روایتی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قیام پاکستان سے اب تک کی کرپشن پر مرحلہ وار تحقیقات کی درخواست کی ہے ۔ اگرچہ ایسے معمولی مسائل پر کسی کمیشن وغیرہ کی ضرورت نہیں تھی کہ اپنے بچوں کا مستقبل کسے عزیز نہیں ہوتا؟ جب ایک مزدور بھی اپنی محدود آمدنی میں سے معصوم بچوں کے کل کے لئے کچھ نہ کچھ پس انداز کر سکتا ہے تو سربراہ حکومت نے اگراپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر چار آنے جمع کر لئے یا ہونہار بچوں نے خود اپنے خون پسینے کی کمائی سے چند ٹکے اکٹھے کر کے بیرون ملک کوئی کمپنی شمپنی یا سر چھپانے کے لئے کوئی جھونپڑا شونپڑا بنا لیا تو کونسی قیامت آ گئی؟ تاہم چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وزیراعظم کا دامن صاف ہے ، لہذا انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے کمیشن کے قیام کا اعلان کردیا۔ مقام افسوس ہے کہ اس کے باوجود مٹھی بھر پیشہ ور احتجاجی عناصر پینترے بدل بدل کر اس بے وقعت اسکینڈل کی آڑ میں ملکی ترقی کا راستہ روکنے ، انتشار پھیلانے اور جمہوریت کا پینڈا کھوٹا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ پیسہ تو ہاتھوں کا میل ہے اور اگر یہ بے تکی سی بات مان بھی لی جائے کہ آف شور کمپنیوں میں لگایا جانے والا پیسہ عوا م کا تھا تو پھر بھی عوام کا پیسہ ، عوام کے خادموں ہی نے استعمال کیا ہے ،
کسی دشمن نے نہیں ۔ ویسے بھی عوام کے ہاتھوں میں دولت کے ارتکازسے معاشرتی بگاڑ کا خطرہ مول لینے سے کہیں بہتر ہے کہ اس پیسے سے کسی معاشی ایکٹیوٹی کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دیا جائے اور زرِ مبادلہ حاصل کیا جائے۔ دریں حالات عوام کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی شر پسند احتجاجی سے ہوشیار رہیں اور ان کی باتوں میں آکر تخریبی جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں میں شرکت اور سب سے پہلے وزیراعظم کا احتساب جیسے شر انگیز مطالبے کی حمایت سے باز و ممنوع رہیں ۔ یاد رہے کہ عوامی حکومت زمینی حقائق اور عوامی مسائل سے تو چشم پوشی کر سکتی ہے مگر تیز رفتار ملکی ترقی کا راستہ روکنے والوں کے لئے اس کے پاس معافی کا کوئی خانہ نہیں ۔ (منجانب : وزارتِ داخلہ حکومت پاکستان)
کٹا بچائو پروگرام
کٹوں کی نسل کو لاحق شدید خطرات اور انہیں لاغر ہونے سے بچانے کے لئے حکومت پنجاب نے ’’کٹا بچائو پروگرام‘‘ اور ’’کٹڑے فربہ پروگرام‘‘ شروع کئے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے مویشی پال حضرات کو مالی امداد بھی دی جائے گی ۔ بذریعہ اشتہارہذا مویشی پال حضرات کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے قومی فرض کو پہچانیں اورنئے نئے کٹے کھولنے کے بجائے پرانے کٹوں کی نسل کو بچانے اور انہیں خوب کھلا پلا کر فربہ کرنے کی اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ موٹے تازے فربہ کٹے ہی ریاست کی معیشت اور ملکی سلامتی کے ضامن ہیں ( منجانب: محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ، حکومت پنجاب)
بجلی بند ہی رہے گی
گرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے ،لہذا وزارت پانی و بجلی کی جانب سے صارفین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ باعزت طریقے سے وافر مقدار میں لالٹینوں اور دستی پنکھوں کا انتظام کرلیں ۔ اس طرح جہاں ہمیں صبروقناعت کی دولت سے بہرہ مند ہونے کا چانس نصیب ہوگا ،وہاں اپنی ثقافت اور لوک ورثہ کو زندہ کرنے کا نادر موقع بھی ہاتھ لگے گا۔ وزارتِ ہذا کی جانب سے عوام کو نوید ہو کہ بجلی بحران پر قابو پانے کےلئے حکومت کے شروع کئے گئے لاتعداد (خفیہ) منصوبوں پر دھڑا دھڑ کام جاری ہے ۔ اگر قیامت نے جلدی نہ کر دی تو یہ منصوبے ایک دن ضرور پایہ تکمیل کو پہنچیں گے اور اندھیرے چھٹ جائیں گے ۔ تب تک لوڈشیڈنگ کو مشیت ایزی سمجھ کر قبول فرمائیں کہ دل جلانے سے کہیں بہتر عمل کے دیے جلانا ہے ۔ (المشتہر: وزارت پانی و بجلی، حکومت پاکستان)
تلاش گمشدہ
جیسا کہ اگلے دن ڈھڈیال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جناب وزیراعظم نے برملا اعتراف کیا کہ انہوں نے مہنگائی کا جن بوتل میں بند کردیا ہے ۔ تاہم بد قسمتی سے اسی شام صوفہ کابینہ کے اجلاس میں ایک وزیر با تدبیر مہنگائی کے جن کی حوالات یعنی اس جن کی بوتل کا معائنہ کر رہے تھے کہ وہ ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گئی اور جن بھاگ نکلا۔ مہنگائی کا یہ جن اب دوبارہ بازاروں میں انھیاںڈال رہا ہے ۔ بذریعہ اشتہار ہذا عوام کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر کسی کو یہ جن نظر آئے تو فوراً نزدیکی تھانے میں اطلاع کریں تاکہ اسے گرفتار کرکے دوبارہ بوتل میں بند کیا جا سکے ، ورنہ یہ رمضان میں آپ کے کڑاکے نکال دے گا۔ نوٹ : اس بات کی انکوائری کی جا رہی ہے کہ وزیر محترم سے جن کی بوتل اتفاقاً گری یا یہ حادثہ ان کی مہنگائی کے جن کے ساتھ کسی ڈیل کا شاخسانہ تھا ،کیونکہ جن کی بوتل بالکل ڈرائی یعنی خشک تھی اس کے ہاتھوں سے پھسلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ (منجانب: حکومت پاکستان)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں