• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈسکوز کی نجکاری کے الیکٹرک نجکاری سے بھی خوفناک تجربہ ہوگا


ج۔م

ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ بجلی کی ضروریات میں ہر سال دس سے پندرہ فی صد مسلسل اضافہ ہورہا ہے پاکستان میں پاور سیکٹر ہمیشہ سے ہی دبائو میں رہا ہے بدقسمتی سے پانی، ہوا، سورج کی روشنی ہونے کے باوجود ہم نے سستی بجلی بنانے کی طرف خاص توجہ نہیں دی اور 1990 کے ادوار میں سابق حکومتوں نے آئی پی پیز سے مہنگے ترین معاہدے کئے ،جو اس وقت ہمارے گلے پڑے ہوئے ہیں اور عوام کومہنگی ترین بجلی کے پیسے ادا کرنے پڑ رہے ہیں ۔

وہ بجلی جو کبھی چند پیسےفی یونٹ ہوتی تھی اور کبھی کبھار چند پیسے بھی فی یونٹ اضافہ کیا جاتا تو حکومتیں ہل جایا کرتی تھیں لیکن اب افسوس ناک امر ہے کہ ایک سال میں کئی روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے،

اس وقت ہمارے ہاں عوام سب سے زیادہ تنگ ہی بجلی کی قیمتوں سے ہیں اور تنقید کا سامنا اسی وجہ سے ہے کیوں کہ ہر گھر ہر دکان ، فیکٹری میں بجلی استعمال ہوتی

یہی شور اس وقت ڈسکوز کی نجکاری کے لئے مچا ہوا ہے سابقہ حکومتوں نے بھی ملک کی متعدد ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو فروخت کرنے کے لئے باہر سے چیف ایگزیکٹو لگانے کا عمل شروع کیا تھا جس پر لیسکو، فیسکو ،گیپکو سمیت دیگر کمپنیوں کے ورکرز انجنیئرز اور خاص طور پر انسٹی ٹیوشن آف انجنیئرز پاکستان اور پاکستان انجنیئرنگ کونسل کی طرف سے جدوجہد سامنے آئی اور اس کام کو موخر کر دیا گیا لیکن موجودہ حکومت نے آتے ہی دوبارہ اس پر کام شروع کر دیا اور لیسکو، گیپکو میں اشتہار دے کر پرائیویٹ سیکٹر سے چیف ایگزیکٹوانٹرویو لیکر تعینات کر د ئیے گئے جس پر انسٹی ٹیوشن آف انجنیئرز پاکستان کے سیکرٹری جنرل انجنیئر امیر ضمیر خان کی سربراہی میں ڈسکوز میں باہر سے بھرتیوں کے عمل کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا گیا اور ہائی کورٹ نے ان کا موقف سنا ،

اسی دوران چیف جسٹس نے دیگر ڈسکوز میں تعیناتیوں کے خلاف تمام درخواستوں کویکجا کر دیا اور ان درخواستوں پر عدالت عالیہ کی طرف سے انجنیئرز اور ورکرز کے موقف پر مبنی احسن فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں درخواست گزار آئی ای پی جنرل سیکرٹری انجنیئر امیر ضمیر خان اور وکیل احسن بھون کی درخواست پر لیسکو گیپکو ،فیسکوکو ائیسکو میں چیف ا یگزیکٹیو کی بھرتی کے طریقہ کار کو غلط قرار دیدیا اورپرانی بھرتیوں کو روکتے ہوئے اب نئے سرے سے وفاقی حکومت کو دوبارہ اشتہار دیکر قوانین کے مطابق نئی بھرتیوں کا حکم دیا ہے

اس نئی صورتحال پر انسٹی ٹیوشن انجنئیر ز پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر ضمیر خان ،لیسکو انجنیئرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنمائوں انجنیئرزفیاض احمد اور ا نجنئیر قاب نے اطمینان کا اظہار کیا ،،امیر ضمیر خان کا کہنا ہے کہ نئی کابینہ نے آتے ہی پاور سیکٹر ریفارمز کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی کو رپورٹ تیار کرنےکی ہدایت کی تھی جس میں ڈسکوز این ٹی ڈی سی میں پرائیویٹ سیکٹر سے چیف ایگزیکٹو اور افسران کو بھرتی کرنا شامل تھا جبکہ اسکے ساتھ ان کے نئے بورڈز بنا کر باہر سے افراد کو شامل کرنا تھا اس مقصد کے لئے اشتہارات دیئے گئے ،اشتہارات آنے پر ڈسکوز انجنئیرز ،واپڈا ہائیڈرو لیبر یونین ،پاکستان ا نجنئیرنگ کانگریس ،پاکستان انجنیئرنگ کونسل اور انسٹی ٹیوشن آف انجنیئرز نے بھر پور احتجاج کیا۔ لاہور میں سب سے زیادہ احتجاج ہوا جس کی قیادت انجنیئر امیر ضمیر خان نے کی ان کی قیادت میں ملک گیر احتجاج کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا جس میں لیسکو سمیت تما م دفاتر کی تالہ بندی کی گئی سڑکوں کو بلاک کیا گیا اور نئے چیف ایگزیکٹو ز کی بذریعہ انٹرویو بھرتیوں کو روک دیا گیا۔

امیر ضمیر خان کہتے ہیں کہ موجودہ حکومتی ڈسکوز میں تبدیلیوں کا طریقہ کار درست نہیں یہ نجکاری کی طرف پہلا قدم ہے لیکن ہم نے نجکاری نہیںہونے د ینی کیونکہ اس سے پہلے مہنگے ترین آئی پی پیز منصوبے لگائے گئے اس میں سٹیک ہولڈرز کو شامل نہ کیا گیا نتائج دیکھ لیں آج پاکستان میں دنیا بھر سے مہنگی ترین بجلی سے تاجر، صنعت کار، عوام پریشان ہیں ایک ایماندار آدمی کے لئے گھر کا بل دینا ممکن نہیں رہا خدارا ترس کھائیں لوگوں کے لئے بجلی سستی کرائیں انجنیئرز نے ہمیشہ حکومت کا ساتھ دیا لیکن منفی کام میں ساتھ نہیں دیں گے، نواز شریف دور میں کوشش ہوئی جو ہم نے ناکام کروائی ۔

اب بھی نجکاری اور باہر سے چیف ایگزیکٹو نہیں آنے دیں گے ہائی کورٹ میں ہماری چھ رٹ درخواستوں پر معزز جج نے چھ ڈسکوز میں بھرتیوں کو روک دیا اور نئے اشتہارات سے بھرتی کا حکم دیا ہے، ہمارے موقف کو تسلیم کیا گیا ہے ،

امیر ضمیر خان نے بتایا کہ ڈسکوز اور این ٹی ڈی سی میں نجکاری کے نام پر جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں وہ بند ہونے چا ہئیں ۔ وزیر اعظم عمران خان سے جلد ملاقات کر کے پاور سیکٹر کی تباہی کے حقائق بتائیں گے اس سے قبل کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی میں نجکاری کا حال دیکھ لیں یہ ایک افسوسناک تجربہ رہا جس سے پورے ملک میں منفی پیغام گیا کہ ایسی نجکاری سے اللہ بچائے ،نجکاری کرنے والی کمپنی نے نہ ملک کو پیسے د ئیے، نہ کراچی کے عوام کو فائدہ ہوا نہ کوئی سرمایہ کاری کی گئی الٹا آج نجکاری ختم کرنے کی باتیں ہو ررہی ہیں 

آ ئی ای پی اور پی ای سی کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ عوام کو آگاہ کیا گیا کہ کے الیکٹرک نے عوام کو کئی گنا مہنگی بجلی کئی گنا زیادہ لوڈشیڈنگ دی اور ڈسکوز میں بھی یہی تجربہ کیا جارہا ہے ہونا تو چاہئے کہ ڈسکوز میں ریکوری اور لائن لاسز کم کرنے کے لئے انجنیئرز کی مشاورت سے فیصلہ سازی کی جائے بیوروکریسی کی نہ مانی جائے اوراس موجودہ نجکاری کے عمل کو روکا جائے وگرنہ انجنیئرز سڑکوں پر ہوں گے عوام ان کے ساتھ ہوں گے یہی ایک طریقہ ہے مہنگی بجلی روکنے کا ہائی کورٹ نے فیصلہ دیدیا اب حکومت کو چا ہئیےکہ اس کی روشنی میں ایس ای سی پی قوانین کو سامنے رکھ کر فیصلے کئے جائیں ڈسکوز کی بہتری میں ملک کی بہتری ہے 

کامرس سے مزید