• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انہیں ابّا،بابا ،پاپا ،ابو ،ڈیڈی ،دوست ،محافظ کہوں یا زندگی سمجھ نہیں آتا کس نام سے پکاروں ؟ اردو ،ہندی ،انگریزی ،فارسی ،عر بی غرض کسی بھی زبان میں ایسا لفظ ہی نہیں ،جو ’’باپ ‘‘ کی ہستی کو بیان کر سکے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ والد سے محبت کا جذبہ بھی اتنا ہی مضبوط وطاقتور ہے جتنا ماں سے محبت کا جذبہ ۔والد کی اولاد سے شفقت بے مول ہوتی ہے ۔ اپنے بچوں کے لیےان کی محبت کی شدت،چاہت اور احساس کی گہرائی کا کوئی ثانی نہیں ۔

بچوں کی مرضی میں راضی ہونے اور ان کی ’’ہاں ‘‘ میں ہاں ملانے والی ہستی کا نام ہے ، باپ ۔یہ ایک باپ ہی ہوتا ہے جوتپتی دھوپ اور ٹھٹھرتی سردی کی پرواہ کیے بغیر اپنے بچوں کی بہتر ین تعلیم و تر بیت کے لیے دن ،رات تگ ودو کرتا ہے ۔ہمارے اردگرد ایسی متعدد باپ ہیں ،جنہوں نے اپنی بیٹیوں کو اپنی پسند کے شعبے میں اُونچی اُڑان اُڑنے دی ۔انہیں چار دیواری کا قیدی نہیں بنایا ۔اور ایسے باپ بھی دیکھے جو خاندانی روایت کے آگے ڈھیر ہوگئے ۔باپ کی شخصیت ایک کھولی کتاب کی مانند ہوتی ہے ،جس کا ایک ایک لفظ زندگی کے ہر موڑ پر بچوں کی رہنمائی کررہا ہوتا ہے ۔

خود چاہیے جتنی بھی مشکلات یا پریشانی کا سامنا کررہا ہو لیکن بچوں کو ہمیشہ خوش وخرم دیکھنا چاہتا ہے ۔ایک باپ ہی ہوتا ہے جو بچوں کی تمام تر خواہشات ماتھے پر شکن لائے بغیر پوری کرتا ہے ،ان کےہر ناز ،نخرے اُٹھا تا ہے ۔باپ وہ زینہ ہے جو اونچائی تک لے جاتا ہے ۔کیسی صفت رکھی ہے قدرت نےباپ کے روپ میں۔ دنیا بھر میں ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو فادرزڈے منایا جاتا ہے ۔اس سال 20 جون کو یہ دن منایا جائے گا ۔ ہم نے چند نامورباپوںاور اُن کے بچوں سے بات چیت کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ انہوں نے بچوں کی تعلیم وتر بیت پر کس حد تک توجہ دی ۔

بہ حیثیت باپ اُن کی ہر خواہش پوری کی یا روک ٹوک بھی کی ،کتنی آزادی دی یا پابندیوں کے حصار میں جکڑ دیا ۔ساتھ اُن کے بچوں سے ’’باپ ‘‘ کے حوالے سے بات چیت کی ۔باپ بچوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں اور بچے اپنے باپ کے بارے میں کیاکہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ آپ بھی اس گفتگو میں شامل ہوجائیں ۔

شاہد آفریدی

معروف کھلاڑی ،شاہد آفریدی پانچ پیاری بیٹیوں کے باپ ہیں۔ بہ حیثیت باپ اُن کا کہنا ہے کہ، بچوں کی تر بیت اور زندگی میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں تر بیت میں صرف ماں کا کردار ہوتا ہے، ایسا نہیں ہے باپ کا کردار بھی اتنا ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔گھر سے بچوں کو جو تعلیمات ملتی ہیں وہ ان کی بنیاد ہوتی ہیں ۔اسی کی بنا ء پر وہ زندگی میں آگے بڑھتے ہیں۔ میں بچوں کی تعلیم میں سب سے زیادہ اہمیت بڑوں کی عزت و احترام، اساتذہ کا احترام اور دنیا میں جس مقصد کے لیےآئے ہیں ، اس کو پورا کرنے کو تر جیح دیتا ہوں ۔

بچوں کی خواہشا ت تو بہت زیاد ہ ہوتی ہیں لیکن صرف وہ پوری کرتا ہوں جو میں مناسب سمجھتا ہوں، گرچہ انہیں کسی کام کے لیے منع کرنا یا سمجھانا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، اُس وقت میں اپنے آپ کو اُن کی جگہ پر رکھ کر سوچتا ہوں۔میری بیٹیاں جب بھی کوئی مجھے غصہ دلانے والا کام کرتی ہیں تو میں پہلے انہیں بہت پیار سے سمجھاتا ہوں ،بتاتا ہوں کہ ایسا کرنا صحیح نہیں ہے اور اگرکہیں ضرورت پڑے تو سختی یا غصہ بھی کرتا ہوں۔ پہلے مصروفیات زیادہ ہونے کی وجہ سے بچیوں کو اتنا زیادہ وقت نہیں دے پاتا تھا ،مگر اب پوری کوشش کرتا ہوں کہ اُنہیں زیادہ سے زیادہ وقت دوں ۔اورایک باپ کے ساتھ ان کا اچھا دوست بھی بنوں۔ 

مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کبھی کسی بات پر اپنی بیٹیوں پر بہت زیادہ سختی کی ہو ،تھوڑی بہت ڈانٹ تو پڑتی رہتی ہے ،سمجھاتا رہتاہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میری پانچوں بیٹیاں میرے بہت قر یب ہیں ،سب کے ساتھ دوستانہ رویہ ہے۔ میں ہمیشہ ان کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ پڑھائی پر خوب توجہ دو، دل لگا کر تعلیم حاصل کرو ،اپنے آپ کو پہچان کر آگے بڑھو اوروالدین کی بات مان کر زندگی گزارو ۔

اقصٰی آفریدی

شاہد آفریدی کی بیٹی کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے باپ پر فخر ہے ۔ ہر بچے کے لیے والدین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن باپ کا جو تعاون ہوتا ہے وہ فراموش نہیں کیا جاسکتا، خاص طور پر تعلیم کے میدان میں ،مستقبل کے اہداف میں ۔

بابا ہم سب بہنوں کو ہمیشہ ایک بات سمجھاتے ہیں کہ، اللہ پر یقین رکھو ،اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرو۔ بابا کی ان باتوں سے ہمیں بہت اعتماد ملتا ہے ۔ہمارے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ ہے لیکن جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں غصہ بھی کرتے ہیں ۔

کوئی خاص روک ٹوک یا سختی تو کسی بات پر نہیں کرتے ،البتہ غلط بات پر پیار سے سمجھا دیتے ہیں ۔اللہ تمام والد ین کو سلامت رکھے (آمین )۔

سید اکبر حسین راشدی

سید اکبر حسین راشدی ،ریٹائرڈ چیف انجینئر ہیں ۔وہ ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ سے وابستہ تھے۔ان کے دو بیٹے ہیں ۔بہ حیثیت باپ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی تر بیت میں میرا عمل دخل اتنا زیادہ نہیں تھا ،جتنا ان کی ماں کا تھا ۔لیکن وہ ان سے ہمیشہ کہتی تھیں کہ اپنےہرکام میں اپنے باپ کے انداز کو اپنائو ،وہ کیسے اُٹھتے ہیں ،کیسے بیٹھتے ہیں۔ ان کا سوشل سرکل کیسا ہے ۔ میرے دونوں بچوں نے وہی ساری چیزیں اپنائی جو میں کرتا تھا ۔گرچہ میں نےنماز اور تعلیم کے علاوہ کسی بھی کام میں عمل دخل نہیں کیا ۔تعلیم میں ہمیشہ دونوں بیٹوں کی پسند کو اہمیت دی ،میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ، جس شعبے میں تمہیں تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے کرنا ،میرے طر ف سے کوئی پابندی نہیں ہو گی ۔

دونوں بیٹوں نے بیرون ملک میں پڑھا لیکن اس کے باوجود ان کو گھر کے ماحول اور طور طریقوں سے جوڑے رکھا۔ بچپن میں ان کی جو بھی خواہشات تھیں ،میں نے پوری کی ،البتہ ان کی ماں ہر خواہش پوری کرنے سے منع کرتی دونوں بچےجو کچھ بھی مانگتے تھے میں ان کو لازمی پورا کرتا تھا ،کیوں کہ میرا س بات پر یقین ہے کہ عمر کے ہر حصے میں بچوں کی خواہشات الگ ہوتی ہیں ۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس یہ چیزیں ہونی بھی چاہیے، بس اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ان کی ہرخواہش پوری کی ۔

آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ آج تک میرے بچوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا، جس کے لیے مجھے انہیں روکنا یا ڈانٹنا پڑا ہوا ،وجہ یہ تھی کہ میں نے بچپن میں ہی ان کو صحیح اور غلط کا فرق بتا دیا تھا ۔میں آج مطمئن ہوں کہ میں نے بہ حیثیت باپ اپنی ذمہ داریوں کو بہ خوبی نبھایا۔ میرے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ میرے بیٹے اپنے بچوں کی تر بیت میری طر ح کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ایک باپ کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات کیا ہو گی کہ اس کی اولاد اس کی خواہشات کے مطابق زندگی گزاررہی ہے ۔

میرے دونوں بیٹو ں نے ویسا ہی کیا جیسا میں چاہتا تھا ،اسی لیے مجھے اپنے بیٹوں پر بہت فخر ہے ۔بڑے بیٹے کا اپنا پروڈکشن ہائوس ہے ۔ چھوٹا بیٹا میوزک کمپوزر ہے اور گاتا ہے ۔ میں دوستوں کے ساتھ باہر آنے جانے میں تھوڑی سختی کرتا تھا ۔لیکن گھر میں بلا کر دوستوں کے ساتھ انجوائے کرنے سے منع نہیں کرتا تھا ، اُنہیں باہر جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ تعلیم کے معاملے میں بھی سختی کرتا تھا ،کیوں کہ یہ میری سب سے پہلی ترجیح تھی ،اس کے بعد باقی چیزیں ۔

میں آج بھی دونوں کو سمجھاتا ہوں کہ آپ کی عمر محنت کرنے اور دل لگا کر کام کرنے کی ہے ۔وقت کو ضائع نہیں کرو، یہ کسی کا نہیں ہوتا ۔لہٰذا اس کی قدر کرو ۔مجھے یہ سوچ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ دونوں بیٹوں نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا ،جس کی وجہ سے میں ان سے نالاں ہوتا ۔آج تک کبھی ان سے شکایت نہ ہوئی اور نہ ہے۔

رافع راشدی

اکبر راشدی کے بیٹے ،رافع راشدی نے اپنے باپ کے بارے میں بڑے فخریہ انداز سے بتا تے ہوئے کہاکہ، میرے بابا میرا آئیڈیل ہیں، انہوں نے میری تر بیت میں کوئی کمی نہیں کی ۔ ہرخواہش اور فرمائش کو پورا کیا ۔ بچپن سے لے کر آج تک زندگی کے ہر موڑ پر اور ہر فیصلے میں میرا بھر پور ساتھ دیا ،جس چیز پر بھی ہاتھ رکھا جو بھی مانگا وہ دی ۔کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں کی ۔کچھ اہم چیزیں جو میں نے اپنے بابا سے سیکھی وہ ان کا دوسروں کے ساتھ شفقت اور محبت بھرا رویہ اور ذمہ داریاں نبھانا ہے۔

وہ ہمیشہ بزرگوں کے ساتھ احترام سے پیش آتے اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کرتے ہیں اور ہمیں بھی یہی سکھایا۔ بابابہت اصول پسند ہیں ،ان کی یہ عادتیں مجھ میں آئی ہیں۔ انہوں نے ہر لحاظ سے ہمیں ایک پرفیکٹ شخصیت بنانے کی کوشش کی۔ زیادہ تر ان کا رویہ دوستانہ اور پیار بھرا ہوتا ہے ،لیکن جہاں ضرورت محسوس کرتے وہاں غصہ بھی کرتے ہیں ۔میں کوشش کرتا ہوں کہ بابا کو میری کسی بات پر غصہ نہ آئے ۔ اپنے کاموں میں بہت زیادہ مصروف رہنے کے باوجود وہ مجھے سے اور بھائی سے باتیں کرنے اور ساتھ وقت گزارنے کے لیے وقت لازمی نکالتے ہیں۔ ساتھ ہماری ذمہ داریوں کے بارے میں بھی بتاتے رہتے ہیں۔ 

بچپن میں بھی بابا بہت کم باتوں پر ڈانٹتے تھے ، مارا تو کبھی بھی نہیں اور نہ ہی کسی بات پر روک ٹوک کی ،البتہ جہاں ان کو یہ لگتا تھا کہ میرا یہ فیصلہ نقصان دہ ثابت ہوگا یا میرے لیے فائدہ مند نہیں ہو گا تو اس پر ضرور منع کرتےاور بتاتے تھے ایسے نہیں ایسے کرلو ۔میں نےآئی ٹی کے شعبے میں ڈگری لی ۔ لیکن کام میڈیا میں بہ حیثیت فلم پروڈیوسر کرتا ہوں ،اس پر بھی بابا نے کبھی غصہ نہیں کیا ۔ہمیشہ میری پسند کو تر جیح دی ۔

وہ کبھی میری فرمائشوں سے تنگ نہیں ہوئے۔ میں ان کی شخصیت کا بغور مشاہدہ کرتا ،ان کے انداز کو اپنانے کی کوشش کرتا ،جس کا میرے پروفیشن پر بھی اثر ہوا ہے ۔میں یہ فخریہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے باپ نے ہم دونوں بھائیوں کی بہتر تر بیت کی ہے جو خاصیتیں اور اچھی عادتیں وہ اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے وہ پیدا کیں ،جو آج ہماری کام یابی کی ضمانت ہیں ۔

میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے باپ کی کاوشوں سے ہوں ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امی کا عمل دخل نہیں تھا ۔امی تو ہر وقت ہی ہماری رہنمائی کرتیں اور آج تک کرتی ہیں ۔ماں تو ماں ہوتی ہے ۔میں زندگی کےاس مقام پر ان دونوں کی دعائوں،ہمت ،حوصلے اور سپورٹ کے بغیر نہیں پہنچ سکتا تھا ۔

وجیہ ثانی

جیونیوز کے نیوز کاسٹر وجیہ ثانی تین بیٹوں کے باپ ہیں ۔یہ کہتے ہیں کہ بچوں کی تربیت میں میرا بہت زیادہ عمل دخل ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے ان کی تر بیت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے ۔نرمی والا ،پیار کرنے والا حصہ ہے وہ میں نے اپنی بیوی کو دیا ہوا ہے اور سختی والا حصہ اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے ،میرے خیال میں بچے ماں کے مقابلے میں باپ سے زیادہ ڈرتے ہیں، ان کا رعب زیادہ ہوتا ہے ، ان کی بات جلدی مانتے ہیں ۔لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بچوں کی تربیت میں ماں اور باپ دونوں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہو تا ہے ۔ بہت زیادہ مصروف رہنے کے باوجود میں ان کے لیے وقت نکالتا ہوں۔ 

تعلیم وتربیت میں سب سے زیادہ اہمیت تہذیب کو دیتا ہوں ، کیوں کہ تہذیب ہی آگے چل کر بچوں کو اچھا انسان بناتی ہے۔ تعلیم اعلیٰ مقام تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔لیکن جو تہذیب بچوں کو گھر میں سکھائی جاتی ہے وہ نہایت اہم ہوتی ہے اور اس میں مرکزی کردار باپ کا ہوتا ہے ۔بڑوں سے بات کرنے کا سلیقہ ،ان کو مخاطب کرنےکا انداز ،وقت کی پابندی ،سچ بولنا ،ماں باپ سے باتیں شیئر کرنا ۔

ان تمام باتوں کا میں بہت زیادہ خیال کرتا ہوں ۔بچوں کی خواہشات کے حوالے سے بھی میں نے ایک فارمولا بنایا ہوا ہے، کبھی کبھار تو میں ان کی بہت بڑی خواہش بھی آسانی سے پوری کردیتا ہو اور کبھی چھوٹی سے خواہش بھی پوری نہیں کرتا ،کیوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر بچوں کی تمام خواہشات فوری پوری کردی جائیں یا ان کی ہر بات مان لی جائے تو انہیں اس چیزکی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا اور نہ یہ اندازہ ہوتا ہے کہ چیزیں کتنی مشکل سے حاصل ہوتی ہیں ۔

بچوں میں کسی خواہش کے لیے نہ سننے کا عنصر بھی ہونا چاہیے ،ورنہ وہ ضدی ہو جاتے ہیں اور فرمائش پوری نہ ہونے کی صورت میں غصہ کرتے ہیں۔ میں اُنہیں کسی کام سے روکنے کے لیےپہلے پیار اور نرمی سے سمجھتا ہوں۔ اگر وہی وہ کام دوبارہ کرتے ہیں تو میں ناراضی کا اظہار کرکے ان کو مزید سمجھاتا ہوں ،اگر تیسری بار بھی وہی غلطی کرتے ہیں تو پھر میں غصہ کرتا ہوں ۔

بہ حیثیت باپ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے سے مکمل طور پر تو مطمئن نہیں ہوں ،کیوں کہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یہ خیال ضرور آتا ہے کہ بچوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کمی رہ گئی ہے ۔ میرے خیال میں ہم کسی بھی رشتے میں مکمل پر فیکٹ نہیں ہوتے۔ مجھے ابھی بھی لگتا ہے کہ ایک باپ کی حیثیت سے مجھ میں کچھ خامیاں ہیں جن کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور میں کوشش بھی کرتا رہتا ہوںکہ ان خامیوں کو دور کرو۔بڑوں سے بدتمیزی کرنا اور جھوٹ بولنا مجھے کسی صورت برداشت نہیں ہے ۔میں ہمیشہ اپنے بیٹوں سےکہتا ہوں کہ جتنی بھی بڑی غلطی سرزد ہوجائے یاکوئی مشکل درپیش ہو،مجھے دوست سمجھ کرسچ سچ بتا دو، ،جھوٹ نہیں بولنا ۔

اپنی غلطی تسلیم کرنے کی ہمت پیدا کرو ۔میرے خیال میں بچوں کو ہر صحیح کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے ،ان کی پسند کو اہمیت دیں ۔اگرکوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں ،کوئی ویژن ان کے ذہن میں ہے ،تواس کو پورا کرنے دیں، ان کے پر نہیں باندھیں ۔ کوشش کرتا ہوں کہ بچے موبائل ،لیپ ٹاپ یا آئی پیڈ وغیرہ بہت زیادہ استعمال نہ کریں ،زیادہ سے زیادہ فیزیکل گیمز کھیلیں ۔میں ان کو ہمیشہ یہی سمجھاتا ہوں کہ مستقبل میں جو کرنا چاہتے ہووہ کرنا ،جس شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق ہے ،اسی میں پوری لگن اور دل جمی کے ساتھ پڑھنا ،میرے طر ف سے کوئی پابندی نہیں ہو گی ۔میں اپنی پسند ان پر مسلط نہیں کرنا چاہتا ۔

سید عربان عبداللہ

وجیہ ثانی کے بیٹے نے بتایا کہ میں اور پاپا آپس میں دوستوں کی طر ح رہتے ہیں ، اُن سے اپنی ہر بات شیئر کرتا ہوں ۔وہ مجھے موبائل ،آئی پیڈ یا لیمپ ٹاپ پر زیادہ گیمز کھیلنے سے منع کرتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ فیزیکل چیزیں کیا کرو ۔وہ ہماری صحت کے لیے فائدے مند ہیں ۔

اگر کبھی میں کوئی غلطی کردوں تو بہت پیار سے سمجھاتے ہیں ،البتہ بات نہ ماننے پر غصہ بھی کرتے ہیں ۔

مجھے اپنے پاپا کی باتیں اور سمجھانے کا انداز بہت اچھا لگتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ بڑے ہو کر میں بھی اُن کی طر ح باتیں کرو، اُن کے انداز کو اپنائو ۔لیکن میں پاپا کی طر ح نیوز کاسٹر نہیں بلکہ ایک سائنس داں بننا چاہتا ہوں ۔ 

اپنے بچوں پر فخر ہے، منور سعید

منور سعید معروف سینئر اداکارہیں۔ تین بیٹے اور ایک بیٹی کے باپ ہیں۔ جب میرے بچے چھوٹے تھے تو میں اُس وقت بہت زیادہ مصروف رہتا تھا ،کیوں کہ اُس وقت میں ایک ساتھ تھیٹر ،ریڈیو ،ٹی وی اور فلم میں کام کررہاتھا ،جس کی وجہ سے مصروفیات بہت زیادہ تھیں، اس لیے بچوں کو اتنا زیادہ وقت نہیں دے پاتا تھا ۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کی تر بیت میں مجھے سے زیادہ ان کی والدہ کا عمل دخل تھا ۔لیکن بچوں کو اسکول چھوڑنے کا کام میں خود کرتا تھا ،چاہے میں رات کو دیر سے گھر آتا لیکن اسکول چھوڑنے لازمی جاتا تھا۔

اس طر ح صبح کا ٹائم میں اُن کےساتھ گزارتا تھا ،مگر میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ میں اپنے بچوں کو ایک اچھا مسلمان اورانسان بنائوں۔ بچپن میں ،میں نے چاروں بچوں کو ایک بات ذہن نشین کرادی تھی کہ کچھ بھی ہوجائے زندگی میں کبھی بھی بے ایمانی نہیں کرنا ۔زندگی کا ہر فیصلہ ،ہر کام پوری ایمانداری اور بہادری سے کرنا ۔ میں یہ بات فخریہ کہا سکتا ہوں کہ میرے چاروں بچے بہت ایماندار اور بہادر ہیں ۔ 

میری نظر میں ایمانداری ،دیانتداری اور بہادری ایک مسلمان کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے ۔میں نے بچوں کی تر بیت میںان باتوں کو سب سے زیادہ اہمیت اور ترجیح دی تھی ۔ بچپن میں ان کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کی اور اب تک کررہا ہوں۔ بشرطیہ کہ وہ جائز ہوں۔ اگر کبھی کوئی ناجائز خواہش کرتے تھے تو میں ان کو پیار سے سمجھتا ۔غلط باتوں سے روکنے کے لیے پہلے پیار سے سمجھانا پڑتا ہے ،اگر نہیں سمجھتے تھے تو پھر سختی کرتا تھا ۔

ایک دو ،دفعہ مارا بھی۔ لیکن آج میں مطئمن ہوں کہ میں نے بہ حیثیت والد اپنی ذمہ داریاں بہ خوبی نبھائیں ۔اپنے بچوں کو گرمی ،سردی کی ہر آسائش فراہم کی ۔آج یہ سوچ کربہت خوش اور پُر سکون ہوں کہ، میں نےبہ حیثیت باپ اپنا حق بھی ادا کیا۔ اور فر ض بھی۔ میرے سارے بچے قابل ِفخر ہیں ۔ظفر مسعود اور اس سے چھوٹا بیٹا بینکر ہے ،تیسرا بیٹا میڈیا میں بہ حیثیت ڈائریکٹر کام کرتا ہے ۔

سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ میں کبھی بھی اپنے کسی بچے سے نالاں نہیںہوا ۔کسی سے کوئی شکایت نہ ہوئی اور نہ ہے ۔اللہ نے مجھے اتنے سعادت مند بچوں سے نوازا ہے۔ اور میں دعاکرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو ایسی ہی اولاد عنایت فرمائے۔

میرا باپ میرے لیے سب کچھ ہے، ظفر مسعود

منور سعید کے صاحبزادے ،ظفر مسعود نے اپنے باپ کے حوالے سے بتا تے ہوئے بڑے فخر سے کہا ،میرا باپ میرے لیے سب کچھ ہے ۔ بچوں کی شخصیت سازی میں تربیت کا بہت عمل دخل ہوتا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ شخصیت سازی صر ف تربیت سے ہی ہوتی ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔چاہے بیٹا ہویا بیٹی ۔اس کی تربیت میں ماں کے ساتھ والد کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے اس کی وجہ بہت سادہ سی ہے۔ 

یہ فطری عمل ہے کہ عمومی طور پر ہر بچے کاآئیڈیل اور ہیرو اس کا باپ ہوتا ہے۔ اس لیے بچہ لاتعداد باتیں صرف اپنے باپ کو دیکھ کر سیکھتا ہے اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی، جو باپ نے کیا وہ ہی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میری تربیت میں میرے والد کا بہت اہم کردار ہے بلکہ یہ کہوں کہ اُن کا مرکزی کردار ہے تو غلط نہ ہو گا۔ میرے والد محض نصیحت نہیں کرتے تھے بلکہ عملی انداز میں تربیت کے قائل تھے ،کیوں کہ عملی تربیت نصیحت سے بہت زیادہ کار گر ہوتی ہے۔ ان کے لیے تہذیبی اقدار بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ خود بھی اخلاقی اقدار جیسے بزرگوں کا احترام ، انسانیت ،ایمانداری اور دیانت داری وغیرہ کی پاسداری کی اور ہمیں بھی یہی سکھایا۔ 

یہ ایسی خصوصیات ہیں جن کا وہ بہت خیال رکھتے تھے۔ شخصیت سازی کا ایک اور پہلو کردار کی تعمیر اوراعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اعلی کردار اور اعتماد سچائی کا حامل ہوتا ہے ،سو انھوں نے ہمیشہ ایسی تربیت کی کہ ہم سب بہن ،بھائی اپنی غلطی ماننے سے کبھی نہ کترائے ،اگر کسی سے غلطی ہو گئی تو دلیری سے اسے مانا بھی اور اس کا ازالہ بھی کیا،تا کہ ہم میں حوصلہ اور قوت برداشت پیدا ہو، کیوں کہ زندگی کے امتحانوں کا مقابلہ حوصلے اور برداشت سے ہی ممکن ہے ۔ 

میں تو یہی کہوں گا کہ، میرے والد کا انداز تربیت مثالی تھا ، جو خاصیتیں وہ اپنے بچوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے وہ پیدا کیں،جو آج ہماری کامیابی کی ضمانت ہیں ۔ان کی محنت رنگ لائی ہے ،جس کی وجہ سے ہمیں زندگی میں بہت فائدہ ہوا ہے۔ ان کی سختی یا نرمی ہمارے رویے کی مناسبت سے ہوتی تھی ۔ انھوں نے ہمیشہ توازن قائم رکھا ، عمومی طور پر تو ان کا رویہ دوستانہ تھا، پیار کرتے تھے ، ہنسی مذاق ہوتا تھا، مگر احترام کے دائرے میں رہ کر۔ نہ تو وہ گھر کو جیل خانہ بنانے کے قائل تھے اور نہ ہی مادر پدر آزادی کے قائل تھے۔

اسی طرح روک ٹوک بچے کی تربیت کا لازمی حصہ ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے بچہ بہت سی غلطیاں کرنے سے بچ جاتا ہے۔ میرے والد نے ہمیںآزادی بھی دی اورڈسپلن بھی سکھایا۔ جہاں روکنے ٹوکنے کی ضرورت پڑی ، روکا بھی۔ دوستانہ انداز میں اچھے، برے اور چھوٹے ،بڑے کی تمیز سکھائی ،مگر ڈسپلن اور احترام کا معاملہ یہ ہے کہ آج بھی ان کے غصے سے ڈر لگتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایسا بھی وقت آیا جب انہیں سختی کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے والد اخلاقی تربیت کے معاملے میں بہت حساس تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جس انسان کا اخلاق برباد ہو جائے اس کا کردار خود بخود تباہ ہو جاتا ہے۔ 

انسان کی شخصیت کی بنیاد اخلاق ہے، جس پر کردار کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے یہ انسان کے لیے اخلاقی طور پر تباہ کن ہوتا ہے۔پھر بے ایمانی اور بدتمیزی کا نمبر آتا ہے۔ میں اس بات پر بہت پختہ یقین رکھتا ہوں کہ مالی نقصان چاہے کتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو اس کا ازالہ بعد میں ممکن ہے ، مگر اخلاقی نقصان کا ازالہ فورا ًکرناچا ہے ورنہ یہ عادت بن جاتی ہے۔ 

بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی نظر آنے والی برائیاں انسان کی شخصیت کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ میرے والد اخلاقی تعمیر پر بہت دھیان دیتے تھے اس لیے اخلاقی برائیوں پر بہت ڈانٹ پڑتی تھی۔ اور میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنے والد کی تر بیت کا نتیجہ ہوں ۔

زندگی کے پانچ سال باپ کا ساتھ رہا ،نور ناز آغا

نور ناز آغا قانون داں ہیں ،انہوں نے ہمیں اپنے باپ کےحوالے سے بتا یا کہ، جب میں پانچ سال کی تھی تو میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا لیکن ان پانچ سالوں میں میرے والد نے جتنی محبت مجھ پر نچھاور کی ،میرے دماغ میںآج بھی نقش ہے۔ بہت اچھی تر بیت کی۔ ان کی بتائی ہوئی ہر بات آج تک یاد ہے اور کام بھی آرہی ہے ۔بابا کا گفتگو کرنے کا انداز انتہائی شائستہ تھا ،وہ سب ہی کے ساتھ بہت شفقت اور محبت سے پیش آتے ،بہت پیار کرنے والے انسان تھے ۔ان کے حُسن اخلاق کی وجہ سے آج بھی سب ان کا بہت عزت سے ذکر کرتے ہیں۔

وہ کسی بھی کام سے کہیں جاتے تو بیوی ،بچوں کوساتھ لے کر جاتے تھے۔کبھی بھی انہوںنے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا ۔مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوتی ہے جب کوئی مجھے دیکھ کر کہتا ہے کہ، اس کی شکل و صورت اور عادتیں بالکل اپنے باپ کی طر ح ہیں ۔بابا کبھی کسی بات پر نہیں ڈانٹتے تھے ہمیشہ پیار ہی کیا۔

ان کا رویہ ہم سب بہن بھائیوں کے ساتھ دوستانہ تھا ،بالکل دوستوں کی طر ح بات کرتے تھے ۔خوب ہنسی مذاق کرتے تھے ۔ہر فرمائش پوری کرتے تھے ،کبھی کسی چیزکے لیے منع نہیں کیا ۔باپ کی حیثیت سے انہوںنے اپنی تمام تر ذمہ داریاں بہ خوبی نبھائیں ۔

اپنے بچوں کی سالگرہ بہت اچھے سےمناتے تھے ۔میں اُن کے بارے میں چند الفاظ میں نہیں بتا سکتی ۔لیکن یہ فخریہ کہوں گی کہ میرے نزدیک وہ دنیا کے بہترین باپوں میں سے ایک تھے ۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کہ وہ ہر رشتے میں بہتر ین تھے تو غلط نہ ہوگا ۔ان کی تربیت مجھے پر اتنی زیادہ اثر اندا ز ہوئی کہ میں نے اُن کے طور طریقے اپنائے ۔99 فی صد کام میں اُن کی طر ح کرتی ہوں ۔ان کے ساتھ گزرا ہر لمحہ بہت بہترین تھا ۔پانچ سال کی عمر کیا ہوتی ہے؟ لیکن میری زندگی کے وہی پانچ سال بہت یاد گار ہیں ۔ دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمام اولادوں کو ایسے والد عطا کرے ۔

  میری زندگی کے پہلے ہیرو ،’’میرا باپ ‘‘،بشریٰ انصاری

سنیئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنے باپ کے بارے میںبتا تے ہوئے کہا کہ، میرے باپ نے ہم بہن بھائیوں کی تربیت ایک رول ماڈل بن کر کی ۔وہ میری زندگی کے پہلے ہیرو ہیں ۔وہ بہت زیادہ اُصول پسند ،بہادر ، ایماندار اور سچے انسان تھے۔ انہوں نےہمارے پرورش اُصولوں کے ساتھ کی ۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ جو باتیں ہمیں سکھاتے تھے وہ عملاً کرکے دکھا تے بھی تھے،یعنی صرف کہتے نہیں تھے ۔سب سے زیادہ انسانیت کی قدر کرتے تھے۔

ہم نے ان کو کبھی بھی گھر کے نوکروں سے حقارت یا بدتمیزی سے بات کرتے نہیں سناتھا ،ہمیشہ محبت اور تحمل سے بات کرتے ،کسی کوبھی کمتر نہیں سمجھتے تھے اور بچوں کو بھی یہی سکھاتے تھے۔ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہے لیکن میرے باپ نے کبھی بھی بیٹے اور بیٹیوں میں کوئی تفریق نہیں کی بلکہ بیٹیوں کو زیادہ قریب رکھا ۔انتہائی شفقت ،پیار اور محبت سے پیش آتے ۔بیٹیوں کے معاملے میں نرم دل اور حساس تھے ۔

ہم سب بہنوں نے اپنے باپ کو اپنا رول ماڈل بنایا تھا ۔وقت کے پابند تھے ،اسی لیے ہم سے بھی کہتےاور پابندی کرتے کہ ،جہاں جانا ہے وہاں وقت پر جائوں اور وقت پر واپس آجائوں ۔شام میں گھر سے نکلنے کی اجازت تھی نہ کسی بھی کام کی بہت زیادہ آزادی تھی، ہر کام ایک حدود میں رہتے ہوئے سکھایا۔ 

فون پر بھی زیادہ دیر بات نہیں کرنے دیتے تھے ۔اور ہم بھی یہی کوشش کرتے تھے کہ کوئی ایسا کام نہیں کریں ،جس سے ابا ناراض ہو ۔ نویں جماعت میں تھی جب پہلی مرتبہ آئی برو بنوائی تو وہ بہت غصہ ہوئے ،ان کا وہ غصہ مجھے آج تک یاد ہے ۔ پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر ڈانٹتے تھے ۔ان کا رعب بہت تھا ،وہ پیار اور غصہ دونوں بہت شدت سے کرتے تھے ۔جب غصہ کرتے تو ایک کڑک دار آواز نکلتی ،پھر ہم سب سمجھ جاتے کہ اب خیر نہیں ہے ۔

ہم ان سے ڈرتے بھی بہت تھے ۔جہاں نہیں بھیجنا ہوتا، وہاں نہیں جانےدیتے تھے ۔ ان کے موڈ کا کچھ پتا نہیں ہوتا تھا ،ایک لمحے پیار سے بات کررہے ہوتے تو دوسرے ہی لمحےانتہائی غصے میں آجاتے تھے ۔ان کے اسی رویے کے وجہ سے ہم ان سےبہت ساری باتیں نہیں کہہ پاتے تھے ،ان کا ہر فیصلہ حتمی ہوتا تھا ،اس پر انکار کرنے یاکچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ،کبھی ان کی مرضی کے بغیر کوئی کام کیا بھی نہیں ،جو ہماری جائز باتیں یا خواہشات تھیں وہ پوری بھی کیں۔ 

چاروں بہنوں میں سب سے زیادہ میں اپنے باپ کے قریب تھی ۔میری شکل بھی ان سے ملتی ہے ۔میری کہی بات بھی مان لیتے تھے۔میں لاڈ ،پیار کرکے بات منوالیتی تھی ۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بہ حیثیت باپ انہوں نے اپنی ذمہ داریوںکو بہ خوبی اوربھر پور طریقے سے نبھا یا۔