• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں

وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں:مہنگی بجلی مہنگائی لاتی ہے، داسو ڈیم سے سستی توانائی ملے گی۔ یوں تو اکثر افراد غیر اہم بات نہایت اہم انداز میں بیان کرتے ہیں مگر ہمارے وزیر اعظم قبلہ بھی جب سورج نصف النہار پر آ جاتا ہے، خبر دیتے ہیں کہ سورج چڑھ آیا ہے۔ بہرحال انہیں مہنگائی کا اتنا خیال ہے تو یہ ایک اچھا شگون ہے اور کیا یہ نئی خبر ہے کہ مہنگی بجلی مہنگاتی لاتی ہے۔ صرف مہنگی بجلی ہی نہیں ہر مہنگی چیز مہنگائی لاتی ہے، اور اپنے ساتھ کئی اضافی برائیاں بھی لاتی ہے، داسو ڈیم ہو یا دیامیرڈ یم کی تعمیر ہنگامی بنیادوں پر کی جانی چاہیے، ہم پی ایم کو یہ خبر بھی سنا دیں کہ صارف کے بل میں صرف شدہ بجلی کے علاوہ جو ایک جگا ٹیکسوں کا ہار مہک رہا ہوتا ہے وہ غریب آدمی کے گلے کا ہار بن جاتا ہے، حیرانی ہے کہ بل میں بھی ٹی وی فیس شامل ہوتی ہے، ایسا تو بچہ سقہ کے دور میں بھی ممکن نہ ہوتا۔ بجلی کی تقسیم اور ٹرانسفارمرز کے مظالم اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ لیسکو عامر ٹائون نے کینال پوائنٹ فیز ٹو کا منظور شدہ ٹرانسفارمر رکھا ہوا ہے اور علاقےکے مکین اس کے درپر مایوس سوالیوں کی طرح بیٹھے رہتے ہیں۔ لیسکو چیف اس مسئلے کو بیک جنبش قلم حل کرسکتے ہیں مگر نہیں کرتے، کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں۔بجلی سستی ہوگی وزیر اعظم کام تیز کرائیں بلکہ نگرانی بھی فرمائیں یہ تو سب جانتے ہیں کہ مہنگی بجلی مہنگائی لاتی ہے، اس حکومتی ٹیم کا بھی نوٹس لیں جو سستی بجلی کھاتی ہے۔ اب تو مہنگائی بالخصوص بجلی کے نرخوں میں اضافے نے یہ حال کردیا ہے کہ کروڑوں غریب عوام کہیں یہ نہ پکار اٹھیں ’’بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں‘‘۔

٭٭٭٭

دے جاسخیا راہِ خدا

کیا معلوم پیشہ ور گدا گر دل میں کہتے ہوں ’’دے جا احمق راہِ خدا، خیر کے خیر خواہ کم اور حرام خوروں کے قدر دان ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں، دانائے سبلؐ کا فرمان ہے ’’مانگنا ذلت ہے چاہے کوئی اپنے ماں باپ ہی سے کیوں نہ مانگے‘‘ مزے کی بات یہ ہے کہ دل پھینک عاشق بھی اللہ کے نام پر پیار مانگتے ہیں، جس نے ان کی جھولی بھر دی پھر اس کی اپنی جھولی نہ بھری، ان دنوں تصوف زدہ دانشوروں کا بھی بڑا چرچا ہے، جبکہ رازی، غزالی جیسے فلسفی بھی جب تصوف کی طرف مائل ہوئے تو بالآخر یہ کہہ کر رخصت ہوئے کہ اپنے گائوں کی ان پڑھ بڑھیا کے ایمان پر مرتے ہیں کیوں کہ وہ اپنے رب کو دلائل سے نہیں یقین کامل سے مانتی ہے۔ لب بام صرف حسن ہی نہیں عشق میں عقل بھی محوِ تماشائے لب بام نظر آتی ہے، جس کسی معاشرے سے ایک نمبر جنس اٹھ جائے تو گلیوں میں صرف مرزا یار ہی دکھائی دیتا ہے۔ ضعیف الاعتقادی کا ان دنوں بڑا زور ہے ہر طرف ویلنٹائن ڈے کے گلاب ہی مہکتے دکھائی دیتے ہیں جو سرشام ہی مرجھا جاتے ہیں، سلوک و تصوف کی ڈگر بڑی کٹھن ہے، جب ضعف اعتقاد عروج پر ہوتا ہے تو بابوں کا دھندا بھی چہارم آسمان پر ہوتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ تصوف جاننے کےلئے صوفیاء کرام کی مستند کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ڈبہ پیروں اور سچے صوفیاء میں فرق معلوم ہو سکے اور گیٹ اپ پرمرنے والے عقید ت مند اپنا دین و ایمان بچا سکیں۔ حافظؔ نے کیا خوب کہا تھا ؎

ایں خرقہ کہ من دارم در رہنِ شراب اولیٰ

(یہ خرقہ جو میں نے خود کو صوفی ظاہر کرنے کے لئے پہن رکھا ہے بہتر ہے کہ شراب کے بدلے رہن رکھوا دوں)

٭٭٭٭

ان کی عزت کریں جو صحیفے رقم کرتے ہیں

خبر ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سیکورٹی عملے کی صحافیوں سے بدتمیزی، گفتگو سے روک دیا۔ اس ’’نیک نامی‘‘ کا کریڈٹ براہ راست وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو جاتا ہے، اس لئے وہ ایصال ثواب کی رسید تو دیں، کہنے کو ملک بھر میں میڈیا آزاد ہے مگر اسے خبر تک رسائی حاصل نہیں،الٹا جو ارباب حکومت کے محافظ ہوتے ہیں وہ صحافیوں سے بدتمیزی کرتے ہیں، یہ طرز عمل اور یہ مکروہ رویہ ناقابل قبول ہے۔ وزیر عظم،خیبر پختونخوا کے سکیورٹی کی دریدہ دہنی پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے پوچھ گچھ کریں، قلم کی کاٹ بہت کارگر ہوتی ہے، مشتری ہوشیار باش!یہ میڈ یا ہے جس نے قوم کوبیدار رکھا ہواہے، بے خبر نہیں رکھا، ورنہ حکومت ہو یا اپوزیشن ان کی ہرناکردنی منظر عام پر نہ آ سکے، سرکاری عملے، محافظوں اور دیگر ذمہ داران کو صحافیوں کے ساتھ رویہ درست کرنا ہوگا، یہ اہل صحافت کا حق ہے کہ انہیں حق گوئی و بیباکی کی سزا نہ دی جائے۔

یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں

یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

٭٭٭٭

ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں

...o بلاول بھٹو:بجٹ میں امیروں کے لئے ریلیف، عام آدمیوں کے لئے تکلیف ہے۔

برادرم! امیر کتنے پاپڑ بیل کر غریبوں کے پسینے کو گولڈ واٹر میں بدلتے ہیں اس لئے انہیں ریلیف تو ملنا چاہیے، غریبوں کا کیا ہے وہ 72 برسوں سے کولہو میں ہیں اور ایک ہی دائرے میں مسلسل گھو م رہے ہیں۔

...oبجلی کی قیمت میں 12پیسے فی یونٹ کمی کا امکان۔

یہ امکان کیوں نہیں کہ بجلی کے بل سے بے جا ٹیکسوں کا انبار ہٹا دیا جائے کوئی ﷲ کا پیارا وکیل بل میں موجود غیرقانونی ٹیکسز کو عدالت میں چیلنج کردے اور غریب عوام کی دعائیں لے۔

خدا وند ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں۔

٭٭٭٭

تازہ ترین