• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہجرت کے ابتدائی دنوں کی بات ہے۔ ایک صبح اللہ کے رسولﷺ مسجدِ نبویؐ میں اپنے رفقا کے ساتھ نوزائیدہ ریاست کے مسائل پر گفت و شنید میں مصروف تھے۔ چُھپے دشمنوں کی منافقت، یہودیوں کی سازشیں، کفّارِ مکّہ کی دھمکیوں جیسے مسائل موضوعِ گفتگو تھے کہ اچانک ایک بدو بارگاہِ رسالتﷺ میں حاضر ہوا اور آنحضرت ﷺ سے سخت لہجے میں مخاطب ہوتے ہوئے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ 

یہودیوں کے قبیلے، بنی ساعدہ کے اس بدّو کے ترش روی پر صحابۂ کرامؓ بھی مشتعل ہوگئے اور اُنہوں نے اُسے ڈانٹتے ہوئے کہا’’ اے جاہل شخص! کیا تُو جانتا ہے کہ کس مقدّس شخصیت سے ہم کلام ہے؟‘‘ وہ بولا’’ ہاں جانتا ہوں۔ مَیں مدینے کے حاکم، حضرت محمّدﷺ سے مخاطب ہوں۔‘‘ ’’پھر تُو نے گفتگو میں ادب و احترام کا خیال کیوں نہ رکھا؟‘‘ اِس سوال پر وہ بولا’’ مَیں کوئی ناجائز مطالبہ تو نہیں کر رہا۔ اپنا وہ قرض مانگ رہا ہوں، جو مَیں نے دیا تھا اور کیا اپنے حق کی واپسی کا مطالبہ کوئی ناجائز بات ہے؟‘‘

حضورﷺ کی جانب سے بدّو کی حمایت

اللہ کے رسولﷺ خاموشی سے یہ منظر ملاحظہ فرما رہے تھے۔ جب آپﷺ نے دیکھا کہ صحابۂ کرامؓ کی ڈانٹ ڈپٹ بڑھتی جا رہی ہے، تو آپﷺ نے بدّو کی حمایت کرتے ہوئے فرمایا’’ تم لوگ کیوں ڈانٹ ڈپٹ کر رہے ہو؟ اِسے اپنی چیز واپس مانگنے کا پورا اختیار ہے اور یہ اپنے اِس مطالبے میں حق بجانب ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم لوگ اِس کے حق کی حمایت کرتے اور ہم اِس کے قرض کی واپسی کا بندوبست کرتے۔’’ پھر آپ ﷺ نے اُس شخص سے فرمایا’’ تم فکر نہ کرو، تمہارا قرض ہم پر واجب الادا ہے۔‘‘بدّو نے کہا’’ مگر مجھے تو اپنا قرض آج ہی واپس چاہیے۔‘‘

اِس پر انصار سے تعلق رکھنے والے صحابۂ کرامؓ نے کہا’’ ہم تمہارا قرض چکانے کے لیے تیار ہیں، تم ہمارے ساتھ چلو۔‘‘چوں کہ یہ قرض کھجور کی شکل میں تھا، اِس لیے وہ شخص صحابۂ کرامؓ کے ساتھ جاتے ہوئے بولا’’ اے اللہ کے رسولﷺ! اگر کھجور اعلیٰ اور معیاری ہوئیں، تو مَیں لے لوں گا، ورنہ پھر آپﷺ کے پاس واپس آ جائوں گا۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا’’ ہاں، ٹھیک ہے۔‘‘ اُس نے صحابۂ کرامؓ کے ساتھ جا کر کھجوریں دیکھیں، لیکن وہ اُن کے معیار سے مطمئن نہ ہوا۔

عدل و انصاف کے پیکر

بدّو نے کھجوریں لینے سے انکار کیا، تو صحابۂ کرامؓ نے اُس سے پوچھا’’ اب کیا کرو گے؟‘‘ وہ بولا’’ مَیں واپس حضورﷺکے پاس جائوں گا۔ اِس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ اُن سے بڑھ کوئی حق پسند نہیں اور وہی مجھے انصاف دلائیں گے۔‘‘وہ دوبارہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا،’’اللہ کے نبیﷺ !آپؐ کے صحابہؓ نے جو کھجوریں دِکھائیں، وہ معیار میں میری کھجوروں سے کم تر ہیں۔ اب میں دوبارہ آپﷺکے پاس اِس لیے آیا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ مجھے انصاف صرف اور صرف آپﷺہی کے پاس سے ملے گا۔‘‘آپﷺ یہ بات سُن کر آب دیدہ ہو گئے اور فرمایا’’ ہاں، یہ اعرابی سچ کہتا ہے کہ مَیں دنیا میں انصاف کرنے کے لیے آیا ہوں۔‘‘ اللہ کے رسولﷺ نہ صرف عدل کرنے والے تھے، بلکہ عدل وانصاف کے پیکر تھے۔ 

صحیح بخاری میں ایک مشہور واقعہ تحریر ہے کہ ایک موقعے پر قریش کی ایک خاتون، فاطمہ بنتِ اسد نے چوری کی۔ اسلام میں چوری کی سزا دایاں ہاتھ پہنچوں سے کاٹنا ہے۔ قریش کے لیے یہ بات باعثِ شرم تھی۔ چناں چہ اُنہوں نے حضرت اُسامہ بن زیدؓ سے کہا کہ’’ وہ حضورﷺ سے اِس موضوع پر بات کریں۔‘‘ جب اُنھوں نے بات کی، تو آپﷺ نے فرمایا’’ اُسامہؓ ! کیا تُو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے؟‘‘ پھر آپﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا۔فرمایا’’ اے لوگو! پچھلی بہت سی اُمّتیں اِس لیے ہلاک ہو گئیں کہ جب ان کا کوئی بڑا آدمی چوری کرتا، تو اُسے چھوڑ دیتے اور اگر کم زور چوری کرتا، تو اُس پر حد قائم کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہؓ بنتِ محمّدﷺ بھی چوری کرے، تو مَیں اُس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالوں‘‘ (صحیح بخاری 3475:)۔

حضرت خولہؓ کو پیغام

آپﷺ نے اپنی حقیقی چچی، حضرت خولہ بنتِ قیسؓ کو پیغام بھجوایا کہ’’چچی جان! اگر آپ کے پاس کھجوریں ہوں، تو ہمیں دے دیجیے تاکہ اس شخص کا قرض اُتارا جا سکے۔ جب ہمارے پاس کھجوریں آ جائیں گی، تو ہم آپ کو واپس کر دیں گے۔‘‘حضرت خولہؓ کو حضورﷺ کا پیغام ملا، تو خوشی سے نہال ہو گئیں۔ پیغام لانے والے سے بولیں،’’میرے ماں باپ اللہ کے نبیﷺ پر قربان! آپ ﷺ سے کہنا، جس قدر کھجوریں چاہئیں، لے لیں۔‘‘ آپﷺ نے بدّو کو حضرت خولہؓ کے گھر بھیجتے ہوئے فرمایا ’’جائو اور اگر وہ تمہارے معیار کی ہوں، تو اپنے قرض کے عوض لے لو۔‘‘وہ حضرت خولہؓ کے پاس آیا اور جب کھجوریں دیکھیں، تو بہت خوش ہوا، کیوں کہ وہ اُس کی کھجوروں سے بھی بہتر تھیں۔ حضرت خولہ بنتِ قیسؓ روایت کرتی ہیں کہ’’ آنحضرتﷺ نے قبیلہ بن ساعدہ کے کسی شخص سے ساٹھ صاع یعنی پانچ مَن، دس سیر کھجوریں بطور قرض لی تھیں، جو آنحضرتﷺ کے حکم پر مَیں نے اُسے ادا کردیں۔‘‘ حضرت خولہؓ کا شمار مدینے کے مال دار افراد میں ہوتا تھا، اُن کے شہر کے مضافات میں کھجوروں کے کئی باغات تھے۔

نئی ریاست میں وسائل کی کمی

گو کہ انصارِ مدینہ بھرپور تعاون کیا کرتے تھے ، مگر پھر بھی نبی کریمﷺ کو ہجرت کے ابتدائی دنوں میں اُمورِ مملکت چلانے اور دیگر ضروریات کے تحت قرض لینا پڑتا تھا۔ اصحابِ صفّہ کی بہت بڑی تعداد کے طعام وقیام کی تمام تر ذمّے داری آپﷺ ہی کے کندھوں پر تھی۔

نیز، بیرونی خطرات، خصوصاً کفّارِ مکّہ اور یہودیوں سے ریاستِ مدینہ کے تحفّظ کے لیے سرحدوں پر کُل وقتی مسلّح نوجوان گشت پر رہتے۔ حضور ﷺ عموماً یہودیوں سے قرض لیا کرتے، لیکن کبھی صاحبِ حیثیت عرب اور بدّو قبائل سے بھی قرض لے لیتے۔ یہ تمام تر قرض نئی ریاست کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے لیا جاتا، کیوں کہ ابتدائی دَور میں وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔

مدینے کا سب سے افضل گھرانا

حضرت خولہؓ بنتِ قیس آپﷺ کے محبوب چچا، حضرت حمزہؓکی اہلیہ تھیں۔ اُن کا تعلق مدینے کے قبیلے، بنو خزرج کی ایک نہایت معزّز شاخ، بنو نجار سے تھا۔آنحضرت ﷺ کی والدہ بی بی آمنہؓ اور حضور ﷺکے دادا جناب عبدالمطلب کی والدہ، سلمیٰ کا تعلق بھی اِسی قبیلے سے تھا ۔نجار کے لغوی معنی ،ترکھان یعنی لکڑی کا کام کرنے والے کے ہیں۔ آنحضرتﷺ نے ایک مرتبہ صحابۂ کرامؓ سے فرمایا’’ کیا تمہیں معلوم ہے کہ مدینے میں کون سا گھرانا سب سے افضل ہے؟‘‘ صحابۂ کرامؓ خاموش رہے۔اِس پر آپﷺنے فرمایا،’’ قبیلہ بنو خزرج میں بنو نجار کا گھرانا سب سے بہتر گھرانا ہے‘‘ (صحیح بخاری 3789)۔

حسب نسب

محمد بن سعد البصری نے طبقات ابنِ سعد میں حضرت خولہ بنتِ قیسؓ کا شجرۂ نسب یوں بیان کیا ہے: حضرت خولہ بنتِ قیس بن فہد بن قیس بن ثعلبہ بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار۔ انہیں خویلہ اور اُمّ ِ محمّد بھی کہتے ہیں۔والدہ کا نام، فریعہ بنتِ زراوہ ہے۔ 

حضرت خولہؓ کا پہلا نکاح، حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب سے ہوا، جن سے یعلیٰ اور عمارہ پیدا ہوئے، جو بچپن ہی میں انتقال کرگئے۔ حضرت حمزہؓ کی شہادت کے بعد دوسرا نکاح، حضرت حنظلہؓ بن نعمان سے ہوا، جن سے ایک بیٹا، محمّد پیدا ہوا۔ (طبقات ابنِ سعد 474/8)۔

قبولِ اسلام

نبوّت کے چھٹے سال حضرت حمزہ ؓ نے اسلام قبول کیا، تو اہلیہ حضرت خولہؓ بھی اُن کے ساتھ بارگاہِ نبوّت میں حاضر ہوئیں اور نبی کریمﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ان کے قبولِ اسلام سے پہلے مسلمانوں کا حلقہ چند کم زور افراد اور غلاموں تک محدود تھا۔ تاہم، حضرت حمزہؓ کے اسلام لانے کے بعد کفّار کی ایذا رسانیوں میں کچھ کمی آئی، کیوں کہ اب حضرت حمزہؒ جیسے جرّی و بہادر جنگ جُو مسلمانوں کے ساتھ تھے۔ اگلے دن سیّدنا عُمر فاروقؓ بھی مشرف بہ اسلام ہوئے اور مسلمانوں نے پہلی مرتبہ آنحضرتﷺ کی اقتدا میں خانۂ کعبہ میں نماز ادا کی۔

مدینہ ہجرت اور حضرت حمزہؓ کی شہادت

دونوں میاں بیوی بعثت کے تیرہویں سال آنحضرت ﷺکے حکم سے مدینہ منوّرہ ہجرت کر گئے۔ رسول اللہﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو حضرت حمزہؓ کا اسلامی بھائی قرار دیا، چناں چہ ان دونوں خاندانوں میں مثالی محبّت تھی۔حضرت حمزہؓ نے غزوۂ بدر میں آنحضرتﷺ کے حکم پر پہلے ہی حملے میں مشرک سردار، عتبہ بن ربیعہ کو واصلِ جہنّم کیا۔اُنھوں نے اِس جنگ میں مشرکین کے کئی اور سورمائوں کو بھی ٹھکانے لگایا، جب کہ حضرت خولہؓ دیگر صحابیاتؓ کے ساتھ میدانِ جنگ میں مجاہدین کو پانی پلانے اور مرہم پٹّی کے فرائض انجام دیتی رہیں۔

حضرت حمزہؓ غزوۂ اُحد میں بھی نہایت بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ اچانک وحشی نے پیچھے سے نیزے کا وار کر کے آپؓ کو شہید کردیا۔ حضرت خولہؓ کو اپنے شوہر سیّد الشہداء، حضرت حمزہؓ کی شہادت کا بے حد دُکھ تھا کہ اُنہوں نے اُن کے ساتھ نہایت پُرسکون اور خوش حال زندگی گزاری تھی۔ ابنِ سعد نے لکھا کہ حضرت خولہؓ نے دوسرا نکاح، حضرت حنظلہ بن نعمانؓ سے کیا، جن سے محمّد نامی ایک صاحب زادے پیدا ہوئے(طبقات ابن سعد 474/8 )۔

حضرت خولہ ؓ کے مناقب

حضرت خولہؓ مال دار، وسیع القلب، سخی و فیّاض، رحم دل، غریبوں اور مسکینوں کی سرپرست، محبّت و شفقت کا خزینہ، مہمان نوازی اور حُسنِ اخلاق میں اپنی مثال آپ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے خُوب نوازا تھا۔ مدینے کے مضافات میں اعلیٰ درجے کی کھجوروں کے کئی باغات کی مالک تھیں۔ 

آنحضرت سے بہت محبّت کرتی تھیں، تو حضورﷺ بھی اپنی چچی کا بے حد اکرام کرتے تھے۔ وہ آنحضرتﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرتیں۔ تاہم، حضرت خولہؓ کے بارے میں زیادہ تفصیل دست یاب نہیں۔ مؤرخین کے مطابق، اُن کی وفات تیسرے خلیفۂ راشد، حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں ہوئی اور جنّت البقیع میں سپردِ خاک کی گئیں۔