اسلام آباد(اے پی پی)27 میں سے 26 اہداف مکمل، پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ میں برقرار،بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی خطرہ نہیں، منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ میں سزائیں نہ دینے پر تحفظات کا اظہار،اقوام متحدہ کے قرار دیئے گئے دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ، وفاقی وزیر حماد اظہر کاکہناہےکہ کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پلانیری اجلاس میں پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسے مزید مانیٹرنگ کا حصہ رکھا جائے گا۔ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیا نے کہا کہ ’پاکستان نے 27 میں سے 26 سفارشات کی تکمیل کرلی ہے لیکن اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ایف اے ٹی ایف نے جہاں پاکستان کو ملک میں قانونی نظام بہتر کرنے پر سراہا وہیں انہوں نے ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’2019 میں ادارے نے کافی سنجیدہ طرز کے مسائل کی نشاندہی کی تھی لیکن اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا نہیں اتر پایا ہے۔
اس وجہ سے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ابھی گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے باہر نکلنے کے لیے اسے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ایف اے ٹی ایف کا پلانیری اجلاس 21جون سے جاری تھا جس کا جمعے کے روز اختتام ہوا۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ توانائی حماد اظہر نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو مزید 7 نکاتی نیا ایکشن پلان دیا ہے تاہم ہم ابھی گرے لسٹ میں برقرار ہیں جبکہ بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی خطرہ نہیں، نیا ایکشن پلان انسداد منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔
پاکستان کو مشکل ترین پلان ملا، دیگر ملکوں کی نسبت سے زیادہ پیشرفت پاکستان نے ہی کی ہے، ایف اے ٹی ایف اور عالمی برادری نے ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ فروری 2018ء میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو مشکل ترین پلان دیا تو اس وقت ہماری حکومت نہیں تھی ،اس کے باوجود موجودہ حکومت نے پہلے ایکشن پلان پر عملدر آمد کے زریعے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کرچکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پر کسی قسم کی پابندیاں نہیں لگائی گئیں ،فیٹف اور دنیا نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے،فیٹف صدر نے تسلیم کیا پاکستان نے مثالی کردار ادا کیا۔حماد اظہر نے کہا کہ نئے ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے 2سال درکار ہوتے ہیں تاہم ہم نے دو کی بجائے ایک سال کا ہدف مقرر کیا ہے