اشیا خور و نوش کو محفوظ رکھنے کے ماہر جیمز ای راجرز کے مطابق کیلے کے خراب ہونے کی 3 انتباہی علامات ہوتی ہیں، جن میں پھپھوندی، ناگوار خمیری بو اور اندر سے سیاہ ہو جانے والا گودا شامل ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے یہ کیلا اب کھانے کے لیے محفوظ نہیں رہا۔
انھوں نے کہا کیلے پکنے کے ساتھ قدرتی طور پر نرم اور گہرے رنگ کے ہو جاتے ہیں، اس لیے صرف چھلکے کا بھورا یا حتیٰ کہ سیاہ ہو جانا اس بات کی علامت نہیں کہ کیلا خراب ہو چکا ہے۔ تاہم، اگر رنگت کی تبدیلی کے ساتھ پھپھوندی، رس کا رسنا، ناگوار بو یا اندر سے سیاہ گودا موجود ہو تو عموماً کیلے کو پھینک دینا بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق جو کیلا مکمل طور پر بھورا، بہت زیادہ نرم یا گلا ہوا محسوس ہو، اس میں سے مائع رسنے لگے یا اس سے سڑی ہوئی یا خمیری بو آنے لگے وہ ممکنہ طور پر کھانے کے قابل نہیں رہتا۔
ماہرین کے مطابق درج ذیل تین اہم علامات جن پر توجہ دینی چاہیے۔
1۔ پھپھوندی: چھلکے کا گہرا ہونا پکنے کے عمل کا ایک عام حصہ ہے، لیکن سفید، سرمئی یا سبز رنگ کی روئیں دار پھپھوندی معمول کی بات نہیں۔ اگر کیلے پر واضح طور پر پھپھوندی نظر آ رہی ہو تو یہ اس کے خراب ہونے کی واضح علامت ہے اور اسے پھینک دینا چاہیے۔
2۔ سڑی ہوئی بو یا مائع کا رسنا: بو بھی کیلے کی حالت جانچنے کا ایک مفید ذریعہ ہے۔ زیادہ پکا ہوا کیلا تیز خمیری یا الکحل جیسی بو پیدا کر سکتا ہے، جبکہ خراب پھل سے سڑی ہوئی یا کچرے جیسی بدبو آ سکتی ہے۔ اگر کیلے سے مائع رسنے لگے تو یہ بھی اس بات کی علامت ہے کہ وہ خراب ہوچکا ہے۔
3۔ اندر سے سیاہ گودا: اگرچہ کیلے کا چھلکا پکنے کے دوران بھورا یا سیاہ ہو سکتا ہے، لیکن اندر کا گودا عموماً کریم کلر (زرد آمیز سفید رنگ) سے ہلکے بھورے رنگ تک رہتا ہے۔ اگر گودا سیاہ ہو گیا ہو، اور ناگوار بو یا بہت زیادہ نرم اور گلی ہوئی ساخت بھی ہو، تو ممکنہ طور پر کیلا خراب ہو چکا ہوتا ہے اسے نہیں کھانا چاہیے۔تاہم، فریج میں رکھنے کیوجہ سے سیاہی ایک مختلف معاملہ ہے۔ فریج یا فریزر میں رکھنے سے چھلکا تیزی سے سیاہ ہو سکتا ہے، لیکن اندر کا پھل پھر بھی کھانے کے لیے محفوظ رہ سکتا ہے۔
فوڈ سیفٹی ریسرچ اینڈ ٹیسٹنگ کے ڈائریکٹر جیمز ای راجرز کے مطابق عام طور پر جب تک اس پر واضح طور پر پھپھوندی نہ لگی ہو، یہ کھانے کے لیے محفوظ ہوتا ہے۔ ایسے کیلے جو بہت زیادہ گہرے رنگ کے اور گلے ہوئے ہوں، لیکن ان پر پھپھوندی یا خرابی کی دوسری علامات موجود نہ ہوں تو انہیں کچا کھانے، اسموتھی میں شامل کرنے یا منجمد میٹھوں میں استعمال کرنے کے بجائے پکا کر کھانے والی ڈشز میں استعمال کرنا بہتر ہے۔