سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں عابد شیر علی اور ایمل ولی خان آپس میں الجھ پڑے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن ثمینہ ممتاز زہری کی صدارت میں ہوا، گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے صفائی ورکر کی خودکشی کے معاملے پر تفصیلی بحث کی گئی۔
گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے صفائی ورکر ذیشان کی خودکشی کا معاملہ زیر بحث ۔۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا ملازم کو خودکشی جیسے انتہائی اقدام تک پہنچنے کی وجہ کیا تھی؟
سینیٹر ایمل ولی خان نے حکام سے سوال کیا ایک عام مزدور کو آخر کن حالات نے خودکشی جیسے اقدام تک پہنچایا،ملازم کو نصف تنخواہ دی جا رہی تھی ، اس نے خودکشی کرلی۔
سی ای او گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے مؤقف اپنایا کہ ملازم کا کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد اس نے خودکشی کی، بینک ریکارڈ کے مطابق اسے تنخواہ مل رہی تھی۔
کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا اگر ملازم ادارے میں کام نہیں کر رہا تھا تو اس کی بیوہ اور بچوں کو معاوضے کے علاوہ پلاٹ کیوں فراہم کیا گیا، حکام نے بتایا دیگر فریقین کو شامل کرکے اہل خانہ کے لیے پلاٹ خریدا گیا۔
اجلاس میں صفائی کے نظام کو آؤٹ سورس کرنے اور تیسرے فریق کے ذریعے بھرتیوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی نے ستھرا پنجاب پروگرام سے متعلق 2025 اور 2026 سے متعلق قوانین کی کاپیاں طلب کر لیں۔
اجلاس کے دوران عابد شیر علی ستھرا پنجاب حکام سے کمیٹی ارکان کے سخت سوالات پر برہم ہوگئے، پھر سینیٹر ایمل ولی خان سے ان کی تلخ کلامی بھی ہوگئی۔
کمیٹی اجلاس میں عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کی نوک جھونک اور تلخ کلامی ہوئی، عابد شیر علی نے ایمل ولی سے کہا آپ طریقے سے بات کریں، ایمل ولی نے کہا وہ طریقے سے بات کر رہے ہیں، آپ بھی طریقے سے بات کریں۔
قرۃ العین مری اور دیگر اراکین نے عابد شير علی اور ایمل ولی کے درمیان بیچ بچاؤ کروادیا۔