• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

رپورٹ:محمد رفیق مانگٹ

بجٹ میں ایف بی آر ٹیکسز کے لئے 5829 ارب روپے کا غیر حقیقت پسندانہ ہدف مقرر کیا گیا ہے جو ناقابل حصول ہے،حکومت نے چینی، دہی، کریم اور درآمدی اشیا سمیت غذائی اجناس وغیرہ پر سیلز ٹیکس بڑھایا ہے جس سے غذائی افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ حکومت نے خام تیل اور ایل این جی پر سیلز ٹیکس نافذ کیا ہے اور ان دونوں اشیا سے بجلی اور ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ اس سے سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا،اگر آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی پیسے نہیں آتے تو اس کا ہماری معیشت اور کرنسی پر بہت برا اثر آئے گا،اس دور حکومت میں پچاس لاکھ لوگ بے روز گار کردیے گئے، دو کروڑ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے

ڈاکٹر مفتاح اسماعیل

موجودہ حالات میں حالیہ بجٹ کو متوازن بجٹ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت نے فوڈ سیکیورٹی، پاور سیکٹر، پانی سیکورٹی، بجلی کی تقسیم اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو تشکیل دینے کے شعبے میں مثبت تبدیلی لانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت 964 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، ٹیکس کے دائرہ کارکو وسیع کرنے کے لئے دستاویزی معیشت پر توجہ دی گئی ہے،بجٹ میں کاروبار ی لاگت کو کم کرنے اور کاروبار میں آسانی کے لئے متعدد تجاویز پیش کی گئیں ہیں،دفعہ 203 (اے) کے تحت گرفتاری اور قانونی چارہ جوئی کے لئے اختیارات متعارف کروانے کی دفعات ایک سخت قانون ہے

عبدالقادر میمن

حکومت نے نئے بجٹ میں کاروباری برادری کو جہاں ایک طرف مراعات دی ہیں تو دوسری طرف مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکس تنازعات میں اسسٹنٹ کمشنر کو گرفتاری کے اختیارات واپس لینے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اختیارات وزیر خزانہ کی سربراہی میں میں تین رکنی کمیٹی کے پاس ہوں گے۔ 

تاہم یہ بھی بزنس مینوں پر لٹکتی تلوار ہے جو ناقابل قبول ہے، بزنس کمیونٹی کو موقع دیا جائے کہ وہ یکسوئی سے پیداوار برآمدات اور روزگار بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،610 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی لگانے سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا

میاں زاہد حسین

پاکستان کے اقتصادی مسئلوں میں سرفہرست اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار ہے اس کے بعد ریونیو کا سب سے کم ہونا ہے، اس کی وجہ سے پاکستا ن کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح دنیا میں سب سے کم ہے،اہم کا م ٹیکس اصلاحات کا تھا وہ نہیں ہوا۔جس ملک کی نوے فی صد اکانومی بلیک ہو، اس میں ایماندار اور مخلص ٹیکس دہندگان پر ظلم ہو رہا ہے،ٹیکس اصلاحات کے بغیر اور ٹیکس کی شرح کو کم کیے بغیر سارے بزنس کو ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں لاسکتے،یہ بجٹ صرف الیکشن کے پیش نظر رکھا گیا کہ ممکن ہے انتخابات ہو جائیں۔نو سو ارب روپے میں کوئی میگا پراجیکٹ کا اعلان نہیں کیا گیا جس سے روزگارپیدا ہو، سات کروڑ آباد ی خط غربت سے نیچے ہے

سردار اشرف خان

 حکومت نے چالیس کھرب خسارے کا بجٹ پیش کردیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں آمدنی اور اخراجات میں اتنا بڑا فرق کبھی نہیں دیکھا گیا۔ خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت ٹیکسوں میں اضافہ کرے گی اور نئے قرضے لینے پر مجبور ہوگی۔ آئی ایم ایف سے نیا معاہدہ اب تک نہیں ہوسکا ہے۔ خدشہ ہے کہ جولائی میں نئے معاہدے کی صورت میں بجلی کے بلوں میں اضافہ کیا جائے گا اور مزید نئے ٹیکس عائد کرنے کے علاوہ ٹیکسوں کی چھوٹ اور مراعات ختم ہوں گی، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی۔ 

نیا بجٹ کیسا ہے، دوسرے پوسٹ بجٹ جنگ فورم کی رپورٹ پیش کی جارہی ہے جس میں سابق وفاقی وزیر خزانہ اور رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) ڈاکٹر مفتاح اسماعیل، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سرپرست عبد القادر میمن، کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے سابق چیئرمین میاں زاہد حسین اور معروف بزنس مین اور معاشی تجزیہ کار سردار اشرف خان نے اظہارِ خیال کیا۔

ڈاکٹر مفتاح اسماعیل

سابق وفاقی وزیر خزانہ/ رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن)

بجٹ میں ایف بی آر ٹیکسز کے لئے 5829 ارب روپے کا غیر حقیقت پسندانہ ہدف مقرر کیا گیا ہے جو ناقابل حصول ہے۔ یہ 24 فی صداضافہ ہے، جو ممکن نہیں ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ پی ٹی آئی پہلے دو سالوں سے ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنے میں ناکام رہی اور اس نے صرف تین سالوں میں نئے ٹیکس میں 1200 ارب روپے عائد کرنے کے بعد اس سال ٹیکس وصولی میں 18 فیصد اضافہ کیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے کسی نئے ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا ہے بلکہ نئے ٹیکسوں میں 283 ارب روپے لگائے ہیں۔ 

ان میں سے 175 سے زائد بالواسطہ ٹیکس ہیں جو مہنگائی کا زیادہ سبب بنیں گے۔حکومت نے چینی، دہی، کریم اور درآمدی اشیا سمیت غذائی اجناس وغیرہ پر سیلز ٹیکس بڑھایا ہے جس سے غذائی افراط زر میں اضافہ ہوگا۔حکومت نے خام تیل اور ایل این جی پر سیلز ٹیکس نافذ کیا ہے اور ان دونوں اشیا سے بجلی اور ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ 

اس سے سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا۔حکومت 3990ارب روپے یا جی ڈی پی کا سات عشاریہ36فی صد وفاقی حکومتی خسارہ تجویز کررہی ہے۔ 570 ارب روپے کے صوبائی سرپلس کی پیش گوئی کے بعد متفقہ مالی خسارہ 3490 ارب روپے تجویز کیا جارہا ہے۔ تاہم صوبے صرف 14 ارب روپے کی اضافی رقم کی توقع کررہے ہیں۔ لہذا متفقہ تخمینہ سے کہیں زیادہ ہوگا۔

حکومت نے بجٹ میں ایک کھیل کھیلاہے جو کہ اکاؤنٹنگ کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے نجکاری کے عمل کو موجودہ محصول کے طور پر شمار کیا جو پاکستان میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم صرف قرضوں کے خاتمے کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور اسے کبھی خسارے میں نہیں رکھا جاتا۔ اگر دکاندار اپنی ذاتی موٹرسائیکل بیچتا ہے تو وہ اسے اپنی فروخت کے حساب سے نہیں گنتا۔ اسی طرح سرکاری اثاثوں کی فروخت موجودہ محصولات کا حصہ نہیں ہیں۔ 

خسارے کو چھوٹا دکھانے کے لئے حکومت کو ایسی تدبیریں استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ حقیقت میں خسارے میں 230 ارب روپے کی نجکاری کا تخمینہ ہے۔متوقع بجٹ کا خسارہ پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ آمدنی میں 500 ارب روپے سے بھی کم ہوں گے اور بجٹ میں مختص ہونے پر صرف 100 ارب روپے خرچ ہوں گے تو وہ دو سال قبل اپنے نو عشاریہ ایک فیصد کا خسارہ ریکارڈ توڑ لیں گے۔ایف بی آر ٹیکس سے جی ڈی پی تناسب اب 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ ہم نے اسے بارہ فی صد سے زیادہ پر چھوڑ ا تھا۔

حکومت برآمدات میں اضافے کے بارے میں بات کرتی ہے لیکن اس سال، 35 فی صد قدر میں کمی کے بعد، وہ بمشکل نون لیگ کے 2018 کے اعداد و شمار تک پہنچ پائیں گی۔ گذشتہ سال نون لیگ کی 24عشاریہ8ارب ڈالر کی برآمد ہوئی تھی۔ پچھلے پی ٹی آئی کے دو سالوں میں برآمدات اس تعداد سے کم تھیں اور اس سال بھی وہ بمشکل پچیس ارب ڈالرتک پہنچ جائیں گی۔ایل ایس ایم انڈیکس ، صنعتی پیداوار اور کاروں کی فروخت آج نیچے ہے جہاں نون لیگ نے اسے چھوڑ ا۔

اس حکومت نے قرضوں میں بے حد اضافہ کیا اور قلیل مدتی قرض کو طویل مدتی قرض میں تبدیل کرنے کی وجہ سے سود کی شرحیں عروج پر ہیں، اس سال قرض دینے سے ہمارے پچھلے سال کے مقابلے میں ان کی سطح دوگنا ہوجائے گی جو تین ہزارارب روپے سے زیادہ ہے۔غذائی افراط زر کی شرح 15 فیصد سے زیادہ ہے، حکومت کو سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں کم از کم بیس فی صد اضافہ دینا چاہیے تھا۔

برآمد کنندگان کو حکومت کو درپیش مشکلات کے پیش نظر، نون لیگ کی طرح 5 برآمدی شعبوں میں استثنیٰ دینا چاہیے تھا۔کووڈ ریلیف اور دیگر ہنگامی صورتحال کے لئے 100 ارب روپے پورے سال کے لئے بہت کم ہیں۔کھانے پینے کی اشیا کی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے، بجٹ میں جو کچھ کرنے کی ضرورت تھی، کھانے کی قیمتوں کو کم کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ یہ حکومت مکمل طور پر کرنے میں ناکام ہے۔

اس وقت معیشت کے سامنے کچھ مسائل ہیں،ایک یہ کہ جون میں آئی ایم ایف کاجائزہ تھا جس کو چھٹا ریویو کہتے ہیں ایک ارب ڈالر کی قسط ملنی تھی وہ ریویو کامیاب نہیں رہا۔ اس پر معاملات طے نہیں ہوسکے اور وہ ریویو ختم کردیا گیا۔ اگر کامیاب ہوجاتا تو جولائی میں بورڈ کے سامنے سفارش کرتا کہ ایک ارب ڈالر دیئے جائیں۔اب بورڈ کے اجلاس میں ہمارا یجنڈا نہیں آئے گا۔ اگست میں نیا آئی ایم ایف مشن بات کرے گاچھٹا اور ساتواں ریویو ایک ساتھ ہوگا،اگر وہ کامیاب ہوا تو ستمبر میں رقم ملے گی فی الحال آئی ایم ایف کا پروگرام تعطل کا شکار ہے۔ 

عالمی بینک ڈیڑھ ارب ڈالر دینے والا تھا اس نے اس میں سات سو ملین ڈالر کم کردیئے ہیں۔ اگر آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی پیسے نہیں آتے تو اس کا ہماری معیشت اور کرنسی پر بہت برا اثر آئے گا۔امریکا سے آئی ایم ایف پر دباو کی جہاں تک بات ہے تو ہمیں آئی ایم ایف سے معاشی حد تک بات کرنی چاہیے اگر ہم امریکا سے دفاعی اور سلامتی امور پر ڈیل کرنا شروع کردیں تو اس کے برے اثرات آئیں گے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم امریکا کو فوجی اڈے نہیں دیں گے،مگر وزیر اعظم یو ٹرن کے عادی ہیں،دیکھتے ہیں کہاں تک اس بات کو پورا کرتے ہیں۔ امید کہ پارلیمان میں یہ بات لائی جائے گی کہ امریکا اور آئی ایم ایف سے کیا بات ہورہی ہے۔ اس دور حکومت میں پچاس لاکھ لوگ بے روز گار کردیے گئے،حفیظ پاشا کاکہنا ہے کہ دو کروڑ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے۔ اس وقت سات کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے ہیں،ایسے حالات میں بجٹ میں کوئی اقدامات نہ کیے جائیں تو وہ موجودہ حالات کے مطابق نہیں۔

میاں زاہد حسین

سابق چیئر مین، کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری

حکومت نے نئے بجٹ میں کاروباری برادری کو جہاں ایک طرف مراعات دی ہیں تو دوسری طرف مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکس تنازعات میں اسسٹنٹ کمشنر کو گرفتاری کے اختیارات واپس لینے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اختیارات وزیر خزانہ کی سربراہی میں میں تین رکنی کمیٹی کے پاس ہوں گے۔ تاہم یہ بھی بزنس مینوں پر لٹکتی تلوار ہے جو ناقابل قبول ہے کیونکہ ٹیکس تنازعات روزمرہ کا معمول ہیں۔ بزنس کمیونٹی کو موقع دیا جائے کہ وہ یکسوئی سے پیداوار برآمدات اور روزگار بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ 

کسٹمز ایکٹ کے سیکشن 156 میں تازہ ترمیم جس کے ذریعے امپورٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ ان کے درآمدی کنٹینرز میں مال کے ہمراہ انوائس موجود ہونا لازمی ہے ورنہ ان پر جرمانے عائد کئے جائیں گے اور رجسٹریشن معطل کی جا سکے گی غیر ضروری اور ناقابل عمل ہے۔ غیر رجسٹرڈ کاروباری طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ترغیبات اور الیکٹرونک ڈیٹا کا استعمال کیا جائے پوائنٹ آف سیل سسٹم اس کی اچھی مثال ہے بجلی و گیس کے بل اور پراپرٹی کے لین دین کا ریکارڈ بھی ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ 

گزشتہ سال مراعات کے باوجود مجموعی سرمایہ کاری میں اضافہ کے بجائے معمولی کمی ہوئی ہے مگر اس سال صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا۔ برآمدات کے مقابلہ میں درآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں جو ایک طرف تو اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کا ثبوت ہے تو دوسری طرف اس سے تجارتی خسارہ بھی بڑھتا ہے جس کا واحد حل ایکسپورٹ میں اضافہ ہے، جس کے لیے بجلی اور گیس کی مسلسل فراہمی اور ان کی قیمتوں میں حریف ممالک کے ساتھ مسابقت ہے۔ 

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے امپورٹ بل بڑھ جائے گا تاہم اگر امریکہ نے ایران سے پابندیاں ہٹا لیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہو جائے گی جس کا امکان موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح کو 66 فیصد سے بڑھا کر 68 فیصد کر دیا گیا ہے جس سے غربت بڑھے گی۔ بجٹ میں امیر اور غریب طبقہ کی فلاح پر توجہ دی گئی ہے اور متوسط طبقہ کیلئے بلا سود کاروباری قرضے کی سکیم بنائی گئی ہے جس سے ذاتی کاروبار میں اضافہ کے امکانات ہیں جس سے مہنگائی بے روزگاری اور آمدنی میں کمی کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔ 

بجٹ میں 610 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کیے جاتے رہیں گے۔ جس سے عوام پر بوجھ بڑھے گا۔ اکنامک سروے میں غربت اور بے روزگاری کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے اوراس دعوے پر یقین کرنا مشکل ہے کہ کرونا وبا کے دوران صرف بیس لاکھ افراد بے روزگار ہوئے اور اب ان میں سے اٹھارہ لاکھ دوبارہ برسر روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد بے روزگار ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے فوڈ سیکورٹی اور غذائیت کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اس لئے فلور ملز پر نئے بجٹ میں اضافی ٹیکس لگانے کے بجائے موجودہ ٹیکس بھی ختم کئے جائیں تاکہ روٹی سستی ہو سکے۔ بجٹ میں فلور ملز کے ٹرن اوور پر چار سو فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ چوکر پر سیلز ٹیکس سترہ فیصد کر دیا گیا ہے جس سے ملک بھر میں تشویش پھیلی ہوئی ہے۔ ملک میں 17 سو فلور ملز ہیں جن پر ٹرن اوور اور سیلز ٹیکس لگانے سے آٹے کی قیمت میں کم از کم پانچ روپے فی کلو اضافہ کا تخمینہ تھا مگر ٹیکس لاگو ہونے سے پہلے ہی گندم مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئی ہے اور ملک بھر میں آٹے کے تھیلے کی قیمت میں بیس سے تیس روپے تک کا اضافہ ہو گیا ہے جو انتظامی کمزوری کا ثبوت ہے۔ 

پاکستان میں آٹے کا فی کس استعمال بہت زیادہ ہے اور ایک آدمی سالانہ کم از کم ایک سو چوبیس کلو آٹا کھاتا ہے جبکہ آٹے کا مجموعی استعمال دو کروڑ 85 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ اور اس کی قیمت میں پانچ روپے فی کلو اضافہ سے عوام پر مجموعی طور پر ڈیڑھ کھرب روپے کا بوجھ بڑھے گا جو ناقابل برداشت ہے۔ بجٹ اقدامات کے نتیجہ میں فوڈ سیکورٹی کے بحران کے پیش نظر احتجاج کے بعد فلور ملز پر ٹرن اوور ٹیکس بڑھانے کے سلسلہ میں ایک چھوٹی سی وضاحت آئی ہے جو ناکافی ہے اس لئے فلور ملز کی جانب سے ہڑتال کی کال سے قبل اعلی حکومتی شخصیات آگے آ کر صورتحال واضع کریں تاکہ ذخیرہ اندوزوں کے عذائم ناکام اور آٹے کی قیمت کو معمول پر لایا جا سکے۔ حکومت نے حال ہی میں تیس لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا نتیجہ بحران اور قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں نکلے گا اس لئے کم از کم چالس لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ عوام کی قوت خرید کو مد نظر رکھتے ہوئے فلور ملز کوبھی سستی بجلی فراہم کی جائے۔

گزشتہ تیس سال سے پاکستان کی شرح نمو جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں 1.8 فیصد کم رہی ہے جسے اب بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شرح نمو بڑھانے میں کاروباری برادری کا کردار انتہائی اہم ہے اور اگر اس کو مناسب صنعتی و تجارتی ماحول فراہم نہ کیا گیا تو ہماری شرح نمو اور ٹیکس بیس کبھی نہیں بڑھے گی اور 5800 ارب روپے ٹیکس کا حصول بھی ممکن نہی ہو گا، جس سے عوام کے مصائب اور حکومت کی مالی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ موجودہ بجٹ میں صنعت زراعت اور ایس ایم ایز کو توجہ دی گئی ہے اور دستاویز بندی پر بھی فوکس کیا گیا ہے مگر بعض فیصلوں پر کاروباری برادری میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے جسے حل کیا جائے۔ 

انھوں نے کہا کہ اگلے سال شرح نمو میں مزید اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اسے پانچ فیصد تک پہنچانے کے لئے تقریباً پینسٹھ ارب ڈالر کی درآمدات کرنا ہونگی جبکہ برآمدات ستائیس ارب اور ترسیلات 30 ارب ڈالرتک رہنے کا اندازہ ہے جس سے کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 8 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا جبکہ قرضوں کی واپسی کے لئے بھی اربوں ڈالر درکار ہونگے۔حکومت کے آخری سال میں شرح نمو کو چھ فیصد پر لانے کے لئے پچھتر ارب ڈالر تک کی درآمدات اور 35 ارب ڈالر کی برآمدات کرنا ہونگی جو ایک چیلنج ہو گا۔ 

پٹرولیم پراڈکٹس، ایل این جی، بجلی، پام آئل اور کوئلے سمیت درآمد کی جانے والی متعدد اشیاء کی قیمت میں اضافہ کا قومی امکان ہے جس سے خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ پائیدار اقتصادی ترقی کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے، ملکی ضروریات اعلانات اور خواہشات کی بنیاد پر ترقی نہیں کرتی بلکہ اس کے لئے کاروبار دوست پالیسیوں اور پبلک سیکٹر کاروباری اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے جس کے لئے کئی سال تک مسلسل محنت اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے۔

بجٹ میں ملک کے اہم ترین مسئلہ کونظرانداز کر دیا گیا ہےجس کے نتائج تباہ کن ثابت ہونگے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے جبکہ پانی کی کمی نے ملکی سلامتی کے متعلق سوالات کھڑے کردئیے ہیں تاہم ان دونوں شعبوں کے لئے مجموعی طور پرایک سوسولہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ پانی عوام، صنعت اور زراعت کے لیے زندگی اورموت کا مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہ کیاجائے۔ 

بجٹ میں ماحولیات سمیت بڑے، درمیانہ اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، پانی ذخیرہ کرنے، پانی بچانے اورواٹرمنیجمنٹ کے لئے مختص رقم بڑھائی جائے۔ موسمیاتی تبدیلی نے ایک طرف صرف تباہ کن سیلاب اور دوسری طرف خشک سالی کو جنم دیا ہے جبکہ پانی کی کمی سے نہ صرف فصلیں متاثرہورہی ہیں بلکہ پانی کی کمی سے صوبوں کے مابین کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔ 

ملک کے پچاس اضلاع میں پانی کی کمی شدید ہو چکی ہے جس سے کاشتکاروں کا روزگاراورملک میں فوڈ سیکورٹی کی صورتحال متاثرہورہی ہے جس کے نتیجہ میں سالانہ اربوں ڈالرکی اشیائے خوردونوش درآمد کرنا پڑ رہی ہیں اوران تمام عوامل سے غربت وبے چینی بڑھ رہی ہے۔ دیگر ممالک اوسطاً اپنی ضروریات کا چالیس فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ پاکستان صرف دس فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد رکھتا ہے جس کے نتیجے میں 20 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو جاتا ہے جسکی مالیت 20 ارب ڈالر ہے۔ 

 اگر بارش کے پانی کو مناسب انداز میں زخیرہ کرنے کے بجائے صرف روک ہی لیا جائے تو اس سے زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہوسکتی ہےجو بہت تیزی سے کم ہورہی ہے جس سے صنعت وزراعت کے لئے پانی نکالنے کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔سیاسی فوائد کی وجہ سے ایسی فصلوں کو پروموٹ کیا جارہا ہے جو بہت زیادہ پانی ضائع کرتی ہیں اوراگر وہی اشیاء درآمد کی جائیں تو بھاری بچت ممکن ہے۔ 2018 کی نیشنل واٹرپالیسی بھی بہت سی دیگر پالیسیوں کی طرح وقت اور سرمائے کے زیاں کے علاوہ کچھ نہیں کر سکی ہے اس لئے اسے بہتر بنایا جائے۔

عبد القادر میمن

سابق صدر/سرپرست ،پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن

میری عاجزانہ رائے میں، موجودہ حالات میں حالیہ بجٹ کو متوازن بجٹ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت نے فوڈ سیکیورٹی، پاور سیکٹر، پانی سیکورٹی، بجلی کی تقسیم اور سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو تشکیل دینے کے شعبے میں مثبت تبدیلی لانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت 964 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت بھی ہر قیمت پر سی پیک کے تحت منصوبوں کو فروغ دینے اور آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے۔

پچھلے سال کے 4610 ارب کے مقابلے میں رواں سال کے ٹیکس محصول کو 5829 ارب لگایا گیا ہے، جو 24 فی صد زیادہ ہے۔بجٹ تجاویز ملک کی معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا اشارہ ہے۔قانون سازوں نے صنعتی نمو کے فروغ کی پوری کوشش کی ہے۔ انجینئرنگ سامان کی تیاری، آئرن اور اسٹیل مینوفیکچرنگ، دواسازی اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں محصولات کے ڈھانچے اور ٹیکس کو کم کرنے کے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ 

مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں استعمال ہونے والے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی اور اضافی کسٹم کو ختم کردیا گیا ہے۔ ایک مخصوص صنعتی اقدام میں سرمایہ کاری کے لئے پچیس فیصد ٹیکس کریڈٹ پیش کیا گیا ہے۔ ٹیلی مواصلات کے شعبے میں حکومت نے ریلیف اقدامات اٹھائے ہیں، جس میں ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی اور ایف ای ڈی کی شرح بھی شامل ہے۔ 

ٹیلی مواصلات کے شعبے کو صنعت کا درجہ دینے کے ساتھ سم کارڈوں پر سیلز ٹیکس کی واپسی جیسے اقدامات ہیں۔ حکومت نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینے پر بھی توجہ دی ہے۔ اس مقصد کے لئے خصوصی ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی آرڈیننس، 2020 جاری کیا گیا تھا اور اس بجٹ میں زون ڈویلپرز، زون انٹرپرائزز اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کو زون انٹرپرائز کے ساتھ چھوٹ فراہم کی گئی ہے۔ 

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لئے خصوصی 14 ویں شیڈول کا تعارف قابل تحسین ہے۔ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ آٹوموبائل سیکٹر میں سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور ٹیرف ڈھانچے میں کمی کی گئی ہے۔ سامان کی برآمد کے ساتھ خدمات کی برآمد کی قابل محصولات کو بھی ایک فی صد پرلایا گیا ہے۔

ٹیکس کے دائرہ کارکو وسیع کرنے کے لئے دستاویزی معیشت پر توجہ دی گئی ہے۔ پی او ایس مشینوں کے لئے ٹیکس کا کریڈٹ، ٹریک اور ٹریس سسٹم کا تسلسل اور آٹومیشن کے شعبے میں بہت سی دوسری تجاویز قابل ذکر اقدام ہیں۔یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بجٹ میں کاروبار ی لاگت کو کم کرنے اور کاروبار میں آسانی کے لئے متعدد تجاویز پیش کی گئیں ہیں۔ 

ود ہولڈنگ ٹیکس کی لیکیج اور تعمیلی لاگت کو کم کرنے کے لئے حکومت نے چالیس فیصد ود ہولڈنگ دفعات کو ختم کردیا ہے۔ کوشش یہ بھی کی گئی ہے کہ ٹرن اوور پر کم سے کم ٹیکس کو نہ صرف ڈیڑھ فیصد سے کم کرکے سوا یک فیصد کردیا گیا ہے بلکہ ٹیکس عائد کرنے کے لئے انفرادی اور اے او پی کی حد بھی دس سے بڑھا کر سو ملین کردی گئی ہے۔

متعدد خدمات پر ٹیکس کی شرح کو 8 فی صد سے کم کرکے 3فی صد کردیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 147 کے تحت ایڈوانس ٹیکس کے تخمینے کو کم کرنے کا اختیار ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122 (5A) کے تحت ایڈیشنل کمشنر ان لینڈ ریونیو کے اختیارات واپس لے کر اور دفعہ 122 (9) اور 122 (A) کے تحت وقت کی حد پر ٹیکس لگاتے ہوئے انکم ٹیکس قانون کے تحت اصلاحی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

تاہم، مجھے لگتا ہے کہ مندرجہ ذیل بجٹ تجاویز پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے، دفعہ 203 (اے) کے تحت گرفتاری اور قانونی چارہ جوئی کے لئے اختیارات متعارف کروانے کی دفعات ایک سخت قانون ہے جو انکم ٹیکس انتظامیہ کی اسکیم سے پوری طرح اجنبی ہے اور انکم ٹیکس ایکٹ کے اجراء کے بعد پچھلے سو سالوں یعنی1922سے کبھی اس کا نفاذ نہیں کیا گیا۔ان لینڈ ریونیو افسر کی واحد ضرورت یہ ہے کہ اس کا ماننا ہے کہ ایسے شخص نے بغیر کسی ثبوت کے ٹیکس قانون کے تحت جرم کیا ہے۔ 

اگرچہ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز قانون میں گرفتاری کا نظام دستیاب ہے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے قوانین کی نوعیت اورا سکیم بالکل مختلف ہے۔ اعلی عدالتوں نے معمول کے طریقہ کار کے تحت ٹیکس واجبات کی پیشگی توہین اور فیصلے کے بغیر زبردستی اختیارات منظور نہیں کیے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ حقیقی ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے لئے اس طاقت کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے اور بدعنوانی کا باعث بنے گی۔

میرے خیال میں اس دفعہ کو متعارف کروانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں پہلے ہی انکم ٹیکس آرڈیننس میں آمدنی کو چھپانے سے لے کر ریٹرن اور بیانات جمع نہ کروانے تک قانونی چارہ جوئی کی دفعات موجود ہیں۔دفعات 191، 192، 192 اے، 192 بی، 195، 195 اے اور 195 بی)، جس میں ایک سے سات سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ شامل ہے۔ تاہم، الزام لگانے کے طریقہ کار میں خصوصی جج کے سامنے مقدمہ درج کرنا بھی شامل ہے۔ 

ڈیفالٹر کو مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد ہی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس ڈویژن نے اپنی جنرل اسمبلی قرارداد میں تمام افراد کے تحفظ اور نظربندی یا قید کی شکل کے لئے اصولوں کو اپنایا، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی طرح کی نظربندی یا قید اور کسی بھی طرح کے تحت کسی فرد کے انسانی حقوق کو متاثر کرنے والے تمام اقدامات حراست یا قید کی شکل کا حکم عدالتی یا دوسرے اتھارٹی کے ذریعہ دیا جائے گا، یا اس کے موثر کنٹرول سے مشروط ہوگا۔ اسی طرح، یہ تجویز کی گئی ہے کہ اس مجوزہ ترمیم کو مکمل طور پر واپس لیا جائے۔

  • آن لائن مارکیٹ پلیس قانون کے لئے تجویز کردہ ترمیم پر نظر ثانی کی جانی چاہیے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اصلاح کی جانی چاہیے۔
  • سیلز ٹیکس میں مجوزہ ترامیم کی تعداد بہت ہے، بغیر کسی ہدایت کے، جیسے خوردہ قیمت پر اشیاء کی تعداد پر ٹیکس لگانا، اس سے سامان کی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
  • حکومت ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر کے لئے آسان ٹیکس نظام متعارف کروانے کی تجویز میں ناکام رہی۔
  • فاٹا اور پاٹا کے مینوفیکچررزکو بغیر کسی پابندی کے چھوٹ نہیں دی جانی چاہئے، اس سے قانون کی تحریف ہو گی۔
  • پلانٹ اور مشینری پر 17 فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس کے نفاذ سے سرمایہ کاری کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور انڈسٹری کے قیام کے وقت سرمایہ کار کے کیش فلو پر اثر پڑے گا۔

سردار اشرف خان

بزنس مین/معاشی تجزیہ کار

حالیہ بجٹ کی جہاں تک بات ہے تو اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ حکمران جماعت اسی دن سے اس پر بحث روکنے میں سرگرم ہے اور بحث ہونے بھی نہیں دی جارہی۔ بجٹ کو پیش کرنے والوں نے الفاظ کی جادوگری سے کام لیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا کہ لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کی کوشش کی گئی ہے۔پاکستان کے اقتصادی مسئلوں میں سرفہرست اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار ہے اس کے بعد ریونیو کا سب سے کم ہونا ہے، اس کی وجہ سے پاکستا ن کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح دنیا میں سب سے کم ہے۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں پانچویں یا چھٹے پر ہے اور عسکری لحاظ سے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔لیکن اس کی معاشی حالت بدترین ہے مالی بحران کاسامنا ہے اور یہ آج سے نہیں کئی سالوں سے ہے، پاکستان کی جی ڈی پی نمو میں معاشی ترقی اورعوام کی بہتری کے لئے کیا ہے،پاکستان کی تاریخ میں گزشتہ تین سالوں میں سب سے کم جی ڈی پی نمو ہوئی ہے۔ اس سال تو اور بھی کم ہوئی جب کہ حکومتی اعداد وشمار تین عشاریہ نو فی صد دکھا رہے ہیں۔

غیر جانبدار معاشی تجزیہ کار اسے زیادہ سے زیادہ ایک عشاریہ نو فی صد کہتے ہیں۔پاکستان کی ٹیکس وصولی بھی گزشتہ تین سال سے وہی ہے جو گزشتہ حکومتیں چھوڑ کر گئی، آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس وصولی کی ضرورت تھی۔اہم کا م ٹیکس اصلاحات کا تھا وہ نہیں ہوا۔جس ملک کی نوے فی صد اکانومی بلیک ہو، اس میں ایماندار اورمخلص ٹیکس دہندگان پر ظلم ہو رہا ہے۔

امپورٹ اور ایکسپورٹ کا فرق بھی بیس ارب ڈالر ہے آپ توقع کررہے ہیں کہ تیس ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کریں گے اور 55ارب ڈالر کی امپورٹ کریں گے۔اس لحاظ سے آئندہ برس کے لئے جی ڈی پی کا جو ہدف مقرر کیا ہے وہ مناسب لگتا ہے۔معاشی صورت حال کا جوسامنا ہے اگر آئندہ برس سات سے آٹھ فی صد گروتھ نہیں ہوگی تو ہم آج کی سطح سے آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔

ٹیکس اصلاحات کے بغیر اور ٹیکس کی شرح کو کم کیے بغیر سارے بزنس کو ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں لاسکتے۔ جب تک معیشت دستاویزی نہیں ہوتی کچھ نہیں ہوسکتا۔سیلز ٹیکس سو اشیا پر سترہ فی صد عائد کردیا گیا ہے۔چینی پر سترہ فی صد لگا دیا ہے اب سو روپے کی قیمت ہے تو سترہ روپے ٹیکس سے اس کی قیمت 117ہوجائے گی۔ 

گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے۔اس کے باوجود کابینہ نے گندم کی امپورٹ کی اجازت دی ہے۔بیرون ملک پاکستانیوں کی رقوم سے امپورٹ بل کو پورا کرنے کی بات کی جارہی ہے،بجٹ خسارہ بہت زیادہ ہے جو کہ39کھرب روپے ہے۔ دفاعی اخراجات اور قرضوں کے سود کی ادائیگی میں ستر فی صد رقم چلی جائے گی۔دفاعی بجٹ نہ تو کم کیا گیا اور نہ اس پر بحث ہوسکتی ہے،تیرہ سو بیس ارب روپے ہے جو کہ حقیقت میں نہیں کیونکہ پنشن کی رقم میں بھی 75 فی صد عسکری فورسز کا ہے۔

مضبوط دفاع کیلئے عسکری حلقوں میں لگژری اخراجات کو کم کرنا ضروری ہے۔اب زیادہ ہتھیاروں کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ بھارت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ چل نکلا ہے۔افغانستان کے حوالے سے ہمیں خطرات اور خدشات ہیں ترقیاتی بجٹ چھ سو سے نو سو ارب روپے کردیا ہے گزشتہ سال کا تو خرچ ہی نہیں ہوا۔یہ بجٹ صرف الیکشن کے پیش نظر رکھا گیا کہ ممکن ہے انتخابات ہو جائیں۔نو سو ارب روپے میں کوئی میگا پراجیکٹ کا اعلان نہیں کیا گیا جس سے روزگارپیدا ہو، سات کروڑ آباد ی خط غربت سے نیچے ہے۔ڈھائی کروڑ لوگ بے روزگار ہیں۔چھوٹے چھوٹے اقدام کیے ہیں لیکن وہ اس وقت نتیجہ خیز ہوں گے جب بار بار ایندھن کی قیمتیں نہ بڑھائیں۔

ایکسپورٹ کیلئے کیا اقدام کیے ہیں نظر نہیں آتے،لیبر کی پیداواریت کی بہتری کی بھی ضرورت ہے۔سی پیک کے لئے تو کچھ رقم رکھی جس سے امید ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر کچھ پیش رفت ہو۔سی پیک پاکستان کی معیشت کیلئے گیم چینجر تھا یہ اب خواب بن کر رہ گیا ہے،چین بھی مطمعن نہیں پاکستان کی طرف سے بھی کوئی گرم جوشی نہیں دکھائی جارہی،چین نے انڈونیشیا کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔

کووڈ میں بارہ سو ارب روپوں میں صرف پچیس ارب روپے خرچ ہوئے باقی کسی کو معلوم نہیں۔ سرکولر ڈیٹ بھی ویسا ہی ہے،بجلی کا بحران رہے گا،پٹرولیم لیوی میں اضافہ ہوگا،بجلی کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ مہنگائی میں مزید تین فی صد اضافہ ہوگا،آئی ایم ایف کی وجہ سے ڈالر بڑھے گا،روپے کی قدر کم ہوگی۔

یہ بجٹ خوش گپیاں محسوس ہوتی ہیں تحریک انصاف کا وطیرہ ہے کہ سارا ملبہ گزشتہ حکومتوں پر ڈال دیتے ہیں اور خود کو پاک صاف کر لیتے ہیں دوسرا انتظار کرو گھبرانا نہیں کا جھانسا دیتے ہیں،عوام صرف امید ہی لگائے بیٹھے ہیں۔