• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بوریت محسوس کرنا آجکل کے نوجوانوں کا ایک بڑا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے وہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا زیادہ استعمال اس مسئلے کو اور بڑھا دیتا ہے۔ آپ اپنی بوریت کو کس طرح مثبت انداز میں بھگا سکتے ہیں، ذیل میں یہی جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔

چند باتوں کو ذہن میں رکھیں

ضروری نہیں کہ ٹیکنالوجی بوریت مٹائے: انٹرنیٹ پرمختلف ویب سائٹس پر جانے سے ٹائم تو پاس ہو سکتا ہے لیکن اس دوران آپ اپنا دماغ نہیں لڑا رہے ہوتے اور یوں آپ مزید بوریت محسوس ہونے لگ سکتی ہے۔ 21سالہ جیرمی کہتے ہیں، ’’آپ بِنا کچھ سوچے بس اسکرین کو ٹکِ ٹکیِ باندھے دیکھتے جاتے ہیں‘‘۔ 23سالہ ایلینا بھی جیرمی کی بات سے متفق ہیں۔ 

وہ کہتی ہیں، ’’ٹیکنالوجی سے آپ کچھ زیادہ نہیں کر پاتے۔ یہ آپ کا دھیان اِس بات سے ہٹا دیتی ہے کہ آپ کے اِردگِرد کیا ہو رہا ہے اور پھر جب آپ اپنے موبائل یا ٹیبلٹ کو استعمال کرنا بند کرتے ہیں تو آپ کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ بور ہو جاتی ہے‘‘۔

سوچ سے بہت فرق پڑتا ہے: اگر آپ کے پاس کرنے کو بہت سے کام ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو بوریت نہیں ہوگی؟ اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہے کہ آپ ایک کام کو کیسا خیال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 21سالہ کیرن کی بات پر غور کریں جو کہتی ہیں، ’’جب میں اسکول میں پڑھتی تھی تو میرے پاس کرنے کو بہت کچھ ہوتا تھا۔ اس کے باوجود میں بور ہو جاتی تھی۔ دراصل آپ جو کام کرتے ہیں، اس میں آپ کو اپنا دل لگانے کی ضرورت ہے تاکہ آپ بور نہ ہو جائیں‘‘۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟ آپ کے پاس کچھ کرنے کو نہ ہو تو اسے ایک مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ ایک ایسا موقع خیال کریں جس میں آپ نئے نئے کام کر سکتے ہیں۔ یہ ایسے ہوگا جیسے ایک زرخیز زمین میں لگے پودے سے نئی نئی پتیاں نکل رہی ہوں۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

نئی نئی باتوں میں دلچسپی لیں: نئے دوست بنائیں، کوئی نیا مشغلہ اپنائیں اور نئے موضوعات پر تحقیق کریں۔ جو لوگ نئی نئی باتوں میں دلچسپی لیتے ہیں، وہ اس وقت کم ہی بور ہوتے ہیں جب وہ اکیلے ہوتے ہیں اور جب وہ دوسروں کے ساتھ ہوتے ہیں تو دوسرے بھی ان سے بور نہیں ہوتے۔ ملینڈا کہتی ہیں، ’’میں نے حال ہی میں چینی زبان سیکھنی شروع کی اور میں ہر روز اسے بولنے کی مشق کرتی ہوں۔ اس سے میں نے دیکھا کہ مجھے نئی نئی باتیں سیکھنے کا کتنا شوق ہے۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ میرے پاس کچھ ایسا ہو جس پر میں کام کروں۔ اس سے میں مصروف رہتی ہوں اور اپنے وقت کا اچھا استعمال کر پاتی ہوں‘‘۔

اپنے مقصد کو ذہن میں رکھیں: اگر آپ کو پتہ ہوگا کہ ایک کام کو کرنے سے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس میں آپ کی دلچسپی بڑھے گی۔ دراصل اگر آپ ایک مقصد کو ذہن میں رکھ کر اسکول کا کام کریں گے تو یہ بھی آپ کو کم بور لگے گا۔

‏اس حوالے سے جینا کہتی ہیں، ’’جب اسکول میں میرا آخری سال چل رہا تھا تو میں ہر روز آٹھ آٹھ گھنٹے پڑھنے لگی کیونکہ میں نے شروع میں زیادہ نہیں پڑھا تھا اور پھر مجھے بہت زیادہ پڑھائی کرنی پڑی۔ شاید آپ سوچیں کہ کیا آٹھ گھنٹے پڑھ کر مجھے بوریت نہیں ہوئی؟ نہیں کیونکہ میں اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتی تھی۔ میں نے اپنی پوری توجہ اس بات پر رکھی ہوئی تھی کہ مجھے پاس ہونا ہے اور یہ بات میرا حوصلہ بڑھاتی رہی‘‘۔

تسلیم کریں کہ کچھ باتوں کو آپ بدل نہیں سکتے: کبھی کبھار بہت سے دلچسپ کاموں میں بھی کچھ نہ کچھ بوریت والی باتیں ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار تو ہمارے قریبی دوست کوئی پروگرام منسوخ کر دیتے ہیں، جس پر ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ اب کیا کریں۔ اپنے حالات کے آگے بےبس ہونے یا منفی باتیں سوچنے کی بجائے اچھی باتوں کے بارے میں سوچنے کی کوشش کریں۔

ایک ٹین ایج لڑکی آئیوی کہتی ہیں،’’میری ایک دوست نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ میں اس وقت کو انجوائے کرنا سیکھوں جب میں اکیلی ہوتی ہوں۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے کہ ہم اکیلے میں کتنا وقت گزاریں گے اور دوسروں کے ساتھ کتنا۔ یہ ایک ایسا فن ہے جو ہر ایک کو آناچاہیے‘‘۔ وہ مزید کہتی ہیں، ’’میں ان لوگوں سے جلا کرتی تھی جنھیں دیکھ کر مجھے لگتا تھا کہ وہ بڑے مزے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ 

لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ بھی عام لوگ ہیں جو بس فارغ وقت میں بےکار نہیں بیٹھتے۔ لہٰذا میں نے بھی اپنے فارغ وقت میں نئے نئے مشغلے آزمائے اور دلچسپ موضوعات پر تحقیق کرنا شروع کی۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب آپ آس پاس کی دنیا کے بارے میں اپنا علم بڑھاتے ہیں تو آپ کی دلچسپی اور بڑھتی ہے اور پھر آپ اور زیادہ سیکھنا چاہتے ہیں، یوں بوریت آپ سے دُور ہو جاتی ہے‘‘۔