• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں کا سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا

کسی بھی قسم کی مثبت سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا نوجوانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ والدین بھی اس حوالے سے بہت زیادہ سوچتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کے لیے ایسے کیا کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر ترقی کریں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب نوعمر افراد اپنی کمیونٹیز میں بامعنی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ اپنے دوستوں، خاندان، کمیونٹی اور معاشرے کو زیادہ معنی خیز طریقوں سے جذباتی اور عملی مدد فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور معاونت کرنے والا رویہ دراصل بچپن سے ہی فروغ پاتا ہے۔

نوعمری میں نوجوانوں کے خیالات اور سوچ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آتی ہیں، ساتھ ہی ان کی جسمانی، علمی اور جذباتی صلاحیتیں یکجا ہوجاتی ہیں، جن کی بدولت وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو حقیقی فوائد پہنچانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ایسے مواقع نوجوانوں میں اُن صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں جو انہیں بڑے ہوکر درکار ہوتی ہیں۔ اگر ہم مثبت سرگرمیاں انجام دینے میں نوجوانوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو یہ ان کے اور کمیونٹی دونوں کے لیے بہتر ہوگا۔

جب ہم تعاون کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف مہربان ہونا یا رضاکارانہ خدمات پیش کرنا ہی نہیں ہوتا (حالانکہ یہ دونوں بھی اہم ہیں) بلکہ اس سے دوسروں کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں اور مشترکہ مقصد تک پہنچنے میں مدد ملے۔ اس طرح کے تعاون یا شراکت میں صرف انفرادی سطح پر اقدام اٹھانا شامل نہیں ہوتا بلکہ گروپ (فیملی، اسکول یا کمیونٹی) کے ساتھ کام کرنا بھی اہم کردار مانا جاتا ہے۔ اس عمر میں دوسروں کو تعاون فراہم کرنے کے لیے اچھی مطابقت پیدا ہوتی ہے۔

نوعمری کا دور ذہن میں بڑے پیمانے پر تنظیم نو کا وقت ہوتا ہے، جس میں تیز تر اور زیادہ موثر نظام تشکیل پاتا ہے۔ نیوروامیجنگ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جو اعصابی نیٹ ورک نوجوانی کی عمر میں انتہائی نمایاں طور پر تبدیل ہوتے ہیں، دراصل وہ وہی نیٹ ورک ہوتے ہیں جو دوسروں کی مدد کرنے کے بعد متحرک ہوتے ہیں۔

اس سے نوجوانوں کے احساسات اور نقطہ نظر کو سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی علمی پختگی انھیں دوسرے لوگوں کے مسابقتی نقطہ نظر کی پیچیدہ حرکیات پر غور کرنے کی اجازت دیتی ہے، جس سے وہ اس بات کا تعین کرپاتے ہیں کہ کس کی اور کس طرح مدد کی جائے۔ اس کے علاوہ نئے اور دلچسپ تجربات سے مثبت جذبات میں اضافہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ دوسروں کی مدد کرتے ہیں ان کے مزاج میں بہتری آتی ہے، انھیں کم ذہنی تناؤ اور صحت کے حوالے سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر، ثواب حاصل کرنے کی خواہش نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ دوسروں کی مدد کرنے اور تکمیل کے بعد خوشی کا احساس دیتی ہے۔ جن خاندانوں میں دوسروں کی مدد کرنے کو اہمیت اور ترجیح دی جاتی ہے، وہاں کے نوجوانوں میں اجروثواب حاصل کرنے کی چاہت اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے بڑوں کو بتاتے ہیں کہ کیسے انھیں کسی کی مدد کرکے خوشی ہوئی۔

مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ مدد، تعاون اور اشتراک کرنے والے طلبا کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوتی ہےبنسبت ان کے جو اسٹیٹس حاصل کرنے کے لیے خوف یا دھمکی کا سہارا لیتے ہیں یا پھر کوئی اور منفی اقدامات اٹھاتے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے بہت اہم ہے، جو ہارمونل تبدیلیوں کی بدولت عزت و وقار کمانے کے لیے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ جسم اور دماغ نوعمری میں تناؤ پر انتہائی رد عمل رکھتے ہیں، لہٰذا اسے کم کرنے کے لیے سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جاسکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ دوسروں کی مدد کرنے میں نوجوانوں کو وہ تجربات حاصل ہوتے ہیں جن کی انہیں زندگی کے اہم کاموں کو مکمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسروں کی بامعنی مدد کرنے سے نوجوانوں کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ وہ دنیا پر مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں، جس سے انہیں خود مختاری اور شناخت بنانے میں اعتماد حاصل ہوسکتا ہے۔ 

جب ان کے تعاون اور مدد کرنے کو تسلیم کیا اور سراہا جاتا ہے تو نوجوان اپنی جگہ اور قدر کو سمجھنے کے لیے اپنی شناخت بنانے کے احساس کو فروغ دیتے ہیں۔ دوستوں اور خاندان کو بامقصد معاشرتی مدد اور تعاون فراہم کرنے سے وہ قربت پیدا ہوتی ہے، جس کی انہیں جوانی میں مثبت اور دیرپا تعلقات تشکیل دینے کی ضرورت ہوگی۔

نوجوانوں کے اپنے خاندان سے باہر دوسرے افراد سے رابطے انہیں کئی مختلف شعبوں میں تاثر چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں۔ وہ ذیل میں بتائے گئے طریقوں سے اپنے خاندان اور برادری کے لیے خاطر خواہ کام کرسکتے ہیں۔

فیملی: وقت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی علمی قابلیت میں اضافے سے وہ مضبوط ہوتے جاتے ہیں، فیملی میں ان کا ایک مددگار کی حیثیت سے کردار مزید نمایاں ہوسکتا ہے۔ نوجوان گھر کی صفائی، کھانا پکانے اور بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کرنے میں اپنے والدین کی مدد کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فیملی کے اندر کسی بارے میں فیصلہ سازی کے موقع پر وہ اپنی رائے کا اظہار بھی کرسکتے ہیں۔ اس طرح ان کا اعتماد بھی بڑھے گا اور یہ بھی احساس ہوگا کہ انھیں اہمیت دی جاتی ہے۔

دوست: تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوانوں کے لیے ان کے دوست سماجی طور پر سہارا دینے کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور یہ کہ اس رشتے میں تعاون ایک اہم عنصر ہے۔ ہم عمر ساتھی ایک دوسرے کو جذباتی مدد فراہم کرتے، اپنی آراء کا اظہار کرتے اور منصوبے ترتیب دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف معاملات میں وہ ایک دوسرے کی مدد اور حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ نوجوان اسکول میں رضاکارانہ خدمات بھی پیش کرسکتے ہیں۔

کمیونٹی: نوعمر طبقہ جسمانی اور علمی طور پر اپنی کمیونٹی اور وسیع پیمانے پر دنیا کی خدمت کے قابل ہوتا ہے۔ بس انھیں اس موقع کی ضرورت ہے جس میں وہ کسی تنظیم یا آبادی کی قابل ذکر انداز میں مدد کریں۔ اعلیٰ معیار کے رضاکارانہ پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو تنظیم میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے، البتہ اس میں انھیں اپنے والدین کی مدد اور سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے۔