• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان طالبان نہایت سرعت کے ساتھ پیش قدمی کرتے جا رہے ہیں جبکہ افغان فوجی پسپا ہو رہے ہیں۔ افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی پیش قدمی کی رفتار دیکھتے ہوئے نہیں لگتا کہ افغان حکومت ستمبر تک بھی برسرِاقتدار رہے گی۔ کہا جاتا ہے کہ خود طالبان اپنی فتوحات پر حیران ہیں، کیونکہ شمالی افغانستان کے بڑے علاقے پر طالبان نے اپنا کنٹرول قائم کر کے کابل کے اطراف کے دیہی علاقوں پر بھی اپنی گرفت مستحکم کر لی ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان سے دوحہ قطر مذاکرات میں مئی کے مہینے میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کی انخلاء کی تاریخ مقرر کی تھی، جس پر دوطرفہ طور پر معاہدہ طے ہوا تھا، مگر نئے امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکی فوجیوں کے انخلاء کی تاریخ آگے بڑھا کر 9 ستمبر 2021ء کر دی جس پر طالبان کی اکثریت شدید ناراضی کا اظہار کر رہی ہے اور وہ نئی تاریخ سے قبل افغان حکومت کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں افغان صدر اشرف غنی اور یکجہتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے امریکی صدر جو بائیڈن سے واشنگٹن میں ملاقات کی اور تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا۔ امریکی صدر جوبائیڈن کے ہمراہ کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی بھی مذاکرات میں شریک تھیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکہ دوبارہ افغانستان کو دہشت گردی کا گڑھ نہیں بننے دے گا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے چار سو سے زائد اضلاع میں سے ستّر فیصد اضلاع پر طالبان کا قبضہ ہے۔ اہم شاہراہوں پر طالبان نے اپنی چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں اور آنے جانے والی گاڑیوں اور مسافروں کی چیکنگ کی جاتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ افغانستان کے عوام شدید خوف و ہراس کی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ 

مگر واشنگٹن میں امریکی صدر اور افغان صدر کی ملاقات میں صدر بائیڈن نے ایک بار پھر افغان صدر اشرف غنی کو یقین دلایا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کی شراکت داری ختم نہیں ہو رہی ہے، ہر چند کہ ہماری فوجیں وہاں سے جا رہی ہیں مگر ہمارا دوطرفہ تعاون جاری رہے گا۔ صدر اشرف غنی نے امریکی صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بھی گفتگو کی، اس موقع پر اسپیکر نینسی پلوسی بھی موجود تھیں۔ صدر اشرف غنی نے کہا کہ ہماری فوجیں میدان میں بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں اور طالبان کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ ہمارا ملک اُصولوں اور عوامی فلاح پر یقین رکھتا ہے۔ ہم اتحاد اور یکجہتی چاہتے ہیں، امریکہ کی شراکت داری پر مطمئن ہیں اور امریکی عوام کے مشکور ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے تک چار ہزار امریکی اور نیٹو کے فوجی افغانستان سے چلے جائیں گے۔ امریکی فوجیوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد تقریباً ساڑھے چھ سو فوجی افغانستان میں غیرملکی سفارت کاروں کی حفاظت کے لئے وہاں رہیں گے۔ امریکی صدر اور ترکی کے صدر طیب اردگان کی برسلز میں ہونے والی ملاقات میں یہ طے پایا کہ چونکہ ترکی نیٹو معاہدہ کا رُکن ہے اس لئے وہ کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نگرانی کے لئے ترکی اپنے فوجی تعینات کرے گا، مگر طالبان کے ترجمان نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ستمبر کے بعد اگر کوئی غیرملکی فوجی افغانستان میں رہا تو پھر مسلح گروہ اس کے خلاف اقدام کریں گے۔ 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ترکی کے فوجیوں کی ضرورت نہیں ہے جبکہ ترکی کے وزیر دفاع نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا کہ ترکی کے پانچ سو فوجی کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نیٹو کی طرف سے تعینات ہیں اور وہ بدستور اپنی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔ مگر طالبان کے ترجمان نے ترکی کے فوجیوں کو بھی جانے کا عندیہ دیدیا ہے۔

افغانستان میں جاری تشویش ناک حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ بہت سے افغان سول سرونٹ جو مترجم اور دفتری خدمات پر مامور تھے سخت خوفزدہ ہیں کہ امریکیوں کے جانے کے بعد طالبان انہیں اپنے انتقام کا نشانہ بنائیں گے۔ اس مسئلے پر امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی فوجیوں کے انخلاء کے ساتھ ہی ان سول سرونٹس کو بھی افغانستان سے باہر رہائش کا موقع فراہم کریں گے۔ افغانستان کے جاری حالات پر امریکی وزیر خارجہ اور فرانسیسی وزیر خارجہ کے مابین بات چیت میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ طالبان نے مذاکرات میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ مسلح جھڑپیں بند کر دیں گے مگر وہ سراسر اپنے وعدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جبکہ طالبان رہنمائوں کا استدلال یہ ہے کہ یہ وعدہ مئی تک مکمل انخلاء کے حوالے سے تھا، اب جبکہ امریکی صدر نے تاریخ بڑھا دی ہے تو پھر ہم کیسے چُپ رہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عمل میں آ رہی ہیں۔ افغان فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود ان سے ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ 

اس حوالے سے طالبان کے نمائندے ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو افغان فوجی ہتھیار ڈال دیتا ہے ہم اس کو کوئی سزا نہیں دیتے یہ محض ہمارے خلاف پروپیگنڈہ ہے۔ افغان طالبان لسانی طور پر پانچ دھڑوں پر مشتمل ہیں، پشتون، ازبک، تاجک، ترکمان، اور ہزارہ۔ پشتون تعداد میں زیادہ ہیں۔ وہ افغانستان میں اسلامی شریعت کے عین مطابق اسلامی نظام قائم کرنے کے داعی ہیں۔ قدامت پسندی میں اس حد تک آگے ہیں کہ عورتوں اور بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ خواتین کا مرد ڈاکٹر کے پاس جانا سخت منع ہے، انہیں ملازمت کرنے کی اجازت نہیں ہے اور کوئی عورت تنہا سفر نہیں کر سکتی، پردہ لازمی ہے۔ 

اس لئے ان دنوں افغان خواتین میں زیادہ خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ انہیں پھر یہ خدشہ لاحق ہو رہا ہے کہ پھر گزشتہ دور واپس نہ آ جائے۔ ابتداء میں طالبان نے اپنی دھاک جمانے کے لئے خواتین کو بھی کوڑوں کی سزا دی تھی۔ داڑھی لازمی تھی، دُکانوں سے شیونگ کا سامان اُٹھا لیا گیا تھا، مگر خواتین زیادہ سہمی ہوئی ہیں۔ 

تاہم جاری حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ستمبر تک یا پہلے طالبان اقتدار حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے جس کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں تو پھر افغانستان میں حالات کس رُخ پر جائیں گے؟ یہ سب سے اہم سوال ہے جو ہر حلقے میں ایک دُوسرے سے پوچھا جا رہا ہے۔ اس سوال کا جواب یہی سامنے آتا ہے کہ کسی نہ کسی طور طالبان اقتدار سنبھال لیں گے، اگر ان کو روکا گیا تو پھر افغانستان میں خانہ جنگی یقینی ہے۔ 

اگر طالبان اقتدار میں آ کر پنی حکمت علمی تبدیل کر لیتے ہیں اور ملک میں امن قائم کر کے عوامی فلاح پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو یہ طالبان اور افغانستان کے عوام کے لئے زیادہ بہتر ہوگا۔ اگر خدانخواستہ افغانستان پھر خانہ جنگی کی دلدل میں پھنس گیا تو یہ طے ہے کہ افغان عوام تو گردش میں آ جائیں گے مگر طالبان کو بھی بہت کچھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کو ہر سال یورپی یونین کی طرف سے بڑی رقم امداد میں حاصل ہوتی ہے۔ 

یہ بند ہو جائے گی تو دُوسرے مخالفین زیادہ شدت سے طالبان کا مقابلہ کریں گے۔ امریکی صدر جوبائیڈن فی الوقت جس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ان کو بھی یہ جواز مہیا ہو جائے گا کہ امریکہ جو بھی اقدام کرے گا اس میں حق بجانب ہوگا۔ جو قوتیں طالبان کی حمایت کرتی ہیں ان کو بھی جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جو قوتیں پراکسی وار کے بہانے تلاش کرتی ہیں ان سے خدشہ ہے کہ افغانستان کو دُوسرا ویت نام نہ بنا دیں۔ ایسے میں کسی کے کچھ ہاتھ نہیں لگے گا۔

طالبان اور افغان عوام کو تصویر کا یہ رُخ بھی دیکھنا چاہئے کہ افغانستان اس خطّے کا خوش قسمت ملک ہے جس کے پاس ایک درجن سے زائد قدرتی معدنیات موجود ہیں جن میں تیل، قدرتی گیس، قدرتی کوئلہ، سونا، تانبا، یورینیم، لیتھیم، لوہا، جست، سیسہ، کرومائٹ، زمرد اور دیگر قیمتی پتھر شامل ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پائی جانے والی معدنیات کا تخمینہ ساڑھے سات ٹریلین ڈالر کے قریب لگایا گیا ہے۔ اس طرح کا جیولوجیکل سروے چین نے بھی کیا ہے اور دو ایک جگہ سے وہ معدنیات نکال رہا ہے، مگر افغانستان میں جاری حالات کی وجہ سے بیش تر غیرملکی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہی ہیں۔ البتہ چین نے چند برس قبل دو ٹینڈر حاصل کر کے کام شروع کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ اجارہ دار ملٹی نیشنل کمپنیاں ترقّی پذیر ممالک کے قدرتی وسائل پر اپنی اجارہ داریاں قائم رکھنے کے لئے کسی بھی حد سے گزر سکتی ہیں۔ ماضی قریب میں کانگو، چلی، پیرو، وینزویلا اور مشرقی وسطیٰ کی مثالیں موجود ہیں۔ سرد جنگ کے دور میں امریکی ادارہ سی آئی اے نے بڑے سفاک کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ مگر ضرورت پڑنے پر جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کا پرچم بلند کرنے میں بھی دیر نہیں کی جاتی ہے۔ طالبان رہنمائوں کو تاریخ پر بھی نظر رکھنی چاہئے کہ ماضی قریب میں کیا کیا واقعات رُونما ہوئے۔ 

پھر مغرب کا پروپیگنڈہ دُہرے معیار کا ہوتا ہے اور انسانی نفسیات کی کمزوریوں سے کھیلتا ہے۔ کسی کو آسمان پر چڑھا دیتا کسی کو زمین پر گرا دیتا ہے۔ اگر واقعی طالبان افغان عوام کی خوشحالی، یکجہتی کے مخلص داعی ہیں تو انہیں اقتدار کے محور میں آنے کے بعد افغان ذرائع آمدن بیرونی امداد اور قوموں کی ہمدردیوں، تعاون کو ملک کی فلاح و بہبود پر صرف کریں اور افغان عوام کے سچّے رہنما اور ہمدرد ثابت کریں کیونکہ طالبان سے بہتر کون جانتا ہے کہ افغان عوام نے پہلے ہی بہت دُکھ اُٹھائے اور زخم سہے ہیں۔

افغانستان کی تاریخ اتنی قدیم ہے کہ انسانی تہذیب کے اوّلین دور سے یہاں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی اس ملک پر ہر دور میں بیرونی حملہ آوروں نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ افغانستان کی تاریخ جنگ و جدل شکست و ریخت سے بھری پڑی ہے۔ ماضی قریب میں ستّر کی دہائی میں افغانستان میں ثور انقلاب کو بعض دانشور حلقے مصائب کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ 

ان کے نزدیک یہ ایک مہم جوئی تھی جیسا کہ بعض جنوبی ایشیا کے ممالک میں ہو چکی ہے اور اس کا انجام بھی سب کے سامنے ہے۔ افغانستان جہاں تعلیم یا خواندگی کا اوسط بہت پست ہے، محنت کش طبقہ جس کی تعریف کارل مارکسس نے کی ہے وہ ناپید ہے۔ دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں راسخ العقیدہ اور رُجعت پسند ہیں، سماج میں وہ فکری طور پر اور سماجی طور پر حاوی ہیں وہاں اشتراکی انقلاب کی کامیابی کا تصور پانی پر تحریر کے مترادف ہے اور پھر ساٹھ کے عشرے میں یہ بات عیاں ہو چکی تھی کہ سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی پر بیورو کریسی حاوی ہے، ملک میں اُوپری سطح پر بدعنوانی عام ہے اور نقلاب کے ثمرات جن کا وعدہ پارٹی نے 1917ء میں کیا تھا وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ 

اگر افغانستان کو ظاہر شاہ، دائود خان اور ایسے دیگر روایتی رہنمائوں پر ہی چھوڑ دیا جاتا تو نہ مصنوعی کمیونسٹ انقلاب کا ڈھول بجتا، نہ اشتراکی انقلابیوں کو سوویت یونین کو افغانستان میں آنے اور کمزور انقلاب کو سہارا دینے کی دعوت دینی پڑتی، نہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو اور اسلامی بنیاد پرستوں کو جواباً افغانستان میں سوویت فوجوں سے آ کر لڑنے کا بہانہ میسر آتا، نہ افغانستان میں خون خرابے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا۔ نہ طالبان، اُسامہ بن لادن اور دیگر جہادی تنظیموں کا اس طرح ظہور ہوتا جو آج ہمارے سامنے ہے۔ نہ نائن الیون ہوتا نہ امریکہ کو پھر افغانستان میں مداخلت کا موقع دیا جاتا۔ اس تمام منظرنامہ میں غور کیاجائے کہ کس کس کا کتنا نقصان ہوا۔ کتنی انسانی جانیں گئیں اور معاشرتی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے کیا کیا نقصانات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں ڈیڑھ سو سے زائد قبائل آباد ہیں۔ دو قومی زبانوں کے علاوہ ایک درجن سے زائد بولیاں عام ہیں۔ مذہب کے علاوہ دیگر معاشرتی اقدار میں خاصی تفریق پائی جاتی ہے۔ ملک کے بڑے زرعی رقبے پر صرف پوست کی کاشت ہوتی ہے اس سے ملینز ڈالرز کا ہر علاقائی رکھوالے سردار یا کمانڈر کو فائدہ ہے۔ اس کے دیگر ذرائع سے بھی بڑی آمدن ہوتی ہے یہ سب کچھ چھوڑنے پر کون کیوں راضی ہوگا۔ اس کا بھی بڑا خدشہ ہے کہ اس مسئلے پر قبائل بھی ایک دُوسرے کے سامنے صف آراء ہو سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ افغانستان میں دُور تک نہیں دیکھ سکتے۔ یہ سچ ہے، کیونکہ اطراف میں پہاڑیاں اور سنگلاخ پہاڑ ہیں، اگر دُور تک دیکھنا ہو تو صرف اُوپر دیکھ سکتے ہیں، جہاں آسمان ہے۔ 

صدیوں سے افغان عوام اُوپر دیکھتے ہیں اور اللہ سے مدد مانگتے ہیں۔ اس وقت افغان عوام کی اکثریت دُعا مانگ رہی ہے کہ ان کے ملک میں جو بھی حکومت آئے وہ اعتدال پسند، امن پسند اور انصاف پسند ہو۔ دیگر اسلامی ملکوں کے عوام اور امن پسند دُنیا کے لوگوں کی بھی یہی خواہش ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کا قیام ہو اور افغانستان ترقّی کی شاہراہ پر گامزن ہو، مگر خود افغانستان میں ایسے باشندوں کی بھی بڑی تعداد ہے جن کو خدشات ہیں کہ امن قائم ہوگا۔ 

ان کا کہنا یہ ہے کہ ایک طرف القاعدہ اور دُوسری طرف داعش بھی افغانستان کے حالات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ داعش فی الوقت افریقی ممالک میں موجود انتہاپسند گروہوں سے تعاون اور اشتراک استوار کرنے میں زیادہ مصروف ہے۔ البتہ القاعدہ کا افغانستان اور طالبان سے پرانا تعلق ہے۔ اس سے سب کو بہت سے خدشات ہیں۔ مگر اچھی بات یہ بھی ہے کہ رجائیت پسند افغان عوام کا ایک نمایاں دھڑا یقین سے کہتا ہے کہ طالبان افغانستان میں مکمل حکومت نہیں بنا سکتے۔ 

اس دھڑے کا استدلال یہ ہے کہ امریکہ، روس اور یورپی یونین کی بھی یہی خواہش ہے کہ طالبان حکومت پر قابض نہ ہوں اور وہاں اعتدال پسند حکومت قائم ہو جائے۔ یہ خواہشات دُعائیں اور اُمیدیں نیک سہی لیکن زمینی حقائق جو فی الفور نظر آ رہے ہیں وہ ان سب کے برعکس ہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔