• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوام متحدہ کے ماہرین نے گزشتہ ماہ کے دوسرے ہفتے میں دنیا کو متنبہ کیا تھا کہ براعظم افریقا کے ملک ایتھوپیا کے صوبے تِغرے میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد کو شدید فاقہ کشی کا خطرہ لاحق ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ساڑھے پچاس لاکھ کی آبادی پر مشتمل ایتھوپیا کے صوبے تِغرے کی بیش تر آبادی کو غذائی امداد کی اشد ضرورت ہے۔فی الوقت خِطّےکے ساڑھے تین لاکھ سے زاید افراد قحط اور فاقہ کشی کے شدید خطرات سے دو چار ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروںکے مطابق تِغرے کا موجودہ غذائی بحران صومالیہ میں 2010 اور2012کے درمیان ہونے والی قحط سالی سے بھی زیادہ سنگین ہے۔جب تقریباً ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جس میں سے نصف سے زیادہ بچے تھے۔ اقوام متحدہ کےورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ،ڈیوڈ بیسلے کا کہنا تھا کہ چوں کہ خِطّےمیں کئی علاقوں میں مسلح گروہ رسائی دینے سے انکار کرتے ہیں اس لیے دیہی علاقوں کی دور دراز آبادیوں تک امداد نہیں پہنچ پاتی ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ صورت حال پیدا کیسے ہوئی ؟ دراصل ایتھوپیا کی حکومت نے صوبے تِغرے میں سرگرم تِغرے پیپلز لیبریشن فرنٹ کے خلاف گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ اس کی وجہ سےاس خِطّے میں تنازع بہت تیزی سے پے چیدہ صورت اختیار کر گیا۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یہ شدید غذائی بحران تنازعے کے زبردست اثرات کا نتیجہ ہے جس میں آبادی کی نقل مکانی، نقل و حرکت پر پابندیاں، محدود انسانی رسائی، فصل اور روزگار کے ذرایع کا ختم ہونا اور غیر فعال منڈی یا پھر منڈیوں کےیک سر نہ ہونے جیسے عوامل شامل ہیں۔

دوسری جانب ایتھوپیا کے انسانی حقوق کے کمیشن نے گزشتہ دنوں یہ اپیل کی کہ تِغرے میں موجود سویلین افرادکی مددکےلیےہنگامی طورپراقدامات اٹھائے جائیں۔ یاد رہے کہ تغرے میں نو ماہ سے جاری تنازعے کے سبب وہاں کا بنیادی ڈھانچا تباہ ہوچکا ہے اور قحط پڑنے کا اندیشہ بڑھتا جارہا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ دس لاکھ سے زاید انسان وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے اندازوںکےمطابق وہاں تقریبا دو اعشاریہ تین ملین شہریوں کو انسانی ہم دردی کی بنیادپر امدادکی فوری ضرورت ہے۔

اطلاعات کے مطابق وہاں جاری خوں ریز خانہ جنگی فیصلہ کُن موڑ پر پہنچنے والی ہےاور لاکھوں افرادکے بھوک سے مرجانے کا اندیشہ ہے۔ تِغرے کے دارالحکومت مقلی میں ایتھوپیا کی سرکاری فوج کے پکڑے گئے ہزاروں فوجی بھی پہنچ رہے ہیں، کیوں کہ خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے والی انتظامیہ دوبارہ اپنا کنٹرول قایم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر کے مہینے سے تِغرے میں لڑائی جاری ہے، کیوں کہ اُس وقت ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد نےوہاںکی باغی انتظامیہ کو ہٹانے کے لیے فوج بھیجی تھی۔ ان باغیوں کا تعلق دی پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) سے ہے ۔ 2019 میں امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ابی احمد نے ان لوگوں پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ ایتھوپیا کی فوج کےمرکز پر حملوں کے منصوبہ سازہیں۔ 

ابتدا میں سرکاری فوج کو وہاں کام یابی ملی تھی اور حکومت کی جانب سے وہاں فتح یاب ہونے کا دعوی کیا گیا تھا۔لیکن اس کے بعد سرکاری افواج وہاں ٹی پی ایل ایف اور دی تغِرے ڈیفنس فورسز(ٹی ڈی ایف ) کے جنگ جووں کے ساتھ مہینوں پر محیط خوں ریز جھڑپوں میں پھنس گئیں ۔ ایتھوپیا کی سرکاری فوج کو پڑوسی امہاراریجن اورپڑوسی ملک اریٹیریا کے فوجی دستوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ لیکن حال ہی میں ٹی ڈی ایف نے مقلی پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا جو اٹھائیس نومبر 2020سے ایتھوپیا کی سرکاری فوج کے قبضے میں تھا۔ اس کے فوری بعد عدیس ابابا کی حکومت نے یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کردیا تھا۔ تاہم باغیوں نے اس کا تمسخر اُڑاتے ہوئے اسے لطیفہ قرار دیا تھا اور لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہا کیا تھا۔

مقامی صحافیوں کے مطابق ایتھوپیا کی سرکاری فوج کے بڑی تعداد میں قیدی بنائے گئے اہل کاروں کو چند یوم قبل ہی ٹرکس پر اور پیدل مقلی لایا گیا ہے۔ ادہر ٹی ڈی ایف کے مطابق سات ہزار سے زاید قیدی فوجی مقلی کے جنوب مغرب میں پچھہتّر کلومیٹر دور واقع قصبے عبدِ عشر سے چار یوم کے پیدل مارچ کے بعد یہاں لائے گئےتھے ۔ 

دوسری جانب تِغرے ریجن کی سابق حکومت کے راہ نمابہ شمول اس کے چیئرمین، ڈیبرٹسن گیبری مشیل، بھی تِغرے کے دارالحکومت پہنچ چکے ہیں جنہیں ایتھوپیا کی سرکاری فوج مہینوں سے تلاش کررہی تھی۔ ٹی ڈی ایف کی اگلی حکمتِ عملی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اب وہ اپنی توجہ ریجن کے مغربی اور جنوبی حصوں کی طرف مبذول کرے گی جو تنازع کے ابتدائی ایام سے امہارا کی افواج کے قبضے میں ہیں۔ امہارا ریجن کا موقف ہے کہ ٹی پی ایل ایف نے ان علاقوں پر 1990 کی دہائی کے آغاز میں غیر قانونی طورپر قبضہ کرلیا تھا۔

اُدہر غیر سرکاری تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے اداروں نے تِغرے تک رسائی ممکن بنانے والے دو اہم پُلوں کی تباہی پر حال ہی میں انتباہ جاری کیاہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ان دو میں سے ایک پُل کو امہارا کی افواج نے تباہ کیا۔ تاہم حکومت اس کا الزام تِغرے کے باغیوں کو دیتی ہے۔

ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد کے2018 میں اقتدار سنبھالنے اور ملک میں متعدد جمہوری اصلاحات کے عمل میں تیزی لانے کے بعد ہی سے افریقا کا یہ دوسرا سب سے بڑی آبادی والا ملک کشیدگی اور ہلاکت خیز پُرتشدّد واقعات کا شکار ہے۔ کہاجاتا ہے کہ بعض اصلاحات کی وجہ سے علاقائی حریفوں پر ریاست کی آہنی گرفت کم زور ہوئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ وہاں رواں برس انتخابات ہونےتھے(جو حال ہی میں منعقد ہوئے ہیں)جس کی وجہ سےمختلف گروہوں کی جانب سے زمین، اقتدار اور وسائل پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوششوں کے سبب کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ نسلی کشیدگی وزیر اعظم ابی احمدکے لیے بڑاچیلنج ہے ،جواسّی سے زاید مختلف نسلی گروہوں والے اس ملک میں اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابی احمد اپریل 2018 ء میں ایتھوپیا کے وزیرِاعظم بنےتو انہوں تیزی سے اصلاحات کا آغاز کیا اوربہ یک وقت خارجی و داخلی محاذوں پر توجہ دی۔ ایک سخت گیر اور قدامت پسند معاشرے میں یہ بہت جرأت مندانہ قدم تھا۔ ان کی اصلاحات کی وجہ سے ایتھوپیا میں دبی ہوئی نسلی کشیدگی کو ابھرنے کا موقع ملا جس سےپچّیس لاکھ افرادبے گھر ہوئے، لیکن ابی احمد نے اپنا کام جاری رکھا ۔

اندرونِ ملک وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوے ہزاروں سیاسی قیدیوں کی رہائی کااعلان کیااورملک بدرسیاسی مخالفین کی واپسی کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ اپنی حکومت کے پہلے سوایّام میں انہوں نے ملک میں نافذ ہنگامی حالت اور میڈیا سینسر شپ کا خاتمہ کیا ۔ جہاں انہوں نےحزب اختلاف کو قانونی حیثیت دی وہیں بد عنوانی میں ملوث فوجی اور سیاسی راہ نماؤں کا پتاّ صاف کر دیا۔

خارجی محاذ پرابی احمد نےاپنے بدترین دشمن، ہم سایہ ملک کے ساتھ دو دہائیوں سے جاری تنازع طے کر کے کشیدگی کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو دوسری جانب سے اریٹیریا کے صدر افورقی نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ اس طرح دو ممالک کے درمیان امن کا ماحول بن گیا۔ابی احمد کو ان کی اس مساعی کے اعتراف میں ناروے کی نوبیل امن کمیٹی نے 2019ء کا امن انعام دینے کا فیصلہ کیا۔ 

کمیٹی کے مطابق انہیں یہ انعام ہم سایہ افریقی ملک اریٹیریاکے ساتھ سرحدی تنازع حل کرنے میں پیش قدمی پر دیا گیا۔ یاد رہے کہ اریٹیریا، ایتھوپیا سے الگ ہوکر عالم وجود میں آیا تھا۔ دونوں ممالک 1998ء سے 2000ء تک ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار رہے۔ اس کے بعد ان کےتعلقات اس قدر کشیدہ ہو گئے تھے کہ سفارتی رشتے تک قائم نہیں رہے۔ جولائی 2018ء میں دونوں ممالک نے باقائدہ جنگ کے خاتمہ کا اعلان کرکے دو طرفہ تعلقات بحال کر لیے۔ اس طرح بیس برس سے جاری جنگ اختتام کو پہنچی تھی۔

ابی احمد کے اقتدار میں آنے سے قبل تقریباً تین عشروں سے ٹی پی ایل ایف مخلوط مرکزی حکومت کا حصہ تھی اور ایک طرح سے ایتھوپیا پر اس کا غلبہ تھا۔ تقریبا ستّائیس سالہ دورِ اقتدار میں شعبہ زراعت اور بچوں کی صحت کے شعبے میں ملک نے کافی ترقی بھی کی، لیکن طویل عرصے تک واحد سیاسی جماعت کے غلبے سے نوجوانوں میں مایوسی اور بے چینی بھی پیدا ہوئی۔ابی احمد نے ملک میں سیاسی اصلاحات کا وعدہ کر رکھاہے لیکن ٹی پی ایل ایف کا الزام ہے کہ وہ اسے نشانہ بنانے کے ساتھ نظر انداز بھی کر رہے ہیں۔ تنازعے کی اہم وجہ علاقے میں بسنے والے تقریباساٹھ لاکھ افراد کا حقِ خود ارادیت کا مطالبہ بھی ہے۔

ایتھوپیا کے انتہائی شمالی علاقے تِغرے میں حکومت مخالف مزاحمتی عمل کو کنٹرول کرنے کے لیےابی احمد کی حکومت نے گزشتہ برس چار نومبر سے فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس کی فوری وجہ تِغرے کے باغیوں کی جانب سے ملکی فوج کی شمالی کمانڈ پر کیا گیا حملہ تھا۔ اس حملے میں کئی افرادہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعےکے بارے میں تِغرےکے محاذِ آزادی کا کہنا تھا کہ یہ ایک دفاعی کارروائی تھی۔

تِغرے میں کئی عشروں سے ٹی پی ایل ایف کا سیاسی وتنظیمی غلبہ رہا ہے۔ یہ نظریاتی طور پر انتہائی بائیں بازو کی تنظیم ہےاوــ ر اپنے تئیں ـانقلابی جمہوریت کی علم بردار ہے۔ اِس جماعت نے1991میں ایتھوپین عوامی جمہوری حکو مت (پی ڈی آر ای)کی چارسالہ کمیونسٹ آمریت کو کچل کر ایک نئی حکومت کی داغ بیل ڈالی تھی جو 2018 تک قائم رہی۔ تِغرے اور ایتھوپیا کی وفاقی حکومت کے درمیان تنازعے میں اُس وقت شدّت پیدا ہوئی جب وزیرِاعظم ابی احمد اقتدارمیں آئے ۔ انہوں نے ٹی پی ایل ایف کے قائم کردہ ایک طاقت ور اتحاد کو تہہ و بالا کر ڈالا اور خوش حالی پارٹی کی بنیاد رکھی۔

یوں ایتھوپیا کی وفاقی حکومت میں ٹی پی ایل ایف کا بے پناہ اثر و رسوخ ختم ہو گیا۔ٹی پی ایل ایف نے خوش حالی پارٹی کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیاجس کے بعد وفاقی حکومت کے ساتھ تِغرے کے تعلقات بہ تدریج خراب ہوتےچلے گئے ۔ صورت حال اُس وقت مزید بگڑ گئی جب وزیرِ اعظم نے کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے سبب انتخابات ملتوی کردیے ۔ٹی پی ایل ایف نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا او ر تِغرےمیں انتخابات کا انعقاد کیا جسےوفاقی حکومت نے غیر قانونی قرار دیا۔

ٹی پی ایل ایف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کوئی عام تنظیم نہیں ہے۔ اسے کئی طاقت ور فوجی ملیشیاز کی بھی خدمات حاصل ہیں جس کے سبب تِغرے کو تقریباً ایک ریاست کا درجہ حاصل ہوچکا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تِغرے کے باغیوں نے اس تنازعے میں بڑی بے باکی سے ایتھوپیا کے شہروں پر راکٹ برسائے۔ یہ مکمل اور بھر پور جنگ کی طرف ایک قدم تھا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس تنازعے کے آغاز ہی میں کہہ دیا تھاکہ اگر تِغرے کا مسئلہ فوری طور پر حل نہیں کیا گیا تو اِس کے دو خوف ناک نتائج برآمد ہو سکتےہیں۔ اوّل، جنگ و جدل کے سبب تِغرے اور ایتھوپیا میں بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ دوم، تِغرے کی صورتِ حال ہم سایہ ملک صومالیہ کےلیے بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہے جہاں تعینات افریقا کے یونین مشن کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایتھوپیا کی افواج بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔

اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تِغرے میں کئی برسوں سے اریٹیریا کے ہزاروں مہاجرین پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اِس تنازعے نے اُنہیں تِغرے کی ملیشیا اور ایتھوپیا کی افواج کے درمیان لا کھڑا کیا ہے۔ دوسری جانب صومالیہ ایک طویل عرصے سے مذہبی شدّت پسندوں کے خلاف بر سرِپیکار ہے۔ اگرتِغرے کے تنازعےنے طوالت پکڑی تو ایتھوپیا کو صومالیہ سے طوعاً و کرہاً اپنی فوجیں واپس بلانی پڑیں گی۔ اگر ایسا ہوا تو مشن کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جس کا فائدہ لامحالہ الشباب نامی شدّت پسند تنظیم کو ہو گا۔

اب تک اس تنازعے میں ہزاروں افراد مارے جاچکے اور بیس لاکھ سے زاید شہری بے گھر ہوچکے ہیں جن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ اس صورت حال سے وزیر اعظم ابی احمد کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ سیاسی بحران اور امن عامہ کی مخدوش صورت حال کا سامنا کرنے والے اس ملک میں گزشتہ ماہ ہی ایک سال کی تاخیر سے انتخابات ہوئے ہیں۔