• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی کمیونسٹ پارٹی اپنے قیام کی صد سالہ سالگرہ منا رہی ہے۔ ہزاروں سیّاح اِنقلاب دیکھنے اور اس میں شرکت کرنے چین کے بڑے شہروں میں پہنچ چکے ہیں۔ چین کا دُنیا کی قدیم تہذیبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ابتداء سے مختلف شاہی خاندانوں کی حکومت رہی۔ 1911ء میں چین کی کمیونسٹ پارٹی نے ملک میں کمیونسٹ انقلاب کی جدوجہد شروع کی اور شاہی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ 

اس اَفراتفری میں جاپان نے چین پر حملہ کر دیا۔ اس سے ملک خانہ جنگی میں اُلجھ گیا۔ طویل خانہ جنگی کے بعد 1949ء میں چین اس خانہ جنگی کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ چین کے بڑے حصہ پر چینی کمیونسٹ پارٹی کا قبضہ ہوگیا جبکہ قوم پرست متحارب دھڑے نے جزیرہ تائیوان پر قبضہ کر کے وہاں قوم پرست چین یا ریپبلک آف چائنا کا پرچم لہرا دیا۔ دونوں دھڑوں کا دعویٰ ہے کہ چین کی اصل نمائندہ حکومت ان کے پاس ہے۔ 

اس مسئلے کو اس لئے ہوا ملتی رہی کہ 1971ء تک امریکہ اور اقوام متحدہ نے تائیوان کو رُکن بنایا اور چین کی کمیونسٹ حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا، مگر 1970ء میں صدر نکسن نے بذریعہ پاکستان چین کا خفیہ دورہ کر کے چین سے تعلقات قائم کئے اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں تائیوان کو برطرف کر کے چین کو رُکنیت دی۔ اس طرح چین عالمی منظر پر اُبھر آیا۔

1998ء سے چین نے معاشی اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا۔ 2001ء میں ڈبلیو ٹی او کارُکن بنا۔ اس کے بعد چین نے نہایت برق رفتاری سے صنعتی اور تجارتی شعبوں میں نمایاں ترقّی کی۔ اس اثناء میں ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ 1992ء میں برطانیہ کو چین سے طے شدہ معاہدہ کے تحت ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنا پڑا۔ 

ایسے میں سیکڑوں بڑے امیر چینی تاجر، سرمایہ کار اور صنعت کار جو برسوں سے ہانگ کانگ میں کام کر رہے تھے وہ برطانیہ کے وہاں سے نکلنے کے بعد یا تو ہانگ کانگ میں ہی رہے، بیش تر دُوسرے ممالک میں چلے گئے اور ایک حصہ چین میں واپس آ گیا۔ اس طرح ہانگ کانگ میں رہ جانے والے اور چین کے بڑے شہروں میں واپس آنے والے چینیوں سے چین کی صنعتی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نمایاں ترقّی ہوئی۔

چین آبادی میں دُنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جب کہ رقبہ کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک ہے۔ چاول، گندم، کپاس، تمباکو، سوتی اور ریشمی کپڑا پیدا کرنے میں نمبر ون ہے جبکہ مکئی، چائے اور دیگر زرعی اجناس پیدا کرنے میں بھی سرفہرست شمار ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں بھی چین دُنیا کا نمایاں ملک تھا۔ دریافت دُنیا میں اس کو پُراسرار ملک تصوّر کیا جاتا تھا۔ چین نے اپنی آبادی اور دیگر سہولیات کے باوجود سیکھنے، ایجاد کرنے اور اپنے کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ بنانے پر زیادہ توجہ صرف کی۔ بے شمار جڑی بوٹیوں کی خصوصیات اور ان کی اہمیت سے دُنیا کو آگاہ کیا۔ اعلیٰ دماغ حکماء اور وید پیدا کئے۔ کاغذ اورکپاس جیسی اہم اشیاء ایجاد کیں۔ 

چین زمانہ قدیم میں بھی انواع و اقسام کے کھانوں اور پکوان کے لئے مشہور تھا۔ آج بھی چین کا دسترخوان دُنیا کا سب سے بڑا دسترخوان کہلاتا ہے۔ سبزیوں، سمندری حیاتیات اور گوشت سے تیار کردہ کھانوں کی تعداد سیکڑوں اقسام میں شمار ہوتی ہیں۔ اسی طرح مشروبات، مٹھائیوں میں بھی چین نمایاں ہے۔ چینی باشندے جلد گھلنے ملنے سے شرماتے ہیں۔ رَکھ رَکھائو، سلیقہ مندی اور دُنیا داری میں اعتدال پسند واقع ہوئے ہیں۔ 

ماضی میں چینی عوام نے بیرونی حملہ آوروں کے حملوں اور جنگوں سے بہت نقصان برداشت کئے ہیں۔ خاص کر منگولوں نے چین پر پے دَر پے دس سے زائد حملے کئے اور چین کوشدید نقصان اُٹھانا پڑا۔اسی وجہ سے 1644ء میں چین نے منگولوں سے محفوظ رہنے کے لئے دیوار چین کی تعمیر شروع کی۔ دیوار چین فن تعمیر کا ایک نمونہ ہے۔ یہ دیوار چار سو میل طویل ہے۔ اس کو صرف انسانی ہاتھوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ دیوار چین دُنیا کے آٹھ عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ ہر سال ہزاروں سیّاح صرف اسے دیکھنے یہاں آتے ہیں۔

چین کا سیاسی اور معاشی نظام ایک ماڈل ہے۔ سیاسی نظام، چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھوں میں ہے۔ پارٹی جمہوری مرکزیت کے اُصول پر کام کرتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چین میں پارٹی کی رُکنیت تین کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ نیشنل کانگریس اہم مجلس ہے جو ہر پانچ سال بعد اپنا اجلاس منعقد کرتی ہے۔ اس پر سینٹرل کمیٹی ہے جو ہر سال اجلاس منعقد کرتی ہے۔ پولیٹ بیورو اور اسٹینڈنگ کمیٹی سب سے بالا ہے۔ صدر جنرل سیکرٹری کا انتخاب اسی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ 

یہ دونوں عہدے صدر ژی جن پنگ کے پاس ہیں جو تاحیات صدر ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے علاوہ چین میں آٹھ پارٹیاں اور ہیں۔ بیش تر مغربی ممالک چین کے اشتراکی نظام کو ناپسند کرتے ہیں، انہیں یہ بھی اعتراض ہے کہ چین میں آزادی اظہار کی آزادی میسر نہیں ہے۔ یہ ایک پابند معاشرہ ہے، مگر مغربی ممالک یہ سچائی فراموش کر دیتے ہیں کہ چینی عوام نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی میں ایک طویل صبر آزما جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے بعد ایک نئے انقلابی سماج کی بنیاد رکھی، جو کارل مارکس اور ولادی میر لینن کے فلسفہ اور اُصولوں کے مطابق وجود میں آیا۔ چین اشتراکی انقلاب نے گزرے ستّربرسوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ 

دُوسرے لفظوں میں اَنہونی کو ہونی کر کے دکھایا ہے۔ پہاڑوں کو کاٹ کر شاہراہیں بنائیں، دریائوں کے رُخ بدل کر ڈیم تعمیر کئے اور سیلابوں سے چھٹکارا حاصل کیا۔ نئے پُرانے شہروں میں جہاں جہاں درختوں کی کمی تھی وہاں جنگلوں سے بیس تیس سال پُرانے بڑے بڑے درخت جڑوں سمیت اُکھاڑ کر لگائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شہروں کی ہیئت بدل گئی اس طرح کے کارنامے کسی اور نے نہیں دکھائے۔ عالمی بینک کے ماہرین نے بیس سال قبل چین کے دورے کے بعد کہا کہ، اتنے بڑے بڑے ڈیم دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ کوئی قوم اتنی محنتی اور ڈسپلن کی پابند ہو سکتی ہے۔

چین نے تعلیم اور تحقیق پر بہت توجہ صرف کی ہے۔ دُنیا کی ایک سو عظیم جامعات کی فہرست میں چین کی سات جامعات کا شمار ہوتا ہے۔ طلبہ کو درس و تدریس کے بعد ان تعلیمی ادروں سے بھی فارغ التحصیل ہونا پڑتا ہے جو کمیونسٹ پارٹی کے نظریات اور نظام حکومت کے طور طریقوں کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان اداروں سے سند حاصل کئے بغیر سرکاری ملازمتوں پر کام کرنے کا اہل تصور نہیں کیا جاتا۔

چین کی شہری اور دیہی علاقوں میں طرز زندگی میں جو فرق تھا وہ بہت کم ہو چکا ہے۔ ہرچند کہ شہروں میں زیادہ گہما گہمی اور زیادہ سہولتیں ہیں ، دیہی زندگی میں پُرسکون ماحول سادگی روایتی طرزِ حیات نمایاں ہیں۔ غربت یا پسماندگی کا اوسط کم تر ہوگیا ہے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے 2023ء تک کے منصوبے کے تحت چین سے غربت کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا اور اس صدی کے نصف تک چین مکمل طورپر خوشحال، جدید ترین اور سالانہ اوسط آمدنی کے لحاظ سے سرفہرست ملک ہوگا۔ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں حاصل ہوں گی۔ آج کا چین بھی کسی بھی ترقّی یافتہ خوشحال ملک سے پیچھے نہیں۔ تعلیم مفت اور لازمی ہے۔ 

طبّی سہولتیں مفت ہیں، صحت عامہ کا نظام جدید اور عوام کی پہنچ میں ہے، طلبہ کو ہر طرح کی سہولتیں حاصل ہیں۔ انفرا اسٹرکچر جدید ترین ہے، شہریوں کو ہر طرح کی سفری سہولتیں حاصل ہیں۔ چین میں امیرترین خاندانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معروف شماریاتی ادارہ فوربز کے مطابق دُنیاکی امیر ترین ایک سو شخصیات میں سات کا تعلق چین سے ہے ،اس تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ چین ظاہر ہے کمیونسٹ ملک ہے اس لئے سیکولر ہے مگر یہاں کچھ علاقوں میں بعض مذہبی، لسانی اور قبائلی گروہ انقلاب کے خلاف آوا اُٹھاتے ہیں اور حکومت سے ان کا ٹکرائو ہوتا رہتا ہے۔ تاہم چین کی قطعی اکثریت اشتراکی انقلاب کی حامی اور داعی ہے۔ چین کی نئی نسل بھی دیگر معاشروں کے نوجوانوں کی مانند مزید جدت کی حامی ہے۔

اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر چین کی اس تیز رفتار ترقّی میں کون کون سے عوامل کارفرما ہیں۔ مارکسی فلسفہ ، معیشت پر حکومت کا مکمل کنٹرول اس کے علاوہ اَسّی کی دہائی کے بعد امریکی اور بعض بڑی بڑی یورپی کمپنیوں نے اپنا سامان تیار کرنے کے لئے چین کو سرمایہ اور ٹیکنالوجی فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ چینی کارخانوں میں یہ اشیاء تیار ہو کرامریکی اوریورپی کمپنیوں کو موصول ہوتی تھیں اس طرح ہر دو جانب کام چل رہا تھا مگر مغربی اجارہ داروں نے یہ نہیں سوچا کہ آگے کیا ہو سکتا ہے۔ 

چین نے ان کی غفلت اور تساہلی کا پورا پورا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ٹیکنالوجی حاصل کر لی اور اپنے محنت کشوں کو اپنے لئے مال تیار کرنے پر مامورکر دیا۔ درحقیقت چین کی جیت اس میں تھی کہ اجارہ داروں کے بیچ اپنا راستہ بنانے کے لئے کچھ نیا اور عوامی ضروریات کے مطابق کیا جائے،تب اس نے وہ پتا پھینکا جو سب پر بھاری پڑا کہ ہر چیز کم سے کم منافع میں فروخت کرو زیادہ مال کی فروخت زیادہ منافع۔ اس کارگر حربے سے چین نے بتدریج عالمی منڈی کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ 

اس کا نوٹس سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لیا کیونکہ وہ کاروباری خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بڑے بڑے اداروں کے سربراہوں کی سرزنش کی اور یہ نعرہ دیا کہ ان اجارہ دار سرمایہ داروں نے اپنے کارخانے چین میں منتقل کر کے ہزاروں امریکیوں کو بے روزگار کر دیا۔ جی ایم موٹرز سمیت کچھ بڑی امریکی کمپنیوں نے اپنے کارخانے واپس امریکہ میں لے آئے ہیں۔ تاہم صدر جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ کے نظریات سے اختلاف کے باوجود اس پالیسی کو مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے بعض اقدام کئے ہیں، جیسے امریکہ پہلے چین کی تجارتی اور سرمایہ کاری کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے ایک وسیع منصوبہ سازی کر رہا ہے بلکہ کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ کیا کیا رُکاوٹیں ڈال سکتا ہے اور کتنا کامیاب ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

اس حوالے سے بیش تر مغربی ماہرین معاشیات بھی شک و شبہ میں مبتلا ہیں ان کا خیال ہے کہ چین پوری دُنیا میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ عالمی منڈی میں سب سے زیادہ مال چین کا پھیلا ہوا ہے۔ ’’ون روڈ ون بیلٹ‘‘ منصوبے کے تحت خاصی پیش رفت ہو چکی ہے۔ ایسے میں چین کو روکنا مشکل نظر آتا ہے۔ کچھ ماہرین کے نزدیک امریکہ کی ایسی کوششیں عالمی امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہیں کیونکہ چین کے اہداف بہت وسیع ہیں۔ اس کی پوری دُنیا پر نظر ہے۔ چین کے صدر نے صد سالہ تقریبات کا افتتاح کرتے ہوئے اپنی تقریر میں پوری دُنیا کو پیغام دیا ہے کہ اگر کسی نے چین کے خلاف کوئی قدم اُٹھایا تو چین اس کا بھرپور جواب دے گا۔ 

چینی صدر نے واضح طور پر امریکہ اور دیگر طاقتوں کو باور کرا دیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی چین اس حد تک جا سکتا ہے؟ اس کا جواب زوردار ’’ہاں‘‘ میں ہے۔ اس لئے کہ چین صرف آگے جانا چاہتا ہے۔ ترقّی مزید ترقّی چاہتا ہے۔ دُنیا کی معیشت اور منڈی پر اپنی مکمل اجارہ داری چاہتا ہےا یسا کچھ کرنے کے لئے چین کے پاس سب کچھ ہے۔ چین کی فارمیشن اور فائر پاور کسی سے کم نہیں ہے۔ 

دفاع اور عسکری حوالوں سے کہا جاتا ہے کہ چین برّی، بحری، فضائی قوت میں امریکہ سے زیادہ مضبوط ہے۔ خاص طور پر پیپلز لبریشن آرمی بڑی قوت ہے۔ اس میں بائیس لاکھ ریگولر فورس، پانچ لاکھ سے زائد ریزرو فورس اور پیرا ملٹری فورس چھ لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔ سال 2020ء کی ڈیفنس کے حوالے سے ایک جائزہ میں بتایا گیا کہ 400 سے زائد بحری لڑاکا جہاز اور سب میرین ہیں۔ جدید ڈیفنس سسٹم، بلیسٹک میزائل سسٹم، جوہری اور کیمیاوی ہتھیار ہیں۔ اس کے علاوہ بتایا جاتا ہے کہ چین لیزر ہتھیار اور سائبر ٹیکنالوجی برائے ڈیفنس پر بھی کام کر رہا ہے۔

چین گزشتہ دس برسوں سے اقوام متحدہ کی امن مشن فورس میں بڑا حصہ دار رہا ہے۔ گزشتہ سال اس نے اقوام متحدہ امن مشن کے لئے ایک ارب ڈالر تک بجٹ مختص کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں امریکہ کا زیادہ بجٹ ہوتا ہے۔ دُوسرے نمبر پر چین ہے۔ چین بحری قوت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اس ضمن میں افریقی اور ایشیائی ممالک میں اپنے بحری اڈّے قائم کرنے پر جدوجہد کررہا ہے۔ جبوتی، مالدیپ اور سری لنکا میں اڈّے قائم کر چکا ہے۔ چین کا مقصد بحرہند اور بحرالکاہل میں بھارت کو محدود کر دینا ہے اس حوالے سے وہ بھارت کا گھیرائو کر رہا ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال ویت نام کے ساتھ بحرالکاہل میں بحری مشقیں کی تھیں۔

بھارت میانمار میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہا ہے، مگر چین نے چونکہ افریقی ممالک میں زیادہ سرمایہ کاری کی ہے اور اس کا فوکس بھی اُوپر ہے اس لئے بحرہند میں بحری اڈّے حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ امریکہ اور چین کا آمنا سامنا پہلے ہی جنوبی بحیرۂ چین میں ہے جہاں دونوں ممالک پوری قوت سے موجود ہیں۔ چین نے یہاں جزیروں کے علاوہ مصنوعی جزیرے بھی تعمیر کر رکھے ہیں جس پر اس علاقہ کے دیگر ممالک کو شدید اعتراض ہے۔ امریکہ نے اپنی توجہ بحیرۂ جنوبی چین اور بحرالکاہل پر مرکوز کر رکھی ہے۔ یہاں دونوں سپر پاورز کی بحری اور فضائی قوت اتنی زیادہ متحرک ہے کہ کسی کی ایک لغزش امن کے لئے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

مختصر یہ کہ چین اپنی کامیابی کا جشن منا رہا ہے۔ دُنیا گومگو کی صورت حال سے گزر رہی ہے کہ طاقت کے یہ مظاہرے کیا گل کھلائیں گے۔