کراچی (ٹی وی رپورٹ) بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ بلوچستان کا مسئلہ حل ہو، ان میں زیادہ تر لوگوں کا تعلق حکومت سے ہے، کچھ لوگوں کو گملوں میں اگا کر بلوچستان کا لیڈر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ عناصر کبھی نہیں چاہیں گے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل ہو،مجھے نہیں معلوم حکومت کن بلوچوں کو ناراض کہتی ہے۔ وہ جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے۔
پروگرام میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سرفراز بگٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما انوار الحق کاکڑبھی شریک تھے۔انوار الحق کاکڑنے کہا کہ ریاست کیخلاف بندوق اٹھانے والے بلوچستان میں ترقیاتی کام نہ کرنے کی وجہ سے ناراض نہیں بلکہ وہ اپنی ریاست تشکیل دینا چاہتے ہیں۔
ایک گملے میں ہم پھلے پھولے تو دوسرے گملے میں اختر مینگل کی پارٹی کے دس ایم پی ایز پھلے پھولے ہیں، شاہ زین بگٹی کا تقرر بطور فوکل پرسن کیا گیا ہے ،بات چیت آگے بڑھے گی تو وزیراعلیٰ، صوبائی حکومت اور وفاق میں بلوچستان سے جڑے مزید لوگوں کا کردار سامنے آئے گا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں مسلح جدوجہد کا صوبے میں ترقیاتی کاموں سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلوچستان میں تمام مسلح لشکر را سے پیسے لیتے ہیں، لاپتہ افراد کا معاملہ ریاست کو بدنام کرنے کے پراپیگنڈہ ٹول کا حصہ ہے ،شاہ زین بگٹی کی تقرری وزیراعظم عمران خان کا دائرہ اختیار ہے، شاہ زین بگٹی نے ڈیلیور نہیں کیا تو وزیراعظم کے پاس بہت سے آپشنز موجود ہیں۔
بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نےکہا کہ بلوچوں کی ناراضی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب وہ اس کا اظہار ہی نہیں کرتے ہیں، مجھے نہیں معلوم حکومت کن بلوچوں کو ناراض کہتی ہے، حکومت نے ابھی تک واضح نہیں کیا کہ باہر بیٹھے ہوئے، پہاڑوں میں بیٹھے ہوئے یا شہروں میں بیٹھے ہوئے کن بلوچوں سے بات ہوگی، ہم سمجھتے ہیں پیچیدہ ترین مسئلہ کا حل بھی مذاکرات سے ہوتا ہے۔
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ یہاں سندھیوں، پشتونوں سمیت حق کی آواز اٹھانے والے ہر شخص کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، ہمسایہ ممالک میں تبدیلی کے اثرات بلوچستان میں ہمیشہ منفی پڑتے ہیں، شاید ان اثرات کو کم کرنے کیلئے بلوچوں سے مفاہمت کا شوشہ چھوڑ ا جارہا ہے۔
امریکی و نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد طالبان کی پیشقدمی کے اثرات پاکستان پر بھی آئیں گے۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہمیں ماضی میں غداروں اور ملک دشمن کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا، ہمیں کوئی بھی لقب دیں قبول ہے لیکن یہاں سیاست کرنے دیں۔
ماضی میں بھی کئی دفعہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیے گئے اس کا کیا نتیجہ نکلا، اکبر بگٹی کی شہادت سے پہلے ان کیلئے جہاز بھیجا گیا تھا جسے واپس کیا گیا اس کے بعد نواب اکبر بگٹی کو شہید کردیا گیا، کیا ان کے کفن پر تالے لگانا بھی مذاکرات کا حصہ تھا، کیا ہزاروں کی تعداد میں اغوا کیے گئے لوگ بھی مذاکرات کا حصہ ہیں ۔
اختر مینگل نے کہا کہ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ بلوچستان کا مسئلہ حل ہو، ان میں زیادہ تر لوگوں کا تعلق حکومت سے ہے، کچھ لوگوں کو گملوں میں اگا کر بلوچستان کا حقیقی لیڈر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ عناصر کبھی نہیں چاہیں گے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل ہو۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما انوار الحق کاکڑنے کہا کہ ناراض بلوچ بلوچستان کی نہیں باقی ماندہ پاکستان کی تخلیق ہے، بلوچستان میں کم ہی لوگ اس کے ساتھ اتفاق رکھتے ہوں گے، پاکستان سمجھتا ہے ترقیاتی کام نہ کروانے کی وجہ سے بلوچ ہم سے ناراض ہوئے جو غلط اپروچ ہے۔
ریاست کیخلاف بندوق اٹھانے والوں سے پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں ہماری قومی شناخت ہے جس کی بنیاد پر ہم اپنی ریاست تشکیل دینا چاہتے ہیں اور اس کیلئے مسلح جدوجہد کو جائز تصور کرتے ہیں۔