• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بکرا مشن نوٹ سنبھالے منڈی پہنچے، ایک کے بعد دوسرا بکرا دیکھا، بھاؤ تاؤ کیا، مگر…

’’ آج آپ کی پسند کی ڈش بنائی ہے‘‘ بیگم نے یہ کہتے ہوئے کڑھی کے سمندر میں تیرتے چند پکوڑوں پر مشتمل پلیٹ ہماری طرف بڑھائی۔دراصل، ہم نے ایک روز غلطی سے کڑھی کی تعریف کردی تھی، تب سے یہ ہماری پسندیدہ ڈش ٹھہرا دی گئی اور اب ہفتے، دو ہفتے بعد پورا پتیلا بَھر کر پکا دی جاتی ہے، جو ہمیں کئی روز تک کھانی پڑتی ہے۔ ہم نے پلیٹ اپنی طرف سرکاتے ہوئے کہا،’’ واہ! آج تو اِس میں سے زبردست خُوش بُو آ رہی ہے، لگتا ہے پیاز کی جگہ پیار کا بھگار لگایا ہے۔‘‘ بیویوں کے لیے اِس طرح کا ایک پیار بَھرا بول( خواہ خوشامدانہ ہی کیوں نہ ہو) کافی ہوتا ہے، لیکن اِس بار اُلٹ نتیجہ برآمد ہوا۔ کہنے لگیں،’’ اگر یہی بات ہے، تو پھر ہماری بھی ایک خواہش پوری کر دیجیے۔‘‘ ہم نے جَھٹ کہا’’ کہیے، کہیے۔‘‘ بولیں، ’’تو پھر ٹھیک ہے، اِس بار ہم بکرے کی قربانی کریں گے۔ 

دیکھیں ناں! بلڈنگ میں باقی سب گائے میں حصّہ ڈال رہے ہیں، وہ بھی تیس چالیس کلو والی، تَھر کی سُوکھی گائیں۔ ہم بکرا کریں گے، تو خُوب واہ واہ ہوجائے گی۔‘‘ ہم نے مریل سی آواز میں کہا،’’ ہاں! آئیڈیا تو بُرا نہیں، مگر…‘‘، ’’ ارے چھوڑیے اِس اگر مگر کو، اب اپنی امّاں کی طرح رونے پیٹنے مت لگ جائیے گا۔ مجال ہے، جو کبھی کوئی خواہش پوری کی ہو۔ پتا نہیں کیوں، بیویوں کی فرمایش سُن کر شوہروں کو سانپ سونگھ جاتا ہے، اب اپنی ہی شکل دیکھ لیں۔‘‘ اب ہم بیگم کو کیا بتاتے کہ ہمارے اکاؤنٹ پر تو ایف بی آر والے بھی ترس کھاتے ہیں۔

عام افراد کی پانچ حِسیں ہوتی ہیں، کبھی کبھار چَھٹی حِس بھی کام دِکھا دیتی ہے، مگر بیویوں کی ساتویں حِس بھی ہوتی ہے، جس سے وہ شوہر کی نگرانی کا فریضہ سَرانجام دیتی ہیں اور اُن کا یہ سی سی ٹی وی کیمرا کم ہی غلطی کرتا ہے۔ ہمیں گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر بولیں،’’ پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ لیں، نوٹ گِن لیں‘‘، اور بڑی فیاضی سے نوتوں کی ایک گڈی ہمارے ہاتھ میں تھمادی۔ ہم نے بھی بے یقینی کے عالم میں فوراً ہی نوٹ گننا شروع کردئیے۔ وہ سولہ پانچ سو کے اور دو ایک ایک ہزار کے نوٹ تھے، یعنی کُل دس ہزار روپے ہمیں عنایت کیے گئے، جو ہم نے ایک رومال میں لپیٹ کر پوری احتیاط سے جیب میں رکھ لیے۔ شام کو گھاس لے آئے اور ایک عدد رسّی بھی تاکہ کل بکرا لے کر آئیں،تو دونوں چیزیں پہلے سے موجود ہوں۔

دوسرے روز شام کو بکرے کی خریداری کے لیے مویشی منڈی کا رُخ کیا، تو راہ میں فانی صاحب سے علیک سلیک ہوگئی۔ پوچھا،’’ صاحب زادے! کہاں کا ارادہ ہے؟ لگتا ہے مرغِ مسلّم اُڑانے جا رہے ہیں، جو اِتنے خوش دِکھائی دیتے ہیں۔‘‘ ہم نے پورا ماجرا کہہ سُنایا، تو بولے،’’ ارے! یہ تو بہت اچھا ہوا۔ ہمیں بھی ایک عدد بکرا خریدنا ہے، چلو ساتھ چلتے ہیں، خُوب گزرے گی۔ہم نہ صرف خریداری کے داؤ پیچ جانتے ہیں، بلکہ ایک نظر میں پہچان لیتے ہیں کہ بکرا کس نسل اور چال چلن کا ہے۔‘‘

پِھر ہماری طرف دیکھ کر زیرِ لب مُسکراتے ہوئے کہا،’’اچھا میاں! یہ تو بتائیے کہ قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہیے؟‘‘ہم نے کہا،’’ بس اُس کا جانور ہونا ضروری ہے اور کیا…‘‘اِس پر وہ زور سے ہنسے اور بزرگانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے بولے،’’ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ہمارے امامِ مسجد کا کہنا ہے کہ قربانی کا جانور خریدتے ہوئے کچھ باتیں مدّ ِنظر رکھنا ضروری ہیں۔ جیسے بکرا اور بکری ایک سال کے ہوں۔ بھیڑ یا دنبہ اگر اِتنا موٹا تازہ ہو کہ دیکھنے میں سال بَھر کا معلوم ہوتا ہو، تو وہ بھی جائز ہے۔ بیل، گائے اور بھینس دوسال کی، جب کہ اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے۔‘‘ ہم نے پوچھا،’’ مگر اُن کی عُمر کا پتا کیسے چلے گا؟ اُن کا کون سا برتھ سرٹیفیکیٹ ہوتا ہے؟‘‘

پیار سے بولے،’’ اگر جانور خود پالا ہے یا کسی قابلِ اعتماد شخص سے خریدا ہے، تب تو درست عُمر کا علم ہو ہی جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو، تو سامنے کے دو بڑے دانتوں کا نکلنا جانور کی عُمر پوری ہونے کی علامت ہے۔ اونٹ کے پانچ سال بعد، گائے، بھینس کے دوسال اور بکرے کے ایک سال بعد ہی دانت نکلتے ہیں۔مگر میاں سُنا ہے، آج کل جانوروں کے بھی جعلی دانت لگا دئیے جاتے ہیں، اِسی لیے شرعی مسائل سے واقف لوگ خُوب دیکھ بھال کر’’ دو دندا‘‘جانور خریدتے ہیں۔‘‘’’ کیا کچھ اور شرائط بھی ہیں؟‘‘ 

ہمارے سوال پر بولے،’’ ہاں، جس جانور کے پیدائشی طور پر سینگ نہ ہوں یا بیچ میں سے ٹوٹ گیا ہو، اُس کی تو قربانی درست ہے،لیکن اگر سینگ جَڑ ہی سے اُکھڑ گیا، تو پھر اُس کی قربانی جائز نہیں۔اِسی طرح اندھے، کانے اور لنگڑے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں۔ ایسا بیمار اور لاغر جانور، جو قربانی کی جگہ تک اپنے پیروں پر نہ جاسکے، تہائی سے زیادہ دُم کٹی ہوئی ہو یا کان پیدائشی طور پر نہ ہوں، اُس کی قربانی بھی جائز نہیں۔ مگر صاحب زادے! اِن مسائل میں کچھ باریکیاں بھی ہیں، اِس لیے یہ فریضہ ادا کرنے کے لیے شرعی رہنمائی حاصل کرلینی چاہیے۔‘‘ ویسے شاعر موقع ہاتھ سے کہاں جانے دیتے ہیں، کسی کے ملنے کی دیر ہوتی ہے، جَھٹ’’ عرض کیا ہے…‘‘ کہہ کر کلام سُنانا شروع کر دیتے ہیں۔ 

آپ نے سُنا ہوگا کہ دو افراد ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ ایک صاحب نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا’’ یہ حقیر، پُرتقصیر شاعر ہے‘‘، دوسرا بولا’’ اور یہ مسکین بہرا ہے۔‘‘ فانی صاحب بھی عادت سے مجبور ہوکر بولے،’’ ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہم کسی کے اشعار پڑھ رہے تھے۔ کیا خُوب کہا ہے کہ؎ ’’کاش اِس عید پر مَیں تیرا بکرا ہوتا…اور کسی نے نہ سہی، تُو نے تو مجھے پکڑا ہوتا… تُو حنا لگے ہاتھوں سے مجھے پٹّھے کِھلاتی… تھوڑے تھوڑے نہیں، سارے اکٹھے کِھلاتی۔‘‘ ہم بولے’’ فانی صاحب! معاف کیجیے گا۔ اب اِتنا بھی بُرا وقت نہیں آیا کہ ہم بکرے بن کر گھاس چَرتے پِھریں۔‘‘ اُنھوں نے ہمیں گھورا، مگر شُکر ہے، کچھ کہے بغیر بس اسٹاپ کی جانب چل دئیے۔

بتایا تو یہ گیا تھا کہ مویشی منڈی کورونا ایس او پیز کے تحت لگائی جا رہی ہے، اِسی لیے ہم دونوں نے بھی ماسک لگا رکھے تھے، مگر جب وہاں پہنچے، تو داخلی دروازے پر کسی قسم کی روک ٹوک نظر آئی اور نہ ہی منڈی کے اندر کسی نے ماسک کا پوچھا۔ جن چند لوگوں نے ماسک لگا رکھے تھے، وہ بھی اُن کے ناک کی بجائے ٹھوڑی ڈھانپے ہوئے تھے، شاید یہ کورونا وائرس کو دھوکا دینے کا کوئی طریقہ ہو۔فانی صاحب نے کہا،’’ میاں! یاد رکھیے گا، ببلو سے بھی مِلنا ہے۔‘‘ ہم نے حیرت سے پوچھا،’’ مگر وہ یہاں کہاں؟ وہ تو آپ کے گھر کے دروازے کے باہر کھڑا تھا؟‘‘

جھنجھلا کر بولے، ’’مَیں اپنے بیٹے کی بات نہیں کر رہا۔ ہمیں ببلو بیل کو دیکھنا ہے، جس کی ایک کروڑ روپے قیمت لگائی گئی ہے۔‘‘’’ویسے فانی صاحب! کیا اِس قدر منہگے جانور خریدنے کا رجحان درست ہے؟‘‘ہماری طرف دیکھ کر بولے،’’ ہم نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن، کراچی کی ویب سائٹ پر پڑھا تھا کہ’’ منہگا جانور خریدنا جائز تو ہے، البتہ منہگے یا زیادہ جانور خریدنا محض قربانی کی عبادت کو عُمدہ طریقے سے ادا کرنے کی نیّت سے ہو، اُس میں نمود و نمائش کی نیّت ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔‘‘منڈی میں ہر طرف سے’’بھاں بھاں، مَیں مَیں‘‘ کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ہم’’ مَیں، مَیں‘‘ کی جانب ہولیے۔دیکھا تو ایک بڑا سا شامیانہ لگا ہوا تھا، جس پر برقی قمقمے بھی جگ مگ کر رہے تھے۔ 

فانی صاحب نے اندر جھانک کر دیکھا اور پَلٹ کر ہمیں اشارے سے پیچھے آنے کو کہا۔ اندر بہت سے بکرے بندھے تھے۔ایک پہلوان نُما شخص فانی صاحب کی طرف بڑھا اور بولا’’ بزرگو! پسند کرلو، ایسا مال پوری منڈی میں نہیں ملے گا۔ بہت نرم گوشت ہے، آپ بغیر دانتوں کے بھی کھا لیں گے۔‘‘ یہ سُنتے ہی فانی صاحب تو بھڑک اُٹھے، بولے،’’ کسی نے تمیز نہیں سِکھائی، جو یوں مخاطب ہو۔ میاں! اگر ہم غالب کے دَور میں پیدا ہوئے ہوتے، تو غالب کو بھی لگ پتا جاتا۔‘‘پہلوان بولا،’’ معاف کرنا بڑے میاں! ہم سمجھے آپ بکرا خریدنے آئے ہیں، ہمیں معلوم نہیں تھاکہ آپ شادی بیاہ میں گاتے واتے ہیں۔‘‘ لو بھائی، اِس جملے پر تو فانی صاحب اِس قدر برہم ہوئے کہ ہم اُنھیں بہ مشکل شامیانے سے باہر لائے۔

ایک طرف سے تیز تیز آوازیں آ رہی تھیں۔ سب لوگ اُسی طرف دوڑے جا رہے تھے۔ ہم بھی جا پہنچے۔ ہجوم کے بیچ کھڑے کچھ مشتعل نوجوان کسی کو چیرنے، پھاڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، مگر ہمیں اُن کا مخاطب نظر نہ آیا۔ قریب کھڑے شخص سے پوچھا، تو پتا چلا، کوئی اُن کی جیب پر بلیڈ سے کٹ لگا کر 80 ہزار روپے لے اُڑا اور اب یہ بے چارے اپنا سَر پیٹ رہے ہیں۔ اطلاع دینے والے صاحب نے یہ بھی بتایا، ’’ منڈی میں پانی، کھانے کے اسٹال، گھاس وغیرہ کے علاوہ پولیس جیب کترنے کا بھی’’ ٹھیکا‘‘ دیتی ہے اور ان پاکٹ ماروں کو پکڑے جانے پر سہولتیں بھی فراہم کرتی ہے۔ہر سال درجنوں لوگ ان کا شکار ہو کر لاکھوں روپے گنوا بیٹھتے ہیں۔‘‘

فانی صاحب نے کہا،’’ شُکر ہے، قمیص کے نیچے ڈبل بنیان پہننے کے سبب ہمارے پیسے تو محفوظ ہیں۔‘‘ ہم نے کہا،’’ایک بار ایک جیب کترے نے دوسرے جیب کترے کے ہاتھ میں تسبیح دیکھ کر حیرت سے پوچھا:​​”کیا اپنے پیشے سے تائب ہو گئے؟“وہ بولا ”نہیں یار!ابھی ابھی ایک صوفی کی جیب میں ہاتھ پڑ گیا تھا“، تو قبلہ! آپ کی جیب کاٹنے والا بھی تسبیح ہی گھماتا پِھرے گا۔‘‘ جواباً وہ کچھ کہنے کی بجائے ہمیں تقریباً گھسیٹے ہوئے بجلی کے پول کے پاس لے گئے، جہاں چند افراد بہت سے بکروں کی رسیاں تھامے کھڑے تھے۔فانی صاحب نے اشارہ کرتے ہوئے کہا،’’ اِس جوڑی کے کتنے لیں گے؟‘‘ اُن میں سے ایک بولا،’’ آپ کے لیے مناسب اور ایک ہی ریٹ ہے۔ ایک لاکھ، دس ہزار نکالیں اور جوڑی لے جائیں۔‘‘ 

ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، تھوڑے سے پیچھے ہوئے، ابھی وہاں سے کھسک ہی رہے تھے کہ دوسرے نے کہا،’’ بولو جی بولو، آپ کیا دیں گے؟‘‘ فانی صاحب بولے،’’ یہ قیمت کچھ زیادہ نہیں ہوگئی؟‘‘ پست قامت بکرے والے نے کہا،’’ بھائی صاحب! پتا ہے، چارے کا ریٹ کہاں تک پہنچ گیا ہے اور ٹرک والے کتنا کرایہ وصول کر رہے ہیں؟ یہاں جس پلاٹ پر ہم نے بکرے باندھ رکھے ہیں، اِس کی 50 ہزار روپے فیس دی ہے۔ بکرے یہاں لانے کی الگ سے رقم دی، باقی خرچوں کا بھی کوئی حساب نہیں۔‘‘ اور ہم کبھی بکرے دیکھتے، کبھی اپنی جیب۔’’ دونوں کے 30 ہزار دے سکتے ہیں اور ہمارا خیال ہے، یہ مناسب قیمت ہے۔‘‘یہ سُنتے ہی وہ تو گویا ہتّھے ہی سے اُکھڑ گیا۔

بکرے کے پاس بیٹھے شخص نے حقارت سے کہا،’’ کسی اور سیّارے سے آئے ہو کیا، ٹور شور دیکھو، تو کہیں کے رئیس لگتے ہیں اور چلے ہیں 30ہزار میں دو بکرے خریدنے۔ اگر دل پشوری ہی کرنی ہے، تو کسی اور کو ڈھونڈ لو۔‘‘’’ ہم نے تین سال قبل 12 ہزار میں بہترین بکرا لیا تھا، اب کیا ان کا گوشت کورونا ویکسین کی جگہ استعمال ہونے لگا ہے، جو دام بڑھا دیے؟‘‘ فانی صاحب بڑبڑاتے ہوئے آگے چل پڑے، ہم نے پیچھے چلتے ہوئے لقمہ دیا،’’ یہ نئے پاکستان کے بکرے ہیں۔‘‘’’آپ گوشت کے لیے گائے میں حصّہ کیوں نہیں لے لیتے؟‘‘ ہماری اس درجہ بے تکّلفی پر فانی صاحب چلتے چلتے ایک دَم رُک گئے اور ہماری طرف چہرہ کرکے بولے،’’ میاں! ہم نے چند روز قبل مفتی رفیع عثمانی صاحب کی ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ اگر کوئی ایک شخص بھی محض گوشت کے حصول کی نیّت سے قربانی کے جانور میں حصّہ لے، تو ساتوں میں سے کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی۔ سمجھ گئے؟‘‘’’ اور وہ جو آپ نے پچھلے سال سارا گوشت فریج میں بَھر لیا تھا؟‘‘

ہمارے اس معصومانہ سوال پر تو وہ جل بُھن ہی گئے۔’’اس کا جواب کل گھر آکر اپنی خالہ سے پوچھ لینا، گوشت کی تقسیم خواتین کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اِس لیے گناہ، ثواب کی ذمّے دار بھی وہی ہیں۔‘‘ بہرحال، اس’’ بکرا گردی‘‘ میں تین گھنٹے سے زاید گزر چُکے تھے، مگر ابھی تک ہمیں کسی بکرے کی رسّی پکڑنا بھی نصیب نہ ہوئی تھی۔ اِسی اثنا میں پانی کے ڈرموں کے پاس ایک بھولے بھالے شخص کو چند بکروں کے ساتھ کھڑے دیکھا، تو اچھا موقع سمجھ کر اُس سے بھاؤ تاؤ شروع کردیا۔ 

اُس نے 50 ہزار مانگے، جواب میں ہم نے اپنے نوٹوں کی تعداد بتائی، تو اُس نے ہمیں گہری نظروں سے اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر انتہائی شریفانہ انداز میں پوچھا،’’ آپ صاحبان نے لیاقت آباد کی پرندہ مارکیٹ تو دیکھی ہی ہوگی؟‘‘ ہم نے سینہ چوڑا کرتے ہوئے کہا،’’ جی، ہمارے گھر کے قریب ہی ہے، مگر وہاں بکرے تو نہیں بِکتے؟‘‘وہ اُسی سنجیدگی سے بولے،’’میری مانیں ،تو وہاں سے دو دیسی مرغے خرید لیجیے۔ 

دس ہزار میں مل جائیں گے۔ اِس عید پر قربانی کرنے کی بجائے اُنہی سے لذّتِ کام و دہن کا سامان کیجیے اور حالات ایسے ہی رہے، تو قبلہ ابھی سے اگلے برس انڈے لینے کا بھی ذہن بنالیجیے۔‘‘فانی صاحب بولے،’’ کوئی بھلا مانس لگتا ہے، بہت اچھا آئیڈیا دیا ہے، آج ہے بھی اتوار کا دن، چلو پرندہ مارکیٹ چلتے ہیں۔‘‘دس ہزار میں بمشکل دو مرغے خریدے اور اُنھیں بغل میں دبائے گھر جا پہنچے، جہاں بیگم قربانی کے بکرے کی منتظر تھیں، بلکہ آس پڑوس میں بھی بتا چُکی تھیں۔اور اب ہمیں مُرغوں کے ساتھ آتا دیکھ کر ایسی خونخوار نظروں سے گھور رہی تھیں کہ ہمیں مُرغوں کی بجائے اپن ےگلے پر چُھری پھِرتی نظر آ رہی تھی۔

سنڈے میگزین سے مزید