کراچی(ٹی وی رپورٹ)سیاسی تجزیہ کار اور چائنا اسٹڈی سینٹرکے ڈائریکٹر ڈاکٹر شکیل احمد رامے نےکہا ہے کہ داسوواقعہ پاک چین تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا کیونکہ ہمارے تعلقات کی گہرائی بہت زیادہ ہےلیکن وقتی طو رپر ہمیں اس کے اثرات ضرور نظر آئیں گے ۔
مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ دھماکا کیوں ہوا اس کے مضمرات کیا ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جیونیوزکے پروگرام ”جرگہ“میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سلیم صافی نے کہاہے کہطالبان کی اچانک فتوحات نے کچھ سازشی نظریات کو بھی جنم دے دیا ہے اور افغانستان کے پڑوسی ممالک کو نہایت پریشان بھی کرلیا ہے۔
ڈاکٹرشکیل رامے کا کہناتھاکہ خطے میں بہت ساری تبدیلیاں ہورہی ہیں جس میں امریکاکا چلے جانااوراس کے علاوہ دو تین بہت اہم پیش رفت ہوئی ہیں 5جولائی کو جب وزیراعظم وہاں گئے تو انہوں نے وہاں کچھ ایم او یوز دستخط کئے۔وہاں پر اکنامکس زون بنانے کی جودوسری فیز چل رہی ہے وہ سائن ہوئیں وہاں کمپنیاں آئیں ۔
اس کے علاوہ کویت بھی گوادر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے بالخصوص ریفائنری میں اگر ہم صحیح طریقے سے چلتے ہیں تو ہم کم از کم 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری یہاں گوادر میں لاسکتے ہیں۔سعودیہ عرب اور کویت چین کو آئل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔
یہ ایک طویل روڈ لے کر جاتے ہیں اب اگر یہ سی پیک کے ذریعے جانا شروع کرتے ہیں تو ان کو فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ کویت گوادر میں زراعت کی طرف بھی آنا چاہتا ہے کیونکہ 85 فیصدفوڈ کویت برآمد کرتا ہے ۔
پاکستان کی ایگریکلچر ان کے دو مسائل حل کرے گی ایک تو یہاں سے وقت کم دستیاب ہوگاسیکورٹی میسر آئے گی ۔ ازبکستان بھی پاکستان کے ساتھ معاہدہ کررہا ہے کہ ہم گوادر کو راہداری کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آسیان بھی سی پیک میں شامل ہونا چاہتا ہے۔