اسلام آباد(نمائندہ جنگ)وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوا لے سے جائزہ اجلاس ہوا ۔اجلاس میں چینی کی قیمت میں خاطر خواہ کمی یقینی بنانے کے لیے 30 نومبر 2021 تک سیلز ٹیکس کے نفاذ کو واپس ایکس مل قیمت پر لے جانے کا فیصلہ کیا گیاجبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زبردستی حکومت قائم کرنے سے افغان تنازع حل نہیں ہو گا ‘مذاکرات کے ذریعے تصفیہ ہی افغانستان میں پائیدار اور مستحکم امن لا سکتا ہے‘افغانستان میں عدم استحکام اور تنازع پاکستان کے مفاد میں نہیں، افغانستان میں پائیدار امن علاقائی اقتصادی رابطوں کیلئے نئی راہیں ہموار کرے گا۔ یہ بات انہوں نے افغان مفاہمتی عمل کیلئے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے پیر کو یہاں ان سے ملاقات کی۔عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں شورش اور عدم استحکام پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں مہاجرین کے مزیداضافہ سے سکیورٹی کے حوالہ سے سنگین چیلنجز پیدا ہوں گے۔تمام افغان فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ بامقصد بات چیت کیلئے لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔افغانستان کے ہمسایہ اور علاقائی ملکوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ افغانستان میں پائیدار سیاسی تصفیہ کیلئے مل کر تعمیری کام کریں جس کی ہم نے حالیہ تاشقند کانفرنس میں بھی تجویز دی تھی۔بعد ازاں وزیر اعظم کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوا لے سے جائزہ اجلاس ہوا ۔اجلاس میں چینی کی قیمت میں خاطر خواہ کمی یقینی بنانے کے لیے 30 نومبر 2021 تک سیل ٹیکس کے نفاذ کو واپس ایکس مل قیمت پر لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔