• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا، ملک بھر میں کیسز بڑھ گئے، کراچی کی صورتحال سنگین، سندھ میں پھر پابندیاں، ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل سمز بلاک ہوں گی

کورونا، ملک بھر میں کیسز بڑھ گئے


کراچی، اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر،جنگ نیوز، خبرایجنسیاں)کورونا سے ملک بھر میں کیسز بڑھ گئے، کراچی کی صورتحال سنگین، سندھ بھر میں پھر پابندیاں،ویکسین نہ لگوانے والوںکی موبائل سمز بلاک ہونگی،سندھ میں پیر سےتعلیمی ادارے، ریسٹورنٹس بند کرنے ،شادی ہالز اور دیگر تقریبات پرپابندی کا فیصلہ کرلیاگیا ، کاروبارصبح 6سے شام 6کرنے کی اجازت، جمعہ اور اتوار کوبند رکھنے کا اعلان، دفاتر میں 50فیصد حاضری کی اجازت، کریانہ، بیکری اور فارمیسی کھلی رہیں گی۔

دوسری جانب تاجروں نے6بجے تک کاروبار بند کرنے کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا، ادھروفاقی وزیر علی زیدی کو پھر کورونا ہوگیا، ملک بھر میں 1425نئے مریض رپورٹ،کراچی میں مثبت کیسز کی شرح 25سے تجاوز کرگئی،قراقرم یونیورسٹی بھی بند کردی گئی۔

پاکستان میں کورونا اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 25215 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 1425 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 11 افراد انتقال کر گئے،سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 5.56 رہی۔

این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 22939 ہو چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ34 تک پہنچ چکی ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 543 افراد کوورنا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کی تعداد 9 لاکھ 23 ہزار 472 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں فعال کیسز کی تعداد 53623 ہو گئی ہے۔

ادھروفاقی وزیر علی زیدی ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کا شکار ہوگئے،علی زیدی کا کہنا تھا کہ میرا کورونا ٹیسٹ دوبارہ مثبت آگیا ہے جس وجہ سے خود کو قرنطینہ کرلیا ،انہوں نے عوام سے ماسک لگانے اور اپنا خیال رکھنے کی اپیل کی۔یہاں کراچی میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ خطرناک حد تک جاری ہے اور شہر میں مثبت کیسز کی شرح 24 کے قریب پہنچ گئی۔ 

مزید برآں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں پیر سے شادی ہالز اور دیگر تقریبات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ ہفتے میں دو دن مارکیٹ بھی بند رکھی جائیں گی جس کے لیے جمعہ اور اتوار کو محفوظ دن قرار دیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پیر سے شاپنگ مالز اور مارکیٹ صبح 6 سے شام 6 بجے تک کھلیں گے، کریانہ، بیکری اور فارمیسی کھلی رہیں گی جب کہ صوبے بھر میں درگاہیں بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےترجمان کے مطابق ریسٹورینٹس پیر سے انڈور اور آؤٹ ڈور دونوں بند ہوں گے اور صرف ٹیک اوے کی اجازت ہوگی۔ 

صوبے بھر میں پیر سے تعلیمی ادارے بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم سندھ میں امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے جب کہ سرکاری اور نجی سیکٹر میں 50 فیصد اسٹاف حاضر ہوگاترجمان کے مطابق ان تمام فیصلوں پر پیر سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔

ادھرکراچی تاجر اتحاد اور تاجر ایکشن کمیٹی نے سندھ حکومت کی کاروبار سے متعلق کورونا پابندیوں کو مسترد کردیا۔آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کا کہنا تھاکہ کراچی کی تاجر برادری سندھ ٹاسک فورس کے فیصلوں کو مسترد کرتی ہے۔

کورونا کے احتیاطی فیصلے غیرسودمند اور وبا سے زیادہ مہلک ہیں، مارکٹیں 6 بجے بند ہونے سے شہر ٹریفک کا جنگل بن جائے گا جبکہ شادی ہالز، ہوٹلز، ریستوران پر پابندیوں سے مزدوراور یومیہ اجرت پر کام کرنے والا فاقہ کشی کرے گا۔عتیق میر نے مطالبہ کیا کہ حکومت سندھ فیصلوں پر نظرثانی اور مشاورت سے قابل عمل اور سودمند اقدامات کرے۔

تاجر ایکشن کمیٹی کے کنوینر محمد رضوان کا کہنا تھاکہ سندھ ٹاسک فورس فیصلے پر تاجر ایکشن کمیٹی نے ہفتے کو ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، تاجر ایکشن کمیٹی بغیر مشاورت کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے، کراچی کے تاجر بہت قربانیاں دے چکے، وفاق اور صوبائی حکومت اب ٹیکس واپس دے۔

یہاں سندھ حکومت نے ویکسی نیشن نہ کرانے والے افراد کی موبائل سمز بند کرنے کے لیے وفاق کے ذریعے پی ٹی اے کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے،سندھ کورونا ٹاسک فورس نے صوبے میں کورونا کیسز کی شرح 10اور کراچی میں کیسز کی شرح 25سے تجاوز کرنے پر ایک بار پھر پابندیاں لگانے کافیصلہ کیا ہےکورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن سرکاری ملازمین نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی ان کی تنخواہیں آئندہ ماہ سے بند کرنے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے۔ 

دریں اثنا اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جو لوگ ایک ہفتے میں ویکسین نہ کروائیں ان کی موبائل سم بلاک کیاجائے جب کہ اگلے مہینے سے ویکسین نہ لگانے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکی جائیں، وزیراعلیٰ سندھ نے اس ضمن میں سیکرٹری فنانس کو اے جی سندھ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے بھی اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ویکسی نہ لگوانے والے افراد کی موبائل سم بند کرنے کے لیے این سی او سی اور پی ٹی اے کو خط لکھا جائے گا۔

علاوہ ازیں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کو کورونا وباء کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث طلبہ وطالبات کے لئے یکم اگست 2021تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹرپبلک ریلیشنز کے مطابق اس بات کا فیصلہ کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث کیا گیاجبکہ 26جولائی سے یونیورسٹی کے ریسرچ کے طلبہ وطالبات سمیت اسٹاف کے لیے کرونا ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے یونیورسٹی معمول کے مطابق کھلے گی۔

محکمہ داخلہ سندھ نےکورونا کیسز میں اضافے اور حکومت سندھ کے سخت فیصلوں کے بعد نئی پابندیوں کا تحریری نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

اہم خبریں سے مزید