• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم جی موٹرز کیخلاف تحقیقات میں انڈرانوائسنگ کے ثبوت نہیں ملے

کراچی (جنگ نیوز) ایم جی موٹرز کے خلاف تحقیقات میں ایف بی آر اور چینی حکام کو انڈرانوائسنگ کے ثبوت نہیں ملے۔ ایف بی آر کے مطابق، چینی کسٹمز کا کہنا ہے کہ آٹوموبائل کمپنی کے جمع کیے گئے ڈکلیئریشن میں بتائی گئی قیمت درست ہے۔ تفصیلات کے مطابق، چھ ماہ کی طویل تحقیقات کے بعد ایف بی آر اور چینی حکام کو ایم جی موٹرز کی جانب سے پاکستان کو درآمد کی جانے والی کاروں کی انڈر انوائسنگ کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ ایف بی آر کسٹمز ونگ کے جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ 4 مارچ کو حکام نے وزارت کامرس کو ہدایت کی تھی کہ وہ چین میں پاکستان کے ٹریڈ مشن کو ہدایت کرے کہ وہ درآمدی دستاویزات کی تصدیق میں بورڈ کی معاونت میں ایف بی آر کی معاونت کرے۔ جس کے جواب میں شنگھائی میں پاکستانی مشن نے ایف بی آر کو بتایا کہ وہ چینی کسٹمز سے بذریعہ ای میل دستاویزات کی تصدیق کے لیے رابطہ کریں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کا کہنا ہے کہ مقامی شنگھائی کسٹمز نے ایف بی آر / پاکستان کسٹمز کو آگاہ کیا ہے کہ وہ براہ راست چینی کسٹمز سے متعلقہ دستاویزات اور انوائسز کی تصدیق کے لیے رابطہ کریں کیوں کہ دونوں کے پاس الیکٹرونک تصدیق کا نظام موجود ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے چینی کسٹمز حکام سے ای میل کے ذریعے 8 جون کو رابطہ کیا تھا۔ جس پر ایف بی آر کو اسی روز تصدیق کی گئی کہ ایم جی موٹرز کی جانب سے اشیا کی ڈکلیئریشن درست قیمت پر کی گئی ہے۔ جب کہ جاوید آفریدی جنہوں نے پاکستان میں ایم جی موٹرز کی پاکستان میں خریداری کی ہے۔ انہوں نے بھی ایف بی آر کو چینی کونسل برائے ترقی بین الاقوامی تجارت چینی چیمبر آف انٹرنیشنل کامرس کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا جس کی تصدیق شنگھائی میں پاکستان کے قونصل خانے کے قونصلر اتاشی نے کی تھی۔ آٹوموبائل انڈسٹری پر ایف بی آر تحقیقات پر جاوید آفریدی نے تنقید بھی کی۔ فروری میں انہوں نے بالواسطہ آٹوموبائل صنعت کے کرتا دھرتائوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جب کہ یہ رپورٹ منظر عام پر آئی تھی کہ ایف بی آر، ایم جی کے مکمل تعمیر شدہ (سی بی یو) یونٹس، ملک میں درآمد کی گئی گاڑیوں کی تحقیقات کررہا ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستانی آٹوموبائلز صارفین کو کم کوالٹی اور بورنگ ماڈلز مہنگے داموں میں دیئے گئے۔ جاوید آفریدی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ خریداروں کو گاڑیوں کی قیمت کی مد میں اربوں روپے ادا کرنا پڑتے تھے، حالاں کہ وہ قیمت پہلے ہی ادا کرچکے ہوتے تھے۔ چوں کہ نئے شامل ہونے والے کم قیمتوں میں جدید ماڈلز فراہم کررہے تھے تو مسابقت کے بجائے ہمیں بدنیتی پر مبنی مہم اور بےبنیاد افواہوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی آٹوموبائل صنعت میں مسابقت ایک اجنبی طریقہ کار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی صارفین کی خدمت کے لیے شفاف مقابلے میں شمولیت کی دعوت ہر کسی کو دیتے ہیں۔ تاکہ کم قیمت میں گاڑیوں کی وسیع ورائٹی صارفین کو دستیاب ہو۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی نے شنگھائی، چین سے 500 سی بی یو یونٹس درآمد کیے۔ ان میں زیادہ تر کاریں ایم جی، جی ایس ماڈل کی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جاوید آفریدی کی کمپنی نے ہر گاڑی کی کسٹمز ویلیو 11632 ڈالرز کا اعلان کیا جو کہ دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بہت کم ہے کیوں کہ یہی ماڈل بیشتر ممالک میں 27000 ڈالرز سے زائد میں فروخت ہورہے تھے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ انڈر انوائسنگ کے ثبوت دیگر وزارتوں کو بھی بھجوائے گئے تاکہ مکمل تحقیقات ہوسکیں کیوں کہ اس کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ چوں کہ 400 سی بی یو ، یونٹس درآمد کیے جاچکے ہیں اس لیے رپورٹ میں کمپنی پر 1 ارب روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکسز کی مد میں چوری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

ملک بھر سے سے مزید