• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماں کا دودھ: ہر بچے کا بنیادی حق، ماں اور بچے کی صحت کا ضامن

اللہ تعالیٰ نے کئی سو سال قبل قرآنِ پاک میں ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت بیان فرما دی تھی اور آج طبّی سائنس بھی اس بات کی معترف ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت، ورلڈ الائنس فار بریسٹ فیڈنگ ایکشن اور یونیسیف کے اشتراک سے ہر سال دُنیا بَھر میں اگست کا پہلا ہفتہ’’بریسٹ فیڈنگ اوئیرنیس‘‘کے طور پر منایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پہلی باربریسٹ فیڈنگ اوئیرنیس ویک1992ءمیں ایک تھیم منتخب کرکے 120سے زائد مُمالک میں منایاگیا،جس کے بعد سے تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔رواں برس کا تھیم "Protect Breastfeeding:A Shared Responsibility"​ہے۔ اِمسال عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف کے اشتراک سے ’’خاندان دوست پالیسیز‘‘ (Family Friendly Policies)کی اہمیت اُجاگر کررہا ہے، تاکہ والدین اور نومولود کے درمیان ابتدا ہی سے محبّت اور یگانگت کو فروغ دیا جاسکے۔

ان پالیسیز کے تحت ایک بچّے کی پیدایش کے موقعے پر ماں اور باپ دونوں ہی کے لیے کم از کم 18 ہفتے کی چُھٹیاں بمع تن خواہ تجویز کی جارہی ہیں۔نیز، اُن ملازمت پیشہ ماؤں کو، جو بچّے کی ولادت کے بعد اپنے کام پر واپس آئیں، تو بچّے کو اپنا دودھ پلانے کے لیے کام کے دوران وقفہ دینا اور الگ سے جگہ مہیا کرنا بھی کمپنی مالک کی ذمّے داریوں میں شامل ہوگا۔ دراصل جب ہم خاندان، جائے ملازمت اور معاشرے کو بااختیار بنائیں گے، توہی بریسٹ فیڈنگ کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی دُور کی جاسکیں گی اورہم سب مل کر ہی اس تبدیلی کے مآخذ بن سکتے ہیں۔

نیز، ماؤں میں بریسٹ فیڈنگ کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے دودھ پلانے والی ماؤں پر مشتمل گروپس بھی تشکیل دئیے جاسکتے ہیں، جو دیگر ماؤں کی مشکلات و مسائل کے پیشِ نظر ان کی رہنمائی کرسکیں۔ اس کے علاوہ گائناکولوجسٹس اور نرسز بھی اس ضمن میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔دوسری جانب اس سلسلے میں حکومت کو بھی چاہیے کہ وقتاً فوقتاً آگاہی مہمات کے ذریعے ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت اُجاگر کرے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ماں کا دودھ زچہ و بچّہ دونوں ہی کی زندگیاں بچاتا ہے۔ بریسٹ فیڈنگ کے ذریعے پوری دُنیا میں ہر سال سات لاکھ سے زائد بچّوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں، جن میں زیادہ تر چھے ماہ سے کم عُمر بچّے شامل ہیں۔

یاد رکھیں،ماں کا دودھ صرف بچّے ہی کے لیے فائدہ مند نہیں، بلکہ یہ عمل خود ماں کے لیے بھی بے شمار فوائد کا سبب بنتا ہے۔مثلاً ماؤں کو بریسٹ اور بچّہ دانی کے سرطان، ذیابطیس اور دِل کے امراض سے تحفّظ فراہم کرتا ہے، جب کہ بریسٹ کینسر کے سبب ہونے والی سالانہ 20ہزار ماؤں کی شرحِ اموات میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔اس کے علاوہ ماں کے دودھ کا استعمال معاشی اعتبار سے بھی مفید ہے کہ اگرڈبّےکے دودھ کی مَد میں خرچ ہونے والی سالانہ رقم کا اندازہ لگایا جائے، تو بریسٹ فیڈنگ نہ کروانے کی قیمت کافی زیادہ ادا کرنی پڑتی ہے۔

٭ماں کا دودھ کب اور کیسے دیا جائے :عالمی ادارۂ صحت کی سفارشات کے مطابق ماں کو چاہیے کہ پیدایش کے پہلے گھنٹے میں نومولود کو اپنا دودھ پلائے۔نیز،بچّہ جتنی باردودھ پیے، اُسے روکا نہ جائے۔ عام طور پر پیدایش کے بعد پہلے چند ہفتوں میں دودھ پلانے میں دو تا تین گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔ بچّہ جب بھی دودھ پیے تو دونوں سائیڈز سےباری باری10 تا 15 منٹ پلایا جائے۔ ماہرینِ اِطفال پیدایش کے فوری بعد ہی بچّے کو ماں کا دودھ پلوانےکی سفارش کرتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر پہلی بار ماں بننے والی خواتین کو بچّے کو دودھ پلا نے کا درست طریقہ معلوم نہیں ہوتا ،اسی لیے وہ فیڈر کے ذریعے دودھ پلانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ 

نومولود کو پہلی بار دودھ پلانے کے لیے تجربہ کار نرسز یا گھر کی بڑی بوڑھیوں کو اپنی ذمّے داری ادا کرنی چاہیے۔ ایک آدھ بار کی کوشش سے بچّہ خود ہی دِل چسپی ظاہر کرتا ہے اور فیڈ لینا شروع کردیتا ہے۔نومولود کا ماں کے ساتھ جلد از جلد جسمانی رابطہ، جسے ’’کینگرو نگہداشت‘‘ بھی کہا جاتا ہے، بچّے کو ماں کا دودھ پینے کی جانب نہ صرف راغب کرتا ہے، بلکہ اسے گرماہٹ اور تحفّظ کا بھی احساس دلاتا ہے۔ 

قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچّوں کو پیدایش کے فوری بعد بریسٹ فیڈنگ میں دشواری ہوتی ہے۔ روایتی طور پر ایسے بچّوں کو ٹیوب یا بوتل کے ذریعے ماں کا یا پھر معالج کا تجویز کردہ فارمولا دودھ اُس وقت تک پلایا جاتا ہے، جب تک وہ براہِ راست ماں کا دودھ پینےکے قابل نہ ہو جائیں۔ ابتدا میں ماں کے دودھ کی مقدار خاصی کم ہوتی ہے۔ 

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ شروع ہوجاتا ہے، تاکہ بچّے کی غذائی ضروریات پوری ہوسکیں۔ بعض اوقات بچّہ پیٹ بَھر جانے کے باوجود بھی ماں سے چمٹا رہتا ہے، خاص طور پر اُس وقت، جب وہ تنہائی، خوف یا درد محسوس کررہا ہو۔ یہ عین فطرت کے مطابق ہے،پریشانی کی بات نہیں،لہٰذا اس صُورتِ حال میں ماں، بچّے کے ساتھ زبردستی نہ کرے۔ نوزائیدہ بچّوں کی اکثریت 10تا15 منٹ دونوں جانب سے دودھ پیتی ہے۔ تاہم، اگر کوئی بچّہ ہر جانب سے30منٹ یا اس سے زیادہ دیر تک دودھ پیے، تو اس کا مطلب ہے کہ اُسے ضرورت کے مطابق دودھ نہیں مل رہا۔ 

صحت سے متعلقہ تنظیمیں پیدایش کے ابتدائی چھے ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ پلانے کی سفارش کرتی ہیں، ماسوائے اس صُورت کے، جب بچّے یا ماں کو کوئی طبّی مسئلہ ہو۔ واضح رہے کہ صرف اور صرف ماں کا دودھ پلانے کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران بچّے کو معدنیات، وٹامنز یا ادویہ کے علاوہ پانی، جوس ، ڈبّے کا دودھ یا کھانے کی کوئی اور شے نہ دی جائے۔ اس ضمن میں عالمی ادارۂ صحت نے دو سال یا اس سے زیادہ عُمر کے بچّوں کو ان کی طلب پر متواتر بریسٹ فیڈنگ کی سفارش کی ہے۔یاد رکھیے، قدرتی طور پر بچّے کی طلب کے مطابق دودھ بنتا ہے،لیکن اگر بچّے کو دودھ نہ پلایا جائے، تو اس میں کمی واقع ہونی شروع ہوجاتی ہے۔

٭بچّے کے لیے ماں ہی کا دودھ کیوں ضروری ہے؟ قدرتی طور پر ماں کا دودھ بچّے کے لیے ایک مکمل اور بہترین غذا ہے۔ اس میں موجود تمام اجزاء جسمانی اور ذہنی نشوونما کی ضروریات کے عین مطابق پائے جاتے ہیں، جب کہ بچّے کی ضروریات کے اعتبار سے ماں کا دودھ اپنے اجزائے ترکیبی مستقل تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں بیماریوں سے بچاؤ کے لیے قدرتی طور پر اینٹی باڈیز بھی پائی جاتی ہیں، جو کسی بھی قسم کے ڈبّے والے دودھ میں نہیں ہوتیں۔ ماں کا دودھ نہ صرف بیماریوں سے تحفّظ فراہم کرتا ہے، بلکہ رات میں پینے سے بچّے کو کوئی طبّی تکلیف بھی نہیں ہوتی۔ نیز، ان کی عمومی صحت، بڑھوتری اور نشوونما مناسب رہتی ہے۔

اصل میں بوتل کے ذریعے دودھ پینے والے بچّوں میں پیٹ کے درد کی تکلیف بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔ پھر بوتل سے دودھ پیتے وقت، سَر نیچا ہونے کی وجہ سے اکثر دودھ کان میں چلا جاتا ہے، جو انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔یاد رکھیے، جو بچّے ماں کا دودھ نہیں پیتے، اُن میں سینے، کان، خون، پیشاب کی نالیوں اور آنتوں کے انفیکشنزکے امکانات کم پائے جاتے ہیں، تو اچانک موت کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ اسے طبّی اصطلاح میں "SIDS:Sudden Infant Death Syndrome" کہاجاتا ہے، جب کہ ماں کا دودھ نہ پینے والے بچّوں میں پیدایش کے ایک ماہ کے اندر ایس آئی ڈی ایسکے امکانات چھے گنا زائد پائے جاتے ہیں۔

نیز، یہ بچّےآنتوں کی بیماریوں کے بھی جلد اور بار بارشکار ہوتے ہیں۔ ماں کے دودھ پر پرورش پانے والے بچّوں میں بچپن میں سرطان، موٹاپے اور ذیابطیس سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں،تو ان میں سانس کی نالی کے انفیکشن اور اسہال کا خطرہ بھی کم پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بریسٹ فیڈنگ بچّے کو آئندہ زندگی میں دَمے، ایگزیما اور مختلف چیزوں سے ہونے والی الرجی سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ پھر ایسے بچّوں کی دماغی صلاحیتیں بھی خُوب اچھی طرح پروان چڑھتی ہیں۔ 

ماں کے جسم میں موجود ویکسینز، جو تشنج، خنّاق، کالی کھانسی اور انفلوئنزا کے خلاف مدافعت پیدا کرتی ہیں، وہ بچّے کو بھی ان امراض سے تحفّظ فراہم کرتی ہیں۔ان بچّوں میں کولیسٹرول کی مقدار کم رہتی ہے اور یہ امراض ِقلب سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں، بوتل کے ذریعے دودھ پینے والے بچّوں کی نسبت ان کے منہ کی بناوٹ اور سانس کی نالی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ نیند میں خراٹے یا سانس بند ہونے کی شکایت بھی نہیں ہوتی ۔

پھر ماں کا دودھ بچّے کا وزن متناسب رکھتا ہے، اسی لیے یہ بچّےموٹاپے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بیماریوں کا شکار نہیں ہوتے،عموماً دبلے پتلے اور پھرتیلے ہوتے ہیں۔ ماں کے دودھ میں ایسے مادّے بھی پائے جاتے ہیں، جو اعصاب اور آنکھوں کے نظام کی نشوونما میں مدد گارثابت ہوتے ہیں۔اور اس میں موجود غذائی اجزاء ہمیشہ ایک جیسے بھی نہیں رہتے، بلکہ عُمر بڑھنے کے ساتھ اور دودھ پلانے کے دورانیے کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ماں کے دودھ کی پہلی قسم، جو پیدایش کے بعد ابتدائی دِنوں میں تیار ہوتی ہے، کلوسٹرم(Colostrum)کہلاتی ہے، اسے نومولود کے لیے ہضم کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ دراصل اس میں ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں، جو بچّے کو جلدی motion pass کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ یرقان اور بیرونی مادّوں کے ذریعے ہونے والی پیٹ کی خرابیوں سے بھی تحفّظ ملتا ہے۔ اگرچہ آنول نال کے ذریعے بچّے کو کچھ اینٹی باڈیز پہلے ہی سے حاصل ہوجاتی ہیں، لیکن ابتدائی دودھ میں ایک ایسا مخصوص مادّہ شامل ہوتا ہے، جو نوزائیدہ کے گلے، پھیپھڑوں اور آنتوں کو جراثیم کے حملے سے بچانے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ولادت کے تیسرے یا چوتھے دِن سے ماں کے دودھ کے غذائی اجزاء تبدیل ہونا شروع ہوجاتے ہیں، جو پھر بتدریج بچّے کی ابتدائی ضروریات پوری کرنے کے بعد مکمل غذا کا روپ دھار لیتے ہیں۔

٭دودھ پلانے والی مائیں کئی طبّی مسائل سے محفوظ رہتی ہیں: اگر کوئی ماں کم علمی یا مصروفیات کے سبب بچّے کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تو یہ عمل خود اس کی اپنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہے۔دراصل،دودھ پلانے والی مائوں میں بریسٹ کینسر کی شرح کم ہوجاتی ہے۔ جسم میں موجود فاضل چربی ختم ہونے کے ساتھ دورانِ حمل وزن بڑھ جانے کے سبب ڈائٹنگ نہیں کرنا پڑتی اورقدرتی طور پر وزن متناسب ہوجاتا ہے، بچّہ دانی کا حجم(ماں کا رحم) جلد نارمل ہوجاتا ہے۔ زائد خون بہنےکے نتیجے میں خون کی کمی کا شکار نہیں ہوتیں کہ مائیں اپنی خوراک پر خاص توجّہ دیتی ہیں۔

پھر بچّوں کو اپنا دودھ پلانے والی ماؤں میں ڈیپریشن کی شرح کم پائی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، بُلند فشارِ خون، جوڑوں کا درد، خون میں چکنائی کی مقدار میں اضافہ، امراضِ قلب، ذیابطیس اور زچگی کے بعد مخصوص دِنوں سے زائد عرصے تک ماہ واری سے بھی بچاتا ہے۔ یہ وقت اور پیسے دونوں کی بچت کرتا ہے کہ ڈبّے کے دودھ کی خریداری اور بنانے کے عمل میں وقت ہی نہیں، پیسا بھی ضایع ہوتا ہے۔

٭کن حالات میں ماں، بچّے کو اپنا دودھ نہیں پلا سکتی: اگر ماں نشہ آور اشیاء استعمال کرتی ہے، تو بچّے کو اپنا دودھ پلانے سے اجتناب برتے۔ ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا ماں کا بچّہ بریسٹ فیڈنگ کے ذریعے ایچ آئی وی میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں، اگر ماں ٹی بی کا شکار ہے، تو بھی بچّے میں مرض منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔البتہ کووِڈ-19 سے متاثرہ ماں، بچّے کو اپنا دودھ پلاسکتی ہے۔

٭ دودھ پلانے کے دوران پیش آنے والے مسائل : اکثر دودھ پلانے کے دوران ماؤں کو بھی چند ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔ مثلاً: کم مقدار میں دودھ آنا: زیادہ تر مائیں، بچّے کو صرف اس لیے دودھ پلانا چھوڑ دیتی ہیں کہ اُن کے خیال میں دودھ بچّے کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ عمومی طور پر یہ غلط فہمی اُس وقت پیدا ہوتی ہے، جب ابتدائی دِنوں میں گاڑھا پیلا دودھ آتا ہے۔ 

بظاہر لگتا ہے کہ یہ دودھ نہیں، مگر بچّے کے جسم میں منتقل ہو کر اُس کی تمام تر غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔ بچّے کو دودھ نہ پلانے کی دوسری بڑی وجہ ماؤں کا رات کے وقت بچّے کو فیڈر کے ذریعے دودھ پلانا ہے۔ کیوں کہ جب بچّے کو فیڈر سے تیزی سے دودھ فراہم ہوتا ہے، تو وہ ماں کا آہستہ آہستہ آنے والا دودھ پینا چھوڑ دیتا ہے اور مائیں یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ’’ ہم نے تو بہت کوشش کی، مگر یہ خود ہی نہیں پیتا‘‘۔ 

اکثر مائیں پوچھتی ہیں کہ ہمیں کیسے پتا چل سکتاہے کہ بریسٹ فیڈنگ سے بچّے کا پیٹ بَھررہا ہے۔ تو اگر بچّہ دِن میں 6 سے 8ڈائپر گیلے کرلیتا ہے،تو اس کا مطلب ہے کہ اسے مناسب مقدار میں دودھ مل رہا ہے، لہٰذا اسے ڈبّے کا دودھ دینے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ 

یاد رکھیے، اگربچّے کو بار بار دودھ پلایا جائے، تو ایک سے دو ہفتے میں قدرتی طور پر مناسب مقدار میں دودھ آنے لگتا ہے۔اس کا اندازہ بچّے کے وزن اور پیشاب کی مقدار سے لگایا جاسکتا ہے۔ نِپل میں زخم پڑجانا: یہ شکایت عام طور پر بچّے کے منہ میں پورا نِپل اندر نہ جانے کی صُورت میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر نِپل کا پورا براؤن حصّہ بچّے کے منہ میں جائے، تو اس تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں، معالج کے مشورے سے مرہم یا دوا بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ زیادہ دودھ بَھر جانے کی وجہ سے بریسٹ متورم ہوجانا: یہ علامت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔اس صُورت میں تولیے کو کبھی گرم اور کبھی ٹھنڈے پانی میں ڈبو کر اس سے متاثرہ جگہ سینکائی کی جائے اور ہاتھ یا پمپ کے ذریعے اضافی دودھ نکال لیا جائے۔ افاقہ نہ ہونے کی صُورت میں فوری طور پرمعالج سے رابطہ کریں۔ بریسٹ انفیکشن: اگر بریسٹ میں کسی بھی سبب جراثیم داخل ہوجائیں، تو یہ سُرخ ہو کر سُوج جاتی ہے۔ بعض اوقات اس کی وجہ سے بخار بھی ہوجاتا ہے۔بہتر تو یہی ہے کہ اپنی ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جائے،تاکہ اینٹی بائیوٹکس اور دیگر ادویہ تجویز کی جاسکیں۔ علاوہ ازیں، گرم پانی میں تولیا بھگو کرمتاثرہ جگہ کی دِن میں چاربار15 سے 20 منٹ تک سینکائی کریں۔

٭ کسی طبّی مسئلے کے سبب دودھ پلانا ممکن نہ ہو، تو کیا کیا جائے: اگر بچّے کو کسی بھی سبب دودھ نہ پلایا جائے، تو ایسی ادویہ دستیاب نہیں، جن کے استعمال سے دودھ بننے کا عمل رُک جائے۔ عام طور پر دودھ بننے کے عمل میں بتدریج ہی کمی واقع ہوتی ہے۔ البتہ اس عرصے میں سینکائی کے ساتھ معالج کی ہدایت پر سُوجن اور درد کم کرنے والی ادویہ استعمال کی جاسکتی ہیں۔

٭ملازمت پیشہ مائیں بچّے کو اپنا دودھ کیسے پلائیں؟ملازمت پیشہ خواتین عموماً بچّے کو اپنا دودھ نہیں پلاپاتیں۔ انھیں چاہیے کہ گھر سے نکلتے وقت بچّے کو لازمی دودھ پلائیں،جب کہ ہاتھ یا پمپ کے ذریعے دودھ نکال کر اسےذخیرہ بھی کرسکتی ہیں، جو بچّے کو ماں کے گھرواپس آنے تک پلایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ دودھ فریج میں رکھ لیں، تو دو دِن تک قابلِ استعمال رہتا ہے، جب کہ فریز کرنے کی صُورت میں چھے ماہ تک کارآمد رہتا ہے۔ البتہ اسے مائیکروویو میں یا چولھے پر قطعاً گرم نہ کریں کہ اس طرح اس کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ ایک پیالی میں ضرورت کے مطابق دودھ نکال لیں اور اس پیالے کو کسی گرم پانی کے برتن میں رکھ دیں۔

٭نئی ماں بننے والی خواتین کے لیے چند مفید مشورے/ تجاویز: اپنی گائناکولوجسٹ سے بچّے کو دودھ پلانے سے متعلق معلومات حاصل کریں۔اگر کسی مرض سے شفا کے لیے ادویہ استعمال کررہی ہیں،تو ڈاکٹر کو لازماً بتائیں۔ آپ کی رسائی کسی بریسٹ فیڈنگ کلاس تک ہو، تو اس میں ضرور شامل ہوں۔متوازن غذا استعمال کریں۔ اگر ماں کسی سبب بچّے کو اپنا دودھ نہیں پلاسکتی ،تو اس کے لیے کسی دوسری خاتون کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں یا وہ کسی اور ماں کے ساتھ بچّے کی دیکھ بھال کا اشتراک کرسکتی ہے۔ جڑواں یا اس سے زائد بچّوں کی پیدایش کے بعد اپنا دودھ پلانا ایک مشکل چیلنج ہے، کیوں کہ ہر بچّے کی بھوک کا وقت مختلف ہوتا ہے۔ تاہم، قدرتی طور پر ایسی ماؤں میں دودھ بننے کی صلاحیت بھی بڑھ جاتی ہے۔اس ضمن میں معالج سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

٭عوامی مقامات پر بچّوں کو دودھ پلانے کی سہولت : کسی بچّے کوماں کےدودھ سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہےاور اس ضمن میں کچھ قوانین تشکیل دئیے گئے ہیں، جن پر متعدّد مُمالک میں سختی سے عمل بھی کیا جاتا ہے،مگر افسوس کہ ہمارے یہاں ان قوانین پر کہیں عمل درآمد نظر نہیں آتا ہے، لہذا حکومت کو چاہیے کہ اس ضمن میں قانون سازی کرے،تاکہ دودھ پلانے والی ماؤں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔ (مضمون نگار، معروف ماہرِ امراضِ نسواں ہیں۔کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر وابستہ ہیں ،جب کہ عباسی شہید اسپتال ، میمن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اسپتال، صفورا گوٹھ اور ابنِ سینا اسپتال، گلشنِ اقبال، کراچی میں بطور کنسلٹنٹ فرائض انجام دے رہی ہیں)