کراچی (رفیق مانگٹ)برطانوی جریدے کے مطابق وینزویلا کے معزول صدرنکولس مادورو کے لیے الزامات سے بچنا مشکل ہے تاہم سفارت کاری واحد راستہ بن سکتی ہے‘ مادورو کا کیس برسوں چل سکتا ہے، اور اس دوران وہ امریکہ کے لیے ایک اہم سفارتی دباؤ کا ذریعہ بنے رہیں گے۔فردِ جرم کے مطابق مادورو جوڑے پر نارکو دہشت گردی کی معاونت اورمنشیات اسمگلنگ سمیت چار سنگین الزامات عائد ہیں‘ فردِ جرم میں نامزد وینزویلا کے دوجنرل پہلے ہی جرم قبول کر چکے ہیں اور ممکنہ طور پر گواہی دیں گےجوکہ مادوروکیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ‘دفاع میں مادورو گرفتاری کے طریقۂ کار کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیں گے، مگر امریکی عدالتوں میں یہ دلیل عموماً ٹرائل نہیں روکتی۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی جریدہ اکانومسٹ لکھتا ہے کہ امریکی استغاثہ عموماً فردِ جرم گرفتاری تک خفیہ رکھتا ہے، تاہم جب ملزم قانون کی براہِ راست گرفت سے باہر ہو تو الزامات پہلے ظاہر کیے جاتے ہیں‘2020ءمیں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات سامنے آئے جنہیں ابتدا میں سنجیدہ نہیں لیا گیا مگر اب وہ نیویارک کے بروکلین میں واقع میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں مقدمے کے منتظر ہیں۔مادورو اور ان کی اہلیہ نے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ سمجھوتا نہ ہونے کی صورت میں وہ آئندہ ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک فردِ جرم خارج کرانے کی کوشش کریں گے جس کے بعد مین ہٹن میں ٹرائل متوقع ہے۔