• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عکاسی: عرفان نجمی

لاہور کو’’پاکستان کا دل‘‘ کہا جاتا ہےکہ یہاں ایسے کئی تاریخی مقامات ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے نہ صرف پاکستان ،بلکہ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں اور انہیں دیکھ کر ماضی کے جھروکوں میں کھو سےجاتے ہیں۔سِٹی آف لٹریچر، لاہور کی بات ہو اور ادب کی بات نہ کی جائے ،تو سراسر نا انصافی ہو گی کہ ثقافت اور ادب ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پھر ادب کے فروغ کےلیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ’’مجلسِ ترقّیِ ادب‘‘ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم ہے۔

یہ ادارہ 1950ء میں مغربی پاکستان کی حکومت نے قائم کیا تھا ، جس کا نام ’’مجلسِ ترجمہ‘‘ رکھا گیا اور اسے محکمۂ تعلیم کی نگرانی میں دیا گیا۔پھر جولائی 1954ء میں مجلسِ ترجمہ کی تنظیمِ نو کی گئی اور اس کا نام’’ مجلسِ ترقّیِ ادب‘‘ کردیاگیا ۔ ادارے کے اغراض و مقاصد میںاردو کلاسیکی ادب کےفروغ و اشاعت کا انتظام،عربی، فارسی اورمغربی زبانوں کی بلند پایہ علمی کتابوں کے تراجم کرنااورہرسال بہترین ادبی مطبوعات کے مصنّفین اور سال کے بہترین مطبوعہ مضامین اور منظومات پر انعامات وغیرہ دیناشامل ہیں۔

مال روڈ کے پہلو میں 2کلب روڈ پر واقع یہ ادارہ بورڈ آف گورنرز کے تحت کام کرتا ہے۔یہ ایک خودمختار ادارہ ہے، جسے حکومتِ پنجاب کی مالی معاونت بھی حاصل ہے۔ تاہم، یہ اپنی کتب بھی فروخت کرتا ہے۔ 1950ء سے لے کر اب تک ادارے کی لائبریری میں کم و بیش 28ہزار کتب ذخیرہ ہو چُکی ہیں، جب کہ تاریخ، سیاسیات، مذہب، سائنس اور فلسفےسمیت نئی کتب کی اشاعت کا سلسلہ بھی جاری ہے، جن میں دوسری زبانوں سے اردو میں ترجمہ کی ہوئی کتابوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ 

ادارے کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے ،جس میں سے تقریباً 50لاکھ روپے ادارہ اپنی شایع کی ہوئی کتب سے کما لیتا ہے۔ ویسے تو مجلسِ ترقّیِ ادب میں بلند پایہ ادب اور غیر ملکی زبانوںکی معیاری کتب کے تراجم شایع کرنے کا سلسلہ 1950ء کے بعد ہی سے شروع ہوگیاتھا ، لیکن پھر مجلس نے طے کیا کہ اصلاحی نوعیت کی علمی کتب کے تراجم کم اور کلاسیکی کتابوں کے تراجم زیادہ شایع کیے جائیں۔ 

ادارہ مجلسِ ترقیِ ادب
32 سال تک احمد ندیم قاسمی کے زیرِ استعمال رہنے والی کرسی

تاہم، کلاسیکی کتب مرتّب کر کے انہیں چھاپنے کی طرف زیادہ توجّہ دی گئی کہ ان کی اشاعت اس لحاظ سے بھی ضروری تھی کہ دوسرے ادارے اس طرف کم ہی مائل تھے، کیوں کہ یہ کوئی منافع بخش کاروبار نہیں تھا، چناں چہ قدیم ترین نسخوں کی مدد سے کلاسیکی کتب مرتّب کرکے شایع کی گئیں۔ مجلس ِترقّیِ ادب کے تحت جو ادب شایع ہوا، اس کےموضوعات داستان، حکایت، شاعری، فلسفہ، تاریخ، سوانح، سفر نامہ، مکاتب اوریادداشت ہیں ۔ان میں سےبعض کلاسیکی کتب ایسی ہیں، جوپہلی بار مجلس کے ذریعے ہی منظرِ عام پر آئیں۔ ایسی اہم کتابوں میں عجائب القصص، کلیاتِ مصحفی، کلیاتِ میرسوز، کلیاتِ جرأت، کلیاتِ قائم چاند پوری، کلیاتِ شاہ نصیر، دیوانِ جہاں دار، تذکرۂ طبقات الشعراء اور تذکرۂ خوش معرکہ زیبا وغیرہ شامل ہیں۔

ادارہ مجلسِ ترقّیِ ادب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس سے نہ صرف مُلکی ، بلکہ بین الاقوامی سطح کی نام وَر شخصیات بھی وابستہ رہی ہیں اور اپنے علمی و ادبی تجربات سے ادارے کو مستفید کر تی رہی ہیں۔ ان شخصیات میں سب سے پہلا نام، سیّدامتیاز علی تاج کا ہے، جو 16جنوری 1960ء سے 19اپریل 1970ء تک ادارے سے منسلک رہے۔ سیّد امتیاز علی تاج پاکستان کی ادبی تاریخ کا بہت بڑا نام ہیں، انہوں نے بہت سے انگریزی ڈراموں کا اردو ترجمہ کیا، ایک درجن سے زاید فلمیں لکھیں۔’’انار کلی‘‘ ، جو ڈرامے کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے، اُن ہی کا ایک قابلِ ذکر کام ہے۔

ادارہ مجلسِ ترقیِ ادب
امتیاز علی تاج کے کچھ برتن

مجلسِ ترقیِ ادب سے وابستہ ایک اور بڑا نام، پروفیسر حمید احمد خاں کا ہے، جو 11جولائی 1970ء سے 22مارچ 1974ء تک ادارے سےمنسلک رہے۔وہ پنجاب یونی وَرسٹی کے وائس چانسلر تھے، انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں، جن میں نسخۂ حمیدیاں، ارمغانِ حالی، تعلیم و تہذیب، اقبال کی شخصیت اور شاعری شامل ہیں۔ ان کے بعد احمد ندیم قاسمی 4جولائی 1974ء سے 10جولائی 2006ء تک خدمات سرانجام دیتے رہے۔ یوں، احمد ندیم قاسمی ہی نے ادارے میں سب سے زیادہ وقت،یعنی 30 برس گزارے۔

اُن کے بعد شہزاد احمدنے23 اگست 2006ء سے یکم اگست 2012ء تک بطورِ سربراہ کام کیا۔ شہزاد احمد نے تیس سے زاید شعری مجموعوں پرکتابیں لکھیں، انہیں پرائیڈ آف پرفارمینس بھی ملا۔ ان کے بعد ڈاکٹر تحسین فراقی آئے اور 18مارچ 2013ء سے 22 فروری 2021ء تک ادارے میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ آج کل یہ عُہدہ معروف شاعر، ڈراما نویس اور کالم نگار منصور آفاق کے پاس ہے، جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے قلیل عرصے میں ایسے کام کر دیئے ہیں، جو پچھلے ستّر برس میں نہ ہوسکے تھے۔ منصور آفاق کے بقول انہوں نے ’’بھوت بنگلہ ‘‘بنی بلڈنگ کی حالت بہتر بنانے کا کام کیا، پنجاب یونی وَرسٹی کے ساتھ مل کر پہلی مجوّزہ ترقّیِ ادب بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی اوراکادمی ادبیات کے ساتھ مل کر ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں تیز ترکردی ہیں۔

ادارہ مجلسِ ترقیِ ادب
ادارے کے مختلف سربراہان کے استعمال میں رہنے والا نایاب فون

ادارے کی جانب سےمغرب کے جدید ڈراموں کو اُردو میں ترجمہ کر کے شایع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیز، قدیم اردو ڈراموں کے متون کی اشاعت بھی زیرِ تکمیل ہے۔ علاوہ ازیں،’’مجلسِ ترجمہ‘‘ کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس ضمن میں علمی، تحقیقی، فکری اور ثقافتی مباحث پر مبنی اہم اورتازہ ترین کتب کے تراجم شایع کیے جائیں گے۔ مجلس ِترقّیِ ادب کلاسیکی، نثری ادب اورداستانی ادب کے ایڈیشنز چھاپنے میں بھی دل چسپی رکھتا ہے۔اس کی مطبوعات میں کلاسیکی کتب کا سلسلہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔

 کلاسیکی ادب میں وہ کتب شامل ہیں، جو ہماری علمی، ادبی اور ثقافتی تاریخ کا حصّہ ہیں۔ جس طرح ایجاداتِ انسانی فکری وتدبیری زندگی پیش کرتی ہیں، بالکل اسی طرح کلاسیکیت انسان کی تخلیقی زندگی کی نمایندگی کرتی ہے۔مجلسِ ترقّیِ ادب کے تحت ترتیب و تدوین اوراشاعتِ کتب کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔

اوّل،وہ کتابیں ،جو مخطوطات کی صُورت تھیں اور مجلس نے انہیں پہلی مرتبہ شایع کیا، دوم وہ، جو ایک مرتبہ چَھپیں اور ہماری ادبی تاریخ میں بطور حوالہ شامل رہیں، لیکن نایاب ہو چُکی تھیںاورسوم، وہ کتب ،جو بازار میں دست یاب تھیں، لیکن ان کے ایڈیشنز اورمتن فصاحت طلب تھے۔ مخطوطات کے ضمن میں جو کتب خاص اہمیت رکھتی ہیں، اُن میں عجائب القصص اَز شاہ عالم ثانی، تذکرۂ طبقات بالشعراء، تذکرۂ خوش معرکہ زیبا، کلیاتِ مصحفی، کلیات ِمیرسوز، کلیات جرأت، کلیاتِ قائم چاند پوری، کلیاتِ شاہ نصیراور دیوانِ جہاں دار وغیرہ شامل ہیں۔ عجائب القصص مغل فرماںروا شاہ عالم ثانی کی نثری تصنیف ہے،جس نسخے سے اسے مرتّب کیا گیا ہے،وہ معلومات کے اعتبار سے دنیا بھر میں واحد ہے اور پنجاب یونی وَرسٹی لائبریری کی ملکیت ہے۔ 

ادارہ مجلسِ ترقیِ ادب
ڈاکٹر وحید قریشی کا پین ہولڈر

یہ کتاب 1207ھ میں تصنیف ہوئی اور 1965ء میں مجلسِ ترقّیِ ادب کی طرف سے پہلی مرتبہ شایع کی گئی۔ دیوانِ جہاں دار ، شاہ عالم ثانی کے بیٹے شہزادہ جہاںدار کا اردو دیوان ہے۔ موجودہ لائبریریوں میں اب تک ان کے دو مخطوطے ہی معلوم ہوسکے ہیں، جن میں سے ایک برٹش لائبریری، لندن میں ہے اور دوسر اپنجاب یونی وَرسٹی لائبریری کے ذخیرۂ آذر کی زینت ہے۔یہ دیوان مجلسِ ترقّیِ ادب ہی نے پہلی مرتبہ شایع کیا اور یہ نسخہ پنجاب یونی وَرسٹی کے مخطوطے پر مبنی ہے۔ اسےاردو کے مشہور محقّق ،ڈاکٹر وحید قریشی نے اپنے مبسوط مقدمے اور حواشی کے ساتھ مرتّب کیا ہے۔ قدرت اللہ شوق سنبھلی کا تذکرۂ طبقات الشعراء اردو تذکروں میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جو 1188ھ میں تصنیف ہوا اور مصنّف نے 1209ھ تک اس میں اضافہ کیا۔ 

دنیا بھر میں اس کے مطبوعہ نسخوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہیں۔ مجلس ہی کی وساطت سے اس تذکرے کا متن پہلی مرتبہ زیورِ طبع سے آراستہ ہوا، جب کہ مجلس کے نسخے کا متن کتب خانہ آصفیہ ، حیدرآباد دکن کے قلمی نسخے پر مبنی ہے، جس کے بارے میں مرتّب کا کہنا ہے کہ ’’اس کا متن باقی تمام نسخوں کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے اور غالباً خود مؤلف کی نظر سےبھی گزر چُکا ہے۔‘‘ اسی طرح سعادت خاں ناصر کا تذکرہ خوش معرکہ زیبا شعرائے لکھنؤ کے سلسلے میں اہم ترین مآخذ ہے۔ یہ ایڈیشن معروف محقّق ، مشفق خواجہ نے چار قلمی نسخوں کے حوالے سے تیار کیا ہےاوریہ تذکرہ بھی پہلی بار ہی شایع ہوا۔

مصحفی اردو غزل کے اساتذہ میں سے ہیں۔وہ 1924ء میں فوت ہوئے۔ اُن کی نو جِلدوں پر مشتمل ضخیم کلیات ہے، جس کے نسخے پاکستان اور بھارت کے متعدّد شہروں میں موجود ہیں، کئی انتخاب اور بیسیوں مضامین ان کے بارے میں شایع ہو چُکے ہیں۔ مجلسِ ترقّیِ ادب نے مختلف خطی نسخوں سے تقابل کرواکر یہ کلیات شایع کی ۔پھر میر سوز کی کلیات متعدّد قلمی نسخوں کی مدد سے پہلی بار مدوّن ہوئی ہے، جس میں میر سوز کا نوشتہ، ان کے کلام کا انتخاب ہے ۔ علاوہ ازیں، اردو ڈکشنری بورڈ، برٹش میوزیم اور ملایشیا کے قلمی نسخوں کو بھی پیشِ نظر رکھاگیا ہے۔ 

ادارے نے یہ کلیات 2 جِلدوں میں شایع کی، جسے ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے مرتّب کیا ہے۔اسی طرح ’’کلیاتِ جرأت‘‘ کے مخطوطے یورپ، بھارت اور پاکستان کی مختلف لائبریریوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔ قائم چاند پوری کی یہ کلیات متعدّد قلمی نسخوں کی مدد سے پہلی بار مدوّن ہوئی ہے۔ جس میں انڈیا، آفس لائبریری کا نسخہ (جو قائم چاند پوری کی زندگی میں مرتّب ہوا)، بنگال ایشیا ٹک سوسائٹی، رضا لائبریری رام پور، انجمنِ ترقیِ اردو،پاکستان اورکراچی کے مخطوطات کے علاوہ مطبوعہ نسخے بھی پیشِ نظر رکھے گئے۔ اسے ڈاکٹر اقتدا حسن نے دو جِلدوں میں مرتّب کیا ہے۔ 

علاوہ ازیں، شاہ نصیر کی کلیات، مکمل اور صحیح متن کے ساتھ پہلی بار شایع ہوئی ،جو متعدّد قلمی اور مطبوعہ نسخوںکی مدد سے مدوّن کی گئی، اس میں کتب خانہ آصفیہ، سالار جنگ میوزیم، رضا لائبریری، ادارہ ادبیات کے مخطوطات کے علاوہ مطبوعہ نسخے بھی شامل کیے گئے اور اسے ڈاکٹر تنویر احمد علوی نے مرتّب کیا۔ مخطوطات کے علاوہ کلاسیکی ادب میں ایسی کتابیں بھی شامل ہیں، جن کا تعلق اردو شاعری اور نثرکے مختلف دبستانوں سے ہے۔ یہ سارا سلسلہ تاریخِ ادب کی ایک جامع ترتیب سامنے لاتا ہے۔ مجلسِ ترقّیِ ادب میں جو تصنیفی کام ہوا، اُسے تین موضوعات ،’’سوانح، تنقیداورتاریخ‘‘ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 

سوانحی تصانیف میں ’’مومن، حالاتِ زندگی اور کلام‘‘ اور ’’ذوق، سوانح اور انتقاد‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ اوّل الذکر کے مصنّف مجلس کے مدیرِ کتب کلب، علی خاں فائق ہیں اور موخر الذکر کتاب ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی ہے۔ واضح رہے،یہ دونوں کتابیں اہلِ علم سے غیر معمولی خراجِ تحسین حاصل کر چُکی ہیں۔ تنقید کی کتابوں میں اصولِ انتقادِ ادبیات، شاعری اور تخیّل، مغربی شعریات اور ڈراما نگاری کا فن، جہاں اصولِ تنقید کے بعض اہم مسائل زیرِ بحث لاتی ہیں،وہیں حالیؔ کی نثرنگاری، مرزا ہادی رسوا، میرامّن سے عبدالحق تک،مباحثِ عملی تنقید کا ایک اعلیٰ معیار پیش کرتی ہیں۔ 

ان کتابوں کے مصنّفین سیّد عابد علی عابد، پروفیسر ہادی حُسین، ڈاکٹر عبدالقیوم، ڈاکٹر محمّد اسلم قریشی، ڈاکٹر میمونہ انصاری اور ڈاکٹر سید عبداللہ ہیں۔اس کے علاوہ ان تصانیف میں تحقیقی مقالات کا ایک سلسلہ بھی نظرآتا ہے۔ مجموعی طور پر اس ادارے نے گزشتہ 70 سال میں 500 سے زاید نایاب اور نادر کتب اور تراجم شایع کیے ہیں۔ گرچہ بعض ناقدین کے مطابق ان میںکئی کتابیں ایسی بھی تھیں، جن کا کلاسیکی ادب سے کوئی تعلق نہ تھا۔

کچھ تبدیلیاں…کچھ مجوّزہ اقدامات

گزشتہ دنوں ہم نےادارہ ’’مجلسِ ترقّیِ ادب‘‘ کا دَورہ کیا،تو بعض ایسی تبدیلیاںدیکھنے کو ملیں، جنہیں ادارے کے منتظم، عہدِنو کا نام دیتے ہیں۔نئی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مختصر عرصے میں اس نے بعض ایسی تبدیلیاں کی ہیں، جن کی گزشتہ 70 برسوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بقول انتظامیہ ،ادارہ پہلےویرانی کا منظر پیش کررہا تھا اور 25ہزار سے زاید کتب ایک سیلن زدہ کمرے میں گل سڑ رہی تھیں، جب کہ بعض نایاب قلمی نسخے اور مخطوطات چوہوں کی نذر ہوگئے ۔ 

اب کتابوں کے عُمدہ ڈِسپلے کے علاوہ اورکئی کام بھی کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں منتظمِ اعلیٰ نے نئے کچھ مجوّزہ ا قدامات کا بھی ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ مجلس میں ایک میوزیم کا قیام زیرِ غور ہے، جہاں معروف ادباء اور شعراء کے زیرِ استعمال اشیاء رکھی جائیں گی۔ ادارے کے پاس اس وقت سعادت حسن منٹو کے زیرِ استعمال ایش ٹِرے، احمد ندیم قاسمی کی 32 سال تک استعمال میںرہنے والی کرسی، امتیاز علی تاج کے کچھ برتن، ڈاکٹر وحید قریشی کا پین ہولڈر اور دیگر اشیاء موجود ہیں۔ ان کا ایک اور انقلابی منصوبہ ایک ٹیبلیٹ بنانا ہے، جس میں سیکڑوں کتب، الیکٹرانک کتاب کی صُورت محفوظ ہوں گی اور اُنہیںقاری ایک کتاب ہی کی طرح بآسانی پڑھ سکےگا۔ ابتداً ایک قاری 10ہزار کتب سے استفادہ کرسکے گا۔ 

یہ ٹیبلیٹ محقّقین اور قارئین کے لیے ایک نعمت ثابت ہوگااوراس ضمن میں پنجاب یونی وَرسٹی کے ساتھ ایک معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔‘‘ادارے کاتفصیلی سروے کرنےکے بعد معلوم ہوا کہ ماضی میںاس کے تحت پانچ سو کتب شایع ہوئیں، مگر کہیں اور تو کُجا، دفتر تک میں انہیں ڈِسپلے نہیں کیا گیا ۔ اسٹورز میںایک لاکھ پچیس ہزار کتب بند پڑی تھیں،گرائونڈ فلور کی حالت اتنی مخدوش تھی کہ ڈائریکٹر کے کمرےسمیت کسی بھی کمرے میں بیٹھنا ممکن نہیںتھا۔ ادارے کی لائبریری اوپر والے فلور پر قائم ہے،پوچھنے پر پتا چلا کہ یہ بھی پچھلے آٹھ سال سے بند پڑی ہے، جسے مجلس کے ملازمین دفتر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اب جب نئے سِرے سے کام شروع ہواہے، تونئی انتظامیہ نےسب سے پہلے گرائونڈ فلور کی مرمّت شروع کروائی ہے،ڈسپلے سینٹر بنایا جا رہاہے، دیواروںکی مرمّت اوررنگ وروغن کا کام ہوا ہے اور عمارت کو اس قابل بنایا گیاہےکہ کوئی یہاں آکر بیٹھ سکے۔ لائبریری سے کچھ افراد پہلی منزل پر منتقل کیے اورکچھ لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ اسٹور میں بنوائی کہ لائبریری بحال ہو سکے۔ گزشتہ سال صرف سات کتابیں چھاپی گئیں، مگر اب پچاس کتابوں کی اشاعت پر کام جاری ہے۔ گزشتہ دِنوں مجلس کے منتظم ،صدر ِپاکستان، ڈاکٹر عارف علوی سے ملے ، جس میںانہوں نے مجلس کے زیرِ اہتمام ستمبر میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کا وعدہ بھی کیا ہے۔

اسی کانفرنس میں رائٹرز کو ایوارڈ بھی دیئے جائیں گے۔ادارے نےگورنمنٹ کالج یونی وَرسٹی، لاہور کے وائس چانسلر ، ڈاکٹر اصغر زیدی کے ساتھ بھی ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت مجلس اپنی کتابیں جی سی یو پریس سے شایع کروائے گی اوریونی وَرسٹی کے تمام طلبہ کو یہ کتب آدھی قیمت پر فروخت کرے گی۔علاوہ ازیں، پہلے ادارہ کتب کی اشاعت پر تو دو، ڈھائی لاکھ روپے خرچ کرتا تھا، مگر اس کی تشہیر پر دھیان نہیں دیتا تھا، مگر نئی انتظامیہ اس ضمن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرے گی۔نیز، ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہے، جہاں سےمجلس کی کتابوںکی با قاعدہ خرید و فروخت بھی ممکن گی۔

ادارے کو محقّقین کے لیے مثالی بنانا ہی ہمارا بنیادی مقصد ہے، سربراہ ادارہ، منصور آفاق

’’مجلسِ ترقّیِ ادب‘‘ کے نئے منتظم منصور آفاق کا کہنا ہےکہ’’ بلا شبہ ادارے نےکئی نایاب کُتب، قلمی نسخوں اور کلاسیکی ادب کی ترویج و اشاعت کے ضمن میں اہم کردار ادا کیا اور مجھ سے پہلے آنے والوں نے اپنے اپنے دَور میں بہتر سے بہتر ہی کوشش کی، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے اس ادارے کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اس بُری طرح نظر انداز کیا گیا کہ اس کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ 

مَیں اس حوالے سے کسی ایک کو موردِ الزام نہیں ٹھہرارہا، مگر گزشتہ حکومتوں میں جو حال دیگر سرکاری علمی و ادبی اداروں کا ہوا ، وہی اس ادارے کا ہوا اور اس کی یہ حالت گزشتہ کئی دَہائیوں کی عدم توجّہی ہی کا نتیجہ ہے۔ جب مَیں نے یہاں کا انتظام سنبھالا تو مجلس کی لائبریری کی الماریوں میں پڑے بے شمارقلمی نسخے اور مسوّدات چوہے کھا چُکے تھے یا دیمک چاٹ رہی تھی۔ 

ہم نے ان نایاب نسخوں اور مسوّدات کو بچانے کے لیے با قاعدہ دو مخطوطہ شناس پروفیسر ز، باقر علی شاہ اور شفیق احمد خان کو ہائر کیا۔ وہ تقریباً ایک ڈیڑھ ماہ سے اسی کام پرلگے ہوئے ہیںکہ کسی طرح بقیہ چیزیں بچائی جا سکیںاور وہ بہت حد تک کام یاب بھی ہو گئے ہیں۔ لائبریری کی کتب کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کے ارد گرد شیشےکے دروازوں کا ہونا بہت ضروری ہے، یہاں ایک فیومی گیشن مشین موجود ہے، جس سے گزرنے کے بعد کتب دو سو سال کےلیےمحفوظ ہو جاتی ہیں۔ 

یہ مشین بھی عرصۂ دراز سے خراب پڑی تھی ،جس کی مرمّت کروائی گئی اور اب کتابوں کی فیومی گیشن بھی شروع کروادی گئی ہے۔گزشتہ ستّر برس میں جو پانچ سو کتابیں چھاپی گئی ہیں، ان میں سےکسی ایک کےلکھاری کا بھی تعلق جنوبی پنجاب سے نہیں، تو ہم نے درخواست کی ہے کہ ہمیں جنوبی پنجاب میں بھی مجلسِ ترقیِ ادب کی ایک شاخ بنانے پر کام شروع کرنا چاہیے۔نیز، ہم نےمستقبل کے لیےبھی بہت سی منصوبہ بندیاں کی ہیں، جن میں سے ایک، لاہور کے ادباء کے لیے ایسے ادبی چائے خانے کا قیام ہے، جو بہت آرٹسٹک ہو۔اسے چلانے کےلیے ڈاکٹر امجد ثاقب نے ’’اخوّت ‘‘کی طرف سے فنڈنگ کا وعدہ کیا ہے۔

سیال کوٹ چیمبر آف کامرس کے چیئرمین ،قیصر بریار نے ایوارڈز کےلیے اپنے گروپ کی جانب سے دس لاکھ روپے سالانہ فراہم کرنےکا وعدہ کیاہے۔گوگرین ویلفیئر سوسائٹی کی صدر، عاصمہ فرہاد بھی ہمارا ساتھ دے رہی ہیں ، ڈیزائننگ میں الحمرا آرٹس کاؤنسل سے ماہ رُخ نوید نے ہمارے لیے بہت کام کیاہے۔ وزیرِ جنگلات ،سبطین خان نے بھی ادبی چائے خانےمیں دل چسپی ظاہر کی ہے،وزیرِ اطلاعات ،پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی دفتر کا دورہ کیا۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات، فوّاد چوہدری نے جیل خانہ جات میں لائبریریز بنانے کے لیے ہر ممکن امداد کاوعدہ کیا ہے۔

پنجاب کے وزیرِ ثقافت ،میاں خیال احمد کاسترو نے ہمیں 22ملین روپے کے ایک پراجیکٹ کی منظور دی ہے۔ سچ تو یہ ہےکہ اس ستّر سالہ قدیم ادارے کو پھر سے فعال کرنا ہی، ہمارا بنیادی مقصد ہےکہ کلاسیکی ادب کسی بھی مُلک کا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ ہم اس کی اشاعتِ نو کے ذریعے اپنے محقّقین کے لیے تحقیق کے نئے دَرواکرنے کے ساتھ مثالی سہولتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں اس تاریخی ادارے سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید