• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دِنوں کابل سے امریکی افواج کی واپسی جس ڈرامائی انداز میں عمل میں آئی اس واقعہ نے ایک عالم کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ بٹگرام کے ہوائی اَڈّے کی حفاظت پر مامور تمام امریکی فوجی رات کی تاریکی میں نہایت خاموشی سے ہوائی اَڈّہ خالی کر کے پرواز کر گئے۔ یہاں تک کہ امریکیوں نے ٹینک، بکتربند گاڑیاں اور دیگر ہتھیار تک پیچھے چھوڑ دیئے۔ حیرت انگیز بات یہ کہ اعلیٰ افغان حکام اور فوجی کمانڈر تک کو پتہ نہ چلا۔ امریکی فوجوں کی اس طرح واپسی سے بیش تر تجزیہ نگاروں نے کہنا شروع کیا کہ امریکا راتوں رات فرار ہوگیا، حالانکہ تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جس میں حریف کو مغالطہ میں رکھنے کے لئے پینترے بدلے جاتے رہے ہیں۔ 

بڑی طاقتوں کا یہ وتیرہ ہے کہ وہ جو کرتی ہیں کہتی نہیں ہیں اور جو نہیں کرنا اس کا پروپیگنڈہ بہت کیا جاتا ہے۔ مگر امریکا نے پھر اچانک پلٹ کر حال ہی میں افغانستان میں طالبان کے اہم ٹھکانوں پر اپنے بی باون لڑاکا طیاروں اور ڈرونز سے حملے کئے تب بھی سب حیرت زدہ ہوگئے۔ اس تمام واقعے پر پینٹاگون کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی فوجوں کے بٹگرام کا ہوائی اڈّہ خالی کرنے کے بعد طالبان کے حملوں اور پیش قدمی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا۔ اب ان کا دعویٰ ہے کہ وہ نوّے فیصد علاقے پر قابض ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہماری پیش قدمی میں تیزی کا مقصد بھی یہی تھا۔ 

پینٹاگون کے ترجمان نے افغانستان میں حالیہ بمباری کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے افغانستان کے جنوب میں دُوسرے بڑے شہر قندھار اور اس کے گرد و نواح میں زبردست بمباری کی اور طالبان کو خاصا نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ تاہم جب نمائندے سے پوچھا گیا کہ امریکا مزید کن کن شہروں اور علاقوں پر بمباری کرے گا تو اس سوال پر پینٹاگون کے ترجمان نے اپنے ہونٹ سی لیے۔ واضح رہے کہ قندھار جنوب میں واقع ہے یہاں اکثریت پشتونوں کی ہے اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ طالبان کےترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے قندھار پر بمباری کی۔ اس کے علاوہ ہلمند شہر پر بھی بمباری کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں تشویش ہے کہ طالبان پورے ملک میں پیش قدمی کر کے طاقت کے بل پر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح افغانستان دُنیا میں ایک اچھوت ملک بن جائے گا اور دُنیا سے کٹ جائے گا۔ امریکی افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ہم حالات کا پوری سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور طالبان کی حکمت عملی کا ہمیں توڑ کرنا پڑے گا۔ 

ان سے بھی میڈیا کے نمائندوں نے وہی سوال کیا کہ اب امریکا کہاں کہاں بمباری کرنا چاہتا ہے تو جنرل مارک میلی نے کہا ہم جہاں بہتر نتائج کی اُمید کریں گے وہاں بمباری کریں گے۔ متحدہ عرب امارات نےامریکا کو اپنے یہاں فوجی اَڈّے دینے کی پیش کش کی ہے۔ امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نے ابھی کسی ملک سے فوجی اَڈّوں کی مانگ نہیں کی ہے۔ پاکستان سے بھی ہم نے فوجی اَڈّے نہیں مانگے ہیں۔

دراصل امریکا کو دُنیا کے سمندروں پر دسترس حاصل ہے۔ اس کے سات بحری بیڑے چوبیس گھنٹے سمندروں میں تیرتے رہتے ہیں۔ اس وقت امریکی بحری بیڑہ بحیرۂ عرب میں موجود ہے جہاں سے امریکی طیاروں نے پرواز کر کے افغانستان پر حملہ کیا ہے۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بھی استعمال ہو رہی ہے۔

طالبان نے امریکا سے احتجاج کیا ہے کہ وہ گزشتہ سال دوحہ قطر میں ہونے والے امن مذاکرات میں جو معاہدہ طے پایا تھا اب امریکا اس کی کھلی خلاف ورزی کر کے ہوائی حملے کر رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ دوحہ قطر معاہدہ کے دوران بھی طالبان افغانستان میں حملے کر رہے تھے۔ اس کے بعد بھی مسلسل حملے جاری ہیں اور اب افغانستان پر قبضہ کے دعوے بھی ہو ر ہے ہیں۔ طالبان نے اب تک کسی بھی معاہدہ کی پابندی نہیں کی ہے۔ حال ہی میں نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع کی گئی ہے کہ طالبان افغانستان میں امن کے لئے مذاکرات پر راضی ہیں۔ 

یہ خبر بہت اہم ہے اس کی تاحال زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں مگر امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ طالبان جنگ و جدل سے تنگ آ چکے ہیں اور اب امن چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے بعض آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان تحریک کی کمپوزیشن ایک درجن کے قریب چھوٹے بڑے دھڑوں پر مشتمل ہے، ان دھڑوں میں بعض گروپ واقعی اس اَمر کا برملا اظہار کرنے لگے ہیں کہ تیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جنگ و جدل کرتے اب افغانستان میں امن ہونا چاہیے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اب طالبان امن کے خواہاں ہیں۔ 

اس پر افغانستان کے صدر اشرف غنی کا دو ٹوک جواب یہ ہے کہ طالبان امن نہیں چاہتے۔ مگر روسی نمائندے ضمیر گیلوف کا بیان ہے کہ افغان طالبان کے بعض دھڑے امن کے خواہاں ہیں۔ کیا واقعی برف پگھل رہی ہے یا یہ بھی حکمت عملی کا حصہ ہے جبکہ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ایک بیان میں کہا کہ روس کو تشویش ہے کہ افغانستان میں مزید جنگ و جدل سے طالبان کی فتوحات سے خطّہ میں مزید دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوگا، خطّے کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔

امریکا نے بیس ہزار سے زائد افغان مترجمین کو جنہوں نے امریکیوں اور افغان حکام کے مابین مترجم کے فرائض سرانجام دیئے تھے اب امریکا کے انخلا کے بعد اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصوّر کر رہے ہیں، انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ انہیں جلد ہی امریکا اور دیگر ممالک میں پناہ دیدی جائے گی۔ اس ضمن میں امریکی کانگریس نے آٹھ ہزار افغان باشندوں کے لئے ویزوں کی منظوری دیدی ہے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکا اپنے فوجی افغانستان سے نکالنے کے بعد باقی ماندہ کو بھی اگست تک افغانستان سے نکال لے گا۔ اس حوالے سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکا اب چین کو افغان وار میں اُلجھانے کی سازش کر رہا ہے، اس طرح کے خیالات کا اظہار بعض سفارت کاروں کی طرف سے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ مگر حالیہ امریکی طیاروں کی بمباری اورامریکا کی واپسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ کہنا مشکل ہے۔ افغانستان کے جاری حالات میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ 

حالات روز بروز نیا رُخ اختیار کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے طالبان کے آفیشل ترجمان سہیل شاہین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہم پائیدار امن چاہتے ہیں اور مذاکرات کے لئے بھی راضی ہیں مگر مذاکرات سے قبل صدر اشرف غنی کو ان کے عہدے سے ہٹانا ہوگا۔ کیونکہ اشرف غنی جنگجو، ہر وقت ان پر جنگی جنون سوار رہتا ہے۔ سہیل شاہین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان رہنمائوں کا خیال ہے کہ مذاکرات سے قبل نئی حکومت کے قیام کا معاہدہ ضروری ہے۔ 

ہم ایسی حکومت چاہتے ہیں جو ہمارے پروگرام سے مطابقت رکھتی ہو اور عوام کو بھی قابل قبول ہو۔ خواتین کے حقوق کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملات نئی حکومت طے کرے گی اور جو خواتین ہماری ہدایات اور پالیسی کو قبول کریں گی ان کو نئی حکومت کی اجازت کے بعد اپنے معمولات پر عمل کرنے کی اجازت ہوگی۔ خواتین محرم مرد کے بغیر باہر نہیں نکل سکیں گی۔

بعض علاقوں سے جہاں افغان کمانڈرز کا قبضہ ہے اس بیانیہ کے برعکس خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ان علاقوں میں اسکولوں کو بھی نذر آتش کرنے کی خبریں آ رہی ہیں، مگر ترجمان طالبان سہیل شاہین ان خبروں کی تردید کرتے ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ بعض طالبان کمانڈرز نے مرکزی قائدین کی ہدایات کو نہیں مانا اور اپنی من مانی کرتے رہے، ان کے خلاف ہم نے سخت کارروائی کی ہے۔ 

سہیل شاہین نے ایک سوال کےجواب میں اپنا مؤقف دُہرایا کہ ہم فی الحال کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے ہم ابھی جن جن جگہوں پر ہیں وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اپنے اضلاع تک محدود ہیں۔ سہیل شاہین نے کہا کہ افغانستان میں چار سو اُنیس اضلاع ہیں جن میں سے ایک سو چورانوّے ہمارے پاس ہیں۔ سہیل شاہین نے اس بات کو تسلیم کیا کہ افغان عوام کی واضح اکثریت جنگ اور سول وار کے خلاف ہے وہ ملک میں پائیدار امن چاہتے ہیں اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں مگر اپنی شرائط کے ساتھ۔

افغان میڈیا کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے دعوے غلط ہیں کہ ان کا نوّے فیصد علاقہ پر قبضہ ہے۔ ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوّے کی دہائی میں بھی جب طالبان کی حکومت تھی اتنا علاقہ ان کےپاس نہیں تھا۔ طالبان طاقت پر یقین رکھتے ہیں، عوامی رائے پر یقین نہیں رکھتے اس لئے جمہوریت کے سخت خلاف ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ جب امریکا نے دیکھا کہ طالبان کے بعض اہم دھڑے مذاکرات کے لئے راضی دکھائی دیتے ہیں تب وہ انہیں مذاکراتی میز پر لانے کے لئے بمباری کر رہا ہے جبکہ اس کے برعکس یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکا درحقیقت افغانستان میں امن نہیں چاہتا اور جب اس نے یہ اندازہ کیا کہ طالبان بات چیت پر آمادہ ہو رہے ہیں تب ان پر بمباری کر کے انہیں مزید تشدد اور جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے، مگر عالمی ذرائع ابلاغ میں جو خبریں اور تجزیئے شائع ہو رہے ہیں ان کے مطابق امریکا ہر طرح سے افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور روس و دیگر علاقائی قوتوں کی بھی یہی خواہش ہے۔ 

اب جبکہ بعض اہم افغان دھڑے مذاکرات کی خواہش رکھتے ہیں اور مخلوط حکومت یا مشترکہ حکومت سازی کے حوالے سے بھی سرگوشیاں سُنائی دے رہی ہیں تو پھر یہ سوال سر اُٹھاتا ہے کہ آیا کیسی مخلوط حکومت، کیونکہ مخلوط حکومتیں کمزور اور غیرمستحکم ہوتی ہیں۔ فیصلے کرنے کا حق کس کے پاس ہوگا، پالیسی سازی کون کرے گا، کیسے کرے گا جبکہ طالبان اپنا خودساختہ شرعی ایجنڈا ساتھ لا رہے ہیں۔ اس طرح کے بہت سے ضمنی سوالات ہیں جن کے جواب کسی کے پاس نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طالبان نے گزرے بیس تیس برسوں میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ دُنیا دیکھ رہی ہے کہ مختلف ملکوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ 

اس حوالے سے ان میں ان کی فکر و افکار میں کچھ نہ کچھ لچک ضرور آئی ہوگی۔ مگر بیش تر لوگوں کا خیال ہے کہ طالبان میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ ان کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت نہیں بنائی جا سکتی۔ اس بحث سے قطع نظر کہ اگر مخلوط حکومت بنتی ہے تو اس کا انجام کیا ہوگا اب ایک اور بحث چل پڑی ہے کہ امریکا کی حکمت عملی یہ ہے کہ کسی طرح چین کو طالبان سے ٹکرا دیا جائے اور چین طالبان کےساتھ اُلجھ پڑے۔

یہ مفروضہ دُرست نہیں معلوم ہوتا، ہو سکتا ہے امریکی سرکاری حلقوں میں ایسے عناصر یقیناً موجودہوں جن کی خواہش ہوگی وہاں چین اُلجھائے اور اس کی ون روٹ ون بیلٹ پالیسی متاثر ہو کیونکہ چین نے ہمیشہ اپنے پتّے ٹھنڈے ذہن سے سنبھل سنبھل کر کھیلے ہیں۔ وہ ایسی کوئی پالیسی نہیں اپنائے گا جس سے اس کا براہ راست طالبان سے ٹکرائو ہو جائے۔ موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اب تمام ذمہ داری افغان فوج پر ڈال رہا ہے اس کو فرنٹ لائن پر طالبان سے لڑنے کی ذمہ داری سونپ رہا ہے جبکہ وہ افغان فوج کی ہوائی حملوں سے مدد کرنا چاہتا ہے اور وہ شروع کر چکا ہے۔ افغان فوج پہلے طالبان سے ہر جگہ ٹکرا جاتی تھی اور اس کو منہ کی کھانی پڑتی تھی مگر اب افغان فوج نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اب ہر جگہ ٹکرانے کے بجائے وہ صوبائی دارالحکومتوں کی حفاظت کرنے اور ان پر طالبان کا قبضہ روکنے کے لئے لڑ رہی ہے اور امریکا ہوائی حملوں سے افغان فوج کی مدد کررہا ہے اور یہ حکمت عملی کامیاب نظر آتی ہے۔ 

طالبان کی پیش قدمی سست پڑ رہی ہے اور کوئی بڑا شہر فتح نہیں ہوا ہے۔ واضح رہے کہ افغان فوج کی افرادی فوجی قوت تین لاکھ سے زائد سپاہیوں پر مشتمل ہے جبکہ طالبان کی مجموعی قوت پچھتر ہزار سے زائد جنگجوئوں پر مشتمل ہے۔ امریکا اس طویل عرصے میں طالبان کو ختم نہیں کر سکا مگر یہ ضرور ہے کہ اس نے طالبان کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔ اس لئے امریکی فوجیوں کے انخلاء سے دیگر ممالک پریشان تھے کہ افغانستان کا کیا ہوگا۔ سب سے زیادہ روس کو تشویش تھی کہ امریکی انخلاء کے بعد یقیناً طالبان وسطی ایشیا کی ریاستوں ازبکستان، قازقستان اور ترکمانستان کی طرف پیش قدمی کریں گے جہاں مسلم آبادی اکثریت میں ہے۔ ایسے میں روس کے لئے مسائل میں اضافہ ہو جاتا اور خطّے کا امن خطرے میں پڑ سکتا تھا۔

افغانستان سے حال ہی میں موصولہ خبروں میں بتایا گیا کہ امریکی فوج کے افغانستان میں سربراہ جنرل آسٹن اسکاٹ نے اپنی کمان چھوڑ دی ہے اور ان کی جگہ جنرل کینتھ میکنزی نے کمان سنبھال لی ہے۔ اس حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں امریکا ممکن ہے اپنی حکمت عملی میں مزید تبدیلیاں کر سکتا ہے۔ مگر اس کا امکان نظر نہیں آتا امریکا فرنٹ لائن پر افغان فوجوں کو رکھنا چاہتا ہے اور ہوائی حملوں سے ان کی مدد کرنا چاہتا ہے اور یہ تجربہ کامیاب نظر آ رہا ہے۔ اس لئے مزید تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ 

البتہ امریکا یہی چاہتا ہے کہ افغانستان پر سول حکومت کا قبضہ رہے اور طالبان کو کابل سمیت دیگر اہم شہروں سے دُور رکھا جائے اور افغان فوجی ان سے لڑتے رہیں۔ اس کے علاوہ بتایا جاتا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کی ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے نگرانی مزید سخت کر دی ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ طالبان میں شامل گروہوں میں بعض گروہ بھی القاعدہ،خصوصاً داعش سے شاکی ہیں اور ان گروہوں کی مداخلت کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ تاہم افغانستان کے حالات غیریقینی صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ عوام کی اکثریت بھی جاری صورت حال سے سخت بیزار ہے۔