• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

قرآن اللہ کا آخری کلام ہے ۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔ نزول قرآن ایک ایسا واقعہ ہے ،جو بلاشبہ اب قیامت تک دوبارہ رونما نہیں ہوگا۔ اگر کوئی مورخ ہر قسم کے اثرات سے الگ ہو کر یکسر غیر جانب دارانہ طور پر تاریخ انسانیت پر نگاہ ڈالے اور یہ دیکھے کہ وہ کون سا واقعہ ہے، جسے اس پوری تاریخ میں سب سے بڑا اور عظیم انقلاب انگیز قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ یقینا ًاس نتیجے پر پہنچے گا کہ وہ واقعہ ’’نزولِ قرآن ‘‘ ہے۔ یہ بات محض بر بنائے عقیدت نہیں کہی جارہی ، جن غیر مسلم مورخین و مفکرین نے تعصب اور جانب داری سے ہٹ کر تاریخ انسانی پر غور کیا ہے وہ از خود اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’’ نزولِ قرآن ہی تاریخ انسانی کا عظیم ترین انقلابی واقعہ ہے‘‘۔

خالقِ کائنات کا قرآن کو نازل کرنے کا مقصدبہت ارفع و اعلیٰ ہے۔ اِسی مقصد کے لئے کائنات تخلیق کی گئی، اِسی مقصد کی خاطر انسان کو پیدا کیا گیا اور اسے اشرف المخلوقات کی خلعت پہناکر خلافتِ الہٰیہ کی دستار فضلیت سے سر فراز و مشرف کیا گیا، اِسی مقصد کے حصول کے لئے انبیائے کرام علیہم السلام کو دنیا میں بھیجا گیا اور اِسی مقصد کی تکمیل کے لئے فخر انسانیت امام الا نبیاء ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر مبعوث کیا گیا۔اگر ہم نزول قرآن سے قبل کی دنیا کا جائزہ لیں تو نقشہ کچھ یوں اُبھرتا اور تصویر کچھ ایسی نظر آتی ہے کہ نزول قرآن کے وقت دنیا میں ہر طرف گمراہی، ظلم، جہالت، شرک و بت پرستی وحشت و بربریت کی تاریکی اورغلامی و انسانی محکومی کا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ 

انسان اِس ظلمت اور تاریکی میں بھٹک رہا تھا کہ اسے اِس تاریکی میں’’ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا‘‘ کے مصداق اس ظلمت و جہالت سے نجات کی کوئی راہ نظر نہ آتی تھی، ہدایت و فلاح کی کوئی تدبیر سجھائی نہ دیتی تھی، اِس ماحول میں رمضان کے مبارک مہینہ کی ایک رات میں( رات کاوقت اِس لئے کہ ساری دنیا جہالت کی تاریکیوں میں لپٹی ہوئی تھی) طلوع سحر کی منتظر یہ شب تاریخِ عالم میں عدیم النظیر اور فقید المثال تھی۔ یہ حِدّ فاصل تھی دنیائے قدیم اور جہان نو میں اس رات ضمیر کائنات نے ایک نئی کروٹ لی جس سے زندگی جو اپنے مقام سے بے خبر چلی آرہی تھی، اپنے مقام اور منصب سے آشنا ہوئی۔ 

تمام نظامہائے کہن جو غیر فطر ی بنیادوں پر استوار تھے، باطل قرار پاگئے اور دنیا کو ایک نیا آئین حیات عطا ہوا۔ جس میں تکمیل شرفِ انسانیت کی تمام راہیں واضح طور پر سامنے آگئیں۔ انسان کو حق و باطل کی تمیز کے صحیح پیمانے عطا ہوئے، اس لئے اِس رات کو قدر و منزلت کی رات کہہ کر پکارا گیا۔ جس میں حق و باطل نکھر کر الگ الگ ہو گئے۔ ظلمت چھٹ گئی اور نور پھیل گیا۔ اور انسانیت کو قرآن کی شکل میں قیامت تک کی زندگی کے لئے دستورِ حیات ہاتھ آگیا۔

یہ تھا وہ ماحول جس میں قرآن کا نزول ہوا یہ ماحول خود بتا رہا ہے کہ قرآن کے نازل کرنے سے مقصد کیا تھا یہ ماحول فطرت سے اس بات کا تقاضا کررہا تھا کہ انسانیت جاں بہ لب ہے کمزورو مظلوم انسانوں کو اپنے ہی جیسے انسانوں نے اپنا غلام اور محکوم بنایا ہوا ہے۔ انسانیت چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ کوئی ہے جو انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلائے۔ انسانوں کے خالق و مالک نے انسانیت کی یہ پکار اور فریاد سن لی اور ایک ایسا قانون و آئین اوردستورِ حیات نازل کر دیا کہ جو انسانیت کو ظلم، جہالت، بت پرستی، غلامی اور انسانی محکومی کی ظلمت اور اندھیروں سے نکال کر نور اور آزادی کی روشنی میں لے آیا۔ اور یہ اعلان عام کردیا کہ اِس قرآن کے نازل ہونے کے بعد کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے ہی جیسے انسانوں کو اپنا غلام بنائے اور ان پر حکومت کرے، کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے انسانوں کے لئے قانون سازی کرے اور اُن سے اس قانون کی اطاعت کرائے اور انسانوں کے معاملاتِ روز و شب کے فیصلے انسانی ذہن کے وضع کردہ قانون کے مطابق کرے۔ نزولِ قرآن کے بعد انسانوں کے خالق و مالک اللہ نے یہ واشگاف اعلان اورا ٹل فیصلہ فرمادیا کہ ’’جو لوگ اپنی زندگیوں کے معاملات کے فیصلے اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق نہیں کرتے وہی لوگ تو کافر ہیں‘‘۔(سورۂ مائدہ: ۴۴)

پھر صرف اتنا ہی نہیں کہ غیر خداوندی قانون کے مطابق فیصلے کرنے والے لوگ کافر ہیں بلکہ ’’یہی لوگ ظالم بھی ہیں‘‘(سورۂ مائدہ: ۴۵)

اور قرآن کے فیصلے کے مطابق ایسے ہی لوگ درحقیقت ’’ فاسق بھی ہیں‘‘۔ (سورۂ مائدہ: ۴۷) معلوم ہوا کہ جو لوگ کتابِ خداوندی کے مطابق اپنے معاملات ِزندگی نہیں نمٹاتے، اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کے قضیوں کو قرآن کے مطابق حل نہیں کرتے انہی کو کافر، فاسق اور ظالم کہا جاتا ہے۔ جو کفر کی ظلمتوں میں بھٹکتے رہتے ہیں، جو غیر خداوندیِ قانون کے فیصلوں کے باعث فسق اور ظلم کی تاریکیوں سے باہر نہیں آپاتے۔ حالانکہ یہ قرآن تو بنی نوع انسان کے نجات دہندہ اور محسن انسانیت ﷺ پر نازل ہی اس لئے کیا گیا تھاکہ’’(اے نبی ﷺ) یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا تاکہ تم بنی نوع انسان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ‘‘ (سورۂ ابراہیم: ۱)

اللہ نے اِس قرآن کو اس وقت جبکہ ساری دنیا آسمانی ہدایت اور نور سے محروم ہو کر تیرہ و تاریک ہو چکی تھی، نئی اقدار اور نئے پیمانے دے کر نازل کیا جس رات کو اس کے نزول کا آغازہوا وہ رات ایک جہان نو کے نمودار ہونے کی رات تھی۔ یہ قدرو منزلت اور نئے پیمانوں کی رات ، جس میں اس کتاب کا نزول ہوا۔ سچی بات یہ ہے کہ دنیا نے اُس کتاب کی عظمت کو پہچاناہی نہیں۔ اس لئے وہ ابھی تک تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی ہے اور ہزار ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود زندگی کے صحیح راستے پر گامزن نہیں ہو سکی۔ 

جس دن یہ حقیقت اس کی سمجھ میں آگئی کہ کائنات کی شب دیجور کی تارکیاں اِس مہر عالمتاب کی ضوفشانیوں سے ہی دور ہوسکتی ہیں جوقرآن کی شکل میں نمودار ہوا تھا، منزل انسانیت کی سیدھی راہ (صراط مستقیم) اس کے سامنے آجائے گی۔ راستہ اب بھی موجود ہے اور وہ مہر عالمتاب اپنی پوری تابندگی سے نور افشاں بھی، صرف اتنی کمی ہے انسان نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے وہ قرآن کی اس روشنی سے محروم ہے جس دن اس نے اپنی آنکھیں کھول لیں، یہ سیدھا راستہ اِس کے سامنے آجائے گا اور مقصد و غا یتِ نزول قرآن بھی سمجھ میں آجائے گا۔

’’سچائی‘‘ جنّت اور نجات کا راستہ…!

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ ’سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، آدمی سچ بولتے بولتے ’’صدیق‘‘لکھا جاتا ہے، جب کہ جھوٹ برائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ، برائی آگ کا راستہ دکھاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتے بولتے کذّاب(بہت جھوٹ بولنے والا) لکھا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری)