• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم آزاد کشمیرکون؟ بیرسٹر سلطان یا تنویر الیاس

برمنگھم( آصف محمود براہٹلوی)آزادکشمیر کے انتخابات میں حسب روایت وفاق میں قائم حکومت کے حامی کامیابی سے ہمکنار ہوئے، عموماً جماعت کا صدر یا پارلیمنٹری لیڈر ہی قائد ایوان منتخب ہو جاتا ہے، جیسے ماضی میں راجہ فاروق حیدر خان اور چوہدری عبد المجید منتخب ہوئے تھے لیکن یہاں معاملات خاصے مختلف ہیں چونکہ الیکشن سے قبل پی ٹی آئی میں واضح دو گروپس تھے، ایک کی قیادت سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور دوسرے گروپ کی قیادت سردار تنویر الیاس کر رہے ہیں، اس سے قبل ٹکٹوں کے معاملے پر بھی کھینچاتانی تھی، اب دونوں دھڑے اپنا اپنا زور لگا رہے ہیں، یقیناً فیصلہ ہو چکا ہے البتہ اس پر عمل درآمد کیسے کرایا جاتا ہے وہ حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، بیرسٹر سلطان محمود چوہدری چونکہ دھڑے کی سیاست کے ماہر جانے جاتے ہیں ماضی میں بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے کشمیر کونسل کے امیدوار ثالث کیانی کے مقابلے میں اپنا امیدوار حمید پوٹھی کو کامیاب کروا چکے تھے، اس لیے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد نئی قیادت کی گڈ بک میں نہ ٹھہرے اور پی پی کو خیرآباد کہہ دیا اب بھی سیانے کہتے ہیں کہ موجودہ26 پی ٹی آئی کے منتخب اراکین میں 10سے 12 ممبران بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھ ہیں اور سوشل میڈیا پر مہم بھی چلا رہے ہیں، انتخابی مہم میں وزیر اعظم کے نعرے بھی لگتے رہے، اب ذرائع کے مطابق اعلیٰ قیادت اس بات کو ہضم نہیں کر رہی، اس لیے اعلیٰ قیادت نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو صدر ریاست بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بیرسٹر سلطان کو پاور پالیٹکس سے دور کیا جا سکے۔ دوسری طرف سردار تنویر الیاس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی قیادت میں پی ٹی آئی صرف دو نشستیں ہ حاصل کر سکی تھی اور بعد میں ضمنی الیکشن میں خود کامیاب ہوئے تھے، اب کی بار جماعت کی جیت کا سبب سردار تنویر الیاس ہیں ۔ لگتا ہے عمل درآمد کرانے والوں نے خوب گیم کھیلی بیرسٹر سلطان محمود کے حامیوں نو منتحب رکن اسمبلی ڈاکٹر نثار عنصر ابدالی کو بذریعہ ہیلی کاپٹر مظفر آباد سے اسلام آباد طلب کیا۔ خواجہ فاروق پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ چوہدری اخلاق کو وفاق کی گاڑی کے ذریعے کشمیر ہاؤس سے وزیراعظم ہاؤس طلب کیا گیا۔ عین وقت پر ڈڈیال سے رکن اظہر صادق کا نام بھی اعلی ایوانوں میں گونجنے لگا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اب یہ ممبران دھڑے بندی کے بجائے خود وزیر اعظم آزادکشمیر کے امیدوار یا پھر بڑی وزارتوں پر براجمان ہوں گے۔ کیا وجہ کے صرف وزیر اعظم عمران خان سے صرف بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے حامی نو منتحب اراکین کی ملاقاتیں ہوں گی یہ مرکزی پوائنٹ ہے جو توجہ طلب ہے ان ملاقاتوں کے بعد سلطان محمود اور تنویر الیاس و دیگر ممبران کے ہشاش بشاش چہرے نمایاں تھے، ممکنہ امیدواروں نے بیک زبان کہہ دیا ہمیں پارٹی چیئرمین اور وزیر اعظم عمران خان کا فیصلہ قبول ہے۔ اس صورت میں نئی حکومت کے لیے کوئی مشکل نہیں ہو سکتی۔ لیکن مستقبل میں اس حکومت کو مسائل کا سامنا رہے گا۔ مضبوط اپوزیشن انھیں ٹف ٹائم دے گی جیسے انتخابی اتحاد کے باوجود مسلم کانفرنس نے اپنے امیدوار پی ٹی آئی کے امیدواروں کے حق میں دستبردار نہیں کیے اور نہ ہی پی ٹی آئی نے اپنا کوئی امیدوار مسلم کانفرنس کے امیدواروں کے حق میں دستبردار کئے بلکہ آٹھ ایسی سیٹیں ضرور ہیں جہاں مسلم کانفرنس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ الیکشن سے قبل مسلم کانفرنس کی قیادت برملا اعلان کرتی تھی کہ اپ اس ملک کے صدر اور اسپیکر کو ووٹ دے رہے ہیں اب ان کی خاموشی بتا رہی ہے کہ گلگت بلتستان میں آزاد امیدواروں کا کردار یہاں سے مسلم کانفرنس سے حاصل کر لیا گیا البتہ پاکستان پیپلز پارٹی ماضی کے برعکس یہاں سے 11 نشستوں کے ساتھ سنگل اپوزیشن کی بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اور 6 سیٹیں ن لیگ اور ایک سیٹ مسلم کانفرنس کی ملاکر مضبوط اپوزیشن ہو گی۔ خواتین کی مخصوص نشستوں اور بالخصوص اوورسیز ایم ایل اے کی نامزدگی پر درجنوں امیدوار ایسے تھے جو گزشتہ کئی ماہ سے آزادکشمیر میں قیام پذیر تھے، وہ بھی اب مرکزی قیادت سے نالاں ہیںآئندہ دو تین روز میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔
یورپ سے سے مزید