• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

6 سالہ بچی سے زیادتی ملتان سے آنیوالے رکشہ ڈرائیور نے کی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کورنگی میں کمسن بچی کے اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کیس میں پولیس کو اہم پیشرفت حاصل ہوئی ہے ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے ملزم ذاکر نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرلیا ہے اور ڈی این اے رپورٹ کے بعد باقاعدہ گرفتاری ظاہر کردی جائےگی ۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم بار بار اپنا بیان تبدیل کررہا تھا تاہم دوران تفتیش اس نے بچی کو ساتھ لے جانے اور زیادتی کرنے کا اعتراف کرلیا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ واقعہ کے روز رات ساڑھے گیارہ کے قریب اس نے بچی کو رکشے میں بٹھایا تھا، وہ ایک گھنٹہ بچی کو رکشہ میں گھماتا رہا جبکہ راستے میں وہ نشہ کرتا رہا ،ساڑھے بارہ بجے کےقریب وہ بچی کو اتوار بازار گراونڈ لے گیا ،ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ مجھ پر شیطان غالب آیا اور میں گرائونڈ کےسامنے درخت کے نیچے رکشہ لگا دیا اور رکشہ کی پچھلی سیٹ پر بچی کےساتھ زیادتی کی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے مزید بتایا کہ بچی زیادتی کے بعد بھی زندہ اور نیم بیہوش تھی، اچانک بچی نے رکشہ سے جمپ لگا دی، بچی جمپ پر گری جس سے اسکی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی ، اندھیرا ہونے کی وجہ سے بچی کو کچھ نظر نہیں آیا وہاں کوئی اور نہیں تھا اس لئےمیں پھر بچی کو اٹھا لیا بچی کو میں رکشے میں لیکر گھومتا رہا پھر کریم گرائونڈ سے ایک کپڑا اٹھا کر بچی پر ڈال دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے بچی کو پھر کچرے خانے پر پھینکا اورگھر آگیا اور بیوی کو بتایا کہ میں جناح گیا تھا سواری لیکر،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم شام میں اپنے گھر آیا تھا کپڑے لینے اور اس نے ملتان کا ٹکٹ لیا ہوا تھا، ملزم نے بیوی کو فون کیا اور بچوں سمیت فرار ہونا چاہتا تھا ،پولیس زرائع کے مطابق ملزم نے فیملی کو پہلے سندھی ہوٹل پھر سہراب گوٹھ بلایا تھا ، ملزم کا سابقہ سیاسی جماعت کا کارکن رہ چکا ہے ،ملزم نشے کا عادی ہے۔ دوسری جانب پولیس افسران کا اب تک سرکاری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے ،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش ابھی چل رہی ہے اور قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ،پولیس تکنیکی بنیادوں پر کام کررہی ہے اور ڈی این اے رپورٹ کے بعد ساری صورتحال واضح ہوجائے گی ۔ دوسری جانب بچی کے خاندان پر زمان ٹاؤن تھانے کے سابق ایس یچ او کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی بھی باتیں سامنے آرہی ہیں جس کے مطابق بچی کے ورثا کو کہا جارہا ہے بیان دو کہ ایس ایچ او اور ڈیوٹی آفیسر کی کوئی غلطی نہیں ہے تاہم بچی کے ورثا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطے میں ہیں اور ہمیں صرف انصاف چاہیے۔

اہم خبریں سے مزید