• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت نے ایل این جی صارفین سے 47 کروڑ 30 لاکھ روپے اینٹھ لئے

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) حکومت نے غیرقانونی طورپر ایل این جی صارفین سے 47 کروڑ 30لاکھ روپے اینٹھ لیے ہیں۔ تاہم، وزارت توانائی کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ پی ایل ایل میں ضم ہونے کے بعد پی ایل ٹی ایل ختم ہوچکی لیکن اس کے افعال باقی ہیں، اس لیے مارجن فیس وصولی درست ہے۔ تفصیلات کے مطابق، حکومت نے گزشتہ سات ماہ میں ایل این جی صارفین سے غیرقانونی طور پر 29 لاکھ 60 ہزار ڈالرز (تقریباً47 کروڑ 30 لاکھ روپے) اینٹھ لیے ہیں۔ یہ رقم پاکستان ایل این جی ٹرمینل لمیٹڈ (پی ایل ٹی ایل) فرق کی مد میں لی گئی ہے جو کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے ساتھ یکم جنوری، 2021 سے ضم ہوچکا ہے۔ جب کہ پی ایل ٹی ایل کا اب کوئی ایم ڈی اور سی ایف او نہیں ہے۔ حکومت نے یہ رقم ایل این جی صارفین سے ایل این جی سروسز معاہدے (ایل ایس اے) مینجمنٹ فیس کے طور پر حاصل کی ہے جو کہ 0.025 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو بنتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ایل ٹی ایل کی کوئی آفیشل ویب سائٹ بھی نہیں ہے۔ حیرت انگیز طور پر 2 اگست ، 2021 کو اوگرا کی جانب سے ایل این جی قیمتوں کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اسے واپس لے لیا گیا ہے کیوں کہ پی ایس او نے 20 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو (برینٹ کا 27.87 فیصد) پر ایل این جی خریدنے سے انکار کردیا ہے، جب کہ لفظ پی ایل ٹی ایل مارجن کو ایل ایس اے کانٹریکٹ کی مد سے نکال دیا گیا ہے۔ دی نیوز کے پاس موجود اعدادوشمار کے مطابق، پی ایل ایل نے دونوں اداروں کے ضم ہونے کے بعد 21 جنوری تک 5 کارگوز درآمد کیے تھے ، جس پر حکومت نے 0.025 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے پی ایل ٹی ایل مارجن کی مد میں رقم وصول کی جو تقریباً 4 لاکھ ڈالرز (64 لاکھ روپے) بنتے ہیں۔ جب کہ 21 فروری، تک تین کارگوز درآمد کرکے 2 لاکھ 40 ہزار ڈالرز (تقریبا 38 لاکھ 40 ہزار روپے) وصول کیے گئے۔

اہم خبریں سے مزید