• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گاڑی میں سفر کے دوران کھڑکی سے باہر دوڑتے مناظر دیکھنا میرا ایک دلچسپ مشغلہ ہے۔ مختلف مناظر سوچوں کے نت نئے در وا کرتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ چند دن پہلے اتوار کی دوپہر بارہ ایک بجے کے قریب گلشن سے ڈیفنس تک کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا، ایک بارونق سڑک سے سفر کا آغاز ہوا ہر طرف گہما گہمی اور ہلچل تھی ۔ کراچی میں لوگ دیر سے سوکر اٹھتے ہیں اس لئے وہ وقت زیادہ تر لوگوں کے ناشتے کا وقت تھا۔ میں دلچسپی سے لوگوں کو دیکھ رہی تھی کوئی انڈے ڈبل روٹی لیے جارہا تھا تو کوئی حلوہ پوری کے لئے لائن میں لگا ہوا تھا، کہیں چائےکے ساتھ گرما گرم پراٹھے مل رہے تھے تو کہیں پیڑوں والی لسی اور دودھ کی بوتلیں بک رہی تھیں، نہاری روٹی کی دکانوں پر بھی رش تھا، جہاں نہاری اور گرماگرم تندوری روٹی کی خوشبو دور تک پھیلی ہوئی تھی ۔ 

خاتون خانہ ہونے کے سبب بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ میں صبح گھر سے نکلوں، اس لئے یہ سب رونقیں دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا، اتفاق سے رات گئے بھی ہم اسی سڑک سے گذرے تھے، جب بھی میں نے کھانے پینے کی دکانوں اور ہوٹلوں پر ایسا ہی رش دیکھا تھا ، پیزا، برگر، تکے کباب، تلی ہوئی مچھلی، بریانی، سجی ، حلوے ، مٹھائیاں اور ٹھنڈی ٹھنڈی بوتلیں یعنی کھا لے، پی لے، جی لے پر پورا پورا عمل۔ میں نے سوچا کہ کیا اب ہم لوگوں کی زندگی میں ایک ہی تفریح رہ گئی ہے، کھانا، کھانا اور صرف کھانا۔ 

کسی کی سالگرہ ہے تو کھانا ، کوئی امتحان میں کامیاب ہوا تو کھانا، شادی کی سالگرہ ہے تو کھانا، کوئی بیماری سے صحتِ یاب ہوا تو کھانا ،مطلب کھانے کے علاوہ ہم لوگوں کو اور کچھ نہیں سوجھتا ،یہا ںتک کہ موت پر بھی تدفین کے بعد سے جو کھانے شروع ہوتے ہیں تو برسی تک جاری رہتے ہیں ۔ یہ سوچتے سوچتے میں نے مزید دکانوں پر غور شروع کردیا، ہر طرف کھانے سے متعلق ہی دکانیں تھیں، کہیں مرغی کی دکانیں تو کہیں گوشت کی دکانیں، کہیں سبزی تو کہیں دالیں ، کہیں پھل تو کہیں ڈونٹس، کہیں کیک تو کہیں بسکٹس، کہیں آٹا تو کہیں چینی ۔ لوگوں کا اتنا کھانا پینا اور شادی کی تقریبات میں کھانے کا زیاں دیکھ کر تو اکثر یہ خیال بھی آجاتا ہے کہ پاکستان غریب ممالک کی فہرست میں کیسے آگیا ؟

انسان کا پیٹ ہے یا دوزخ جو بھرتا ہی نہیں، ابھی ان خیالوں میں مصروف ہی تھی کہ گاڑی نے موڑ کاٹا اور اب منظر بدل چکا تھا ۔ منظر بھی ایسا بدلا تھا کہ جس نے دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سامنے چورنگی پر لائن سے بیسیوں مزدور دہاڑی کے انتظار میں بیٹھے تھے اور آنے جانے والوں کو اُمید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔کسی کے سامنے بیلچہ دھرا تھا تو کسی کے سامنے پھاؤڑا، کوئی رنگساز تھا تو کوئی پلمبر ، کوئی جمعدار تھا تو کوئی کسی بھی قسم کی مزدوری کو تیار بیٹھا تھا ۔ہر محنت کش کے چہرے پر اس کی ضرورت بن کہے نظر آرہی تھی۔ مجھے لگا کہ جیسے میرا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو، ان میں سے نہ جانے کتنے ایسے ہوںگے کہ جنہوں نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا؟ 

نجانے کتنے ایسے ہوں گے جو اپنے گھروں میں بھوکے بچوں کو چھوڑ کر یہاں مزدوری کی تلاش میں بیٹھے ہوںگے؟ وباء کے دنوں میں ویسے بھی اس طرح کے کام کرنے والوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ لوگ انہیں انتہائی ضرورت کے تحت ہی بلاتے ہیں، ورنہ آج کل کرونا کے باعث لوگ گھروں میں رنگ و روغن جیسے کام کروانے سے بھی گریز کر رہے ہیں اور باقی کاموں کو بھی جتنا ٹالا جا سکتے ہیں ٹالا جارہا ہے ۔ اف میرے اللہ! سوچا جائے تو تصویر کا یہ دوسرا رخ کتنا دردناک ہے ان مزدوروں کو دیکھ کر شدید احساس ہوا کہ واقعی پیٹ کا دوزخ بھرنا کتنا مشکل ہے ۔ کہتے ہیں ناں کہ جب بھوک لگی ہو تو چودھویں کا چاند بھی روٹی نظر آتا ہے اور بقول شاعر

بھوک میں کوئی کیا بتلائے کیسا لگتا ہے

سوکھی روٹی کا ٹکڑا بھی تحفہ لگتا ہے

سڑک کے کنارے بیٹھے ان مزدوروں کی سوچ میں بھی روٹی کے سوا کیا آتا ہوگا ؟ کبھی غور کیجئے گا کہ ان کے قریب سے گذرتی گاڑی کی رفتار اگر کسی وجہ سے ہلکی ہو جائے تو ان مزدوروں کی آنکھوں میں چراغ جل اٹھتے ہیں ۔جس کے گھر میں بچے بھوک سے بلک رہے ہوں وہ ان، کھا لے، پی لے ، جی لے والوں کو دیکھ کر کیا سوچتا ہوگا؟؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی بھوکا انسان " پیٹ کا دوزخ " بھرنے کی تگ و دو سے تھک کر اتنا مجبور ہو جاتا ہے کہ ان بد نصیبوں میں شامل ہوجاتا ہے کہ جن سے " دوزخ کا پیٹ " بھرا جائے گا استغفرُللہ۔۔بھوک کیا کچھ نہیں کرواتی عصمت فروشی، چوری، ڈکیتی ، دھوکہ دہی، گداگری مذہب سے دور انسان ان سب برائیوں کا جلد شکار ہوجاتاہے ترقی پذیر ممالک کی 13.5 فی صد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے ۔

پرائمری اسکول جانے والے چھ کروڑ دس لاکھ بچے بھوکے اسکول جاتے ہیں اور ہم تقریبات، ریستورانوں وغیرہ میں بے شمار کھانا ضائع کرتے ہیں ۔افسوس کی بات ہے کہ گلاس میں تھوڑا سا شربت چھوڑنا’’ ایٹی کیٹس‘‘ کہلاتا ہے ۔ قارئین کی اطلاع کے لیے بتا دوں کہ کھانا ضائع کرنے والے ممالک میں امریکہ کا پہلا نمبر ہے اور گلوبل کمیشن اکانومی اینڈ کلاءیمنٹ کی رپورٹ کے مطابق 2050 تک کھانے کا زیاں مزید بڑھ جائےگا ،اس لئے اب کم ازکم ہم جیسے ملک کے رہنے والوں کو ان کی نقالی چھوڑنی چاہیے۔ 

ویسے تو حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کی شدید ضرورت ہے کہ لوگ بھوکے نہ رہیں لیکن انفرادی سطح پر ہم بھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اتنا تو کرسکتے ہیں کہ کبھی کبھی ان چوراہوں پر بیٹھے مزدوروں کی تھوڑی بہت مدد کردیں ، صاحب حیثیت افراد وہاں راشن بانٹ دیں یا کھانا کھلا دیں ۔ جو خود حلال کی روزی بمشکل کما کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں وہ بھی کبھی کبھار، سب کی نہیں کرسکتے تو کم از کم ایک کی ہی خاموشی سے مدد کردیں کسی ایک کی پیٹ کی آگ بجھے گی تو شاید وہ بھی دوزخ کا پیٹ بھرنے والا بننے سے بچ جائے اور اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی بچالے۔

کرو مہربانی تم اہل زمیں پرخدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر