آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کس نے جانا تھا کہ ” ایک اسکول جاتی لڑکی کی ڈائری“ لکھنے والی سوات کی چھوٹی سے گمنام بچی ایک دن دنیا بھر میں بہادری اور علم کی روشنی اور رہنما بن جائے گی۔ میں ملالہ کو پاکستان کی این فرینک کہوں گا۔ میں بھی کل ان سیکڑوں لوگوں کی لمبی قطار میں ایک شخص تھا جو نیویارک میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی طرف سے ان کی رہائشگاہ پر ملالہ کے اعزاز میں دیئے جانے والے استقبالیے کی تقریب کے دوران جسے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ پاکستان کی اس بہادر لڑکی سے ہاتھ ملائے اور اس کی عظمت کو سلام پیش کرے۔ میں ملالہ کو پاکستان کی این فرینک کہوں گا۔ میں نے ملالہ سے پوچھا کہ کیا اس نے این فرینک کی لکھی ہوئی ”دی ڈائری آف اے ینگ گرل“ پڑھی ہے تو اس نے کہا”ہاں میں نے پڑھی ہے“۔
این فرینک کی ڈائری شاید دنیا میں آج تک سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ این فرینک تقریباً ملالہ کی ہم عمر یہودی لڑکی تھی جو جرمنی میں ہٹلر کی طرف سے یہودیوں پر ہونے والے مظالم سے اپنے بھاگنے والے خاندان کے ساتھ جرمنی سے ہالینڈ چلی گئی تھی اور ہالینڈ پر نازیوں کے قبضے کے دوران وہ اور اس کا خاندان ایک گھر کے تہہ خانے میں روپوش ہوگیا تھا۔ نازی شکاری کتوں کی طرح یہودیوں کی بو سونگھتے پھرتے تھے اور این فرینک تہہ خانے میں روپوش اپنے احساسات و

خیالات شب و روزاپنی ڈائری، میں لکھتی رہی تھیں۔ این فرینک کسی مخبری پر پکڑی گئی تھی اور اپنے کنبے سمیت وہ نازیوں کے کنسنٹریشن کیمپ میں قید کر دی گئی جہاں وہ فوت ہوگئی تھی۔ کئی برسوں بعد این فرینک کی ڈائری پہلی بار چھپی اور آج تک کئی زبانوں میں چھپتی آ رہی ہے۔ میں نے ماضی قریب میں دنیا کے کتاب گھروں کی شیلفوں پر این فرینک کی ڈا ئری کے ساتھ مختاراں مائی کی چھپی ہوئی آپ بیتی رکھی ہوئی دیکھی تھی تو مجھے بے حد خوشی ہوئی تھی۔
میں نے، میری نسل نے پہلی بار این فرینک کا نام عظیم سندھی شاعر شیخ ایاز کی شاعری کے ذریعے سنا تھا۔ شیخ ایاز آج تک شایدبرصغیر جنوبی ایشیاء کا پہلا شاعر ہے جس نے این فرینک کی بہادری مظلومیت اور نازیوں کی مذمت میں شاعری کی تھی۔ ایک مظلوم و بہادر یہودی لڑکی این فرینک،اپنے اور اپنی ہمجولیوں پر ظلم کو اپنی بہادری اور ایک للکار میں ڈھالنے والی مسلمان پختون لڑکی ملالہ یوسف زئی میں کتنی مماثلت ہے۔ ملالہ بھی این فرینک کی ہی ہم عمر ہے، ملالہ نے بھی اس وقت چھپ کر مخفی نام سے اپنی ڈائری لکھی جب سوات، اس کی وادی اور اس کے ملک پر طالبان کا قبضہ تھا۔ این فرینک بھی ڈائری لکھنے کے بعد (اگرچہ اس کی ڈائری ابھی شائع نہیں ہوئی تھی) نازیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئی جبکہ ملالہ پاکستان اور افغانستان کے نئی قسم کے فاشیوں اور نازیوں کے ہاتھوں حملے میں شدید زخمی ہوئی ۔ طالبان نے اس چھوٹی بچی کی پیشانی کے بائیں طرف نشانہ لیکر حقیقت میں خود کشی ہی کر لی۔ ملالہ زندہ سلامت ہے طالبان نے اپنے آپ پر خودکش حملہ کرلیا۔ اپنی پیشانی پر گولی کھانے والی لڑکی طلوع ہوتے ہوئی سورج کی کرن بن گئی ہے۔ سچ اور اس کی راہ میں بہتا ہوا خون تمام جغرافیائی سرحدیں پار کر کے آتا ہے، بقول شخصے دھرتی کی سیاہی پھاڑ کر سورج کی طرح طلوع ہوتا ہے۔ یہ سچ کا معجزہ ہے۔ جیسے وہ کل کی تقریب میں اپنی تقریر کے دوران یہ شعر پڑھ رہی تھی:
میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اجالا
مجھے کیا دبا سکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا
مجھے فکر امن عالم تجھے اپنی ذات کا غم
میں طلوع ہو رہا ہوں تو غروب ہونے والا
ملالہ اقوام متحدہ میں اپنے تاریخی خطاب کے دوران جب کہہ رہی تھی، ٹھیک کہہ رہی تھی ”طالبان اسلام اور پختوں دونوں کو بدنام کر رہے ہیں“۔ تو یہ اس کی فکر امن عالم کی علامت بن چکی تھی۔تصور کریں کہ ایک ایسا ملک جس کی اشرافیہ اپنی ذات کے غم میں غلطان ہو، جس کے اکثر لبرلز کی طالبان کے خلاف ساری لڑائی صرف شام کے گلاس کھنکنے کے سمے، یا ڈونر ایجنسیوں کے فنڈز ہضم کرنے پر ہو، وہاں ایک متوسط طبقے کے علم دوست ترقی پسند ضیاء الدین یوسف زئی کی بیٹی کا ایسے ملک کا ایک حقیقی سافٹ امیج بن جانا ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ ملالہ شاید پختون سماج میں باچا خان کے بعد ایک ایسا نام ہے جو پختونوں کا ناز بن گئی ہے ۔ نہ فقط پختونوں کا بلکہ فکر امن عالم کا۔
پشاور کے سی ایم ایچ کے ڈاکٹروں کو اس لڑکی کی فوری طور پر جان بچانے کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے۔ برطانیہ کے ان ڈاکٹروں کو سیلوٹ جو چھ ماہ میں ملالہ کی زندگی اور ذہن کے معمولات واپس لے آئے ۔ ایک ایسا ملک جہاں بچیاں بارش کا مزہ لینے اور اس میں اپنی وڈیو بنوانے پر قتل کی جاتی ہوں۔ وہاں کی ایک بڑی صاف اور طاقتور آوازملالہ بن کر ابھری ہے۔ابھی اس روشنی کو بہت سفر کرناہے جس کے اپنے ملک میں پانچ کروڑ بچے اسکول جانے کے حق سے محروم ہیں۔ یہ خوشحال خان، رحمن بابا اور غنی خان اور اجمل خٹک کی شاعری جیسے لوگ انہیں کوئی بھی گولی نہیں مار سکتا۔ اب تک کسی بھی باڑہ یا بوفورس میں ایسی کوئی گولی ایجاد ہی نہیں ہوئی جو اس عزم اور ولولے یا یقین کو مار سکے جو الفاظ کی صورت ملالہ کی زبان سے ادا ہوتا ہے اور دنیا اس پر مہر صادق ثبت کرتی ہے۔ منکران احترام زندگی شکست کھا گئے ہیں، وہ جو بقول کشور ناہید بچیوں سے ڈر گئے۔ بقول شیخ ایاز نگزیب اور خوشحال خان پھر مقابل آگئے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں