• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ حقیقت ہے کہ جب پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرا تو معاشی طور پر دیوالیہ تھا۔ بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمدورقت جاری تھی۔ گھر کی چھت سے پیٹ کا دوزخ تک بھرنے کے ساماں کیے جارہے تھے۔ سب مل جل کر ایک جذبے کے تحت کام کررہے تھے۔ وقت گزرتا رہا۔ ساماں زندگی ہوتا رہا، اسی طرح معیشت کا پہیہ چلتا رہا، کبھی آہستہ تو کبھی تیز۔ اسی اُتار چڑھائو میں پاکستان 74 برس کا ہوگیا۔ آج جب جمع، تفریق، تقسیم کے گورکھ دھندوں پر نظر ڈالتے ہیں تو بہت کچھ پڑھنے اور سمجھنے کو ملتا ہے۔ معیشت کے اتار چڑھائو، اعدادو شمار کا ایک اجمالی جائزہ نذر قارئین ہے۔

پاکستانی معیشت کے 74سال۔ ایک اجمای جائزہ

گزشتہ سات دہائیوں میں وطن عزیز میں معیشت کے شعبے میں عروج و زوال کے متعدد ادوار دیکھے گئے ہیں۔ آزادی کے ابتدائی برسوں اور موجودہ دور میں معیشت کے شعبے کے مندرجہ ذیل اعداد و شمار قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہونگے۔

(1) 1950ء میں پاکستان کی مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) کا حجم تقریباً 10؍ارب روپے تھا جو 30 جون 2021ء کو بڑھ کر 47709؍ارب روپے ہو گیا۔

(2) مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے باوجود آبادی کے لحاظ سے اگرچہ آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے مگر خالق کائنات کے عطا کردہ زبردست مادی وسائل ۔ دفاع و تجارت کے لحاظ سے شاندار محل وقوع، مہربان موسم اور زرخیر زمین کے باوجود معیشت کے حجم کے لحاظ سے پاکستان عالمی درجہ بندی میں 47 ویں نمبر پر ہے۔ نائن الیون کے وقت پاکستان کی فی کس آمدنی بھارت سے زیادہ تھی مگر آج بھارت تو کیا بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی بھی پاکستان سے زیادہ ہے۔

بنگلہ دیش کی جی ڈی پی، برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں۔

(3) 30جون 1948ء کو پاکستان میں کام کرنے والے بینکوں کے ڈپازٹس کا مجموعی حجم ایک ارب روپے سے کچھ زائد تھا جو 31؍دسمبر2020کو اٹھارہ ہزار ارب روپے سے تجاویز کر چکا تھا۔ آزادی کے ابتدائی برسوں میں ان بینکوں کا ٹیکس سے قبل منافع نہ ہونے کے برابر تھا جو 31؍دسمبر 2020 کو بڑھ کر 4227؍ارب روپے ہو گیا۔ آزادی کے وقت پاکستان میں بینکوں کے شاخوں کی تعداد صرف 213 تھی۔ 30 جون 2020 کو پاکستان میں 33 شیڈولڈ بینک 14701 شاخوں کے ساتھ کاروبار کر رہے تھے۔

(4)1950ء میں پاکستان کی فی کس آمدنی بہت کم تھی جو 2021میں 1272 ڈالر ہو گئی۔

(5) آزادی کے وقت ایک امریکی ڈالر 3روپے30پیسے کے برابر تھا لیکن اب یہ شرح مبادلہ تقریباً 164 روپے ہے۔

(6) آزادی کے ابتدائی برسوں میں پاکستان کی بیرونی تجارت کا حجم انتہائی کم تھا جو 30جون 2021کو تقریباً 81 ؍ارب ڈالر ہو گیا ہے لیکن درآمدات کا حجم برآمدات کے حجم کے دوگنے سے بھی زائد رہا۔

(7) آزادی کے 41برس بعد 1988 میں پاکستان کے ملکی و بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 523؍ارب روپے تھا جبکہ 31مارچ 2021کو ان قرضوں و ذمہ داریوں کا مجموعی حجم بڑے پیمانے پر نج کاری کے باوجود 45470؍ارب روپے ہو گیا۔

(8)1951میں پاکستان کی آبادی 33.78 ملین تھی جو انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ کر 30جون2021کو تقریباً 225ملین ہو گئی۔

1947ء سے 1958ء کا دور خود انحصاری

آزادی کے بعد کے 11برسوں میں 1958ء تک اگرچہ حکومتوں کی خصوصی توجہ ان مسائل کے حل کے طرف مرکوز رہی جو مملکت خداداد پاکستان کو بھارت کی وجہ سے ورثے میں ملے تھے مگر اسے ’’خود انحصاری‘‘ کا دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ قائد اعظم کے زمانے میں جو پہلا بجٹ پیش کیا گیا تھا وہ ’’فاضل بجٹ‘‘ تھا عینی اخراجات کو آمدنی سے کم رکھا گیا تھا۔ ان برسوں میں حکومتی شعبے کے اداروں مثلاً پی آئی ڈی سی نے ملک میں نئی صنعتوں کے قیام میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایوب خان اور یحییٰ خان کا دور 1971-1958

1959-60ء میں معیشت کی شرح نمو صرف 0.9فیصد رہی جو پاکستان کی تاریخ کی سست ترین شرح نمو میں سے ایک ہے۔ ایوب خان نے امریکا کو فوجی اڈے دے کر ایک طرف اپنے اقتدار کو طول دینے میں کامیابی حاصل کی اور دوسری طرف امریکا سے بڑے پیمانے پر امداد حاصل کی۔ اس امداد کی وجہ سے بھی معیشت نے کمزور بنیادوں پر ہی سہی مگر تیز رفتاری سے ترقی کے منازل طے کئے۔ اس دوران ملک میں اجارہ داریاں قائم ہوئیں اور22 خاندانوں کی دولت کمانے کا بڑا چرچا ہوامگر یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ صنعت کاروں نے جو دولت کمائی اس کو ملک کے اندر نئی صنعتیں لگانےکے لئے ہی استعمال کیا۔

ایوب خان کے دور میں 1960-65 کے لئے دوسرے پانچ سالہ منصوبے کا اعلان ہوا جس کو کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایوب خان کے دور میں غریب اور امیر کا فرق بہرحال بڑھا جب کہ ملک کے دونوں بازئوں میں اعتماد کا بحران بڑھتا چلا گیا۔ 1965ء کی جنگ کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے جب کہ امریکا نے پاکستان کی امداد بھی روک دی۔ ایوب خان کے اقتدمر سے محروم ہونے کے بعد اقتدار یحییٰ خان کو مل گیا۔ ایوب خان کے دور میںمشرقی و مغربی پاکستان میں اعتماد کا جو بحران مزید سنگین ہوا تھا۔

ذوالفقار بھٹو کا دور حکومت 1977-1972

پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو شہید کو بڑی بحرانی کیفیت میں اقتدار ملا۔ انہیں ابتدا ہی میں بھارت سے جنگی قیدی واپس لانے اور بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے اور قوم کامورال بلند کرنے کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔ ان کے ساڑھے پانچ سالہ دور میں سماجی و معاشرتی شعبے میں بہتری لانے کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ ذوالفقار بھٹو کا ایک بڑا کارنامہ قوم کو 1973ء کا متفقہ طور پر آئین کا تحفہ دینا ہے۔ ان کے دور میں کچھ اہم بنیادی نوعیت کے صنعتی منصوبے شروع کئے گئے مثلاً پاکستان اسٹیل ملز جو آنے والے برسوں میں پاکستان کی صنعتی ترقی کی بنیاد بنے۔ 

 پاکستان کے جوہری پروگرام کا بھی آغاز کیا گیا ۔ ان کے دور میں پیپلز پارٹی کے انتخابی منشور کی روشنی میں نجی شعبے کے کچھ اداروں اور صنعتوں کو قومی ملکیت میں لینے کا عمل شروع ہوا۔ قومی ملکیت میں لینے کے عمل کے نتائج ملے جلے رہے۔ کاٹن جننگ فیکٹریز(روئی دھننے کے کارخانے) اور رائس ہسکنگ ملز (چاول جھڑنے کی ملز) وغیرہ کی نجی کاری ناکام ہو گئی۔ اس حقیقت سے بہرحال انکار ممکن نہیں کہ نجی شعبے کی ملکی بینکوں کی نج کاری کامیاب رہی۔

ہم نے 1996میں سینٹ کمیٹی برائے خزانہ کی خصوصی دعوت پر بینکاری کے ماہر کی حیثیت سے کمیٹی کے تین روزہ اجلاس میں حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں کہا تھا کہ 1947ء سے 1973ء تک پاکستان میں نجی شعبے کے ملکی بینکوں کی کارکردگی خراب اور قومی تحویل میں لئے گئے بینکوں میں کارکردگی کم از کم ابتدائی برسوں میں عمدہ رہی تھی چنانچہ بینکوں کو قومی ملکیت میں لینے کا عمل کامیاب رہا تھا۔ ہماری اس رائےکو تسلیم کرتے ہوئے کمیٹی نے اس کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بہرحال معیشت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی اور مہنگائی کی شرح بھی اونچی رہی۔

ضیاء الحق کا دور (1988-1977)

ضیاءالحق کے اقتدار پر قبضہ کرنےکے دو برس بعد 1979میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ امریکا نے پاکستان کے محل وقوع اور ملک میں فوجی حکومت کے اقتدار میں ہونے کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق کو امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے اس جنگ میں اہم کردار سونپا۔ پاکستان اس جنگ میں کود پڑا۔ اس پر جوش معاونت کی وجہ سے امریکا نے پاکستان کو امداد دینے کا سلسلہ شروع کیا چنانچہ ایک طرف امریکی آشیرباد سے ضیاء حکومت کا دورانیہ بھی طویل ہوتا رہا اور معیشت میں بھی عارضی بہتری آنا شروع ہوئی۔ 

یہی نہیں 1980 کی دہائی میں خلیج کے ملکوں میں رہنے والے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات کے حجم میں اضافے کی وجہ سے معیشت کے شعبوں میں بہتری کے آثار نظر آئے اور پاکستان میں غربت میں بھی کمی ہوئی۔ یہ بہتری عارضی ہی ثابت ہوئی کیونکہ ملکی وسائل بڑھانے اور معیشت کو پائیدار بنیادروں پر استوار کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھایا ہی نہیں گیا تھا۔

ضیاء الحق کے ہوائی حادثے کے نتیجے میں منظر سے ہٹ جانے کے چند ماہ بعد ہی اس وقت کے نگران وزیر خزانہ نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں امریکی ایجنڈے کے مطابق اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کے تحت پاکستان کو پہلی مرتبہ آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکل ہی نہیں سکا۔ اس کے بعد اقتدار میں آنے والی ہر حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لینا اپنا فرض منصبی سمجھا ہے۔ اس بات کے واضح شواہد ہیں کہ آئی ایم ایف کا 2021 میں جاری پروگرام آئی ایم ایف کا پاکستان میں آخری پروگرام نہیں ہوگا۔

1990ء کی دہائی۔ حکومتیں آتی رہیں ، جاتی رہیں

1990ء کی دہائی میں جمہوری حکومتوں کی طبع آزمائوں کی جانب سے بار بار برطرفی سے کسی بھی حکومت کو سنبھل کر کام کرنے کا موقع مل ہی نہ سکا نتیجتاً معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے رہے۔ 1990ء کی دہائی کومعیشت کی کارکردگی کے لحاظ سے ناکام دہائی قرار دیا گیا ہے مگر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ (1)1990 کی دہائی میں اوسط (سالانہ) شرح نمو 2000 کی دہائی سے زیادہ رہی۔ (2) جی ڈی پی کے تناسب سے 2000 کی دہائی کے مقابلےمیں 1990کی دہائی میں مجموعی سرمایہ کاری، ٹیکسوں کی وصولی کا تناسب بہتر رہا۔ یہی نہیں ترقیاتی اخراجات اور تعلیم کی مد میں کئے جانے والے اخراجات کا تناسب بھی بہتر رہا۔ البہ 1990ء کی دہائی میں افراط زر اور بجٹ خسارے میں زبردست اضافہ ہوا۔ مئی 1998 میں جوہری دھماکے کرنے کے فیصلےسے قوم کے اعتماد میں زبردست اضافہ ہوا۔

پرویز مشرف کا دور 2008-1999

پرویز مشرف کے اقتدار کے پہلے تین برسوں میں معیشت کی شرح نمو 1990کی دہائی کی اوسط (سالانہ) شرح نمو سے کم تھی۔نائن الیون سے پہلے مشرف دور میں مالی سال 2001میں معیشت کی شرح نمو صرف2فیصد رہی جبکہ فوجی حکومت کو 4.2فیصد کی شرح نمو ورثے میں ملی تھی۔ اسی مالی سال میں پاکستان کے مجموعی قرضوں میں599ارب روپے کا اضافہ ہوا جو پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔ مشرف دور میں کنزیومر فنانس اسکیم کے تحت ٹی وی، ائر کنڈیشنرز اور گاڑیوں کی خریداری کیلئے بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر قرضوں کی فراہمی کو ہم نے متوسط طبقے کی ٹارگٹ کلنگ قرار دیا تھا جو صحیح ثابت ہوا۔

مالی سال2002میں افراط زر کی شرح3.9فیصد تھی جو مالی سال 2008 میں بڑھ کر 12.9فیصد ہو گئی۔ اسی مدت میں جی ڈی پی کے تناسب سے (i) قومی بچتوں (ii) داخلی بچتوں (iii) ٹیکس وصولی میں زبردست کمی ہوئی جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے اسی مدت میں (i) بجٹ ،سارہ 4.3فیصد سے بڑھ کر 7.3فیصد (vi)  تجارتی خسارہ 0.4فیصد سے بڑھ کر 8.8فیصد اور (iii) جاری حسابات کا خسارہ 1.9فیصد سے بڑھ کر 8.2ہو گیا جو اب تک پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہے۔

نائن الیون کے بعد امریکا کے مطالبے پر فوجی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی امریکی جنگ میں دل و جان سے شرکت کی۔ اس کے صلے میں امریکا نے پاکستان کے کچھ قرضوں کومعاف کیا،پیرس کلب نے 2.5ارب ڈالر کے قرضوں کی تنظیم نو کی اور کچھ عرصے تک مغرب کا رویہ’’ہمدردانہ‘‘ نظر آیا ۔ بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات میں اضافہ ہوتا رہا اور غیر شفاف و متنازعہ طریقوں سے ہی سہی، اہم اور قیمتی اثاثے کوڑیوںکے مول فروخت کر کے بیرونی خریداروں سے بیرونی کرنسی میں رقوم وصول کیں،فوجی حکومت نے 2005میں اپنے دور کو معیشت کی کارکردگی کے لحاظ سے ’’سنہرا دور ‘‘ قرار دیا تھا ہم نے 2005ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’’پاکستان :شرح نمو یا استحکام ۔حقیقت یا سراب ؟ ،میں لکھا تھا کہ (i ) حکومت معیشت کے شعبے میں کامیابی کے جوڈھول پیٹ رہی ہے وہ دھوکہ ہے۔

(ii) معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار نہیں کیا گیا ہے اور و ہ کسی کی بھی بڑے بیرونی جھٹکے کو سہنے کی سکت نہیں رکھتی۔ اس صورت حال میں معیشت بحران کا شکار ہو جائے گی (iii) دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ اپنانے کی وجہ سے پاکستان کو جو مہلت تھی اسے دانشمندی سے استعمال نہیں کیا جا رہا۔

(vi) خدشہ ہے کہ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے سامنے دست سوال دراز کرنا پڑ سکتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ تمام باتیں درست ثابت ہوئیں اور پرویز مشرف کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد اگلی حکومت نے سخت ترین شرائط پر آئی ایم ایف سے قرضہ لیا۔

پیپلز پارٹی کی حکمرانی کا چوتھا دور2013-2008

ایک سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے اپنی کتاب اس سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں‘‘ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے فوجی حکمران پرویز مشرف نے 2008 میں پاکستان میں ہونے والے صدارتی انتخاب سے ایک برس قبل امریکا سے درخواست کی تھی کہ وہ بے نظیر صاحبہ سے ان کے اختلافات دور کرا دے تاکہ وہ ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہو سکیں۔

کونڈو لیزا رائس نے مزید لکھا ہے کہ امریکا کی سیکرٹری آف اسٹیٹ( وزیر خارجہ)کی حیثیت سے امریکی صدر کی منظوری سے اس ضمن میں انہوں نے کردار ادا کیااور امریکا کی سرتوڑ کوششوں کے نتیجے میں ان دونوں شخصیات کے درمیان سودا طے پا گیا۔ پرویز مشرف نے این آر او کا اجرا ء کیا اور بے نظیر وطن واپس آ گئیں اور پرویز مشرف دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔ قدرت کو بہرحال کچھ اور ہی منظور تھا۔

بے نظیر شہید ہو گئیں اورانتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہو گئی۔ چنانچہ پاکستان میں زرداری گیلانی حکومت قائم ہو گئی اور پرویز مشرف اقتدار سے محروم ہو گئے۔

پیپلز پارٹی کے دور میں26ستمبر 2008کو فرینڈز آف پاکستان گروپ کا ایک اعلامیہ جاری ہوا۔ اس اعلامیہ کو صدر زرداری نے پاکستان کے لئے رحمت اور ہم نے جال قرار دیا تھا ( جنگ 30ستمبر 2008) اس اعلانیہ کے ضمن میں تسلسل کے ساتھ غلط بیانیاں کی گئیں اور جو اقدامات اٹھائے گئے وہ معیشت کے لئے تباہ کن اور سلامتی کے تقاضوں سے متصادم تھے۔ 

ہم نے اپنی کتاب ’’پاکستان اور امریکا ۔دہشت گردی، سیاست ،معیشت، میں اسے عظیم دھوکہ قرار دیا تھا۔ اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاملات طے کئے تھے ان کے نتیجے میں مالی سال2009میں معیشت کی شرح نمو صرف0.4فیصد رہی جو پاکستان کی تاریخ کی سست ترین شرحوں میں سے ایک تھی جبکہ افراط زر کی شرح 17فیصد تک پہنچ گئی۔

پیپلز پارٹی کے ساڑھے پانچ سالہ دور حکومت میں معیشت کی اوسط (سالانہ) شرح نمو سست اور افراط ز ر کی شرح اونچی رہی۔ جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے بیرونی سرمایہ کاری، داخلی بچتوں اور ٹیکسوں کی وصولی کم رہی اور بجٹ خسارہ بڑھا۔ پیپلزپارٹی کو2008میں جی ڈی پی کے تناسب سے 8.2کا زبردست جاری حسابات کا خسارہ ورثے میں ملا تھا جو مالی سال 2011میں مثبت ہو گیا۔ گزشتہ 10برسوں میں مالی سال2021تک کسی بھی مالی سال میںجاری حسابات کا بیلنس فاضل نہیں ہوا اور نہ ہی تحریک انصاف کے موجودہ دور میں فاضل ہونے کا کوئی امکان ہے۔ مالی سال200کے مقابلے میں2013میں پاکستانی برآمدات میں6.2ارب اور ترسیلات میں7.5ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یہ بڑی کامیابیاں تھیں ،2021میں پاکستانی برآمدات کا حجم وہی ہے جو 2011میں تھا۔

مسلم لیگ (ن) کا دور حکومت (2018-2013)

نواز شریف کے 2013میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ انہیں تباہ حال معیشت ورثے میں ملی ہے اور جلد ہی پاکستان نے آئی ایم ایف سے نئے قرضے کے حصول کے لئے دست سوال دراز کر دیا۔ ہم نے اس سے قبل تنبیہ کی تھی کہ اگر موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے نیا قرضہ لیا تو یہ 26 ستمبر 2008کے فرینڈز آف پاکستان کے ساتھ کئے گئے سودے اور سازش کے اگلے مرحلے میں امریکی مقاصد میں معاونت کے مترادف ہو گا ( جنگ6جون2013) حکومت نے اس تنبیہ کو نظر انداز کر دیا۔ 

نتیجتاً نہ صرف معیشت پر منفی اثرات پڑے بلکہ امریکا کے ’’نیو گریٹ گیم‘‘ کے مقاصد کے حصول میںعملاً آج تک معاونت ہی ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور میں معیشت کی شرح نمو کسی بھی مالی سال میں 4فیصد سے کم نہیں رہی جبکہ افراط زر کی اوسط (سالانہ) شرح تقریباً 4.1 فیصد رہی ۔مالی سال 2013 کے مقابلے میں مالی سال2018میں جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی سرمایہ کاری، قومی بچتوں، ٹیکسوں کی وصولی اور بجٹ خسارے میں بہتری آئی جبکہ جاری حسابات کا خسارہ جو مالی سال 2013 میں صرف1.1فیصد تھا مالی سال2018میں بڑھ کر 6.1فیصد ہو گیا۔

ہم نے اکتوبر2016سے اس خسارے کے بڑھنے پر تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت کی تعریف کر رہا تھا (جنگ 20 اکتوبر 2016) اسٹیٹ بینک نے بہرحال اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے اشارے پر روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر کم رکھا جس سے برآمدات متاثر ہو ئیں۔( مسلم لیگ ن) کے دور میں بہرحال انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے، بجلی کی پیداوار بڑھانے اور سی پیک کے ضمن میں اچھی پیش رفت ہوئی ۔ 2014میں دھرنے کی سیاست اور احتجاجی تحریکوں سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے رہے۔

تحریک انصاف کا دور حکومت (اگست 2018سےاب تک)

پاکستان تحریک انصاف نے 2018کے انتخابات سے پہلے ایک10 نکاتی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ’’اقتدار میں آنے کے 100روز کے اندر عدل پر مبنی ٹیکس کی پالیسی نافذ کر دی جائے گی ’’یعنی وفاق اور صوبے میں ایک مقررہ آمدنی سے زائد ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس عائد کر دیں گے۔ معیشت کو دستاویزی بنایا جائے گا اور کالے دھن کو سفید ہونے سے روکا جائے گا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ ہنگامی بنیاد پر ان وجوہات کو دور کیا جائے گا جن کی وجہ سے گردشی قرضہ پیدا ہوتا ہےاور توانائی کے شعبے میں اصلاحات نافذ کی جائیں گی ۔

ان نکات پر عمل درآمد سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات متاثر ہوتے ہیں اس لئے ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ۔چنانچہ گزشتہ تین برسوں میں عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ۔ اور پٹرولیم مصنوعات ، بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا اور موجودہ مالی سال میں بجلی تعلیم و صحت کی مد میںمنشور کے مقابلے میں تقریباً دو ہزار ارب روپے کم مختص کئے گئے ہیں۔ معیشت کی کارکردگی کے ضمن میں چند حقائق پیش ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے تین برسوں میں معیشت کی اوسط سالانہ شرح نمو صرف 1.9فیصد رہی جبکہ اسے 5.5فیصد کی شرح نمو ورثے میں ملی تھی۔ تخمینہ ہے کہ تحریک انصاف کے پانچ سالہ دور میں معیشت کی اوسط شرح نمو 3.5فیصد سے کم رہے گی۔ جبکہ افراط زر ورثے میں ملنے والی شرح سے ہمیں زیادہ رہے گا۔

2) گزشتہ تین برسوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 40 روپے فی ڈالر کی زبردست کمی ہوئی ہے جو کہ پریشان کن ہے۔

(3)مالی سال2.21میں تجارتی خسارے میں تقریباً7ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ اس بات کے شواہد نظر آ رہے ہیں۔ کہ موجودہ مالی سال میں جاری حسابات کا خسارہ 5ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ جو پریشان کن بات ہے۔مالی سال 2021میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 750ملین ڈالر کی کمی ہوئی۔

4)مالی سال2021میں پاکستان میں29.4ارب ڈالر کی ترسیلات آئیں، اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ 8برسوں میں کارکنوں ( ورکرز، لیبر) نے 168ارب ڈالر کی ترسیلات پاکستان بھیجیں۔ ہماری تحقیق کے مطابق اس مدت میں کارکنوں کی ترسیلات میں صرف30ارب ڈالر تھیں۔ ترسیلات کا بڑا حصہ انکم ٹیکس آرڈی نینس کی شق 111(4)سے مستفید ہو کر آئیں۔ ان ترسیلات کی وجہ سے ٹیکسوں کی مد میں ہر سال کئی سو ارب روپے سالانہ کا نقصان ہوتا ہے۔ترسیلات کا بڑا حصہ کھلی منڈی سے ڈالر خرید کربینکوں کے کھاتوں کے ذریعے قانونی طریقے سے ملک سے باہر چلا جاتا ہے ۔اس پر کچھ پابندیاں لگنا چاہیں۔ شق111(4)کو منسوخ ہونا چاہئے۔

5) موجود ہ ہ حکومت معیشت کو انتہائی کمزور بنیادوں پر استوار کر رہی ہے۔ معیشت کےکچھ شعبوں میںعارضی بہتری اسٹیٹ بینک کی جانب سے دو ہزار ارب روپےکے خصوصی پیکیج بشمول منفی شرح سود کی وجہ سے آئی ہے جبکہ حکومت نے تعمیرات کے شعبے میں کالے دھن کے استعمال کی اجازت دی ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے پر مہنگی شرح سود پر بیرونی قرضے حاصل کئے جا رہے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل کھاتوں پر دی جانے والی شرح سود بہت زیادہ ہے۔ ان سب نےمعیشت پر منفی اثرات جلد ہی نظر آئیں گے۔

منفی شرح سود۔ تباہ کن پالیسی

تحریک انصاف کے دور میں اسٹیٹ بینک نے غیر ضروری طور سے اگست 2018 سے جولائی2019کی مدت میں شرح سود 7.5فیصد سے بڑھا کر 13.25فیصد کر دی جبکہ اگست 2018کے بعد تیز رفتاری سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 124.20روپے سے گرا کر جون2019میں162روپے کر دی حالانکہ بنیادی ضرورت معیشت کےمختلف شعبوں میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کرنے کی تھی۔ ان دونوں ناقابل فہم اقدامات سے ملکی معیشت کو چھ ہزار ارب روپے کا جھٹکا لگا۔

اسٹیٹ بینک نےکوویڈ 19-کی آڑ میں مارچ 2020 سے 25جون 2020کی مدت میں پالیسی ریٹ(شرح سود یا ڈسکائونٹ ریٹ) کو 13.25فیصد سے کم کر کے 7فیصد کر دیا ۔گز شتہ14ماہ سے یہی شرح سود برقرار ہے۔

یہ شرح سود ملک میں افراط کی شرح سے کم ہے یعنی یہ منفی شرح سود ہے۔ اس سےحکومت اور بینکوں سے منفی شرح سود ہے۔ اس سے حکومت اور بینکوں سے قرضے لینے والوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ جبکہ قومی بچت اسکیموں میں رقوم لگانے والوں بشمول بہبود سرٹیفکیٹ وغیرہ میں رقوم جمع کرنے والوں کو گزشتہ 14ماہ سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

مارچ سے جون2020کی مدت میں شرح سود میں کمی کرنے کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک نے بینکوں کوہدایت کی کہ نفع و نقصان میں شرکت کی بنیاد پر کھولے گئے کھاتوں پر دی جانے والی شرح منافع کو 11.25فیصد سالانہ سے کم کر کے 5.5فیصد سالانہ کر دیں۔ اس طرح یہ شرح منافع منفی ہو گئی ہے۔ 

اسٹیٹ بینک کا یہ فیصلہ بینکنگ کمپنیز آرڈی نینس کی شق 26.Ac4اور شق40-Aاور آئین پاکستان کی شق3کے منافی ہے ۔اس غیر قانونی فیصلے سے گزشتہ 13ماہ میں بینکوں کے 21ملین سے زائد بچت کھاتے داروں کو 550 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ ہم نے عوامی مفاد میں سپریم کورٹ میں آئین کی شق184(3)کے تحت اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے خلاف ایک آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ آئینی درخواست ممتاز وکیل حشمت حبیب صاحب کے توسط سے داخل کی گئی ہے۔

حاصل کلام

پاکستانی معیشت کو سنگین خطرات اور چیلنجز درپیش ہیں۔ اس امر میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ اگر صرف ٹیکسوں وتوانائی کے ضمن میں تحریک انصاف کی 10نکاتی حکمت عملی اور تعلیم و صحت کی مد میں تحریک انصاف کے منشور پر عمل کیا جائے تو پاکستان کی ایسی تیز رفتار ترقی کو روکا نہیں جا سکتا جس کے ثمرات میں عوام براہ راست شریک ہوں یعنی شرح نموکے بجائے معاشی ترقی کی نمو کا ہدف رکھا جائے وگرنہ سب کچھ پہلے جیسا ہوتا رہے گا۔