• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیشنل لائسنسنگ ایگزامی نیشن سے استثنیٰ دینے کااختیار نہیں، پی ایم سی

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) میڈیکل اور ڈینٹل کونسل کے ممبران نے صدر پی ایم سی ڈاکٹر ارشد تقی کی قیادت میں میڈیکل طلباء کے وفد سے ملاقات کی جس میں نیشنل لائسنسنگ ایگزامی نیشن (این۔ایل۔ای) پر گفتگو ہوئی اور طلباء کے تحفظات کو سنا گیا۔ کونسل کی درخواست پر وزیراعظم کے معاون ِخصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور چیئرمین نیشنل میڈیکل اینڈ اکیڈمک بورڈ بھی ملاقات میں شریک ہوئے۔طلباء نےکہا میڈیکل کالجوں میں داخل تمام طلباء کو این ایل ای سے استثنیٰ دیاجائے یا کم از کم 2023تک عمل درآمد روکا جائے تا ہم کونسل نے واضح کیا کہ اس کے پاس کسی کو بھی این۔ایل۔ای سے استثنیٰ دینے کااختیار نہیں، ستمبر 2020کے بعد گریجویٹ ہونے والے کسی بھی ڈاکٹر کو فُل لائسنس حاصل کرنے کے لئے این ایل ای پاس کرنا لازمی ہے۔ اور لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے نے بھی اس کی تصدیق کی ہے،صدر پی ایم سی نے کہاوہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ۲۷ اگست 2021میں منعقد ہونے والی این ایل ای کے سیشن کے بعد پریکٹس ٹیسٹوں کو پبلک کیا جائے تا کہ تمام طلباء امتحان کا طریقہ اور سوالات کا فارمیٹ دیکھ سکیں ۔ کونسل، وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی اور چیئرمین اکیڈمک بورڈ نے کہا ایک یونیورسٹی ڈگری اور طبی پریکٹس کیلئے لائسنس میں فرق ہوتا ہے اور ان دونوں کو الگ کرنا عالمی معیار بن چکا ہے، این ایل ای طلباء کی قابلیت کو ٹیسٹ کرے گا اور اس سے ایک محفوظ اور اچھے ڈاکٹر ہونے کی تصدیق ہو سکے گی۔طلبہ کے مطالبے پرکونسل نے فیصلہ کیا کہ موجودہ گریجویٹس جو این ایل ای دینے والی پہلی کلاس ہونگے، ان کو فیس پر سبسڈی دی جائے گی، پاکستانی میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس اپنے ہاؤس جاب کے دوران کسی بھی وقت یا اس کے مکمل ہونے کے بعد این ایل ای دے سکتے ہیں،پاس کرنے نہ کرنے کی صورت میں ان کے پروویژنل لائسنس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ این ایل ای کا انعقاد ہر سال جون، ستمبر، دسمبر اور مارچ میں ہوگا۔
تازہ ترین