امریکی امیگریشن حکام نے انعام یافتہ کشمیری فلم ساز عرفات شیخ کو ورجینیا کے ایک ایئر پورٹ پر پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد وارنٹ کے بغیر حراست میں لے لیا۔
عرفات شیخ کی رہائی کے لیے مہم چلانے والے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 ستمبر 2026ء کو فلم ساز عرفات شیخ کو ڈلس ایئر پورٹ پر طیارے سے اترتے ہی امیگریشن حکام نے غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا۔
مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ فلم ساز ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں مقیم ہیں، ان کی رہائی کے لیے مہم چلانے والے آزاد عیسیٰ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ عرفات شیخ فلم کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسٹوڈینٹ ویزے پر امریکا پہنچے تھے اور انہوں نے 2020ء میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔
آزاد عیسیٰ کے مطابق عرفات شیخ کی امیگریشن درخواست زیرِ التوا ہے اور اس دوران ان کے پاس کام کرنے اور امریکا میں قیام کی اجازت بدستور فعال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فلم ساز کو ورجینیا کے شہر بولنگ گرین میں واقع کیرولین ڈیٹینشن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔
امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اور محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے عرفات شیخ کی حراست کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
واضح رہے کہ عرفات شیخ کو اپنی پہلی فیچر فلم سیفرون کنگڈم (Saffron Kingdom) کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی، یہ فلم 100 سے زائد سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اور 175 ممالک میں اسٹریمنگ کے ذریعے دیکھی گئی۔
اس فلم کو اناتولین انٹرنیشنل فلم ایوارڈز میں بہترین فیچر فلم، شکاگو فلم میکرز ایوارڈ اور لاس اینجلس فلم اینڈ ڈاکیومنٹری ایوارڈز سمیت متعدد اعزازات ملے، جبکہ ٹینک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں عرفات شیخ کو ابھرتے ہوئے فلم ساز کا اعزاز بھی دیا گیا۔