کراچی (ٹی وی رپورٹ)افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا مسئلہ،جنگ کے جواز اور عدم جواز کا فیصلہ وہاں کے علماء کریں،اسلامی نظام کے قیام کے بعد حملوں اور دھماکوں کی کوئی وجہ نہیں،افغان طالبان کے سربراہ بار بار واضح کرچکے ہیں کہ افغان سر زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر پاکستانی طالبان، افغان طالبان کے سربراہ کو اپنا سربراہ مانتے ہیں تو انہیں ان کی بات بھی ماننا ہوگی۔جیو کے پروگرام ’جرگہ‘ میں سلیم صافی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاک افغان طویل سرحد پر بعض مقامات ایسے ہیں جہاں ابھی تک ان کی رسائی نہیں، حکومت کی تشکیل کے بعد اس سے متعلق مکینزم بنائیں گے۔
اگر کسی کو پڑوسی ملک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پایا گیا تو اُن لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے کہیں گے کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ نہ کریں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ٹی ٹی پی کا معاملہ افغانستان کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے۔
ان کی جنگ کے جواز اور عدم جواز سے متعلق فیصلہ کرنا اور لائحہ عمل بنانا ہمارا نہیں پاکستان، پاکستانی علما اور دینی حلقوں کا کام ہے۔ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ جہاں تک حکومت کا سوال ہے تو اس کی تشکیل کے حوالے سے بھرپور طریقے سے کام جاری ہے۔
بعض معاملات کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے ایک تو کابل میں اچانک داخلہ اور نظم و نسق سنبھالنا ہمارے لیے غیر متوقع تھا اور ہم چاہ رہے ہیں کہ حکومت کی تشکیل میں وسیع تر مشاورت کریں تاکہ ایک مضبوط حکومت تشکیل دی جاسکے۔ اور جنگ کا خاتمہ ہو اور سب کی مشاورت سے ایک ایسا نظام تشکیل دیا جاسکے جو عوامی خواہشات کی نمائندگی کرتا ہو اور ہم کافی حد تک اس معاملے میں کامیاب ہوچکے ہیں تاہم ابھی بھی اس حوالے سے کام جاری ہے اور تمام معاملات پر گفت و شنید جاری ہے۔
عنقریب آپ سنیں گے کہ حکومت کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے۔ مجھے امید ہے کہ چند روز میں ہم اس قابل ہوجائیں گے کہ حکومت کی تشکیل کا اعلان کردیں اور ہمیں مکمل احساس ہے کہ حکومت کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں روز مرہ کے کاموں اور تجارتی اور سفارتی معاملات میں مشکلات کا سامنا ہے ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد حکومت کا اعلان ہو اور ہماری مکمل توجہ حکومت کی تشکیل پر مرکوز ہے۔
ہم ان سے مشاورت کررہے ہیں ہم ان کی تجاویز بھی لے رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو حکومت میں شامل کریں جنہیں عوام کی حمایت حاصل ہو اور وہ عوام میں مقبول ہوں اور ایسے لوگوں سے اجتناب کریں جو ماضی میں تنازعات کا حصہ رہے ہوں ہم کابل میں موجود تمام قائدین سے مشاورت کر رہے ہیں اور ان سے رابطے میں ہیں اور ان کی تجاویز ہمارے لیے اہم ہیں ہم چاہتے ہیں کہ نئے چہروں کو سامنے لایا جائے۔
ذبیح اللہ مجاہدنے کہا کہ وہ لوگ جو گزشتہ بیس سال حکومت کا حصہ رہے ہیں انہوں نے کسی حد تک کام کئے ہیں مگر عوام میں انہیں پذیرائی حاصل نہیں ہے ہم ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ہم ان لوگوں کو حکومت میں شامل کرنا چاہتے ہیں جنہیں عوام کی مقبولیت حاصل ہو اور وہ عوامی نمائندگی کا حق رکھتے ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان لوگوں کو مکمل نظر انداز کریں گے ہم ان سے وقتا فوقتاً مشاورت کرتے رہیں گے اور ان سے تجاویز لیتے رہیں گے۔
کمیشن کی بات ہم نے بھی سنی ہے لیکن ابھی تک اس کی تشکیل نہیں ہوئی ہم چاہتے ہیں کہ معاملات بات چیت سے حل ہوں اور ا سکے لیے ایک ایسے طریقہ کار کی ضرورت ہے جس کے ذریعے یہ مشاورت ہو۔ ہمیں ساٹھ فیصد امید ہے کہ معاملہ بات چیت سے حل ہوجائے ہم اس سلسلے میں تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔
ہم اس سلسلے میں علمائے کرام سابق جہادی رہنماؤں سے مدد لے رہے ہیں ہم بات چیت کر رہے ہیں اور پیغامات کا تبادلہ بھی کر رہے ہیں کہ وہاں جنگ کی ضرورت پیش نہ آئے جیسا کہ اکثر صوبوں میں ہم نے بغیر جنگ کے کنٹرول حاصل کیا ہے اس طرح ہم چاہتے ہیں کہ پنج شیر کو بھی کابل کے زیر اثر لایا جائے۔
اس طرح وہاں موجود لوگوں کی عزت بھی رہ جائیگی اور انہیں احترام بھی دیا جائے گا کیوں کہ ہمارے ایجنڈے کا حصہ ہے کہ جنگ نہ ہو ہم انہیں پیغامات بھیج رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ جنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر جنگ ہوئی بھی تو زیادہ طویل نہیں ہوگی کیوں کہ ہمارے جنگجوؤں نے پنج شیر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور طالبان بد خشان، پغمان اتحاد پروان کی اطراف سے پنج شیر کے راستوں پر موجود ہیں۔
اس سوال پر کہ کب تک علماء کے جرگے کی کوششوں کے منتظر رہیں گے آخری ڈیڈ لائن کیا ہے مجھے نہیں لگتا کہ آپ زیادہ دیر انتظار کرسکیں گے ذبیح اللہ مجاہدنے کہا کہ جی یہ معاملہ زیادہ وقت نہیں لے گا بلکہ جلدی حل ہوجائے گا ہماری پوری کوشش ہے کہ معاملہ جنگ کی طرف نہ جائے اور بات چیت سے حل ہوجائے اب مخالف فریق کیا کرتا ہے ہم اس کے منتظر ہیں۔
سلیم صافی … دو تین دفعہ عالمی میڈیا میں خبریں آئیں کہ عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی عملاً گروہ میں آپ کے ہاتھوں نظر بند ہیں۔کوئی صداقت ہے یا وہ باہر جانا چاہیں تو ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی ذبیح اللہ مجاہد… وہ بھی دیگر افغانوں کی طرح آزاد ہیں ان پر ایسی کوئی نظر بندی نہیں نہ صرف وہ بلکہ ہر افغان اپنی مرضی سے ملک سے باہر آجاسکتا ہے ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ ان کا حق ہے ۔
سلیم صافی … عام معافی کا اعلان اشرف غنی کے لیے بھی تھا وہ ملک چھوڑ گئے اگر وہ دوبارہ آنا چاہیں تو کیا ان کے لیے بھی معافی ہوگی یا کارروائی کریں گے۔ ذبیح اللہ مجاہد… عام معافی کا اعلان تو تمام افغانوں کے لیے ہوچکا ہے اور اس میں سب شامل ہیں اس میں اشرف غنی بھی اگر واپس آنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں جیسا کہ ان کے ہم پلہ دیگر عمائدین ہمارے ساتھ کابل میں موجود ہیں اور مکمل امن کے ساتھ رہ رہے ہیں ہمارا کسی سے انتقام کا ارادہ نہیں ہم چاہتے ہیں کہ تمام افغان اپنے وطن میں مل جل کر رہیں۔
سلیم صافی … آپ نے معافی کا اعلان کیا امر اللہ صالح نے جنگ کا اعلان کیا تو کیا اگر اب وہ ہتھیار پھینکنا چاہیں تو ان کو معافی مل سکتی ہے؟ ذبیح اللہ مجاہد… ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اگر ابھی جنگ پر اصرار چھوڑ دیں تو ان کے لیے معافی کا آپشن موجود ہے لیکن اگر وہ جنگ کی طرف جاتے ہیں اور افغانستان کو دوبارہ آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں تو ان کے ساتھ ہمارا رویہ مختلف ہوگا۔
سلیم صافی … آگے کی حکومت کا ڈھانچہ کیسا ہوگا کیا ہیبت اللہ ملا عمر کی طرح قندھار میں بیٹھ کر ایک شوریٰ کی سربراہی کریں گے اور عملاًوزراء کے شوریٰ کی سربراہی کسی اور کے پاس ہوگی یا وہ خود انتظامی سربراہ بنیں گے ذبیح اللہ مجاہد… وہ افغان حکومت کا حصہ بھی ہوں گے اور رہنمائی بھی کریں گے تاہم وہ اپنے لیے کس مقام کا انتخاب کرتے ہیں یہ فیصلہ وقت آنے پر کریں گے تاہم رحجانات یہی ہیں کہ وہ قریب سے حکومت امور کی نگرانی کریں گے اور حکومتی امور میں رہبری کریں گے۔
سلیم صافی … ہیب اللہ اس وقت قندھار میں ہیں یا کہیں اور ہیں ذبیح اللہ مجاہد… جی ہاں وہ قندھار میں ہیں اور امید ہے کہ جلد منظر عام پر آجائیں گے سلیم صافی … پہلی پریس کانفرنس کے وقت افواہ تھی کہ ملا ہیبت اللہ خود قوم کے سامنے آئیں گے پھر آپ نے پریس کانفرنس کی وہ کب عوام کے سامنے آئیں گے ذبیح اللہ مجاہد… امید ہے کہ ایسا دن آئے گاکہ وہ سامنے آئیں گے مگر ایسا کب ہوگا اس کی تاریخ نہیں دے سکتا ہم سب خدمت کے لیے یہاں موجود ہیں اور امارت کی نمائندگی اور جواب دہی کے لیے حاضر ہیں باقی بعد میں معلوم ہوجائیں گے۔ سلیم صافی … اس وقت جو حکومت کا ماڈل ڈسکس ہو رہا ہے وہ کونسا ماڈل ہے۔
سابقہ حکومت پر کام ہورہا ہے یا ایران کے مشابہہ کسی ماڈل پر کام ہو رہا ہے یا کسی اور پر ذبیح اللہ مجاہد… انشا اللہ جب حکومت بنے گی اور عمل درآمد شروع ہوجائے گا تو اس وقت دیکھیں گے کیا شکل بنتی ہے۔
سلیم صافی … ابھی تک جو گورنر مقرر کیے ہیں وہ عبوری وقت کے لیے ہیں یا مستقل رہیں گے ذبیح اللہ مجاہد… ابھی تک تمام نظام نگرانی کے طور پر کام کر رہا ہے لوگوں کی حفاظت اور امن و امان کی بحالی سب سے اہم ہے اور اس طرح مالیاتی اور تعلیمی امور بھی اہم ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان امور میں خلل واقع نہ ہو بعد میں اس معاملے پر بھی غور ہوگا ان میں جن لوگوں کے ردبدل کی ضرورت محسوس کی گئی وہ ردوبدل بھی کیا جائے گا اور احکام کی بجا آوری کی جائے گی ۔
سلیم صافی … حالیہ دنوں میں سی آئی اے کے سربراہ نے ملاقات کی ملا برادر صاحب کے ساتھ تو امریکہ کے اب مطالبات کیا ہیں اس میٹنگ میں کیا باتیں ہوئیں ذبیح اللہ مجاہد… سب سے پہلے تو میں اس بات کی تائید نہیں کرتا کہ سی آئی اے کے نمائندے نے ملاغنی برادر کے ساتھ ملاقات کی ہے اس طرح کی کوئی خبر نہیں ملی البتہ امریکیوں کے ساتھ ہمارے ماضی میں معاہدے ہوئے تھے اس حوالے سے ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے جو افغانستان اور خطے کے مفاد میں ہو۔
سلیم صافی … آپ نے امریکہ کے ساتھ معاہدات کا ذکر کیا تو ایک اطلاع یہ ہے کہ یہ کمٹمنٹ ہوئی تھی امریکہ کے ساتھ کہ آپ چھ ماہ تک کاقبل میں داخل نہیں ہوں گے ۔
ذبیح اللہ مجاہد… یہ بات ٹھیک نہیں ہے ہمارا اس حوالے سے کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا تھا لیکن ہم نے اپنی طرف سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم کابل کے حدود میں پہنچ کر رک جائیں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو اور اس کابل میں ہم امن کے ساتھ داخل ہوں کابل کا کنٹرول پرامن طریقے سے منتقل ہوجائے۔
یہ ہمارا اپنا فیصلہ تھا لیکن جیسے ہی ہم کابل کے نزدیک پہنچے تو افغان پولیس اور فورسزنے کام چھوڑ دیا چوکیاں کالی کردیں شہر میں چوری ڈکیتی کے روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے ہمیں اچانک مجبوراً یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ کابل میں داخل ہوکر امن و امان کی صورتحال قائم کریں۔
سلیم صافی … امریکیوں کے انخلاء میں چند ہی دن رہ گئے ہیں اگر وہ توسیع چاہیں تو آپ دے دیں گے ذبیح اللہ مجاہد… ہمیں یقین ہے کہ معاہدے کی رو سے طے شدہ تاریخ تک بیرونی افواج کا انخلاء مکمل ہوجائے گا کیوں کہ یہ آخری مراحل ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اکتیس تاریخ سے پہلے انخلاکا عمل مکمل ہوجائے گا۔
سلیم صافی … خواتین کو بظاہر کام کی اجازت دے دی گئی ہے اس کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں لوگ افغانستان سے بھاگ رہے ہیں کیا وجہ ہے لوگوں کو آپ پر یقین نہیں ہے آپ کیوں ان کے خدشات ختم نہیں کرسکے ذبیح اللہ مجاہد… اصل بات یہ ہے کہ جب ہم کابل میں داخل ہوئے ہم نے عام معافی کا اعلان کیا کانفرنس میڈیا اور اعلامیہ کے ذریعے لوگوں کو یہ اطمینان دلایا کہ افغانستان ان کا گھر ہے۔
وہ ادھر ہی رہیں اپنی زندگی بسر کریں ۔ لیکن اصل میں مشکل اس وقت پیش آئی جب امریکہ سے یہ پیغام دیا گیا کہ ہم ادھر سے لوگوں کو امریکہ لے کے جائیں گے اس وجہ سے لوگ جوق در جوق ہوائی اڈے کی جانب آئے اس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جن کے ساتھ کسی کو کوئی مسئلہ نہیں حالانکہ ان کو اپنے گھروں میں ہونا چاہیے تھا جو سرحدی علاقوں سے نکلنا چاہ رہے ہیں ان کا خوف بھی سمجھ سے بالاتر ہے ہمیں کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔
صافی صاحب آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہتا ہوں کہ اصل مسئلہ تیسری دنیا کے اپنے مسائل ہیں اگر امریکہ اور یورپ خطے کے کسی اور ملک میں بھی یہ اعلان کردیں تو اس سے زیادہ افرا تفری دنیا کو دیکھنے کو ملے گی لوگ بہتر زندگی کے حصول کے لیے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتے ہیں اور یہ سوچ خطے میں عام طور پر پائی جاتی ہے اس سوچ کی وجہ سے لوگ باہر جارہے ہیں ہماری طرف سے کوئی مشکلات پیدا نہیں کی جارہی ہیں۔
سلیم صافی … ترکی کی خواہش تھی کہ ان کی فوجیں کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھالے رکھیں لیکن آپ لوگوں نے اجازت نہیں دی کل جو آپ کی قیادت سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں اس کے بعد ترکی کا سفارتخانہ دوبارہ فعال ہوگیا کیا اس بات کا امکان ہے کہ مستقبل میں کابل ایئرپورٹ کے سیکیورٹی کو ترک افواج کے سپرد کیا جائے یا صرف ٹیکنیکل سپورٹ لیں گے ذبیح اللہ مجاہد…
جس وقت ترکی کے ساتھ ٹیکنیکی معاونت اور امن کے قیام کی بات ہو رہی تھی اس وقت ہماری ویسی صلاحیت نہیں تھی اور حالات بھی سازگار نہیں تھی اب چونکہ ہم اپنے ہوائی اڈے کی حفاظت احسن طریقے سے کرسکتے ہیں ا سکے لیے ہم نے ایک علیحدہ فورس قائم کی ہے ہمارے تکنیکی ماہر ین بھی اپنا کام کر رہے ہیں ترکی کے ذمہ داروں سے ہم نے با ت کی ہے اور ہم نے ان کو بتایا ہے کہ ان کی انتظامی اور عسکری موجودگی کی ضرورت نہیں ہے ترکی کا سیاسی اور حکومتی رول ہمارے لیے بہت اہم ہے اور ترکی کے ساتھ ہم ایک پائیدار تعلق چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم پرامید ہیں ۔
سلیم صافی … تو پھر وہاں دھماکے کیوں اور کیسے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد… یہاں پر دو ایشوز ہیں ایک ہوائی اڈے کا وہ حصہ ہے جس میں غیر ملکی افواج کا کنٹرول ہے ابھی ہم وہاں پر داخل نہیں ہوئے باقی کا حصہ ہمارے زیر انتظام ہے اور وہ پرامن ہے کل کا واقعہ اس حصے میں ہوا جہاں غیر ملکی افواج کا کنٹرول ہے دوسرا ایشو یہ ہے کہ ہجوم بننے کی وجہ سے امریکہ کا یہ اعلان ہے کہ آؤ ہم آپکو ملک سے باہر لے جائیں ہر کوئی امریکہ جانے کی تگ و دو میں ہے اور اس اعلان سے افرا تفری پھیل گئی ، ہم نے اپنے حصے میں امن قائم کیا ہوا ہے امریکہ یہ کام نہیں کرسکا۔