آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آج سے تقریباً پانچ سال پہلے کی بات ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی نے اپنا ایک خصوصی فون نمبر دیتے ہوئے فرمایا کہ ملکی مفاد کی کوئی بھی خاص بات آپ کے علم میں ہو یا کوئی اہم ترقیاتی پراجیکٹ نظر سے گزرے تو براہ کرم مجھے آگاہ ضرور کریں میں فوری ایکشن لوں گا۔ ہم نے حامی بھرتے ہوئے ہنسی خوشی وہ نمبر اپنے فون میں محفوظ کرلیا۔
تقریباً دو چار ماہ گزر گئے مگر اس دوران جو جو خاص باتیں اور پراجیکٹ ہماری نظر سے گزرے وہ وزیر اعظم کے ذوق و شوق اور جوش و جذبے کے مقابلے میں کافی چھوٹے اور غیر اہم تھے۔اس دوران ایک ملاقات میں موصوف نے گلہ بھی کیا کہ فی الحال ہم نے ملکی مفاد بارے سوچنا شروع نہیں کیا ۔اگلے ہفتے آسٹریلیا میں زیر تعلیم ہمارے ایک ہم وطن دوست نے اپنی لمبی چوڑی تحقیق کا لب لباب ہمارے گوش گزار کیا تو ہم دنگ رہ گئے۔ اعداد و شمار کے ساتھ نہایت پیرائے میں واضح کیا گیا تھا کہ اگر ہم پوٹھوہار اور بلوچستان کے علاقے میں زیتون کی کاشت شروع کردیں تو ہم پانچ سال کی مدت میں نہ صرف 12 ارب ڈالر سالانہ کمانے کی پوزیشن میں آجائیں گے بلکہ کم از کم دو لاکھ افراد کو روزگار بھی فراہم کرسکیں گے۔ ہم نے ایک لمحہ بھی ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور فوری طور پر ایک عدد تفصیلی ایس ایم ایس قبلہ یوسف رضا گیلانی صاحب کی خدمت

میں ارسال کر ڈالا۔دو ہفتے گزر گئے مگر اس طرف سے جنبش نہ پا کر اسی موضوع پر ایک تفصیلی گفتگو بھی اپنے ٹی وی شو میں شامل کرکے و زیر اعظم کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو مطلع کیا کہ آج کا شو شاہ صاحب کو ضرور دکھا یا جائے، چند ہفتے مزید گزرے تو ہمارے ایک مخبر دوست نے مشورہ دیا کہ گیلانی صاحب جن پراجیکٹس میں دلچسپی لیتے ہیں ان کی نوعیت کچھ اور ہی طرح کی ہوتی ہے اور اس کے لئے انہوں نے اپنے چند بااعتماد ساتھی اور عزیز رشتہ دار”مارکیٹ“ میں چھوڑ رکھے ہیں ۔ اس لئے آپ یہ نیک مشورہ آصف علی زرداری صاحب کو دیں تو بہتر ہے۔ زرداری کا نام آتے ہی ہمارا بے اختیار”ہاسا“ نکل گیا کیونکہ اس وقت تک ہمیں ان کے پسندیدہ پراجیکٹس بارے بھی کافی کچھ معلوم ہوچکا تھا۔ خیر مذکورہ پراجیکٹ پر لعنت بھیجی اور پھر کبھی اس طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔آج اتنے سالوں بعد اسی آسٹریلیا پلٹ دوست نے یہ اطلاع دیتے ہوئے مزید دکھی کردیا کہ بھارت نے راجستھان کے علاقے میں وسیع پیمانے پر زیتون کی کاشت کا انتہائی کامیاب تجربے کرکے دنیاکو حیران کر ڈالا ہے۔کاش ہمارے حکمرانوں نے اس وقت تمہاری بات سنی ہوتی تو آج ہم اس نہایت کم خرچ مگر بالا نشیں پراجیکٹ کے ابتدائی ثمرات چکھ رہے ہوتے، بہرحال اب بھی ہم اگر بھارت سے ہی کچھ سبق سکیھ لیں تو بڑی بات ہے۔
شہباز شریف جب پچھلی ٹرم کے لئے نئے نئے وزیر اعلیٰ پنجاب بنے تو انہیں بھی بذریعہ ایس ایم ایس مشاورت کا بڑا شوق تھا۔تعمیر و ترقی کے حوالے سے اگر کوئی خاص بات ہمارے دماغ میں گھر کرتی تو ہم شہباز صاحب کے ساتھ ضرور شیئر کرتے اور آپ تقریباً نوے فیصد باتوں کا اثر قبول بھی کرتے مگر حالیہ الیکشن جیتنے کے بعد موصوف شاید چھٹیاں منانے کیسی دور افتادہ جزیرے پر تشریف لے گئے ہیں اور وہ بھی اکیلے، سنا ہے آج کل موڈ بھی ان کا اکثر آف ہی رہتا ہے خیر دور افتادہ جزیروں پر اکیلے تشریف لے جائیں گے تو موڈ آف نہیں ہوگا تو کیا آن ہوگا ہیں جی؟
آج اسی تناظر میں ایک گزارش نواز شریف صاحب کی خدمت اقدس میں پیش کرنی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے اپنی وزارت عظمیٰ ختم ہونے سے صرف ایک دن قبل یعنی 15مارچ2013ء کو نوٹیفکیشن کے تحت گلگت بلتستان سے لکڑی کی ترسیل پر عائد اکیس سالہ پابندی اٹھادی یہ حکم موصوف نے انتہائی مجبوری کے عالم میں دیا جس کا مقصد شمالی علاقے سے آٹھ ارب روپے کی لکڑی یہاں منتقل کرنا تھا مگر ٹمبر مافیا نے اب تک 20ا رب سے زائد کی لکڑی بیچ ڈالی ہے۔نواز شریف نے5جون کو یہ احمقانہ نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا مگر سمگلنگ کا سلسلہ آج بھی تقریباً اسی شد و مد سے جاری و ساری ہے۔ واقفان حال اس”ماحولیاتی قتل عام“ کا ذمہ دار سابق وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چند ارکان اسمبلی کو قرار دیتے ہیں چونکہ لکڑی کی یہ سفاکانہ ترسیل اس علاقے سے ہورہی ہے جو تربیلا ڈیم کا کیچمنٹ ایریاکہلاتا ہے اس لئے خاطر جمع رکھئے کہ اب تک کے نقصان سے ڈیم میں ہونے والی سلٹیشن نے اس کی طبعی عمر میں دس سال کی کمی کرڈالی ہے۔ نواز شریف صاحب کا ایکشن بروقت اور احسن ہے مگر اس بات کو یقینی بنانا بھی انہی کا کام ہے کہ یہاں کے کرپٹ سرکاری عمال ٹمبر مافیا کے ساتھ مل ملا کر اس سلسلے کو کسی اور روٹ سے جاری تو نہیں رکھے ہوئے آخر آج بھی گلگت بلتستان سے ٹرالوں کے ٹرالے بھر بھر کرلکڑی یہاں کیسے لائی جارہی ہے۔ امید ہے نومنتخب وزیر اعظم بھی کسی دور افتادہ جزیرے پر تشریف نہیں لے گئے اور لگے ہاتھوں زیتون کی کاشت بارے بھی غور و فکر ضرور شروع کردیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں