• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بولڈ لباس پر پروڈیوسر لڑکوں کو کہتیں کہ منہ دوسری طرف کرلو: عالیہ علی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

معروف پاکستانی ٹی وی اور فلم اداکارہ و ماڈل عالیہ علی نے بولڈ گانے کی شوٹنگ سے متعلق وضاحت دے دی، جس پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور طنز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

عالیہ علی نے 2010 میں پی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل زنداں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، وہ کئی مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔ عالیہ علی سوشل میڈیا پر بھی خاصی مقبول ہیں، جہاں ان کے ٹک ٹاک پر 20 لاکھ سے زائد اور انسٹاگرام پر 14 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

حال ہی میں عالیہ علی اپنی فلم ’آئٹم‘ کی تشہیر کے لیے ایک مارننگ شو میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے بولڈ مناظر کی شوٹنگ سے متعلق کھل کر بات کی۔

پروگرام کے دوران میزبان نادیہ خان نے سوال کیا آپ کو بولڈ سینز فلماتے ہوئے جھجک محسوس ہوئی؟

سوال کے جواب میں عالیہ علی نے کہا کہ میں نے کبھی بولڈ سینز یا ملبوسات پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ ان کے پیچھے ایک وجہ ہوتی تھی، جب بھی میں بولڈ لباس میں سیٹ پر آتی تو پروڈیوسر ہمہ شیخ مائیک پر اعلان کر دیتی تھیں کہ عالیہ آ رہی ہیں اور سب لوگ اپنا رخ دوسری طرف کر لیں، اگر پروڈیوسر خاتون نہ ہوتیں تو شاید مجھے زیادہ بےچینی محسوس ہوتیں، میں نے پہلے ہی انہیں بتا دیا تھا کہ مجھے بولڈ لباس پہن کر عجیب لگتا ہے، اسی لیے وہ مرد عملے کی موجودگی میں اس بات کا خاص خیال رکھتی تھیں۔

عالیہ علی کی اس وضاحت پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردِعمل دیا، کئی صارفین نے ان کے بیان پر طنزیہ تبصرے کیے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ ایک اور ڈاکٹر نبیہہ علی ہیں‘، ایک اور تبصرہ تھا کہ ’یہاں بیٹھی تمام خواتین جانتی ہیں کہ یہ سب فضول باتیں ہیں‘۔

ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے کہا ’تو پھر پوری دنیا کے مردوں کو دکھانے میں مسئلہ نہیں، لیکن سیٹ پر موجود لوگوں سے مسئلہ ہے؟‘ جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میڈم، حلال ڈانس کریں‘، کسی نے کہا کہ ’یہ کیسا ڈرامہ ہے؟ پوری دنیا دیکھے تو ٹھیک، مگر عملہ دیکھے تو مسئلہ؟‘

انٹرٹینمنٹ سے مزید