• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یکم ستمبر، 2021ء، 23 محرم الحرام، 1443 ہجری، بروز بدھ، شب ساڑھے دس بجے بطلِ حریّت، مقبوضہ کشمیر میں چلتے پِھرتے پاکستان، سیّد علی گیلانی نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی اور اپنے ربّ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے، جس کے لیے زندہ رہے، جیون کے92 برس گزار کر اُسی کے نام کے ساتھ آنکھیں موندلیں۔

وہ گزشتہ12برس سے اپنے گھر میں ضعیف اہلیہ کے ساتھ قید تھے، جہاں بچّوں کو بھی اُن سے ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔مسلسل گرفتاریوں، نظر بندیوں، ذہنی اور جسمانی تشدّد کے سبب اُن کی صحت بُری طرح متاثر ہوئی تھی۔اُن کے دل کے ساتھ پیس میکر لگا ہوا تھا، پِتّا اور ایک گردہ نکالا جاچُکا تھا، جب کہ دوسرا گردہ بھی درست کام نہیں کر رہا تھا۔زندگی کے آخری ایّام میں اُنہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔

خاندان، ابتدائی زندگی، تعلیم وتربیت

سیّد علی گیلانی29 ستمبر 1929ء کو تحصیل بانڈی پورہ کے گاؤں، زوری منز میں پیدا ہوئے۔ والد سیّد پیر شاہ گیلانی مزدور پیشہ تھے۔خود اَن پڑھ تھے، مگر بچّوں کو پڑھانے کا بہت شوق تھا۔علی گیلانی نے ابتدائی تعلیم گاؤں ہی میں حاصل کی۔ اُنھوں نے اپنی کتاب’’ اقبال، روحِ دین کا شناسا‘‘ میں اپنے تعلیمی سفر کا ذکر کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں،’’بڑے بھائی مرحوم سیّد میرک شاہ گیلانی اور مَیں ’’زوری منز‘‘ سے بوٹینگو زینہ گیر کے پرائمری اسکول میں پڑھنے جاتے تھے۔ ننگے پاؤں، کبھی بھوکے پیاسے اور دودھ کے بغیر’’ ٹیٹھ چائے‘‘ پی کر۔‘‘ بڑے بھائی نے پرائمری کے بعد مقامی مدرسے میں داخلہ لے لیا اور وہ سوپور ہائی اسکول چلے گئے، کیوں کہ انھیں تیسری پوزیشن لینے پر وظیفہ ملا تھا۔ 

وہاں تنگ دستی اور مشکلات کے باوجود ساتویں تک تعلیم جاری رہی، بعدازاں صحافی اور مصنّف، محمّد دین فوق اُنھیں تعلیم دِلوانے کے لیے لاہور لے آئے، مگر وہ تعلیم کے حصول کی بجائے گھریلو ملازم بن کر رہ گئے۔ اِس صورتِ حال پر بہت دل گرفتہ تھے اور روتے رہتے۔ لکھتے ہیں،’’ اس عرصے میں میرا کام صرف اور صرف اقبال کی نظم ’’پرندے کی فریاد‘‘ پڑھنا، مکان کی چھت یا صحن میں بیٹھ کر رونا اور آنسو بہانا تھا۔‘‘ اِنہی معاملات میں ایک برس گزر گیا اور وہ آخر تنگ آکر واپس کشمیر آگئے اور سو پور کے اسکول میں داخلہ لے لیا۔میٹرک کے بعد اُنھیں وہاں ملازمت کی آفر ہوئی، مگر وہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، اِس لیے ایک بار پھر لاہور آگئے اور کچھ ہی دنوں بعد اورینٹل کالج میں داخلہ مل گیا۔

یہاں انھوں نے فارسی اور عربی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔اِس دوران وہ گھنٹوں علّامہ اقبال کے مزار پر بھی بیٹھے رہتے۔ بعدازاں، کشمیر واپس چلے گئے اور کشمیر یونی ورسٹی سے ادیب فاضل اور منشی فاضل کی اسناد حاصل کیں۔ 1949ء میں بطور استاد، ملازمت شروع کی اور بارہ برس تک مختلف اسکولز میں پڑھاتے رہے۔دورِ طالبِ علمی ہی میں مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی فکر سے متاثر ہوئے اور پھر جماعتِ اسلامی جمّوں و کشمیر کے امیر،مولانا سعد الدین کی صحبت بھی نصیب ہوئی، اِس طرح وہ باقاعدہ طور پر جماعتِ اسلامی کا حصّہ بن گئے، تو ملازمت کا سلسلہ ترک کرکے خود کو مکمل طور پر دینی خدمات کے لیے وقف کردیا۔سیّد علی گیلانی نے دو شادیاں کیں۔ پہلی اہلیہ سے دو بیٹے،ڈاکٹر نعیم گیلانی اور سیّد نسیم گیلانی، جب کہ تین بیٹیاں ہیں۔ 1968ء میں اہلیہ کا انتقال ہوا، تو دوسری شادی کی، جس سے تین بیٹیاں ہوئیں۔

سیاسی، تحریکی زندگی

ایک تو یہ کہ علی گیلانی اپنے بچپن میں ڈوگرہ راج کے خلاف عوامی مزاحمت کی تحریک اور اُس کے معاشرے پر اثرات کا مشاہدہ کر چُکے تھے، پھر یہ کہ تقسیمِ ہند کے بعد جس طرح بھارتی افواج نے اُنھیں غلام بنانے کی سازش کی، وہ بھی اُن کے سامنے تھی،نیز، مولانا مودودیؒ کی انقلابی فکر نے بھی اپنا کرشمہ دِکھایا اور نوجوان علی گیلانی ظلم و جبر کے خلاف میدان میں نکل پڑا اور ایسا نکلا کہ آخری دَم تک چٹان بنا رہا۔وہ 1953ء میں جماعتِ اسلامی کے رُکن بنے۔بعدازاں، سیکریٹری جنرل، پارلیمانی لیڈر اور قائم مقام امیر بھی رہے۔

اُس وقت ایک سوچ یہ بھی تھی کہ انتخابات میں حصّہ لے کر ایوان میں پہنچا جائے اور وہاں کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کی جائے، اِسی سوچ کے تحت سیّد علی گیلانی نے 1972ء اور 1977ء میں جماعتِ اسلامی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصّہ لیا اور سو پور سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔1987ء کا الیکشن’’ مسلم متحدہ محاذ‘‘ کے پلیٹ فارم سے لڑا ، جس کے قائد وہ خود تھے۔اِس اتحاد کو اسمبلی میں آنے سے روکنے کے لیے بدترین دھاندلی کی گئی، لیکن اِس کے باوجود وہ اسمبلی پہنچ ہی گئے۔تاہم، اُنھیں جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ بھارت وہاں بھی اُن کی آواز سُننے پر تیار نہیں ، تو 30 اگست 1989ء کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے اور پھر کبھی انتخابی عمل کا حصّہ نہیں بنے۔ 

1990ء میں بھارتی مظالم سے تنگ آئے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت مسلّح جدوجہد کا آغاز کیا، تو اُنھوں نے کُھل کر اُس کی حمایت کی۔1993 میں ’’ آل پارٹیز حریت کانفرنس‘‘کا قیام عمل میں آیا، تو وہ اُس کے سربراہ منتخب ہوئے۔بعدازاں، بدقسمتی سے یہ فورم دو حصّوں میں تقسیم ہوگیا، جس میں سے ایک کی قیادت سیّد علی گیلانی اور دوسرے کی میر واعظ عمر فاروق کے پاس تھی، تاہم علی گیلانی گزشتہ جون میں اِس سرگرمی سے بھی اپنی طویل علالت اور دیگر مسائل کے سبب الگ ہوگئے تھے۔ اُنھوں نے 2003ء میں جماعتِ اسلامی کی مشاورت سے اشرف صحرائی کے ساتھ مل کر ایک الگ تنظیم’’ تحریکِ حریت جمّوں وکشمیر‘‘ کی بھی بنیاد رکھی تھی۔وہ معروف عالمی مسلم فورم’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کے بھی رُکن رہے اور یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ پہلے کشمیری رہنما تھے۔

قید و بند، مگر جُھکا نہ بِکا

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ فرمایا کرتے تھے کہ’’ ہماری زندگی تو جیلوں اور ریلوں(کثرتِ سفر کی طرف اشارہ) ہی میں گزر گئی۔‘‘ایسا ہی کچھ سیّد علی گیلانی کے ساتھ ہوا۔وہ تقریباً ڈیڑھ دہائی تک جیلوں میں بند رہے، یہاں تک کہ اُن کا جنازہ بھی قیدی ہی کی حیثیت سے اُٹھا۔ پہلی بار 1962 ء میں گرفتار ہوئے اور 13 ماہ قید رہے۔1965 ء میں ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور 22 ماہ جیل میں بند رہے۔ یوں گرفتاریوں اور نظر بندیوں کا یہ سلسلہ زندگی بَھر جاری رہا۔ 

اِسی اسیری کے دَوران والد کا انتقال ہوا، تو اُنھیں اُن کا چہرہ تک دیکھنے دیا گیا اور نہ ہی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اجازت ملی۔ اِسی طرح بڑھاپے اور کئی خطرناک امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود بچّوں کو اُن سے ملنے کی اجازت نہیں تھی، مگر بھارت کا یہ ظلم و جبر بھی اُنھیں جُھکنے پر مجبور نہ کرسکا۔

چٹان جیسا مؤقف

سیّد علی شاہ گیلانی نے نوجوانی میں یہ اصولی مؤقف اختیار کیا کہ مسئلۂ کشمیر کا حل ریاستی عوام کے استصوابِ رائے ہی سے ممکن ہے اور پھر کبھی اِس مؤقف سے ذرا آگے پیچھے نہیں ہوئے۔ زندگی بھر اپنے اِس مؤقف پر یک سُو اور ڈٹے رہے، جس کی اُنھیں بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ پرویز مشرف نے مسئلۂ کشمیر کے لیے ’’چناب فارمولا‘‘ جیسے حل تجویز کیے، تو سیّد علی گیلانی نے سخت مزاحمت کی۔یہاں تک کہ 2005ء میں نئی دلّی کے پاکستانی سفارت خانے میں پرویز مشرف اور اُن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تلخ کلامی تک نوبت جا پہنچی۔

پھر اُنھیں تنہا کرکے اِس گستاخی کی سزا بھی دینے کی کوشش کی گئی، مگر کشمیری عوام اُن کے ساتھ کھڑے رہے۔گزشتہ دنوں ایک بار پھر کشمیر کے کئی حل سامنے آنے لگے، تو اُنہوں نے وزیرِ اعظم، عمران خان کو خط لکھ کر خبر دار کیا کہ ایسی کوششیں نہ کی جائیں، جن سے مسئلہ کشمیر سردخانے کی نذر ہو یا جن سے تقسیمِ کشمیر کی بُو آئے۔اُن سے بھارت نے کئی بار رابطے کیے تاکہ مؤقف میں کچھ لچک لائی جاسکے، مگر وہ اُنھیں’’ قابو‘‘ نہ کرسکا، حالاں کہ بھارت اِس سے قبل شیخ عبداللہ کو اپنے جال میں لانے میں کام یاب رہا تھا۔

عوامی رہنما کی شان ہی الگ

یہ سوال ہمیشہ سے اہم رہا اور اب بھی اِس کا بار بار ذکر ہو رہا ہے کہ آخر علی گیلانی کی عوامی مقبولیت کا راز کیا تھا؟لوگ اُن کی ایک اپیل پر کاروبار بند کرکے گھروں میں کیوں بیٹھ جاتے تھے اور ایک اشارے پر آگ اُگلتی بندوقوں کے سامنے کیوں جا کھڑے ہوتے؟دراصل سیّد علی گیلانی، کشمیر کے منظرنامے پر اُس وقت آئے، جب اُس دور کے مقبول ترین عوامی رہنما،’’ شیرِ کشمیر‘‘ شیخ عبداللہ یوٹرن لیتے ہوئے اچانک بھارت کی گود میں جا بیٹھے اور کشمیری عوام قیادت سے محروم ہوگئے۔ عوام ،شیخ عبداللہ کو اپنا ہیرو اور نجات دہندہ سمجھتے تھے، وہ بیس برس سے زاید عرصے تک استصوابِ رائے کے حق میں مہم چلاتے رہے اور پھر ایک روز اندرا گاندھی کے ساتھ معاہدہ کرکے بھارتی سرکار کا حصّہ بن گئے۔

اِن حالات میں کشمیری مایوس ہو چلے تھے کہ علی گیلانی نے آگے بڑھ کر اُنھیں حوصلہ دیا اور عوام کو اِس بات کا یقین دِلانے میں کام یاب رہے کہ شیخ عبداللہ کا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ ہر لحاظ سے غلط ہے۔پھر یہ کہ عوام کو اُن پر اندھا یقین تھا کہ اُن کا گیلانی کٹ تو سکتا ہے، مگر وہ کبھی جھکے گا نہیں اور اُنھوں نے اپنے عوام کا مان بھی رکھا۔حالاں کہ اُنھیں بھی بار ہا ایسے مواقع ملے، جب ’’ کچھ دو، کچھ لو‘‘ کی بنیاد پر بہت سے سیاسی اور مالی فوائد سمیٹے جا سکتے تھے، مگر اُنھوں نے اپنے کشمیر ، اپنے پاکستان اور اپنے عوام سے غدّاری کا سوچا تک نہیں۔

خاتون صحافی، نعیمہ احمد مہجور کا کہنا ہے،’’مَیں نے اپنے خاندان کے بزرگوں سے اکثر سُنا ہے کہ گیلانی کے خلاف شیخ عبداللہ سے زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا، مگر گیلانی چوں کہ صوم صلوٰۃ کے پابند اور اپنے موقف پر قائم رہے، لہٰذا اُن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ نہ صرف دشمن کو مات دیتے گئے، بلکہ قوم کے ہر دِل عزیز رہنما بھی بن گئے، جس کی اُنہوں نے تمنّا کی تھی۔‘‘ بقول ایک تجزیہ نگار’’ جس طرح اُن کی زندگی گزشتہ چار دہائیوں سے بھارت جیسے بڑے مُلک پر حاوی رہی، اس سے زیادہ اُن کی موت اگلی دسیوں دہائیوں تک پورے برّ صغیر پر حاوی رہے گی۔‘‘

بے مثال مصنّف، بے بدل خطیب

سیّد علی شاہ گیلانی نے اپنی تصنیف و تالیف اور خطابت کی خوبیوں سے بھی عوامی بیداری کا خُوب کام لیا۔ اُنھوں نے دو درجن سے زاید کتب لکھیں، جن میں ولر کنارے، رودادِ قفس، اقبال ،روحِ دین کا شناسا، قصۂ درد، نوائے حریّت، بھارت کے استعماری حربے، عیدین، مقتل سے واپسی، صدائے درد، سفرِ محمود میں ذکرِ مظلوم، دید وشنید، ملتِ مظلوم، پس چہ باید کرد، پیامِ آخرین، اقبال اپنے پیغام کی روشنی میں، ایک پہلو یہ بھی ہےکشمیر کی تصویر کا، ہجرت اور شہادت، تحریکِ حریّت کے تین اہداف، معراج کا پیغام، نوجوانانِ ملّت کے نام، دستور تحریکِ حریّت اور انگریزی کتاب’’what should be done‘‘ شامل ہیں۔دوسری طرف اُن کی خطابت بھی کمال تھی،جس کا اندازہ مختلف ویڈیوز سے لگایا جاسکتا ہے۔ ایسا لگتا تھا، جیسے عوام کے دل اُن کے ہاتھ میں ہوں۔ اُن کی تقاریر دلائل کی مضبوطی اور عوامی جذبات کے اظہار کا بھرپور عکّاس ہوتی تھیں۔

دَم دَم پاکستان

صحافی و کالم نگار، ہارون رشید نے بہت خُوب صُورت بات کہی ہے کہ ’’سیّد علی گیلانی، قائدِ اعظم کے بعد سب سے بڑے پاکستانی تھے۔‘‘ ایک ایسے ماحول میں جہاں پاکستان کا نام لینا جُرم ہو، وہاں ببانگِ دُہل، گلی محلّوں میں، چوک چوراہوں پر ’’پاکستان زندہ باد ‘‘ کے نعرے لگانا اور ’’ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے‘‘جیسا لازوال نعرہ متعارف کروانا سیّد علی گیلانی ہی کا حوصلہ تھا۔ وہ کشمیر میں صرف پاکستان کی آواز ہی نہیں، سراپا پاکستان تھے۔ اگر ہماری کوتاہیوں کے باوجود آج بھی کشمیری پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہاں سے’’ پاکستان زندہ باد‘‘کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، تو اس کا کریڈٹ بجا طور پر علی گیلانی جیسے پاکستانیوں ہی کو جاتا ہے۔

بھارت اب بھی کانپ رہا ہے

قابض افواج’’ بوڑھے شیر‘‘ سے سہمی رہتی تھیں اور پھر اُن کی میّت بھی قابضین کو خوف زدہ کرتی رہی۔ یہی وجہ تھی کہ انتقال کی خبر کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر نئی پابندیوں کی لپیٹ میں آگیا۔ کرفیو نافذ ہوا، انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی، موبائل فون خاموش کر دیے گئے، گھر کا محاصرہ کر کیا گیا اور جگہ جگہ مسلّح اہل کار کھڑے کر دیے گئے تاکہ عوام اپنے قائد کے جنازے میں شرکت نہ کرسکیں۔ علی گیلانی نے وصیّت کی تھی کہ اُنھیں مزارِ شہداء، سری نگر میں سپردِ خاک کیا جائے، مگر اس کی اجازت نہیں دی گئی۔اہلِ خانہ تدفین کی تیاری کر رہے تھے، تو بھارتی فورسز کی بھاری نفری رات تین بجے گھر میں گُھس گئی اور میّت زبردستی اپنے قبضے میں لے لی۔

قابض فورسز نے لواحقین پر دباؤ ڈالا کہ وہ میّت کو ایک گھنٹے کے اندر سپردِ خاک کردیں، جس پر اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ فجر کے بعد تدفین کرنا چاہتے ہیں، لیکن اہل کاروں نے اِتنی مہلت بھی دینے سے صاف انکار کردیا۔اِس دوران صاحب زادے، ڈاکٹر نعیم گیلانی اور اُن کی اہلیہ پر تشدّد کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔سوگواروں نے اس موقعے پر’’ ہم کیا چاہتے آزادی، ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے‘‘ جیسے نعرے لگائے۔مسلّح اہل کاروں نے رات ساڑھے 4بجے زبردستی تدفین کردی۔ صاحب زادے ،ڈاکٹر نعیم گیلانی کے بقول،’’ ابّا جان کو کس نے غسل دیا، اْن کے جنازے میں کون شامل ہوا اور ان کی کس نے تدفین کی؟ اس کا ہمیں کچھ پتا نہیں۔‘‘

نشانِ پاکستان

14 اگست 2020ء کو صدرِ مملکت، ڈاکٹر عارف علوی نے حریّت رہنما، سیّد علی شاہ گیلانی کو آزادی کے لیے بے مثال جدوجہد پر پاکستان کے سب سے بڑے اعزاز’’ نشانِ پاکستان‘‘سے نوازا اور ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں سیّد علی گیلانی کے لیے یہ ایوارڈ حریّت کانفرنس، آزاد کشمیر شاخ نے وصول کیا۔

سنڈے میگزین سے مزید