• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

افغان صورتحال: عالمی تناظر میں پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی

افغانستان پر طالبان کی دسترس کے بعد خطے کی صورتحال بھی تبدیل ہو رہی ہے جس کے اثرات پڑوسی ممالک پر بالخصوص اور بڑی طاقتوں پر ان کے مفادات کے حوالے سے بھی پڑیں گے تاہم پاکستان اس حوالے سے خصوصی اور منفرد حیثیت اس لئے رکھتا ہے کہ اس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں دونوں ملکوں کے تعلقات کا ایک مخصوص پس منظر بھی ہے پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے کم وبیش تین دہائیوں سے تیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ 

افغانستان میں امن کے قیام کیلئے اسے اپنے ملک میں دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور شہادتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے البتہ یہ درست ہے کہ اس سارے نفرت انگیز عمل میں پس پردہ بھارت کا گھنائونا کردار زیادہ ہے۔ پاکستان جو افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کیلئے چار دہائیوں سے کوششوں میں مصروف ہے اور اس تمام عرصے میں پاکستان پر الزامات کی شکل بعض طاقتوں کی تنقید بھی ہوتی رہی ہے جو اب بھی جاری ہے لیکن پاکستان میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے ابتداء سے ہی یہ موقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان میں برسراقتدار آنے کے خواہشمند افغان گروپوں یا دھڑوں میں پاکستان کا پسندیدہ کوئی نہیں ہے پاکستان ان لوگوں کا حامی ہے جنہیں افغان عوام کی حمایت حاصل ہے۔ 

البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روس نے جب گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے کیلئے افغانستان کو اپنی راہگزر بنانے کی کوشش کی تو ان سے برسرپیکار ’’ مجاہدین‘‘ نے پاکستان میں پناہ بھی لی جن میں انجینئر گلبدین حکمت یار، حامد کرزئی سے لیکر ملا برادر بھی شامل رہے جو سالہا سال اپنے خاندان کے ہمراہ کوئٹہ اور اسلام آباد میں مقیم رہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجاہدین رہنمائوں کی بڑی تعداد پاکستان کے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم بھی تھے اور اسی نسبت سے ان کی شناخت ’’طالبان‘‘ ٹھہری اور اسی تعلق کے باعث جو پاکستان کی بہترین میزبانی کے باعث ان لوگوں سے بنا تھا یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ طالبان پاکستان کے زیراثر ہیں جن کی وہ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق ’’ رہنمائی‘‘ کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ۔ اب جہاں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد کابل سے غیرملکیوں کے انخلا میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آیا ہے وہیں پاکستان ایک مرتبہ پھر مغربی ممالک کی توجہ کا مرکز بھی بن رہا ہے۔کابل سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے آخری دنوں اور انخلا مکمل ہونے کے بعد سے متعدد مغربی ممالک کے وزرائے خارجہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد آئے۔ اس سے قبل نیدر لینڈ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ بھی اگست میں افغان حکومت گرنے کے بعد پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں نیدرلینڈ کے کسی بھی وزیر خارجہ کا یہ پندرہ سال میں پہلا دورہ تھا اور پیر کو اٹلی کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا جبکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے متعدد عالمی رہنمائوں اور وزرائے خارجہ نے ٹیلیفون پر افغانستان کی صورتحال کے تناظر میں تبادلہ خیال کیا۔

ان دوروں اور رابطوں نے ایسی قیاس آرائیوں کو بھی جنم دیا کہ مغربی ممالک پاکستان کے مزید افغان پناہ گزینوں کو قبول نہ کرنے کے موقف میں نرمی لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے حال ہی میں ایک عرب خبررساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں پنجاب کی سیاست کا اجمالی جائزہ لیتے ہوئے بالخصوص پاکستان مسلم لیگ (ن) میں بیانیے کی جنگ اور’’مفاہمت یا مزاحمت‘‘ کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے اور اس صورتحال کو بیانیے کی جنگ کی بجائے سیاسی وراثت کی جنگ سے تعبیر کیا ہے۔

چوہدری پرویز الٰہی نے چونکہ پنجاب کی سیاست پر بقول شخصے PHD کر رکھی ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے (ن) سے علیحدگی اختیار کرکے (ق) کی داغ بیل ڈالی تھی اور اس عرصے میں وہ پانچ سال تک پنجاب کے وزیراعلیٰ بھی رہے اور انہیں یہ منصب دینے کا طویل عرصے سے میاں نواز شریف نے وعدہ کر رکھا تھا اور ان کے والد میاں شریف نے یقین دہانی کرائی تھی لیکن امر واقعہ ہے کہ جہاں چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی نے وضعداری اور انکساری کی حد کر دی وہیں میاں صاحب سیاسی بیوفائی اور وعدہ خلافی کی ہر حد عبور کر گئے اور یہی وجہ تھی کہ پرویز الٰہی باوردی صدر پرویز مشرف کے بارے میں کہتے تھے کہ۔ ہمارا بس چلے توہم دس سال مزید پرویز مشرف کے اقتدار کو مستحکم رکھیں۔ 

اپنے انٹرویو میں چوہدری الٰہی کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ ووٹ نواز شریف کا ہے اس لئے ان کی خواہش ہے کہ سیاسی وراثت ان کے اولاد کے حصے میں آئے چونکہ ان کے دونوں بیٹے سیاست میں نہیں ہیں اس لئے وہ اپنی سیاست اور مقبولیت سمیت ووٹ کا اثاثہ اپنی بیٹی مریم کے سپرد کرنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف کی جانب سے کسی بھی پیش رفت یا موقف کی تردید مریم کی جانب سے کرائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میاں شہباز شریف کو اپنا سیاسی ترجمان بھی علیحدہ کرنا پڑ گیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ سوچ میاں صاحب کے مخالفین ہی کی نہیں بلکہ خود ان کی جماعت میں بھی پائی جاتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) مین اس سوچ کا اظہار سرگوشیوں، بند کمروں اور نجی محفلوں میں کیا جاتا ہے البتہ گزشتہ دنوں خواجہ محمد آصف نے اعلانیہ اس حوالے سے بات کی ہے۔ 

خارجہ امور اور دفاع جیسی اہم وزارتوں پر فائز رہنے والے خواجہ محمد آصف کا شمار ان لوگوں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے میاں نواز شریف سے ابتک غیر مشروط وفاداری نبھائی ہے اور ان کی وجہ سے سیاسی پریشانیوں، اسیری اور بدترین مخالفتوں کا سامنا کیا۔ اسمبلی کے ایوان اور ٹی وی ٹاک شوز میں جس انداز اور دلیری سے اپنی قیادت اور جماعت کا دفاع کیا اسے ان کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن ’’ مزاحمت یا مفاہمت‘‘ کے دہرے معیار سے اب وہ بھی اکتائے ہوئے اور بیزار دکھائی دیتے ہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید